مانوس اجنبی

(Noman Baqi Siddiqi, Karachi)

وہ کون تھا جو روز آتا تھا اور کچھ لمحے قیام کر کے کسی سفر پر روانہ ہو جاتا تھا اور چاے کم پیتا تھا اور اس کا دھواں زیادہ اُڑاتا تھا اور شائد وہ اس کی سوچ کا دھواں تھا جس میں محو ہو کر بھی اطراف کی حُسن پر بڑی گہری نظر رکھے ہوے اپنی ماضی کی گرم یادیں گرم چاے کے ساتھ اندر اترتے اور چاے کے ٹھنڈا ہوتے ہوتے کسی خوبصورت مستقبل اور دوسرے کپ کا انتظار شروع ہو جاتا اور پہلے اور دوسرے کپ کے درمیان اور ماضی اور مستقبل کے درمیان " حال " کا مزہ اور گندمی رنگ کے گرم اور مسحور کُن مشروب کا ذائقہ کا مزہ لیتے ہوے اور تصور میں کسی نشیلی آنکھوں کا نشہ لیتے ہوے اور تنویم یا ہپنوسس کی لا شعوری کیفیت سے نکل کر واپس شعور کی دنیا میں واپس آتے ہوے اس نشاط کدہ کو چھوڑ جاتا لیکن وہ کسی کی نظر میں آچکا تھا جس کا شائد اس کو شعور بھی نہ تھا مگر کچھ کچھ محسوس ہوتا تھا کہ کوی اُسے دیکھ رہا ہے
کسی انجانی سمت سے کوی تاک رہا ہے
کسی اجنبی دنیا کی کھڑکی سے
کوی جھانک رہا ہے
کبھی کسی دور میں بے باک رہا ہے
دور بھی کوی خطرناک رہا ہے
ایک خوشگوار سی مہک
کوی پراسرار سی دہک
کہیں دل نہ جاے بہک

کوی اُسے بلا رہا تھا اور بہت عرصے سے بلا رہا تھا
حالات آہستہ آہستہ بدل رہے تھے غیر معمولی طور پر اور وہ کسی انجانی سمت کی طرف بڑھ رہا تھا غیر ارادی طور پر
رکاوٹ سی آرہی تھی سماجی طور پر وجود کہیں اور تھا کتابی طور پر اور کچھ غلط بھی نہیں تھا نصابی طور پر مشکوک ہو رہا تھا وہابی طور پر حوصلہ مل رہا تھا شہابی طور پر

کہ اچانک آگیا وصال کا لمحہ
کیا بتاوں کیا تھا کمال کا لمحہ
سرکتا وقت بنا" حال" کا لمحہ
جیسا کوی نہ تھا ماہ و سال کا لمحہ
بس وہی تھا وقت اور دھمال کا لمحہ
اور اس کی نظر بلاتی رہی اور وہ جاتا رہا اور انجانے رستوں سے ہوتے ہوے اور کچھ کچے اور کچھ پکے رستوں سے ہوتے ہوے سلطانی مٹی سے روح کو دھوتے ہوے اور مُلتانی مٹی سے منہ کو دھوتے ہوے کچھ اونچای سی سامنے آگئ اور اس کے پار جانا تھا اور نہ جانتے نہ پہچانتے بھی وہ منزل کا راستہ کچھ سہل ہوا
اچانک سُجھای دینے لگا دل کی اندھیر نگری میں
کھڑا تھا مفتی جی کی الکھ نگری میں
وہ دل کا راستہ تھا
کسی کا واسطہ تھا اور راستہ نظر آنے لگا اور آی پھر ایک سُرنگ اور وہ بھی بہت ہی تنگ نہ ماضی کی ترنگ نہ مستقبل کی اُمنگ اور حال بھی دبنگ
سرنگ سے گزر کر تنگ پلُیہ اور تنگ گلی سے ہوتے ہوے منزل قریب سے قریب تر آ رہی تھی ندامت جو تھی وہ غالب آرہی تھی مطلوب نزدیکِ طالب آرہی تھی
اور وہ انسانی آبادی آرہی تھی جو گنجان سی تھی اور کبھی بیابان بھی تھی اور کچھ اس میں سنسان بھی تھی اور نزد قبرستان بھی تھی اور پاس کنواں جیسے صحرا میں نخلستان بھی تھی اور دولت کی کچھ کمی مگر تکریمِ انسان بھی تھی اور محبت چڑھی پروان بھی تھی
منزل کا دروازہ سامنے موجود تھا اور دروازہ بھی زمین سے ذرا اونچا اور قد سے آدھا کہ جُھک کر داخل ہونا پڑے
زندگی کے اتار چڑھاو کی تھکن اور ندامت سے نڈھال ہو کر وہیں دہلیز پار کئے بغیر زمین پر ہی بیٹھ گیا اور بظاہر اپنے ارادے سے مگر حقیقت میں کسی کے بلاوے اور کسی کی دعا اور کسی کے ارادے نے ایسے حالات پیدا کر دیے تھے کہ وہ یہاں بیٹھا تھا اور تپتی دوپہر میں کافی دیر زمین پر بیٹھا رہا اور اندر جانے کی ہمت نہ پڑی اور زمین سے قریب ہونے کا انسانی دماغ پر اچھے اثرات ظاہر ہوتے ہوے اور اچھے مستقبل کی اُمید لیے اندر جانے کا حوصلہ پیدا ہونے لگا

اور آنسو تھے جو رُکتے نہ تھے مگر دل تھے کہ دُکھتے نہ تھے انساں وہاں بِکتے نہ تھے اور وہ ہمیں دِکھتے نہ تھے

تم میرے سامنے او تو اس طرح
تیرا پردہ رہے مجھ کو دیدار ہو

اور لب خاموش تھے مگر دل کچھ کہہ رہا تھا اور بقول نعمان صدیقی

خیال سے خیال ملے دل سے ملا دل
ہو رہی تھی بات دیوار سے کیا کیا

وہ بھی تھا خاموش ہم بھی تھے چُپ چاپ
دل نے کہی بات دیدار سے کیا کیا

اور خیال میں دنیا سے فرار سا آگیا تھا اور طبیعت میں کچھ قرار سا آگیا تھا اور بقول فیض

جیسے صحراوں میں ہولے سے چلے بادِ نسیم
جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آجاے

اور بقول قتیل شفای
۔۔۔۔۔۔۔۔
تجھے اس قدر میں چاہوں
کہ تو خود کو بھول جاے
۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے آج مل گئ ہے
میری چاہتوں کی منزل

مجھے وہ خوشی ملی ہے
کہ نہیں ہے بس میں یہ دل

مجھے آرزو تھی جسکی
وہ خدا نے دن دکھاے

ملاقات تو پل کی ہو چکی تھی
مختصر سی جھلکی ہو چُکی تھی
طبیعت ذرا ہلکی ہو چکی تھی
آنکھ نمی سے چھلکی ہو چکی تھی
صفت ذرا سی مَلَکی ہو چکی تھی
اور دعا تھی کہ فَلکی ہو چُکی تھی

اور کہنے کو یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ جو پرویز اختر کہتے ہیں

وہ ایک ربط جو ہم میں کبھی رہا ہی نہیں
ہمیں ہے یاد وہ سب جو کبھی ہوا ہی نہیں

اور واپسی کا سفر شروع ہو چُکا تھا اور یقین سے نہیں کہا جا سکتا تھا کہ وہ واپسی کا سفر تھا یا ایک نئے سفر کا آغاز

وانا الیہ راجعون
اور ہمیں اُسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Noman Baqi Siddiqi

Read More Articles by Noman Baqi Siddiqi: 233 Articles with 91420 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 May, 2018 Views: 340

Comments

آپ کی رائے