کیا ہم زینب کو بھلا بیٹھے؟

(Maryam Arif, Karachi)

ازقلم: اشنہ مناہل
بھولی آنکھوں والی گڑیا !!!
ہم تجھ سے شرمندہ ہیں
ماں تیری تو روز مرے گی
قاتل جب تک زندہ ہیں
ہم اس قوم کے غافل لوگ
سب ہی جواب دہندہ ہیں
تجھ پر جو بیتی ہے اس پر
زینب! ہم شرمندہ ہیں
سمجھ نہیں آرہا کہ اپنے درد کے اظہار کے لئے کن الفاظ کا استعمال کروں کہ جس سے ہمارے سوئے ہوئے ضمیر جاگ جائیں، ہم غیر مسلموں کی اندھی تقلید ہم رک جائیں، ہماری ماؤں، بیٹیوں ،بہنوں کی عزت و آبرو محفوظ ہو جائیں، ہمارے محافظوں کی غیرت جاگ جائے، انہیں یہ یاد آ جائے کہ وہ نگران بنا ئیں گئے ہیں اور ہر نگران سے پوچھ گچھ کی جاتی ہے۔ پوچھا جاتاہے کہ انہوں نے اپنی ذمہ داریاں کس حد تک پوری کی؟
یومِ حشر جب ان نام نہاد محافظوں کے گریبان ہوں گے اور ان معصوم کلیوں کے ہاتھ ہوں گے۔ رب ذوالجلال کی عدالت ہو گی۔اور ان کے جھکے سر ہوں گے تو کیا جواب ہوگا؟؟ کیا جواب ہوگا ہمارے ان محافظوں کے پاس کہ سر زمین فلسطین و کشمیر ، برما ،روہنگیا کی ماؤں بیٹیوں ،بہنوں کی عزت پامال کی جارہی تھی اور ہم اس بحث میں مشغول تھے کہ ان سب کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے؟ اپنے ان فولادی ہاتھوں کو ہتھیاروں کی طرف بڑھانے کے بجائے ہم آپس میں ایک دوسرے پر الزام لگانے میں مصروف تھے۔ کیا جواب دیں گے ہم سرکار دوعالم صلی اﷲ علیہ وسلم کو جب وہ ہم سے پوچھیں گے کہ اس ننھی پری کے والدین میرے دربار میں حاضری دینے کے لیے آئے تھے اور تم 7سالہ اس معصوم کی حفاظت نہیں کر سکے۔۔۔

ہم آج احتجاج کر رہے ہیں زینب کے لیے۔ اسے انصاف دلانے کے لیے۔ حکمرانوں کو اس سب کا قصوروار ٹھہرایا جا رہا ہے۔ سب انگلیاں اٹھا رہے ہیں حکومت پر ، حکمرانوں پر اور ان کی بے حسی پر، کیوں؟ ہاں ہمارے حکمران بھی قصوروار ہیں کہ اسلامی نظام کا نفاذ نہیں کر سکے لیکن ہم اپنے گریبانوں میں کیوں نہیں جھانکتے ؟ ہر ہر طبقہ اپنی اپنی کوتاہیوں سے نظریں چرائے الزامات و تنقید کے تیر برسائے چلا جا رہا ہے۔ قصور وار سب ہیں۔ جرم میں سب برابر کے شریک ہیں۔

آج ضرورت ہے محمد بن قاسم کی جو ایک عورت کی پکار پر لبیک کہتے ہیں آج ضرورت ہے عمر فاروق رضی اﷲ عنہ جیسے حکمران کی جن کے دور خلافت میں ایک بھیڑیے کو اتنی جرات نہیں کہ وہ بکریوں کے ریوڑ پر حملہ کر سکے اور آج ضرورت ہے ایسی ماؤں کی جو اپنے بچیوں کو رابعہ بصری جیسا بنائیں۔شیخ عبد القادر جیلانی جیسا بنائیں۔

میں خود سے نظریں نہیں ملا پا رہی کہ یوم حشر زینب اور اس جیسی نجانے کتنی ہی ننھی پریاں ہوں گی ان سب کا سامنا کیسے کروں گی؟؟ دل لہو لہان ہے اور دامن اشک اشک۔ دماغ سوالات کی بوچھاڑ کیے جا رہا ہے اور زبان صدمے سے کنگ ۔۔ بنیادی وجہ کیا ہے کہ ہماری معصوم کلیاں ظلم و زیادتی کا نشانہ بنا دی جاتی ہیں۔؟؟ کیوں یہ معصوم کلیاں کھلنے سے پہلے ہی مسل دی جاتی ہیں۔چند لمحے کی جنسی تسکین کی بھینٹ چڑھا دی جاتی ہیں۔؟؟

آج جو وحشی درندے ہر طرف پھر رہے ہیں یہ بھی تو کسی کی اولاد ہیں انہیں بھی تو بد نصیب ماؤں نے جنا ہوگا۔ اپنے خون جگر سے پروان چڑھایا ہو گا۔پھر کیا وجہ بنی کہ گناہوں کی دلدل میں ڈوبتے چلے جا رہے ہیں اور خوف خدا بھی نہیں۔کیوں وہ مائیں انہیں حسن بصری جیسانہیں بنا سکیں۔ایک اچھا مسلمان نہیں بنا سکیں کیوں انہیں عزتوں کا محافظ اور امین نہیں بنا سکیں ؟ہاں جی کہیں نہ کہیں کمی رہ گئی بہت بڑی کمی ، تربیت کی کمی..قرآن مجید میں ارشاد ہے ۔ ’’مرد عورتوں پر نگران ہیں ‘‘۔

یہ کیسے نگران ہیں جو اپنی ہی عزتوں پر ڈاکے ڈال رہے ہیں،انہیں حرص و ہوس کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔گھات لگائے بیٹھتے ہیں کہ کب موقع ملے اور یہ اپنے شکار پر جھپٹیں۔اور اپنی جنسی بھوک کو مٹائیں۔ لیکن …میں سوال کرتی ہوں ان نھنی معصوم کلیوں کے والدین سے کہکیوں ہم ان معصوم کلیوں کو اپنے آنگن میں رکھنے کے بجائے انہیں گلدستے میں سجا دیتے ہیں اور ہر آنے والے کو پیش کرتے ہیں کہ آؤ سونگھو ان کلیوں کو اور پھر نوچ ڈالو۔بچوں کو باہر اکیلے بھیج دیتے ہیں اور جب قیمتی متاع لٹ جاتی ہے تو آہ و بکا کے علاوہ کرنے کو کچھ باقی نہیں رہتا۔

فاطمۃ الزہرا رضی اﷲ عنہا جو حیا کے ماتھے کا تاج ہیں قریب المرگ یہ وصیت کرتی ہیں کہ میرا جنازہ رات کو اٹھانا تاکہ کسی غیر محرم کی نظر نہ پڑ جائے۔ کتنے آرام و سکون سے ہم ان نازک آبگینوں کو نیم برہنہ کپڑے زیب تن کرواتے ہیں اور درندوں کے درمیان چھوڑ دیتے ہیں۔خدارا اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور انہیں احسن طریقے سے سر انجام دیں۔اپنے بچوں کی تربیت اسلامی احکام کے مطابق کریں۔ مکلمل لباس پہنائیں انہیں اکیلا کہیں نہ بھیجیں۔اپنے بچوں کی نگرانی کریں۔ان پھولوں کو محبت و پیار کے پانی سے سیراب کریں۔ اﷲ رب االعزت ہم سب کو عملی مسلمان بنائیں ہم سب کو اپنی حفظ و امان رکھیں۔آمین

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1227 Articles with 501516 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Apr, 2018 Views: 250

Comments

آپ کی رائے