عظیم سپہ سالار ( حضرت ابو عبیدہ ابن الجراح ؓ )

(Babar Alyas, Chichawatni)
تاریخ اسلامیہ کا آئینہ موجودہ معاشرے کو صراط مستقیم پر لانے کے لیے کافی ھے اگر کوشش کی جاۓ تو بہتری ممکن ھے

آج میں آپ کو تاریخ کے جھرکوں میں چھپے ہوئے ایک ایسے روشن ستارے, عظیم سپہ سالار صحابی رسول ﷺ جو کہ اسلام قبول کرنے کے بعد ایسا روشن ستارہ بنا کہ اپنے بعد آنے والے انسانوں کے لیے ایک مشعل راہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جنہوں نے چند سالوں میں دنیا کا نقشہ بدل کر تاریخ عالم انسانیت کے نئے رخ متعین کئےوہ حضرت ابوعبیدہ ابن الجراح رضی اللہ عنہ ہیں ۔ حضرت ابوعبیدہ ابن الجراح ؓ جن کو دربار رسالت میں امین الملت کا خطاب ملا،اور انکا تعلق قبیلہ فہرسے تھا۔ جو قبیلہ قریش ہی کی ایک شاخ تھی انکا اصل نام عامر بن عبداللہ تھا۔ ہجرت مدینہ کے وقت انکی عمر مبارک تقریباً 40 سال تھی, بالکل ابتدائی زمانے میں ہی مشرف بااسلام ہوئے، دیگر سابقون الاولون کی طرح قریش کے مظالم کا بھی شکار ہوئے، حضور ﷺ سے اجازت لے کر حبشہ ہجرت کر گئے لیکن مکی دور ہی میں واپس لوٹ آئے۔ نبی کریم ﷺ سے چندروز قبل اذنِ نبوی ﷺ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی اور حضورﷺ کی آمد تک قبا میں قیام کیا۔ مواخات مدینہ میں معزز انصاری صحابی حضرت ابو طلحہ ؓ کے بھائی بنائے گئے، بے مثال خدمات اسلام کی وجہ سے حضورﷺ نے جن صحابہ کو دنیا میں جنت کی بشارت دی ان میں سے ایک ہیں۔ ابوعبیدہ ؓ ابن الجراح بے حد ذہین، سلیم الطبع، متقی اور بہادر تھے، لمبا قد، بظاہر لاغر و کمزور نظر آنے والی شخصیت لیکن قوت ایمان کے سبب انتہائی پر نور چہر اور آہنی عزم کے مالک، ابو عبیدہ ؓ بن الجراح نے اپنے زمانے کی سب سے بڑی عالمی طاقت روم کے خلاف ٹکر لی اور اسے ایشیائی علاقوں سے پیچھے دھکیل دیا۔

دینہ کی اسلامی ریاست قائم ہوئی تو ابوعبیدہ ان اکابرین میں سے تھے جن کو ہر نوعیت کا کام سونپا جا سکتا تھا۔ غزوات میں ابوعبیدہ کی خدمات جلیلہ کا خلاصہ یہ ہے کہ تمام غزوات میں شریک ہوئے اور عشق رسول اور اطاعت الٰہی کا حق ادا کر دیا۔ غزوہ بدر میں اپنے باپ عبداللہ بن الجراح کو اپنے ہاتھ سے قتل کیا۔ قرآن پاک کی ایک آیات آپ ہی جیسے صحابہ کے لیے نازل ہوئی تھی جس میں اللہ تعالٰی باپ، بیٹے، بھائی اور اہل خاندان کے خلاف قتال کی وجہ سے جنت کی بشارت دی اور ارشاد فرمایا کہ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔

غزوہ احد میں ابوعبیدہ بن الجراح افراتفری کے عالم میں بھی ثابت قدم رہنے والے صحابہ میں سے تھے۔ جب ایک کافر کے وار سے حضور کے آہنی خود کی کڑیاں آپ کے رخسار میں دھنس گئیں تو آپ نہایت سرعت سے آگے بڑھے اور اپنے دانتوں سے ان کڑیوں کو باہر نکالا اور اس آپریشن میں خود آپ کے دو دانت ٹوٹ گئے۔
غزوہ احزاب میں ابوعبیدہ بن الجراح نے ایک مستعد اور بہادر سپاہی کی حیثیت سے شرکت کی اور اس کے بعد بنو قریظہ کے استیصال میں حصہ لیا۔ غزوہ احزاب کے بعد بنو ثعلبہ اور بنو انمار کی غارت گری کے انسداد پر مامور ہوئے اور ان کے مرکز ذی القصہ پر کامیاب چھاپہ مارا۔

صلح حدیبیہ کے موقع پر بیعت رضوان میں شامل ہو کر اللہ تعالٰیٰ کی رضا حاصل کی۔ اور غزوہ خیبر میں بھی نبی کریم کے ان فدائیوں میں سے شامل تھے جنہوں نے اپنی شمشیر زنی کا حق ادا کیا۔

بنو قضاعہ نے مدینہ پر حملہ کرنے کے منصوبے بنائے تو آپ کو ایک ایسے دستے کا کمانڈر بنا کر بھیجا گیا جس میں ابوبکر صدیق اور عمر فاروق بھی شامل تھے۔ قریش کی بدعہدی کے بعد ان کے قافلوں کی نگرانی کے لیے ایک مہم ساحل سمندر کی طرف بھیجی گئی جس کی قیادت ابوعبیدہ کو سونپی گئی اور اس لشکر میں عمر بن خطاب بھی شامل تھے۔ اسی سریہ خبط میں خوراک ختم ہونے پر پتے کھا کر گزارہ کیا گیا یہاں تک کہ ایک بہت بڑی مچھلی مسلمانوں کے ہاتھ لگی اور اس طرح اللہ نے مسلمانوں کی خوراک کی ضرورت پوری کی۔

9 ھ میں وفد نجران نے جب ایک ’’امین شخص‘‘ کو ساتھ بھیجنے کا مطالبہ کیا تو آپ نے ابوعبیدہ کو اس مشن پرمامور کرتے ہوئے فرمایا:

’’ ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے، میری امت کا امین ابوعبیدہ ہے ‘‘

ابوعبیدہ ابن الجراح ایک معلم بھی تھے، محصل (خراج و دیگر سرکاری واجبات وصول کرنے) بھی اور فوج کے کمانڈر بھی غرض دربار رسالت کے معتمد ترین اور اہل ترین اشخاص میں سے تھے۔

روشن چہرہ، کشاد ہ پیشانی، طویل قامت، خفیف عارض، اگر کوئی دیکھے تو دیکھتا ہی ر ہ جائے۔ ایک بار مل کر بار بارملنےکوجی چاہے اور ہرملاقات پر قلب کو سکون میسر آئے، جس کا وجود تواضع اور انکساری کی جیتی جاگتی تصویر اور جس کےجسم کاایک ایک بال حیا کا آئینہ دار لیکن اگر وہ منکسر المزاج حق بات پر اڑ جائے تو بپھرہوا شیر دکھائی دے اور پھر اس کےتلوار کی تیزی دشمن سے اپنا لوہا منواکر دم لے۔ جی ہاں! ہم ذکر کر رہے ہیں امت محمدیہ کے عامر بن عبداللہ بن جراح فہری قریشی کا جن کی کنیت ابو عبید ہ ؓ ہے۔

ابو عبیدہ ؓ ان خوش نصیبوں میں سے ہیں جنھوں نے دعوت اسلام پر لبیک کہنے میں پہل کی۔ آپ ابو بکر صدیق ؓ کے اسلام لانے کے دوسرے دن حلقہ بگوش اسلام ہوئے اور ابو بکر صدیق ؓ کے دست مبارک پر آپ نے اسلام قبول کیااورپھرعبدالرحمن بن عوف،عثمان بن مظعون اور ارقم بن ابی ارقم ؓ م ایک ساتھ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضرہوئے اور آپ ؓ کے دست مبارک پر کلمہ حق کا اعلان کیا۔
ان کے ہر دکھ دردمیں برابر کے شریک رہے۔
لیکن جنگ بدر میں انھیں جس امتحان سے گزرنا پڑا ہم اور آپ اس امتحان کے تعلق سے
سوچ بھی نہیں سکتے۔ جنگ اپنے شباب پر تھی اور ابو عبیدہ ؓ مشرکین کی صفوں میں بھگدڑ مچا رہے تھے۔ آپ کا
کوئی وار خالی نہ جاتا۔ آپ کے پے در پے حملوں سے مشرکین پر خوف ودہشت طاری ہو گئی
تھی اور آپ موت سے بے نیاز ہو کر یکے بعد دیگرے مشرکین کو صفحہ ہستی سے مٹاتے چلے
جا رہے تھے۔ آپ کی تلوار کی زد میں جو بھی آتا موت اس کا نصیبہ بن جاتی لیکن
مشرکین کی اس بھیڑ میں ایک شخص ایسا بھی تھا کہ اگر وہ ابو عبیدہ ؓ کے سامنے آجاتا تو آپ نہ صرف یہ کہ راستے سے ہٹ جاتے بلکہ پوری کوشش کرتے کہ اس شخص سے آمنا سامنا نہ ہو۔ لیکن وہ شحص وقفے وقفے سے آڑے آتا اور اللہ کے دشمنوں اور آپ کے درمیان حائل ہوجاتا۔ جب ابو عبیدہ ؓ کو اور کوئی راستہ دکھائی نہ دیا تو آپ نے اس کے سر پر تلوار کی ایسی کاری ضرب لگائی کہ وہ شخص دو ٹکڑوں میں کٹ کر آپ کے سامنے گر گیا۔

قارئین ! کیا تمھیں معلوم ہے کہ دو حصوں میں کٹ کر مرنے والاوہ شخص کون تھا؟ کیا میں نے تم سے پہلے نہیں کہاتھا کہ ابوعبیدہ ؓ ایک ایسے امتحان سے گزرے ہیں جس کے تعلق سے ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔ شاید تمہارا سر چکرا جائے جب تمھیں یہ معلوم ہو کہ وہ شخص جو کٹ کر گرا تھا کوئی اور نہیں ابو عبیدہ ؓ کے والد عبداللہ بن جراح تھے۔ لیکن نہیں، ابو عبیدہ ؓ نےاپنےوالد کو قتل نہیں کیا بلکہ شرک جوان کے والد کی شکل میں آیا انھوں نے اس شرک کو اس دنیا سے مٹا دیا۔ شرک چاہے وہ باپ کی شخصیت میں کیوں نہ ہو اسے ختم کرنے والے تو حید پرست ابو عبیدہ ؓ کی شان میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے یہ آیتیں نازل کیں:(سورہ مجادلہ:۲۲)

ابو عبیدہ ؓ کی قوت ایمانی، دین کے لیے ان کے نصیحت اور امت محمدیہ میں ان کی امانت داری حددرجہ مقبول تھی۔ اسی لیے محمد بن جعفر ؓ فرماتے ہیں کہ عیسائیوں کا ایک وفد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور درخواست کی کہ آپ اپنے صحابہ میں سے جسے پسند فرمائیں ہمارے ساتھ بھیج دیں تاکہ مال کے معاملے میں ہمارے درمیان جو اختلاف ہو گیا ہے وہ اس کا فیصلہ کردے۔ اس لیے کہ مسلمان ہمارے درمیان پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے جاتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’تم شام کو میرے پاس آنا میں تمھارے ساتھ ایک قوی اور حددرجہ امانت دار شخص کو کردوں گا۔’’ عمر بن خطاب ؓ فرماتے ہیں‘ میں اس دن بڑے سویرے ظہر کی نماز کے لیے چلا گیا۔ اس دن میری یہ دلی خواہش تھی کہ رسول اللہ ﷺ نے قوی اور امین کی جوصفت بیان فرمائی ہے اے کاش کہ اس کا موصوف میں نکلوں۔

جب رسول اللہ ﷺ نماز ظہر پڑھا چکے تو آپ نے دائیں بائیں دیکھنا شروع کیا۔ میں بھی اپنی جگہ اچک اچک کر دیکھ رہاتھاتاکہ آپ کی نظر مجھ پر پڑجائے۔ لیکن میری طرف سے بے نیاز آپ ادھر ادھر دیکھ ہی رہے اور جب ابو عبیدہ ؓ دکھائی دیئےتوآپ نے بلایا اور فرمایا:’’ اے ابو عبیدہ ! ان عیسائیوں کے ساتھ جاؤ اور جن معاملات میں ان میں اختلاف ہو گیا ہے ان کو فیصلہ حق کے ساتھ انجام دو‘‘۔ عمر ؓ فرماتے ہیں:میں نے اپنے دل میں کہا:ابو عبیدہ مبارک ہو کہ صادق الامین نے تمہیں قوی اور امین کےخطاب سے نوازا۔

ابو عبیدہ ؓ نہ صرف امین تھے بلکہ وہ امانت داری کو بروئے کارلانے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں پوری قوت صرف کردیاکرتےتھے۔ اور بے شمار موقعوں پر انھوں نے اپنی قوت کو امانت کے تحفظ کے لیے صرف کیا۔ لہذا ایک موقعے پر جب رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کے قافلے کو ابو عبیدہ ؓ کی سربراہی میں روانہ کیا تو کھجور کی ٹوکری اس قافلے کا کل زادراہ تھی اور اس کے علاوہ ان کے پاس کھانے کے لیے اور کچھ نہ تھا۔

لہذا ابو عبیدہ ؓ اپنے ہر ایک ساتھی کو روزانہ ایک کھجور دیتے اور وہ اسے چوس کر پانی پی لیتا۔ گویا پورے دن کی غذا صرف ایک عدد کھجور ہوا کرتی۔

جنگ احد میں جب مسلمانوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا اور مشرکین میں سے ایک بدبخت صدادے رہا تھا: مجھے بتلاؤ محمد کہاں ہیں؟ تو اس سخت ترین موقعے پر ابو عبیدہ ؓ ان دس صحابہ کرام میں سے ایک تھے جنھوں نے رسول اللہ ﷺ کو گھیرے میں لے لیا تھا۔ مشرکین کی طرف سے آپ ﷺ کی جانب پھینکے جانے والے ہر تیر کو وہ اپنے سینے پر روکتے تھے۔ جب جنگ کاخاتمہ ہوا تو رسول اللہ ﷺ کی رباعی ٹوٹ چکے تھے، پیشانی زخمی ہو چکی تھی اور آپ کے زرہ کی دو کڑیاں آپ کی داڑھ میں پھنس چکی تھیں۔ ابو بکر صدیق ؓ آگے بڑھے کہ ان دونوں کڑیوں کو نکال سکیں، ابو عبیدہ ؓ نے انھیں قسم دی کہ یہ کام میرےلیے چھوڑ دو۔
ابو عبیدہ ؓ کو ڈر تھا کہ اگر میں ان کڑیوں کو اپنے ہاتھ سے نکالوں گا تو رسول اللہ ﷺ کو تکلیف ہوگی۔ لہذا آپ نے اپنےثنایا (پہلو کے دانت) سے مضبوطی سے پکڑکر کھینچا جس سے ایک کڑی تو نکل گئی لیکن آپ کے دانت بھی ٹوٹ گئے۔ ابو بکر صدیق ؓ فرماتے ہیں ہمارے درمیان صرف ابو عبیدہ ؓ کو یہ شرف حاصل تھا کہ انھوں نے اپنے چار دانت رسول اللہ ﷺ کو راحت پہنچانے کے لیے شہید کر دیے۔

ابو عبیدہ ؓ رسول اللہ ﷺ کے تمام غزوات میں شریک ہوئے اور جب آپ ﷺ کی وفات ہو گئی اور صحابہ کرام سقیفہ بنی ساعدہ (ان دنوں وزارت اطلاعات کے سامنے والا تکونہ باغ) میں جمع ہوئے تو عمر بن خطاب ؓ نے ابو عبیدہ ؓ سے فرمایا:’’آپ اپناہاتھ بڑھاےئے میں آپ کے ہاتھ پر بیعت کرنا چاہتا ہوں اس لیے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا:’’ہرامت کا ایک امین ہوتا ہے اور آپ اس امت کے امین ہیں‘‘۔ ابو عبیدہ ؓ نے جواباً فرمایا:’’ میں اس شخص کے مقابلے میں اپنے آپ کومقدم نہیں کر سکتا جسے رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا تھا کہ وہ نماز میں ہماری امامت کرے اور پھر اس نے امامت کی اوررسول اللہ ﷺ کی وفات ہوگئی‘‘۔ یہ کہہ کر آپ نے ابو بکر صدیق ؓ کے ہاتھ پر بیعت کی اور آپ کے دور خلافت میں ہمیشہ حق بات کے لیے آپ کو نصیحت کرتے رہے اور بھلائی کے کام میں ہمیشہ آپ کے مددگار رہے۔ عہد صدیقی ؓ میں ابو عبیدہ ؓ بن الجراح کو حمص کی فتح پر مامور کیا گیا۔ آپ کئی گنا دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے اور بُصریٰ کو فتح کرتے ہوئے جائبیہ پہنچے جہاں سے رومیوں اور شامیوں کی جنگی تیاریوں اور منصوبے کے بارے میں اپنی رپورٹ دربار خلافت بھیجی۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے یزید ؓ بن ابوسفیان، شر جیل ؓ بن حسنہ اور عمرو ؓ بن العاص کو آپ کے پاس پہنچنے کی ہدایت کی مشرقی محاذ سے خالد ؓ بن ولید وہاں پہنچے اور اسلامی لشکر نے آپ ؓ کی قیادت میں اس معرکہ کو جیتا۔ عہد فاروقی میں چند سال شام کے لشکر کی قیادت خالد ؓ بن ولید کرتے رہے لیکن کم و بیش پانچ سال بعد (۷۱ھ میں)حضرت فاروق اعظم ؓ نے حضرت خالدؓ بن ولید کو حضرت ابو عبیدہ ابن الجراح ؓکے ماتحت کر دیا۔ قیادت کی ان تبدیلیوں سے جہاد کے مقاصد کے حصول اور مہمات کی ترتیب و کامرانی میں کوئی فرق نہ آیا اس کا بہت بڑا سبب حضرت ابوعبیدہ ؓ بن الجراح کا وہ منجھا ہوا انداز قیادت تھا۔ جس کی وجہ سے وہ دوسری پوزیشن میں رہتے ہوئے بھی اپنی مصائب رائے پیش کرتے اس پر عمل کرتے اور کرواتے اور اپنے ساتھیوں کا بھر پور تعاون حاصل کرتے۔ حضرت خالدؓ بن ولید بھی ان کی شخصیت اور صلاحیتوں کے معترف تھے۔ اور آپ کی پر کشش شخصیت اور سادہ اور پرو قار زندگی ایک طرف رومیوں کے سفیر کو اسلام کی حقانیت کا قائل کرنے والی تھی۔ اور دوسری طرف سرفروشان اسلام کو عزم جہاد رہنے والی۔ حضرت ابو عبیدہ ؓ ابن الجراح جنگ یر موک کے فاتح ہیں۔ جس نے ہر قل شاہ روم کو شام چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ بیت المقدس کے فاتح ہیں۔ جو دنیا کا عظیم روحانی مرکز ہے۔

آپ ؓ نے بیت المقدس میں پہلی نماز وہاں پڑھی جہاں آج کل مسجد عمر ہے۔ حضرت ابوعبیدہ ؓ الجراح فتح شام کے پہلے گورنر بنے۔ وہ جرنیل بھی تھے اچھے منتطم بھی اور دین اسلام کے مبلغ بھی۔ امین الملت کی زندگی کا آخری معرکہ حمص کی وہ خونریز جنگ ہے جس میں ہر قل نے شام واپس لینے کی آخری کوشش کی لیکن ناکام ہوا اور اس نے کبھی شام کا رخ نہ کیا۔حضرت ابوعبیدہ ؓ بن الجراح کی وفات ۸۱ھ میں مسلمانوں کے لشکر میں طاعون کی وبا پھوٹ نکلی جسے ”عمواس کی طافون“ کہا جاتا ہے۔ اس موذی وبا نے نے ہزاروں مسلمانوں کی جان لے لی ان میں ان کے ایک سپہ سالار اعظم ایمن الملت ابو عبیدہ ؓ بن الجراح بھی تھے۔جن کو فاروق ؓ اعظم نے مدینہ واپس بلانے کی کوشش کی لیکن انہوں نے جواب دیا کہ ”میں مسلمان کی فوج میں ہوں اور میرا دل ان سے جدا ہونے کو نہیں چاہتا“ اس طرح اٹھاون برس کی عمر میں یہ تاریخ ساز شخصیت,یہ روشن ستارہ سرور کائنات محمد عربی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی دین اسلام کا تمغہ اپنے سینے پر سجاے اپنے مالک حقیقی سے جاملی۔ فاتح شام اور فاتح بیت المقدس کی شان فقر کا اندازہ اس بات سے ہو سکتا ہے کہ جب حضرت فاروق اعظم ؓ بیت المقدس تشریف لے گئے تو آپ نے اپنے ”بھائی“ ابو عبیدہ ؓ بن الجراح سے فرمائش کرکے ان کے ہاں کھانا کھایا جس میں صرف سوکھے ہوئے ٹکڑے تھے۔ جن کو ابو عبیدہ ؓ پانی میں بھگو کر کھایا کرتے تھے۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا! ”شام میں آکر سب ہی بدل گئے لیکن ابو عبیدہ ؓ ایک تم ہو کہ اپنی اسی وضع پر قائم“۔ ایک اور موقعہ پر فاروق ؓ اعظم نے آپ ﷺ کے بارے میں فرمایا: ”الحمد للہ مسلمانوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جن کی نظر میں سیم وزر کی کچھ حقیقت نہیں“۔

اللہ پاک مجھے اور آپکو انکے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرماۓ تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے مکمل طور پر شرف حاصل کر سکے.آمین
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Babar Alyas

Read More Articles by Babar Alyas : 260 Articles with 92410 views »
استاد ہونے کے ناطے میرا مشن ہے کہ دائرہ اسلام کی حدود میں رہتے ہوۓ لکھو اور مقصد اپنی اصلاح ہو,
ایم اے مطالعہ پاکستان کرنے بعد کے درس نظامی کا کورس
.. View More
02 May, 2018 Views: 818

Comments

آپ کی رائے