انٹرویو سے جاب تک (قسط نمبر 2 ٌ)

(Shoukat Ullah, Banu)

تعلیم ایک ایسا معاشرتی عمل ہے جو انسان کی پیدائش سے ہی شروع ہوجاتا ہے اور انسان کی آخری سانسوں تک جاری رہتا ہے۔ جیسا کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ علم حاصل کرو محد سے لحد تک۔بد قسمتی سے پہلے ہم دس جماعت پڑھ کر خود کو علامہ تصور کرتے تھے اور اَب سولہ جماعت کے بعد خود کو مزید یعنی اعلیٰ تعلیم سے مبرا خیال کرتے ہیں۔ یہ بات بھی ذہن میں اٹل بیٹھا دیتے ہیں کہ تعلیم مکمل کرلی ہے اور اَب نوکری تلاش کرنی چاہیئے۔اگر حدیث ِ مبارکہ ﷺ کا مفہوم دیکھا جائے تو انسان کو زندگی کے ہر مرحلے پر علم کرنا چاہیئے۔ یعنی لائف لانگ لرننگ کا تصور جو آج کی جدید دنیا میں پیش کیا جارہا ہے وہ آج سے چودہ سو سال قبل ہمارے پیارے نبی ﷺ نے بتلا دیا تھا۔ہمارے معاشرے کا جو المیہ ہے وہ سولہ جماعت پڑھنے کو درحقیقت کھپت خیال کرتے ہیں یعنی سولہ سال میں تعلیم پر ہونے والا خرچ ہی ہمارے ذہنوں کا محور ہوتا ہے اور تعلیم کی اصل روح اور مقصد دُور صحراؤں میں بھٹکتا رہتا ہے۔جس کو ہم اتنے برسوں میں سمجھ ہی نہیں پاتے۔پس معاشرے کے بگاڑ کے لئے پہلی سیڑھی کا بندوبست کر دیا جاتا ہے۔ اور معاشرے کو ملنے والا آؤٹ پُٹ اُس کی ضروریات کے مطابق نہیں ہوتا۔جس کی وجہ سے ترقی بھی ہم سے روٹھی روٹھی نظر آتی ہے اور اقوام ِ غیر کی ترقی کے گُن گاتے ہیں۔حد تو یہ ہے اُن کی مثالیں دے دے کر اور اُن کی تعریفوں کے پُل باندھتے تھکتے بھی نہیں ہیں۔ حالاں کہ تقاضہ تو یہ ہے کہ خود اصلاح کا سامان کرکے ترقی کی منزلوں کو چھو کر ترقی یافتہ اقوام کی صفوں میں جگہ بناتے۔

جیسا کہ مندرجہ بالا سطور میں آؤٹ پُٹ کا تذکرہ آیا ہے ۔ اس کو یوں سمجھتے ہیں کہ ہمارا نظام تعلیم معاشرے کو جو آؤٹ پُٹ دے رہا ہے وہ معاشرے کی ضروریات کے مطابق نہیں ہے کیوں کہ معاشرے کی ضروریات آؤٹ کَم (Outcome ) سے جڑی ہیں۔آؤٹ پُٹ اور آؤٹ کَم کے فرق کو جاننے کے لئے کیڈٹ کالج کی مثال لیتے ہیں۔ ایک کیڈٹ کالج انٹرمیڈیٹ تک تعلیم مہیاکرتا ہے اور اس کا مقصد فوج کو کیڈٹس مہیا کرنا ہوتا ہے۔ اَب اگر اس کے سو طالب علم انٹرمیڈیٹ کے سالانہ امتحان میں شرکت کرتے ہیں جن میں اسّی طالب علم کامیاب ہوتے ہیں۔ پس کیڈٹ کالج کا آؤٹ پُٹ اسّی فیصد ہوگا ۔ فرض کریں کہ ان کامیاب طلباء میں صرف دس طالب علم فوج کو بحیثیت کیڈٹ جوائن کرتے ہیں تو اس کا آؤٹ کَم دس فیصد ہوگا۔پس ظاہر ہوا کہ ہمارے تعلیمی ادارے لامتناہی تعداد میں آؤٹ کَم کی بجائے آؤٹ دے رہے ہیں ۔ یہی آؤٹ پُٹ ہمارے معاشرے میں سرایت کرجاتا ہے اور بگاڑ کا سبب بنتا ہے۔ اکیسویں صدی کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لئے یہ ازحد ضروری ہے کہ ہم اپنے نظام تعلیم کو صحیح خطوط پر استوار کریں جو مقصدیت پر مبنی ہواور جس سے معاشرہ ترقی کی سمت میں گامزن ہو سکے۔

ہم نے بھی جب سولہ جماعت تک پڑھا تو نوکری کی تلاش شروع کردی۔ مختلف نوکریوں کے لئے مختلف محکموں میں درخواستیں دیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shoukat Ullah

Read More Articles by Shoukat Ullah: 202 Articles with 124694 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 Apr, 2018 Views: 462

Comments

آپ کی رائے