مسلمانوں کےباہمی حقوق-۴ چھینک کاجواب دینا

(Abdul Bari Shafique, Mumbai ,Maharashtra)

عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَؓأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ:حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ سِتٌّ. قِيلَ مَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: إِذَا لَقِيتَهُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ وَإِذَا دَعَاكَ فَأَجِبْهُ وَإِذَا اسْتَنْصَحَكَ فَانْصَحْ لَهُ وَإِذَا عَطَسَ فَحَمِدَ اللَّهَ فَسَمِّتْهُ وَإِذَا مَرِضَ فَعُدْهُ وَإِذَا مَاتَ فَاتَّبِعْهُ۔
ترجمہ:ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سےروایت ہےکہ اللہ کے رسول ﷺنےارشادفرمایاکہ:ایک مسلمان کادوسرےمسلمان پرچھ حقوق ہیں ۔۔۔۔(۴)جب اسے چھینک آئے تو اسے ’’یرحمک اللہ‘‘کہہ کرجواب دو۔!

تشریح:چھینک کاجواب دینا اسلامی شریعت کاایک اہم حصہ اور ایک مسلمان کادوسرےمسلمان پرحق ہے کہ جب اس کاکوئی بھائی چھینکےاور’’الحمد للہ‘‘ کہے توسننے والےپرواجب ہےکہ’ ’یرحمک اللہ‘‘(یعنی اللہ تم پر رحم فرمائے)کہہ کراس کا جواب دے،پھردوبارہ جواباچھینکنےوالا ’’یھدیکم اللہ ویصلح بالکم‘‘کہےگا۔کہ اللہ تمہیںہدایت دےاور تمہاری حالت درست فرمائے۔

وقتافوقتا نیز موقع ومحل کےاعتبارسے چھینک کاآنا انسانی جسم کاخاصہ ہے جس میںرب دوجہاںکی طرف سےاشرف المخلوقات کیلئےکئی عظیم حکمتیں پوشیدہ ہیںاورسائنسی تحقیق کے مطابق بھی چھینک انسانی جسم کےلیےانتہائی اہمیت رکھتی ہے ،ہم میں سے جب کوئی چھینکتاہےتواسکےجسم اورناک کےاندر موجود جراثیم ، بیکٹیریااور وائرس باہر نکلتےہیں اور ہماراجسم گندگیوںوجراثیم سے پاک وصاف ہوجاتاہے۔ اس کےساتھ ہی ہماری آنکھیں اور پلکیں بھی کچھ لمحےکےلئےبندہوجاتی ہیںاورسینےسےبھی ہوامنہ اورناک کےراستےپورےزورسےجسم سےباہرخارج ہوتی ہے، اس دوران ہماراسانس بھی ایک وقفےکےلیے رک جاتاہے۔چنانچہ ایک مسلمان ایسےاہم موقع پر’’الحمدللہ‘‘ کہہ کراپنےپروردگار کاشکریہ اداکرتاہے،کہ اس نےاسکی سانس کودوبارہ جاری کردیا۔یہی وجہ ہے کہ اہل علم اور سائنسداںکہتےہیںکہ’’ چھینک آنےپراسے مت روکو کیونکہ اسکےبڑےنقصانات ہیں اورخاص طور سے اسکے روکنےسےہمارےخون کی رفتار اور دل ودماغ کی شریانوںپرکافی دباؤآتاہےجس سے ہارٹ اٹیک وغیرہ کےبھی خطرات کافی بڑھ جاتےہیں‘‘۔
بہر صورت چھینک کاآنا ایک فطری چیز ہے جس پر ایک مسلمان کادوسرےمسلمان پر حق ہے کہ اسکے چھینک کا جواب دیاجائے۔ جیساکہ سیدناابوہریرہbسےروایت ہےکہ نبی کریمﷺ نےفرمایا:کہ جب تم میںسےکوئی شخص چھینکےتو’’الحمدللہ‘‘ کہےاوراسکابھائی یاساتھی ’’یرحمک اللہ‘‘ کہے۔ اور جب اس نے ’’یرحمک اللہ‘‘کہاتوچھینکنےوالاپھر’’یھدیکم اللہ ویصلح بالکم‘‘کہہ کراس کاجواب دے۔(صحیح بخاری:کتاب الادب)

اسی طرح صحیح بخاری کی ایک دوسری روایت میںسیدنابراءbسےروایت ہےکہ انھوںنےکہاکہ ہم لوگوںکونبی اکرمﷺ نےسات چیزوںکا حکم دیااور سات چیزوںسےمنع فرمایا:ہمیںمریض کی عیادت کرنے، جنازے کے پیچھے چلنے،چھینکنےوالےکاچھینک کاجواب دینے،دعوت دینےوالے کی دعوت کوقبول کرنے،سلام کاجواب دینےاورمظلوم کی مدد اورقسم کوپوراکرنےکاحکم دیااور سات چیزوںسےمنع کیا:سونےکی انگوٹھی یاسونےکاچھلا(راوی کوشک ہے)حریر،دیباج،سندس اور میاثر سے منع فرمایاہے۔(بخاری:کتاب الادب)
لیکن وہیںدوسری طرف ہمیںمعلوم ہوناچاہئےکہ اگرہم میںسے کسی کو چھینک آتی ہے اورچھینکنےوالا’’ الحمد للہ‘‘ نہیںکہتاہےتواحادیث مبارکہ کی روشنی میں اس کاجواب نہیںدیناچاہئے،جیساکہ سیدناانس بن مالکbسےمروی ہےکہ: دوآدمیوںکونبی کریمﷺ کےپاس چھینک آئی اس میںسےآپ نےایک کی چھینک کاجواب دیااور دوسرے کانہیں دیاتو صحابی نےسوال کیاکہ اے اللہ کےرسول ﷺ آپ نےاسکی چھینک کاجواب دیا لیکن میری چھینک کاجواب نہیںدیا توآپ ﷺ نےفرمایاکہ اس نے چھینکنےکےبعد’’ الحمد للہ ‘‘کہاتھا اورتم نے نہیں کہاتھا ۔ (بخاری:الادب)

اس حدیث کےذریعہ یہ بات اچھی طرح واضح ہوتی ہےکہ اگر چھینکنےوالا’’الحمد للہ‘‘نہیںکہتاہےتو ہمیںبھی اسکے چھینک کاجواب نہیںدیناچاہئےاسکے علاوہ اگرکوئی کافرچھینکنےکےبعد’’ الحمد للہ‘‘کہتاہےتواسکےجواب میں’’یرحمک اللہ‘‘نیزدعائیہ کلمات نہیںاداکریںگے۔ اسلئےکہ آپ ﷺیہودیوںاورکافروںکےچھینک کا جواب نہیںدیتےتھےبلکہ ان کے جواب میں صرف ’’یھدیکم اللہ ویصلح بالکم‘‘ کہتےتھے۔اسکے علاوہ اگر کوئی چھینکنےوالا’’الحمدللہ علی کل حال‘‘یا’’الحمد للہ رب العالمین‘‘وغیرہ کےبھی کلمات کہے تویہ بھی جائزاوردرست ہے۔(ترمذی)

مذکورہ تمام نصوص شرعیہ اس بات پر دال ہیں کہ ایک مسلمان کادوسرےمسلمان بھائی کے تئیںیہ فریضہ عائد ہوتاہےکہ اگر اسے چھینک آتی ہے اور وہ اس پرالحمد للہ کہہ کراللہ کاشکر ادا کرتا ہے تو سننے والے کواس پررحمت کی دعا کرنی چاہئےاوراسی طرح چھینکنےوالابھی اپنےبھائی کودعائیہ کلمات سےنواز کر اللہ اور بندےکاشکریہ اداکرے۔

لیکن افسوس کہ آج ہمارےسماج میں اکثرلوگ اس حدیث اور دعائیہ کلمات سےنابلد ہیں اورجوجانتےہیں وہ بھی اس اہم ترین دعائیہ کلمات سے کنارہ کشی اختیار کرتےہوئےجواب تک بھی دیناگوارا نہیںکرتے۔لہذا ضرورت اس بات کی ہےکہ ہم اس سنت متروکہ کو زندہ اورعام کریں،اور اپنے مسلمان بھائی کےحقوق کی ادائیگی کریں۔

دعاہےکہ اللہ ہماری اصلاح فرمائے،اس سنت مبارکہ پرخلوص وللہیت سےعمل کرنےاوراپنےحقوق کی ادائیگی کی توفیق عطافرمائے۔آمین!

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abdul Bari Shafique

Read More Articles by Abdul Bari Shafique: 114 Articles with 68545 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 May, 2018 Views: 245

Comments

آپ کی رائے