مزدوروں کی چھٹی یا پھر ایک رسم

(Abdul Mustafa, Karachi)

مئی کاپہلا دن عالمی یومِ مزدور کے طور پر مزدوروں سے ہمدردی کیلئے منایا جاتا ہے۔ لیکن ہم ذرا غور کریں کہ کیا واقعی ہمارے مُلک میں مزدوروں کی وہ عزت ہے جو ہونی چاہیئے؟ پوری دُنیا میں مزدور صرف ۸ گھنٹے مزدوری کرتے ہیں جبکہ پاکستان میں وقت کی کوئی پابندی نہیں ، ۸ گھنٹوں سے کہیں زیادہ کام لیا جاتا ہے اس کے علاوہ تنگ الگ سے کیا جاتا ہے اور تو اور اجرت بھی پوری ادا نہیں کی جاتی۔ ہم پاکستانی اس معاملے میں بہت بے حِس ہوگئے ہیں اور ہمیں اس بات کا کوئی اندازہ نہیں کہ وہ بھی ہمارے جیسے ہی انسان ہیں اور ان کے بھی جذبات ہوتے ہیں۔ خصوصاً گرمی کے موسم میں جب کہ سورج اپنی پوری آب و تاب سے گرمی برسا رہا ہوتا ہے، مزدور طبقہ کھُلے آسمان تلے دھوپ میں ہی کام کررہے ہوتے ہیں۔ اور پھر مزدور ہی ہیں جو سب سے زیادہ ہیٹ اسٹروک کا شکار ہوکر اپنی جان کھو بیٹھتے ہیں ۔ دُنیا میں کہیں بھی کسی بھی مُلک میں جب بھی گرمی زیادہ ہوتی ہے تو وہاں کی حکومت خصوصی طور پر کام کو رُکوادیتی ہے اور بعض مُمالک میں دن کے بجائے رات کو کام کروایا جاتا ہے تاکہ گرمی میں مزدور بیمار ہونے سے بچ سکیں ۔ لیکن ایک عجیب سی بات یہ ہے کہ دُنیا میں کچھ ایسے مُمالک بھی پائے جاتے ہیں جہاں عالمی دن برائے مزدور پہلی مئی کے بجائے دوسری تاریخوں میں منایا جاتا ہے جیسے کہ آسٹریلیا کے مختلف شہروں میں الگ الگ دن منایا جاتا ہے نیا ساؤتھ ویلز اور ساؤتھ آسٹریلیا میں اکتوبر کے مہینے کے پہلے پیر کے دن منایا جاتا ہے ، وکٹوریہ اور تاسمینیہ میں مارچ کے مہینے کے دوسرے پیر والے دن کو منایا جاتا ہے ، اسی طرح ویسٹرن آسٹریلیا میں مارچ کے پہلے پیر کے روز منایا جاتا ہے۔ اسی طرح کرسمس آئی لینڈ میں مارچ کے چوتھے پیر کے روز منایا جاتا ہے۔ نیو زی لینڈ میں اکتوبر کے پہلے پیر کے دن منایا جاتا ہے اور امریکہ میں ستمبر کے مہینے کے پہلے پیر کے روز منایا جاتا ہے۔ ہم اگرچہ اپنے مزدوروں کیلیئے کچھ کریں نا کریں ، محض صرف ایک عملی قدم اٹھا لیں کہ ہم انہیں بھی انسان سمجھیں اور ان کی عزت کریں ، گرمی میں دن کے بجائے شام کو کام کروائیں تاکہ وہ بیماری کا شکار ہونے سے بچ جائیں اور کام بھی ٹھیک سے کرسکیں۔کم از کم ان لُو کے دنوں میں جب کہ کوئی انسان اپنے کمرے سے نکلنے کو تیار نہیں ایسے میں مزدور سے دن کے وقت کام کروانے کا مطلب یہ صاف ہے کہ ہم اُسے انسان نہیں مشین سمجھتے ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abdul Mustafa

Read More Articles by Abdul Mustafa: 5 Articles with 2846 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
05 May, 2018 Views: 289

Comments

آپ کی رائے