امریکی اسکالر و سوشل ورکرسائرس مک گولڈ رک کا خصوصی انٹرویو

(Hafeez khattak, Karachi)
امریکی اسکالر و شوشل ورکر سے لیا گیا خصوصی انٹرویو

سوال : محترم سائرس مک گولڈ رک کچھ اپنے بارے میں بتائیں؟
سائرس مک گولڈ رک: مسلمان امریکی شہری ہوں، امریکہ میں اک شوشل ورکراور اسکالر سمیت اک طالبعلم کے حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں سرانجام دیتاہوں۔ ماضی میں اک بار پاکستان آچکاہوں۔

سوال : سائرس مک گولڈ رک آپ کے دورہ پاکستان کا مقصد کیا ہے ؟
سائرس مک گولڈ رک: اک طالبعلم اور سوشل امریکی ہوں۔ اس کے ساتھ صوفی ازم کے حوالے سے اپنے ملک کی نمائندگی کرتاہوں ۔ پاکستان آنے کا مقصد یہ ہے کہ کراچی کے اک مقامی ہوٹل میں صوفی ازم کے حوالے سے دوروزہ عالمی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں مجھے امریکی نمائندگی کیلئے مدعو کیا گیا۔ امریکہ میں پاکستان کی شہری ڈاکٹر عافیہ صدیقی قید ہیں، میری خواہش تھی کہ ان کے اہل خانہ سے ملاقات بھی میرے دورے کا مقصد ہے ۔

سوال : صوفی ازم کے حوالے سے یہ چوتھی عالمی کانفرنس تھی اس کے متعلق آپ کیا کہتے ہیں؟
سائرس مک گولڈ رک: پاکستان میں اس نوعیت کی کانفرنس کا انعقاد مثبت ہے، اس سے قبل جو بھی کانفرنس منعقد ہوئیں ان میں تو شریک نہیں ہوا تاہم اس بار جو کانفرنس ہوئی اس میں شرکت کرکے اچھا محسوس ہورہا ہے۔ کانفرنس میں عیسائی، ہندو،سکھوں سمیت دیگر مذاہب اور مکاتب فکر اسکالرز شریک ہوئے جنہوں نے صوفی ازم کے حوالے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ میں اک مسلمان ہوںاور اسلام میں صوفی ازم کے حوالے سے اپنے سوچ اور خیالات سمیت اس کے افکار کو شرکاءکے سامنے رکھا جسے شرکاءنے پسند کیا ۔

سوال : امریکی پالیسی شمالی کوریا کے حوالے سے کیوں تبدیل ہے؟
سائرس مک گولڈ رک: اچھا سوال ہے، دیکھیں امریکہ دنیا میں امن چاہتا ہے اور وہ اب تک کاوش کرتا ہے رہا ہے کہ جہاںبھی اسے انسانی حقوق کے پامالی اور انسانیت دشمنی پر مبنی خیالات و اقدامات نظر آتے ہیں تو امریکہ اس کے خلاف کاروائی کرتاہے۔ شمالی کوریا کے متعلق سب جانتے ہیں کہ اس کے پاس کس نوعیت کے ہتھیار ہیں اور وہ انہیں کن مقاصد کیلئے استعمال کرنا چاہتاہے ۔ چین بھی اک معاشی طور پر مستحکم ملک ہونے کے ساتھ ایٹمی قوت ہے اور شمالی کوریا کو چین کی پشت پناہی حاصل ہے۔ اس وجہ سے بھی آپ یہ کہہ سکتے ہیںکہ امریکہ جس انداز میں دیگر انسانیت سوز مظالم کے خلاف اقدامات کرتاہے اس انداز میں شمالی کوریا کے خلاف ابھی تک نہیںکئے۔ میرا ملک یہ چاہتا کہ شمالی کوریا اپنے مذموم مقاصد کو ایک جانب رکھ کر مذاکرات کے ذریعے معاملات کو سامنے رکھے اور مذاکرات کے ذریعے ہی مسائل حل ہوں۔

سوال : ہالی ووڈ میں پرتشدد فلمیں بنتی ہیںاور ان فلموں کو امریکہ سے زیادہ دیگر ممالک میں کیوں دیکھا جاتاہے ، ہالی ووڈ فلموں کے امریکہ میں کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟
سائرس مک گولڈ رک: یہ بات درست ہے کہ ہالی ووڈ فلمی دنیا میں سے آگے ہے اور امریکہ میں ہالی ووڈ کا اک مقام ہے اس کے ساتھ ہی وہاں بننے والی فلمیں دنیا بھر میں پسند کی جاتی ہیں۔ پرتشدد فلموں کے بارے میں یہ کہونگا کہ دنیا میں معاشرے میں ترقی کی جانب گامزن ہیں، ترقی پذیر ممالک ترقی کرکے ترقی یافتہ ممالک کی صفوں میں آنا چاہتے ہیںاور جو ممالک ترقی یافتہ ہیں وہ مزید ترقی یافتہ ہونا چاہتے ہیںہر شعبے میں تیزی کے ساتھ جدت لانا چاہتے ہیں ۔ اسی طرح ہالی ووڈ کی فلموںکا بھی حال ہے۔ وہ بھی یہ چاہتے ہیں کہ نت نئی، جدیداور جدیدیت کی نئے انداز میںفلمیں بنائیں اور وہ بھی ایسی کہ جو کسی اور ملک کی فلم انڈسٹری نے نہ بنائی ہوں۔ اس طرح کی فلمیں بھی کہ جس میں انہیں اپنی جدیدیت سے آگے اور منفرد انداز میں پیش کرنے میں آسانی ہو۔ اسی طرح سے دنیا بھر میںدیکھی جانی ان کی فلموں کو پذیرائی جو اب تک ملک رہی ہے وہ ملتی رہے گی۔ جہاں تک اس کے مثبت اور منفی نتائج کا تعلق ہے تو امریکہ میں بھی جرائم پیشہ لوگ ہوتے ہیں اور وہ فلموں سے بھی اپنے غلط کاموں کو مزید بڑھانے کیلئے مدد حاصل کرتے ہیں۔ موجودہ دور میں شوشل میڈیا تیزی کے ساتھ آگے بڑھتا جارہا ہے لہذا فلموں کو اس ذریعے بھی دیکھا اور دیکھایا جاتاہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی کہوں گا کہ صرف ہالی ووڈ میں ہی منفی فلمیں نہیں بنتی وہاں مثبت فلمیں بھی بنتی ہیں اور اس کے ساتھ منفی فلموں کے حوالے سے آپ کو اپنے ملک کی فلم انڈسٹری سمیت پڑوسی ملک کی فلموںکو مدنظر رکھنا چاہئے ۔

سوال : ڈاکٹر عافیہ صدیقی آپ کے ملک میں برسوں سے قید ہے، ان کے متعلق آپ کیا کہیں گے؟
سائرس مک گولڈ رک: جی ڈاکٹر عافیہ صدیقی، نے امریکہ میںاعلی تعلیم حاصل کی اور اس کے بعد وہ پاکستان آئیں ۔ وہ برسوں سے میرے ملک میں قید ہے اور ان کی رہائی کیلئے پاکستان میں عافیہ موومنٹ کے نام سے ایک تحریک جاری ہے ۔ ذاتی طور پر میں بھی امریکہ میں عافیہ فاﺅنڈیشن کا رکن ہوں اور ان کیلئے میں بھی انصاف چاہتاہوں۔ اپنے اس دورے کے دوران میںڈاکٹر عافیہ صدیقی کے گھر گیا اور ان کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی ،والدہ عصمت صدیقی سمیت بچوں سے بھی ملاقات کی۔ ان کے گھر میں بہت سارے دیگران لوگوںسے بھی ملا جو کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے جدوجہد کررہے ہیں۔ ملاقات میںعافیہ کی والدہ سے باتیں کرنے کی شدید خواہش تھی جو پوری ہوئی۔ میں نے ان کو بتایا کہ زندگی میں اپنی ماںکو پہلی بار جذباتی ہوتے ہوئے اس وقت دیکھا جب انکے سامنے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا ذکر ہوا۔

سوال: امریکہ ایک جانب انسانی حقوق کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو رہا کیوں نہیںکرتا؟
سائرس مک گولڈ رک: ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی اسی وقت ممکن ہوگی جب آپ کی حکومت ہماری حکومت سے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کی بات کرے گی ۔ مجھے تو یہاں آکر اور دیکھ کر حیرت ہوئی کہ لوگ جن سے بھی میری ملاقاتیں ہوئیں وہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی چاہتے ہیںلیکن حکومت کی اس حوالے سے کارکردگی ناسمجھ ہے۔ پاکستان کی حکومت نے ماضی میں جب ریمنڈ ڈیوس کا معاملہ تھا اس وقت بھی اک موقع ضائع کیا ور اب کرنل جوزف کا جو معاملہ ہے یہ تو اس سے بھی زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ امریکہ اپنے شہریوں کی ہر ملک میں اور ہر جگہ خیریت چاہتاہے اور یہ تو کرنل ہے لہذا میں سمجھتا ہوںکہ آپ کی حکومت کو چاہئے کہ وہ امریکہ سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے ٹھوس انداز میں بات کرئے اور کرنل جوزف کے معاملے کو مدنظر رکھتے ہوئے جامع مذاکرات کرئے۔
([email protected])
سوال
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hafeez khattak

Read More Articles by Hafeez khattak: 190 Articles with 102375 views »
came to the journalism through an accident, now trying to become a journalist from last 12 years,
write to express and share me feeling as well taug
.. View More
26 Apr, 2018 Views: 489

Comments

آپ کی رائے