میری پہلی اور آخری محبت کے نام

(Rizwan Ali, Lahore)

پہلا خط
جان سے پیاری دوست نازو!
آج جبکہ تم مجھے بھول چکی ہو میں جانتا ہوں کہ جب تمہیں میرا یہ خط ملے گا تمہیں حیرانگی ہو گی۔ یاد کرو کالج کا وہ پہلا دن جب میں نے تمھیں دیکھا تھا۔ میں اس دن کینٹین پہ اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھا تھا جب تم گیلری سے سیڑھیاں اتر رہی تھی۔ تم نے اپنے بال کھلے چھوڑ رکھے تھے اور کالے رنگ کے سوٹ میں تم کسی ناگن کی طرح لگ رہی تھی۔ میں تو اسی دن تمھارے حسن پر فریفتہ ہو گیا تھا۔ اور شاید تم نے بھی اس بات کو محسوس کر لیا تھا۔ جب تم میرے پاس سے ہو کے گزری تھی تو ہماری آنکھیں چار ہوئیں تھیں۔ تم نے مجھے دیکھ کر یوں نظریں جھکا لی تھیں جیسے تم نے مجھے دیکھا ہی نہ ہو۔ میرے دوست بھی تمہیں دیکھ کر حیران رہ گئے تھے۔ میں تمہیں دور تک جاتا دیکھتا رہا تھا۔ تمھارے ساتھ تمھاری ایک دو سہیلیاں بھی تھیں۔ اس دن دیر تک ہم سراغ لگاتے رہے تھے کہ تم کون ہو؟ کس کلاس میں آئی ہو۔ میرے دوستوں نے سارا کالج چھان مارا تھا مگر تمھارا پھر پتا نہ لگا۔ وہ تو بھلا ہو کینٹین والے کا جس نے مجھے تمھارے بارے میں بتادیا تھا۔ اس کے بعد گھنٹوں تمھاری کلاس کے باہر کھڑے رہنا میرا معمول تھا۔ یہ بات تم اور تمھاری سہیلیوں نے بھی نوٹ کی تھی۔ اب شاید تم مجھ سے کترانے لگی تھی۔ جسکی وجہ یہ تھی شاید تم بدنامی سے ڈرتی تھی۔ ادھر مجھ میں اتنی ہمت نہ تھی کہ تمھارا راستہ روک کر تم سے تمھارا نام تک پوچھ لیتا۔ دن یونہی گزرتے جاتے تھے۔

تم یقین نہیں کر سکتی میں نے تم سے ملنے کے لیئے کتنے جتن کیئے تھے۔ آخر پھر کینٹین والے لڑکے کا سہارا لینا پڑا تھا۔ ہاں وہ خط میں نے ہی اس کے ہاتھ تمہیں بھجوایا تھا۔ جب تم کینٹین میں بیٹھی تھی تو اس دن میں سامنے والے درخت کے پیچھے کھڑا تھا۔ میرا دل بری طرح دھڑک رہا تھا کہ نہ جانے اب کیا ہو۔ بڑی ہمت کرتے ہوے میں نے وہ خط تمھاری طرف بھجوایا تھا۔ جب وہ خط تمھیں ملا تھا تو تم بڑی دیر تک حیرت سے اسی دیکھتی رہی تھی۔ اورپھر کینٹین والا میری طرف اشارہ کر کے چلا گیا تھا۔ اور میں درخت سے ٹیک لگائے کھڑا تمھارے جواب کا منتظر تھا۔ اگر کچھ یا د ہو تو جواب دینا۔ باقی باتیں اگلے خط میں ہوں گی۔

فقط تمھارا
ارمان
خط کا جواب
تمھارا خط ملا۔ پڑھ کے حیرت تو ہوئی مگر افسوس بھی کہ تم نے اب تک مجھے بھولے نہیں ہو۔ مجھے سب یاد ہے کہ تم نے کس طرح میری زندگی میں آئے تھے۔ بلکل مجھے وہ پہلی ملاقات بھی یاد ہے بلکہ تمہیں شاید نہ پتا ہو میری سہیلیوں نے تو پہلے ہی دن مجھے کہ دیا تھا کہ کہ لڑکا تمہیں دل دے چکا ہے۔ جب تم گھنٹوں میری کلاس کے باہر کھڑے رہتے تھے تو تب بھی مجھے اور میری سہیلیوں کو پتا تھا۔ اس وقت ہمیں بھی تمھاری بے چارگی پہ ترس آتا تھا۔ میری سہیلیوں نے تو کئی بار مشورہ بھی دیا تھا کہ اس کی شکایت پرنسپل سے کر دی جائے مگر میں نے اس وقت یہ مناسب نہ سمجھا تھا۔ وہ تو نہ جانے کیوں اس دن تمھارا پہلا خط موصول ہوا تو میں پہلے تو واقعی حیران ہوئی تھی مگر پھر تمھاری شکل دیکھ کر مجھے ہنسی آ گئی تھی۔ تو تم نے سمجھ لیا کہ میں نے تمہیں قبول کر لیا ہے۔ حالانکہ اس وقت واقعی مجھے تم پہ ترس آیا تھا۔ نہ جانے کیوں میں اس دن تمھارے خط کو پھاڑ نہ سکی حالانکہ مجھے اسی دن ایسا کر دینا چاہئیے تھا۔ اب رہی بات یہ کہ اس کے بعد میں تم سے کیوں ملی۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جب تم نے خط میں لکھا تھا کہ اگر خط قبول ہے تو ایک چھوٹی سی میٹنگ بھی کر لی جائے۔ تو اس دن میں تمہیں بتا دینا چاہتی تھی کہ تم میرا راستہ چھوڑ دو اور اپنی پڑھائی پہ دھیان دو۔ مگر تم نے مجھے بات کرنے کا موقع ہی کب دیا تھا۔ اس خط کے ٹھیک ایک ہفتے بعد یونیورسٹی کی پارٹی پہ تم نے مجھ سے ٹاٹم لیا تھا کہ صرف ایک بار ملنا چاہتے ہو۔ یاد کرو وہ شام جب سب پارٹی میں مصروف تھے اور تم نے اشارے سے مجھے اوپر گیلری میں بلایا تھا۔ میں اس دن صرف تم سے جان چھڑانے کے لیئے ملنے آئی تھی۔ میری سہیلی نے اس دن منع بھی کیا تھا مگر مجھے لگتا تھا کہ تم میرا پیچھا چھوڑ دو گے۔ مگر جب تم نے ہاتھ جوڑ کر میرے سامنے Request کی تھی تو مجھ میں مذید بولنے کی ہمت نہیں رہی تھی۔ مگر مجھے تمھارا آنسوؤں سے تر وہ چہرہ آج تک نہیں بھولتا۔ تم نے یہ بھی تو کہا تھا نا کہ تم صرف میرے ایک اچھے دوست بننا چاہتے ہو اور جب میں کہوں گی تم میری زندگی سے چلے جاؤ گے۔ کبھی راستہ نہ روکو گے ۔ مگر شاید میری ہی خطا تھی جو تمھاری باتوں پہ اعتبار کیا تھا۔ ہاں اس دن میں نے تمہیں کلاس کے باہر کھڑے ہونے سے ضرور منع کیا تھا اور جسے تم نے مان بھی لیا تھا۔ اس کے بعد ہماری ذیادہ تر باتیں وٹس ایپ پہ ہونا شروع ہوئی تھیں۔تم اکثرمجھے شعر لکھ کر بھیجا کرتے تھے۔ ہماری اکثر باتیں شعر و شاعری میں ہوا کرتی تھیں۔ مجھے تمھارا پہہلا شعر اب تک یاد ہے جو تم نے مجھے لکھ کر بھیجا تھا۔ یاد کرو۔

روز کروں میں باتیں تم سے
دل چاہے ملاقاتیں تم سے
بن تیرے دل کھنڈر جاناں!
عیدیں اور شب راتیں تم سے

کیوں یاد آیا، یہی تھا نا۔ ہاں وہ شب رات ہی کی رات تھی۔ جب تمھارا پہلا وٹس ایپ مجھے موصول ہوا تھا۔ تم نے مجھ سے کیا کہا تھا کہ آج کی رات میرے لیئے اسپیشل دعا کرنا کہ میں اچھے نمبروں سے پاس ہو جاؤں۔ اور ہاں تم نے یہ بھی تو کہا تھا نا کہ دعا کرنا تمہیں کوئی اچھی سا جیون ساتھی بھی مل جائے بلکل میری طرح کا۔ تو میں نے اسی دن یہ دونوں دعائیں کر دی تھیں۔ ایک دعا تو قبول ہو گئی تھی یعنی تم اچھے نمبروں سے پاس ہو ہو گئے تھے۔ مگر دوسری دعا کا سناؤ۔ کیا بنا؟
نازو
دوسرے خط کا جواب
پیاری نازو!
تمھارے خط کا جواب ملا۔ یقین کرو بہت خوشی ہوئی۔ ورنہ مجھے تو توقع نہ تھی کہ تم جواب دو گی۔ تم نے دوسری دعا کا پوچھا تھا۔ اس بات کا جواب میں بعد میں دوں گا۔پہلے یہ بتاؤ کہ تمھاری زندگی میں کوئی آیا یا نہیں؟ ہاں تم نے سہی کہا تھا میں واقعی اس دن بہت اداس تھا جب میں نے تمہیں پہلا وٹس ایپ میسچ کیا تھا۔ مگر یقین جانو تمھارا جواب پا کر میری ساری اداسی کافور ہو گئی تھی۔ واقعی وہ رات شب برات ہی کی رات تھی۔ اور تمہیں وہ رات بھی تو یاد ہو گی جب میں نے تمہیں کہا تھا کہ کل میں تم سے ملنا چاہتا ہوں۔ بولو کس جگہ ملو گی۔ تو تم نے پہلے تو بہانا بنانا چاہا تھا مگر میری ضد کے سامنے ہار گئی تھی۔

اس شرط پہ کھیلوں گی پیا پیار کی بازی
جیتوں تو تجھے پاؤں ہاروں تو پیا تیری (پروین شاکر)

جی ہاں اس دن بھی تو یہی شعر تمہیں لکھ بھیجا تھا نا میں نے۔ اور تم نے جواب میں کیا لکھا تھا یاد کرو نا ذرا۔

اگلے دن تمہیں میں نے اسی پیڑ کے نیچے بلایا تھا اور جب تم اپنی سہیلیوں کے ساتھ مجھے ملنے آئی تھی تو میں کافی کنفیوز ہو گیا تھا۔ تم تین تھی اور میں اکیلا۔ میں نے اس دن اپنے دوستوں کو ساتھ نہیں لیا تھا۔ مجھ سے اس دن بات ہی نہیں ہو رہی تھی۔ اور تم ہو کہ بولے چلے جا رہی تھی۔ اس دن میں تم سے بہت کچھ کہنا چاہتا تھا مگر کہ نہیں پایا۔ مگر میں جانتا ہوں تم میری نظروں کی زباں سمجھ رہی تھی۔تمھاری سہیلیاں بھی بہت خوش تھی اس دن۔ تم نے مجھے یہ بھی تو بتایا تھا کہ تمھارے گھر والے تمھارا رشتہ تلاش کر رہے ہیں۔ اور میں جانتا تھا کہ تم مجھ سے جھوٹ بول رہی ہو۔ اور جو انگوٹھی تم نے مجھے دکھائی تھی کہ یہ میرے منگیتر نے دی ہے وہ بھی تو جھوٹ تھا۔ میں تو اس دن بھی جانتا تھا کیونکہ میں تمھاری آنکھیں پڑھ سکتا تھا۔

جھکیں تو لالہ گل ہیں شراب سی آنکھیں
اٹھیں تو آگ لگا دیں حجاب سی آنکھیں
الغرض یہ میری بربادیوں کا قصہ ہے
تباہ کر گئیں خانہ خراب سی آنکھیں

اس روز میں بڑے بوجھل قدموں سے واپس پلٹ آیا تھا۔ میں جانتا تھا تم مجھے قریب نہیں کرنا چاہتی۔ خیر میرے لیئے تو یہی بہت تھا کہ تمھارا دیدار ہوتا رہے۔

تو بول یہ نہ بول تیرے بولنے کا غم نہیں
تیری دید ہو جائے تیرے بولنے سے کم نہیں

اس روز بھی تم مجھے یہی سمجھاتی رہی تھی کہ ان چکروں میں مت پڑو۔ بھول جاؤ ان سب چیزوں کو۔
اور تمہیں وہ بشارت بھی ضرور یاد ہو گا جس نے ایک گروپ بنایا تھا اور اس گروپ میں تم اور میں بھی شامل تھے۔ چلو آج تمہیں ایک بات بتاؤ وہ گروپ بھی بشارت نے میرے ہی کہنے پہ بنایا تھا۔ پھر کچھ دنوں بعد تم نے وہ گروپ چھوڑ دیا تھا جس پر میں نے تم سے شکوہ بھی کیا تھا۔ کیا تم بتا سکتی ہو تم نے وہ گروپ کیوں چھوڑ ا تھا۔ اور مجھے سب سے ذیادہ لطف اس دن آیا تھا وہ میری زندگی کا یادگار دن تھا جب کالج میں سٹرائک ہو گئی تھی۔ سارا کالچ خالی ہو چکا تھا ۔ بس کچھ لوگ ہی رہ گئے تھے۔ میں نے تمہیں کینٹین کی پچھلی طرف بلایا تھا ۔ اس دن تم واقعی بہت حسین نظر آ رہی تھی۔ میں نے آتے ہی تمھارا ہاتھ تھام لیا تھا۔ اور اس دن میں نے تمہیں ایک گفٹ بھی دیا تھا۔اس دن ہم نے بہت طویل گفتگو کی تھی۔ تمہیں جانے کی جلدی تھی اور مجھے تمہیں دیکھتے رہنے کی۔ اس دن تم رو بھی پڑی تھی کہ سارے شہر میں ہڑتال تھی اور بسیں بھی بند تھیں اور تمہیں گھر جانا تھا۔ سو میں نے اس دن تمہیں گھر ڈراپ کیا تھا۔ بشارت بھی ہمارے ساتھ تھا۔ اس کی گاڑی میں ہم تمہیں چھوڑنے آئے تھے ۔ تم راستہ ہی میں اتر گئی تھی گھر کے قریب۔ نہ جانے تم نے اپنا گھر کیوں چھپایا ہم سے۔ لیکن اس کے بعد کیا ہوا۔ کس کی نظر لگ گئی تم کو۔ تم نے مجھ سے تمام رشتے ناتے ختم کر لیئے تھے۔ میں بہت رویا تھا ان دنوں۔ مجھے نہیں پتا مجھ سے ایسی کیا غلطی ہوئی تھی۔ آج تک نہ جان سکا۔ ہاں بس مجھے اتنا ضرور پتا ہے کہ کوئی اور تمھاری زندگی میں آ گیا تھا۔ جس کا مجھے بہت رنج ہوا تھا۔ تم پہ بہت غصہ آیا تھا مجھے۔ دل چاہتا تا یا تم سے خوب شکوے کروں مگر تم دور ہوتی جا رہی تھی مجھ سے۔ پھر ایک دن پتا چلا کہ کسی نے کالج کے باہر تمھارا ڈوپٹہ کھینچا تھا اور تم زمین پہ گر گئی تھیں اور تمہیں شدید چوٹیں بھی آئی تھیں۔ کئی دن تم کالج نہیں آئی تھیں پھر۔ اس کے بعد میں نے بھی تم سے رابطہ ختم کر لیا تھا۔ پھر ہمارے فائنل ایگزیم آ گئے تھے اور ہم نے ایک دوسرے کو الوداع کیئے بغیر ہی فائنل ایگزیم دے کر کالج چھوڑ دیا تھا۔ آج کئی سال بعد جب تمھاری یاد آئی تو تمہیں خط لکھ ڈالا۔ امید ہے پہلے خط کی طرح جواب سے نوازو گی۔ یہ تمھاری مرضی پہ موقوف ہے۔
ارمان
دوسرے اور آخری خط کا جواب
ارمان! دیکھو یہ میرا آخری خط ہے ۔ اس کو پڑھنے کے بعد امید ہے تم مجھ سے رابطہ نہیں کرو گے۔ بات دراصل یہ ہے کہ تم نے صحیح کہا کہ میں نے تمھارا گروپ جوائن کیا تھا ۔ مگر بات یہ ہے کہ اس گروپ میں کچھ لڑکے مجھے لائن دینے کی کوشش کرنے لگے تھے۔ ایک دو کو تم شاید جانتے بھی ہو۔ تو میں نے یہ دیکھتے ہوے کہ کہیں تمھاری ان سے لڑائی ہی نہ ہو جائے خود ہی چپ چاپ سے وہ گروپ چھوڑ دیا تھا۔ اور صرف لڑکے ہی نہیں اکنامکس کا وہ تھڑکی پروفیسر بھی مجھے لائن مارتا تھا۔ اکثر کلاس کے بعد ہمیں اپنے روم میں بٹھا لیا کرتا تھا۔ بڑی مشکل سے جان چھڑائی تھی اس سے شاید تمہیں نہ معلوم ہو۔ اس بات کو اس گروپ کے لڑکوں نے اتنا اچھالا کہ اچھا بھلا سکینڈل بنا دیا تھا۔ اور تم تک بات یوں پہنچی کہ میں کسی اور میں دلچسپی لے رہی ہوں۔ حالانکہ میری ساری سہیلیاں یہ بات جانتی تھیں۔ اب جہاں تک بات ہے کہ میں تم سے دور کیوں ہوتی چلی گئی تو سنو۔ میں جانتی تھی تم مجھے دکھانے کے لیئے الٹے سیدھے تماشے دکھانا شروع ہو گئے تھے۔ میں جانتی ہوں ہڑتال والے دن جس کار میں تم اور بشارت مجھے چھوڑنے گئے تھے وہ تمھاری نہیں تھی۔ اور سارا راستہ تم لوگ اپنی امارت کے قصے سنا سنا کر مجھے لبھانے کی کوشش کرتے رہے تھے۔ مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ کالج کے باہر جس لڑکے نے میرا ڈوپٹہ گلے سے کھینچا تھا وہ کون تھا۔ اس لڑکے کا پتا نہیں چل سکا تھا نہ اور اسے ڈھونڈنے میں تم سب سے آگے آگے تھے تو سنو وہ تم ہی تھے۔ جی ہاں! پاگل تمہیں یاد ہو گا جب تم نے مجھے گفٹ دیا تھا تو مجبورا! مجھے بھی تمہیں گفٹ دینا پڑا تھا۔ تم نے فرمائش کی تھی کہ مجھے ہاتھ سے بنا ہوا رومال چاہیئے اور اس پہ تمھارا نام کندہ ہو۔ کیا تمہیں اتنا بھی معلو م نہیں کہ اپنے اس رومال کو میں خوب پہچانتی ہوں جسے اس دن تم نے منہ پہ لپیٹ رکھا تھا جب تم تیزی سے بائیک پہ میرا ڈوپٹہ کھینچتے ہوے گزرے تھے اور تم نے اس دن پرفیوم بھی وہ ہی لگا رکھی تھی جو میں نے تمہیں گفٹ کی تھی۔

ارمان ایک بات بولوں! ایک لڑکی کی حس بہت تیز ہوتی ہے۔ وہ اپنے دوست اور دشمن کو خوب پہچانتی ہے۔ میں جانتی ہوں کہ ان دنوں تم غصے میں پاگل تھے اور مجھ سے بدلہ لینی کی سوچ رہے تھے۔ ارے پاگل میں تو صرف تمھاری اور اپنی عزت کی وجہ سے چپ رہی۔ اور سنوتم نے ہمیشہ مجھ سے یہی پوچھا تھا نہ کہ میں تم سے محبت کیوں نہیں کرتی۔ سنو گے اس کا جواب؟ تو سنو!
جب سے میں نے ہوش سنبھالا تھا تو خود کو ایک غریب گھرانے میں پایا۔ میرا باپ نشہ کرتا تھا اور ماں سے بدتمیزی بھی کرتا تھا۔ بہت چھوٹی سی تھی میں جب وہ میری ماں کو بے یارومددگار چھوڑ کر چلا گیا تھا۔ میں تو باپ کی شفقت تک سے محروم رہی ہوں۔ میرے دو چھوٹے بہن بھائی تھے جو بھوک اور بیماری کی وجہ سے اکثر تکلیف میں رہتے تھے۔ گھر بھی کرائے کا تھا۔ میری ماں بچاری لوگوں کے گھروں میں کام کر کے یا کپڑے سی کر گزارا کرتی تھی۔ اس نے بڑی مشکل سے مجھے پڑھایا تھا۔ اب وہ بوڑھی ہوتی جا رہی تھی۔ مجھے فکر تھی کہ آخر مجھے ہی ان کا سہارا بننا ہے۔ میں بیٹی نہیں بیٹا بننا چاہتی تھی۔ بڑی مشکل سے یونیورسٹی میں داخلہ لیا تھا۔ اور تمہیں یاد ہو گا مجھے اکثر یونیورسٹی سے جلدی جانے کی فکر ہوتی تھی تو وہ بات یوں تھی کہ چھٹی کے بعد میں نے گھروں میں جا جا کر ٹیوشن پڑھانی ہوتی تھیں تا کہ میری یونیورسٹی کی فیس ادا ہوتی رہی۔ اور گھر کا خرچہ بھی چلتا رہے۔ جس دن تم اور بشارت مجھے کار میں چھوڑنے آئے تھے تو میں اسی لیئے راستے ہی میں اتر گئی تھی کہ کہیں تم میرا گھر نہ دیکھ لو۔ نہ جانے چھوٹا سا کرائے کا گھر دیکھ کر تم پہ کیا اثر ہوتا۔ اب تم ہی بتاؤ اگر میں تم سے دوستی کرتی اور میری ماں کو پتہ چلتا تو اس بیچاری کے دل پہ کیا گزرتی۔ میرے چھوٹے چھوٹے بہن بھائیوں کا کیا بنتا۔ مجھے تو یہ ہی پتا تھا کہ میں نے شادی نہیں کرنی ان کا سہارا بن کے دکھانا ہے۔ اور تم یہی سمجھتے رہے کہ شاید اب میری زندگی میں کوئی اور آ چکا ہے اور میں تم سے بدل رہی ہوں۔ اب تم ہی بتاؤ کیا غلط کیا میں نے۔ اور ہاں تمہیں یاد ہو گا ایک ڈائری دی تھی میں نے تمہیں اور ساتھ ایک قسم بھی دی تھی۔ وہ آخری شام جب میں تم سے جدا ہوئی تھی اسی پیڑ کے نیچے تو میں نے تمہیں کہا تھا ایک دن یہ ڈائری کام آئے گی تمھارے۔ اب اگر وہ تھارے پاس ہے تو اس کا پہلا صفحہ گتے سے پہاڑ کر الٹ کر دیکھنا اور تمہیں قسم ہے اس پیار کی جو کبھی ہم نے کیا تھا۔ دوبارہ پلیز رابطہ مت کرنا۔
یہ ایک پیڑ ہے آ اس سے مل کے رو لیں ہم
یہاں سے تیرے میرے راستے بدلتے ہیں (بشیر بدر)

تمھارے آخری سوال کا جواب !
میں نے اب تک شادی نہیں کی نہ ہی سوچا ہے اس بارے میں۔
نازو

جیسے ہی ارمان کو وہ آخری خط ملا اسے ڈائری یاد آئی۔ جلدی سے سٹور میں گیا اور پرانی ڈائری ڈھونڈ کے نکالی۔ مگر یہ تو بلکل خالی پڑی تھی۔ اس نے جلدی سے کانپتے ہاتھوں سے جلد کے ساتھ لگا صفحہ گتے سے پھاڑ کر دیکھا۔ گتے کی جلد پہ اندر کی طرف ایک شعر لکھا تھا۔

مدت بعد اس کا وہ تحفہ جو کھولا
تو پہلے ہی صفحے نے کر دیا ویران
آنسوؤں کی بھیڑ میں بس اتنا دیکھ پایا
میری پہلی اور آخری محبت کے نام!

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rizwan Ali
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
23 Apr, 2018 Views: 981

Comments

آپ کی رائے