مجھے مزدوری مل گئی

(Tayaba Rafeeq, Karachi)

تحریر:طیبہ رفیق،جامعۃ المحصنات،کراچی
ایم بی اے پاس ہونے کے باوجود آج اس نے ریڑھی لگانے پر اکتفا کر ہی لیا تھا آفس میں اے.سی میں بیٹھے سامنے لیپ ٹاپ پر مچلتی انگلیاں اور ہرماہ کے ختم پہ ہی جیب …….نا ……اب تو اکاونٹ سسٹم وجود میں آگیا ہے جی تو اکاؤنٹ کا رنگ ہرا ہو جانے کا خواب ہر نوجوان ضرور دیکھتا ہے لیکن جب ڈگری لینے کے بعد دھوپ کی چھاؤں میں کرپشن کا سامنا درپیش ہوتا ہے تو پھر ایک دن ایسا آتا ہے کہ جہاں سامنے میز کا خیال آتا ہے وہاں ایک ریڑھی ہوتی ہے اور پھر جہاں قلم اور فائلوں کا تصور ہوتا ہے وہاں ریڑھی پر موجود لوکی آلو مٹر وہ جگہ لے چکے ہوتے ہیں جہاں افسروں کے ساتھ پرامن گفتگو کرنے کا خیال ہوتا ہے اب وہی خیال گاہوں سے بھاؤ تاؤ کرنے کی عکاسی کر رہا ہوتا ہے خدانہ خواستہ میں سبزی فروشوں اور جنھیں میں منڈی کا افسر کہوں گی ان پر تنقید بالکل نہیں کر رہی بس آج اپنے ملک کا جو المیہ ہے اس پر تھوڑی سی نظر کرنے کی کوشش ہے ایک ایم بی اے اور ایم اے کی ڈگری لینے والا فرد جو اپنے پیروں پر کھڑا ہو کر بھی نااہل ہے بیوی بچے تو دور کی بات اپنا وجود خود پہ بوجھ بنتا جا رہا ہے جاب کے لئے کہیں بھی اپلائی کیا جائے تو افسر صاحب کے سر مبارک پرٹوپی نہیں ہوتی آپ سمجھ سکتے ہیں کہ انہوں نے بات کا آغاز 'ر' سے شروع ہونے والے الفاظ (رشوت) سے ہی کرنا ہوتا ہے پھر ہمیں تو نام لینے سے بھی ڈر لگتا ہے کہ کہیں اس بلا کا سامنا نہ ہو جائے.مدّے پر آتے ہیں..ایسی کیا وجہ ہے کہ میرا ملک انجن کے ہوتے ہوئے بھی بیل گاڑی کا سہارا لئے ہوئے ہے لگام بھی خوشی خوشی گوروں کے ہاتھ میں تھمائی ہوئی ہے اور قطار میں یہودی تو لال رومال میں وہ بھی موجودہیں جنہوں نے زمین پر اﷲ کے گھر ہونے کا شرف حاصل ہونے کے ساتھ (معذرت) یہ اعزاز بھی لے کر خود پہ دھبہ لگوالیا کہ اب جوا بہت آسائش کے ساتھ کھیلا جا سکتاہے ہمارے ملک میں اور ہم پر جو ٹیک لگا تھا کہ آج تک ہم نے قرضہ نہیں لیا کسی ملک سے تو بات عرض ہے کہ اب ورلڈ بینک سے قرضہ لے کر خود پر سے یہ ٹیگ اتار پھینکا ہے بھلا ہم کیوں یہ تمغہ واحد لے کر بیٹھیں..جی تو بات ہو رہی تھی المیہ کی نوجوان کی بات کر رہے تھے لیکن مرحلہ آپ کے سامنے ہے ملک کے بادشاہ بھی بیچارے ہیں.لیکن تھوڑی سی نظر چھپ چھپا کر ہی سہی اسلاف پر ڈالتے ہیں اگر ھم تو نبوت کی کرن جہاں سے پھوٹی ظلمت کے خاتمے کی جہاں سے ابتداء ہوئی وہ پیارے نبی بکریاں چرا رہے ہیں..تو کبھی پیٹ پر پتھر باندھ کر ایک نہیں دو دو پتھر تپتی دھوپ میں لوگوں کے ساتھ عام بشر کی طرح کام میں مگن ہیں یہ بات یاد رہے نبوت مل چکی ہے (بادشاہت تصورکرلیں)اقتدار ہیکل مادیت پر. ہوسکتا ہے سوال پیدا ہو ذہن میں کہ وہ تو نبیﷺ تھے یا پھر کوئی غلو ھی کر جائے کہ وہ نور تھے (معاذاﷲ) توان ہستی مبارک کو دیکھ لیتے ہیں کے جنہیں دیکھ کر شیطان اپنا راستہ بدل لیتا ہے ہاں عمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ آپ جب کسی کو کسی شہریا ملک کا خلیفہ مقرر کرتے نصیحت فرماتے چھنا ہوا آٹا نا کھانا, باریک لباس نہ پہنناگھوڑے پر زین ڈال کر نہ بیٹھنا, اپنا دروازہ حاجت مندوں کے لئے کھلا رکھنا,کوئی دربان کھڑا نہ کرنا ...اﷲ میرے کیا کیا اور کن کن کے بارے میں لکھا جائے ،پڑھے لکھے افسر کو, ایک حکمران کو, ایک ہاتھ پھیلانے والے فقیر کو, جہریوں پڑے بڑھاپے میں بزرگ کو یا نومولود بچے کو ..تین وقت..پیٹ بھرنا ہی ہے سب سے پہلے پھر بات میں کپڑا لتا ...اگر مزدوری کرنا پیٹ بھرنے کا دارومدار ہے تو جناب یہ بات یاد رکھیں جس جان کا دانہ پانی لکھا گیا ہے وہ اسے کھائے بغیر دنیا سے رخصت نہیں ہو سکتا اور پھر جو رب دو پیر, والے چار پیر والے, پیٹ کے بل چلنے والے اور پتھر میں کیڑے فضا میں پرندے پانی میں خشکی میں جاندار کو بینا نابینا کو رزق پہنچانے والا ہے تو وہ کیا مخلوق اشرف المخلوقات کو بھول جائے گا اور پھر اشرف المخلوقات میں بھی اس کے پیارے لاڈلے نبی ﷺکی امت کو بھول جائیگا نہیں ہر گز نہیں اس نے رزق کا وعدہ کیا ہے اور بیشک وہ وعدہ خلافی نہیں فرمانے والا. زندگی کی گاڑی کو مزین اور پائیدار رکھنے کے لئے روزی درکار ہونا اور پھر اس روزی کا حلال ہونا اہمیت ہے جو ہماری نظروں سے اوجھل ہو گیا ہے ہم مزدوری کر بھی لیں تو ایک اچھے نتائج نہیں پا سکتے باوجود یہ کہ ہم نے دنیا کے عروج کے لئے مزدور بن کے کام کیا نہ کے آخرت کے لئے.عیش میں اگر عزت نہ ہو تو وہ پھر ذلت و رسوائی کا سامنا کرتے ہوئے انسان غربت مانگ کر ہمدردی کی امید کر رہا ہوتا ہے .سامنے ٹیبل ہویا ریڑھی عزت اور حلال روزی وہ واحد چیز ہے جو سکون میسر کرسکتی ہے آپ کو .میں نے عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی بات کی... حالات کیا ہیں.. کہ ایک دن گھر میں داخل ہوتے ہیں تو بیٹیوں نے منہ پر کپڑا رکھا ہوا تھا باندی سے پوچھا کہ یہ کیوں کر رہی ہیں ایسا باندی کیا جواب دیتی ہے اے امیرالمومنین آج آپ کی بیٹیوں نے پیاز سے روٹی کھائی ہے یہ کپڑا رکھا ہوا ہے کہ پیاز کی بو نہ آئے ایسے حالات کے ہوتے ہوئے عزت کی بات کریں تو میں ابھی اسی وقت آپ سے پوچھتی ہوں کے بتائیں ایگزیلینڈر کون تھا آپ کا جواب یہی ہوگا کہ عمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ اور سکون کی بات کرتے ہیں تو ایک شخص آپ کی تلاش میں تھا اور جب آپ اسے ملے تو سر کے نیچے پھتر لگا کر سو رہے تھے ..تھے وقت کے حکمران لیکن انہیں پتہ تھا،الدنیا سجن المومن و جنت الکافر یہ سبق شاید میرے اور آپ کے لئے بھی تھا لیکن ………….چھوڑیں ابھی تو آپ کہیں گے کہ عمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ کی بات ہو رہی ہے جی ہاں تو یہ بات بھی ذرا دیکھ لیتے ہیں کہ کیصرو کسرا کے خزانے کی چابی آپ کے ہاتھوں میں دی گئی تو اس وقت بھی آپ کے لباس میں پیوند تھے .مزدوری سب نے کرنی ہوتی ہے ہاتھ پاؤں چلانے ہی ہوتے ہیں پڑے پڑے گل جانے کا ڈر بوڑھے بزرگ تو کیا ایک پچکاریاں مارتے ہوئے بچے کو بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنی ماں سے رو رو کہ تو کبھی ہنس ہنس کہ ماں کا کام یاد دلا رہا ہوتا ہے اس کا پیٹ بھراجائے اس کو دودھ پلایا جائے.یہ سب تو دنیا کے مزدور اور دنیا کی مزدوری کی بات تھی. ایک مزدوری اس رب نے بھی طے کی ہے اور بونس بھی رکھا ہے ہاف ٹائم بھی دیا ہے اجرت بھی مزدور کے کہنے پر رکھ دی ہے لیکن ہائے افسوس می اور آپ اس اے.سی والے کمرے اور ٹیبل کے چکر میں فائل ہاتھ میں لئے گھوم رہے ہیں اور پھر تھک ہار کر ریڑھی بھی لگا لیتے ہیں لیکن اس کی مزدوری نہیں کر پاتے …….مزدوری وہ کہ میری اور آپکی محبتوں کے مرکز نبی محترم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرما دیا کہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے …… اﷲ روز بولی لگواتا ہے حی علی الفلاح حی علی الفلاح ...لیکن شائد کوئی فائلوں کو سمیٹنے اور کوئی بھاوتاو کرنے میں مگن ہوتا ہے کبھی ناغہ ہی نہیں ایسی روزی اور پھر نوافل پڑھ پڑھ کر جتنا مرضی اور ٹائم لگاؤ تنخواہ نعمتیں, رحمتیں, برکتیں تو مقرر ہیں بونس میں جنت رکھ دی گئی یہ کیسی مزدوری ہے اگر طبیعت خراب ہونے کے باعث نہیں کرپارہے تو بیٹھ کے کرلو مزدوری( بیٹھ کے نماز کی ادائیگی ) وہ بھی نہیں تو لیٹ کے ادائیگی وہ بھی نہیں تو اشارے سے ہی سہی اور پھر مزدوری کے ساتھ ساتھ ایک خاص بونس اگر سفر میں ہو تو کسر کر لو چار ہیں رکعت دو ادا کرلو تنخواہ پوری ملے گی یہ میرے اور آپکے افسر کا وعدہ ہے ہائے افسوس مزدوروں کا دن ہے اور افسر تو موجود ہے دیہاڑی بھی موجود ہے لیکن میں اور آپ اے۔سی والے کمرے کے …

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tayaba Rafeeq

Read More Articles by Tayaba Rafeeq: 51 Articles with 25294 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 May, 2018 Views: 425

Comments

آپ کی رائے
Nicely written keep it up
By: Istfan Alwan, Lahore on May, 02 2018
Reply Reply
0 Like