لوٹ مار کا نیا طریقہ

(Babar Alyas, Chichawatni)
مقامی سطح پر اپنی طاقت ؤ قوت کے مطابق ہر بندہ ہی دو نمبری اختیار کیے ھوۓ ہے. لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی بجاۓ اپنے پیٹ بھرنے میں. مصروف عمل ھے جو کہ معاشرے کے بگاڑ کا باعث ھے.

لوٹ مار کا نیا طریقہ
حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ تم میں ہر ایک نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔
لیکن افسوس کی بات ہے کہ جس بھی بندے کے پاس تھوڑا بہت اختیار آتا ہے، وہ اس کا ناجائز استعمال کرتا ہے خواہ وہ سرکاری ہو یا غیر سرکاری، اسی طرح کارویہ، اختیار ات کا ناجائز استعمال روازنہ کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے، جس ایک مثا ل پیش خدمت ہے شہر چیچہ وطنی میں ایسا ہی کام اپنے عروج پر ھے. میرے قریبی دوست محمد افضل ولد محمد اشرف( بلاک نمبر گیارہ) نے میری توجہ اس جانب کروائی کہ چیچہ وطنی ریلوے روڈ پر واقع المعروف رانا فوٹو اسٹیٹ شاپ, مدنیہ چوک چیچہ وطنی, کالج روڑ چیچہ وطنی, کریسنٹ گرلز سکول چوک چیچہ وطنی, ملک مارکیٹ چیچہ وطنی میں چند موجود شاپ جو کہ فوٹو کاپی کے ساتھ ساتھ ایزی لوڈ، ایزی پیشہ، جاز کیش اور بجلی اور گیس ,پانی, کے بلز وصول کرنے اور نئے اور پرانے موباہل خرید ؤ فروخت بھی کرتے ہیں۔ محترم محمد افضل صاحب کے موبائل اکاؤنٹ میں 20000روپے کی رقم آئی، جب وہ رقم وصول کرنے کے لیے کمپنی کے منظور شدہ ڈیلرز رانا فوٹو اسٹیٹ ریلوے روڈ چیچہ وطنی کے پاس گئے تو انہوں نے موبائل اکاؤنٹ سے رقم Receiveکروانے پر دس روپے فی ہزار وصول بطورچارج کئے۔ اس ان سے کل ایکسٹرا چارجز مبلغ 200/- روپے وصول کئے، ریٹ و کمیشن کے بارے میں جو معلومات مجھے الرحمن موباہل سنٹر کمالیہ روڑ (سہیل اصغر) گجر موباہل سنٹر چیچہ وطنی سٹی (عابد گجر) کالج جنرل سٹور اینڈ موباہل شاپ پنسار بازار نے بتایا کہ کمپنی والے بجلی گیس. پانی فون کا بل جمع کرنے پر دوکاندار کو 2.30 روپے سے 2.25 تک کمیشن دیتے ہیں. اور نادرہ والے 4.30روپے تک کمیشن دیتے ہیں.

عابد گجر صاحب اور سہیل اصغر صاحب نے بتایا کہ اگر ہم ایک ہزار روپے کا لوڈ کرتے ہیں تو دوکاندار کو صرف 25 روپے سے 27 روپے تک کمیشن ملتا ھے مزید انکے بقول اگر پچاس ہزار کی رقم موباہل سے سینڈ کرت ہیں تو اس کے بدلے کمپنی 27.30 روپے کمیشن دیتی ھے اس لیے بھی کچھ دوکاندار حضرات گاہک سے زیادہ رقم وصول کرتے ہیں جو کہ غلط بھی ھے اور ناجائز بھی ھے اس سارے عمل میں نقصان صرف گاہک کا ہی ھے
سوال یہ کہ جب کمپنی ان فرنچائز ہولڈرز کو باقاعدہ کمیشن دیتی ہے تو پھر یہ کسٹمر سے ایکسٹرا کیوں چار ج کرتے ہیں۔ اس مکروہ دھند کرنے والے ڈیلرکو ری چیک کرنے کے لیے میں نے افضل صاحب کے ساتھ بعد میں دوبارہ کوشش کی کہ ھو سکتا ھے اس بندے میں کوئی اخلاقی تبدیلی آ گئ ھو مگر افسوس کہ یہ بیمار معاشرہ ھے یکے بعد دیگرے مختلف اوقات,ممختلف شاپ اور مختلف دوستوں جن میں ایک طالب علم محمد عاطف گجر, رانا حمزہ, کاشف آرائیں, علی ملک,ضیا جٹ, رانا دانش, کی مدد سے رانا فوٹو اسٹیٹ کے ذریعے رقم سینڈ بھی کی اور وصول بھی کی لیکن ہر دفعہ موصوف نے 10 روپے فی ہزار کی نسبت سے سر چارجز وصول کئے جو کہ سر اسر ناانصافی اور بدمعاشی ہے۔

اس دوران ان صاحب سے بحث مباحثہ ہوا لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوئے بلکہ کہنے لگے کہ ایسی باتیں اور Compliansہوتی رہتی ہیں، کمپنی وارننگ دے کر بری ہو جاتی ہے۔

لہذا ہم اس کی پروا ہ نہیں کرتے، یا د رہے کہ اس دوران افضل صاحب اور دیگر دوست جو پیسے لینے اور دینے کے سلسلہ میں رانا فوٹو اسٹیٹ ریلوے روڈ چیچہ وطنی گئے اور اس ناروا سلوک کے خلاف متعلقہ کمپنیوں کو شکایت کی صورت میں مطلع کر چکے ہیں.

لیکن اس کا ر زلٹ صفر ہی رہا۔ اس کا مطلب یہ ہو اکہ کمپنیوں کو اس سے کوئی سرو کار نہیں ان کا کمیشن بس انکو ملتارہنا چاہئے ڈیلر جو چاہے کرے۔

اس سلسلہ میں میر ی بات ایک وکیل صاحب سے بھی ہوئی انہوں نے بتایا کہ قانون میں ایسی دفعہ تو کوئی نہیں.
البتہ اگر کوئی بندہ تحریری طورپر ایسے معاملات کے خلاف متعلقہ تھانہ میں رپورٹ درج کرواتا ہے تو یہ ناجائز چارج، بھتہ خوری، دھوکا دہی کے زمرے میں آتا ہے اور متعلقہ تھانہ اس کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ میں کمپنی مالکان اور ارباب اختیار سے درخواست کرتا ہوں کہ کمپنیوں سے پوچھ گچھ کی جائے اور کرپٹ عناصر کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے تاکہ دیگر شہری محفوظ رہ سکیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Babar Alyas

Read More Articles by Babar Alyas : 254 Articles with 90523 views »
استاد ہونے کے ناطے میرا مشن ہے کہ دائرہ اسلام کی حدود میں رہتے ہوۓ لکھو اور مقصد اپنی اصلاح ہو,
ایم اے مطالعہ پاکستان کرنے بعد کے درس نظامی کا کورس
.. View More
26 Apr, 2018 Views: 563

Comments

آپ کی رائے