سلسہ وار ناول۔ رازی قسط نمبر ٦

(Akram Saqib, Sahiwal)

قسط نمبر ۶
شیر ون کو رازی کے راز سے آگاہ ہونے کے بعد بہت ہی فکر لاحق ہو گئی کیونکہ رازی کے بارے میں اتنا کچھ جاننے کے باوجود بھی وہ ایک معمہ ہی تھی۔ انہیں بس اتنا پتہ چل سکا کہ رازی ایک تنظیم ہے اور اُس کے مقاصد میں اسلامی مفادات کا عالمی سطح پرتحفظ ہے ۔ وہ اس کے لئے برملا اظہار بھی کرتے ہیں ۔ اسی لئے تو انہوں نے اپنی ویب سائیٹ تیار
کر رکھی ہے اور اُس میں تمام ڈیٹا ڈخیرہ کرتے جاتے ہیں جس کا تعلق اُن کے دشمنوں سے ہے ۔ اس سائٹ پر وہ اُن تمام باتوں کو بھی لکھ دیتے ہیں جن کے ذریعے پوری دنیا میں مسلمانوں کی مخالفت کی جا رہی ہے ۔ شیر ون نے دیکھا کہ مسلمانوں کے اس ویب سائیٹ کے مطابق اصل دشمن
یہودی ہیں ۔ کیونکہ ڈیٹا واضح طور پر ظاہر کر رہا تھا کہ یہودی کس طرح سے فلسطینوں کو ہی نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں ۔ اُس سے رہا نہ گیا اور اُس نے ایس ون سے رابطہ کر لیا۔
*۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔*
سر رازی کی فائل ایک معمہ ہے اور اُسے پڑھ کر صرف یہی اندازہ ہوتا ہے کہ ہم ان کے سب سے بڑے دشمن ہیں ۔ مگر اس سے اور کسِی بات کا پتہ نہیں چلتا کہ وہ لوگ کون ہیں کہاں ہیں ۔ اور کیا کرنے والے ہیں ۔
میں بھی اسی مخمصے میں ہوں کہ پاکستان میں رہتے ہوئے وہ لوگ ہمارے خلاف کیسے ایکشن میں ہیں ۔
ان کی تنظیم کی جڑیں کہاں تک پھیل چکی ہیں اور ان کو کیسے کاٹنا ہے۔
سر اسی سوچ نے مجھے مجبور کیا کہ آپ سے رابطہ کروں۔
فی الحال ہمارے پاس ایسا کوئی پروگرام نہیں ابھی تک تمہارا کام یہی ہے کہ جتنی زیادہ معلومات اس کے متعلق ہی وہ اکٹھی کرتے رہو۔
رائٹ سر ۔
*۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔*
رئیس احمد ناصر اور ریاض علوی اُسی بہروپ میں اپنے پورے سازو سامان کے ساتھ ہوٹل میں پہنچے ۔ اور منیجر سے ہال کو دیکھنے کی درخوست دہرائی ۔
منیجر نے ایک اپنے اسسٹنٹ کو ان کے ساتھ کیا تاکہ وہ انہیں ہال دکھا سکے ۔
رئیس اور علوی اُس کے ساتھ آئے اور کانفرنس ہال کے دروازے پر پہنچ کر اسسٹنٹ نے اُن کے لئے دروازہ کھولا ۔
آئیں سر پلیز ۔
اپنے منصوبہ کے مطابق رئیس نے اسٹنٹ کو ایک طرف لے گیا اور علوی اُس سے الگ ہو کر دوسری جانب چلا گیا ۔
رئیس اسسٹنٹ کو سمجھاتا رہا کہ وہاں پر انہیں کرسیوں کی بجائے قالین اور گاؤ تکیے درکار ہیں ۔ اور وغیرہ وغیرہ علوی اپنا کام مکمل کر نے کے بعد اُن سے پاس آگیا ۔
صاحب ہم نے بغور مشاہدہ کیا ہے ہال کا۔
یہ ہمارے لئے بہت موزوں رہے گا مگر تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ ۔
جی جی میں پہلے ہی ان کے گوش گزار کر چکا ہوں ۔
آئیں صاحب چلیں ۔
وہ اسسٹنٹ کے ساتھ منیجر کے پاس آ جاتے ہیں ۔
جی سر ۔دیکھ لیا میٹنگ ہال ۔ کیسا لگا۔
بہت شاندار مگر یہ ہماری ڈیمانڈز ہیں اگر آپ پوری کر سکیں تو ۔
منیجر نے وہ کاغذ پکڑا اور ایک نظر دوڑانے کے بعد کہا کہ بالکل ایسا ہی ملے گا آپ کو ہال ۔
آپ ایڈوانس 5%اور اپنا ایڈریس نوٹ کروائیں ۔ ہاں بکنگ کے بعد اگر آپ نہ آئے تو ایڈونس ضبط ہو جائے گا ۔ اور ساتھ یہ بھی کہ آپ ایک دن پہلے ہمیں اطلاع دیں گے کہ ہم آ رہے ہیں ۔
ہمیں منظور ہے ۔
علوی نے رقم منیجر کے حوالے کی اور ایک پی سی او کا پتہ لکھوا دیا اور فون نمبر بھی ۔
جی شکریہ ۔ ایک دن پہلے ہمیں ضرور کال کیجئے گا ۔
بالکل بالکل ضرور کریں گے۔
خدا حافظ
وہ دونوں ہوٹل سے باہر آ گئے ۔ اور کانفرنس ہال کو بگ کرنے پر بہت خوش تھے ۔
*۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔*
قارئین کرام کی دل چسپی کے لئے میں یہاں پر یہ بات بتاتا چلتا ہوں کہ رازی کیا ہے اور کیسے وجود میں آئی ۔ اس کے مقاصداور ایکشن آپ کو معلوم ہوتے ہی رہیں گے ۔
ایک دن حضرت صاحب قالین پر تشریف فرما تھے اور ان کے سامنے رئیس احمد ناصر ،رئیس علوی ، یاسر جمال ، یا مین مرزا ، احمد یسیٰن اور زکریا مختار بیٹھے تھے ۔ حضرت صاحب نے رئیس احمد ناصر کو اشارہ کیا تو وہ گویا ہوا ۔
حضرات آپ سب کو یہاں بلانے کا مقصد یہ ہے کہ آپ سب حضرات کی زندگی کا مقصد ایک ہے جس کی خاطر آپ اپنے اپنے طور پر کام کر رہے ہیں ۔ یہ مقصد کہ مسلمانوں کی حالت بہتر ہو سکے اور وہ اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کر سکیں ۔ اس کام کو اگر مربوط اور منظم طریقے سے پورے عالم میں کیا جائے تو اس کے نتائج بہت جلد واضح ہو جائیں ۔ اس مقصد کے لئے حضرت صاحب نے ہمیں کچھ ہدایات دینے کے لئے طلب کیا ہے۔
رئیس خاموش ہوا تو حضرت صاحب نے پہلے اﷲ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی اور پھر قرآن پاک کا ایہ ارشاد نقل کیا کہ مسلمان آپس بھائی بھائی ہیں اور دوسرا یہ کہ یہ اﷲ تعالیٰ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں ۔ افسوس کہ یہی دو باتیں مسلمانوں میں مفقود ہیں ۔اﷲ انہیں ہدایت نصیب فرمائے ۔ آپ کو اکٹھا کرنے کا مقصد یہ تھا کہ آپ تمام حضرات اپنے اپنے شعبے کے ماہر ہیں ۔ آپ ایک مثالی ادارہ قائم کر سکتے ہیں ۔ اور اس ادارہ کا کام صرف باتیں کرنا منصوبے بنانا ہی نہیں ہو گا بلکہ زر عمل ہو گا ۔
اس مقصد کے حصول کی خاطر میں آپ سب کو ایک تنظیم میں منسلک کرتا ہوں اور اس کا نام ہو گا ’’رازی‘‘
رازی اس لئے کہ آپ کے ناموں کا پہلا حرف جوڑا جائے تو رازی ہی بنتا ہے اور رازی ہمارے ایک بہت بڑے مفکر اور فلسفی کا نام ہے ۔
جس طرح انہوں نے اکیلے اسلام کی سر بلندی کے لئے کام کیا آپ بھی اسی طرح مل کر اسلام کی سر بلندی کے کام کریں رازی کے ساتھ ساتھ
(Tension free World)
بھی قائم ہو گی جس کا کام مسلمانوں اور اسلامی اقدار کا عملی دفاع ہو گا ۔ اس کے دفاتر پورے عالم میں کھولے جائیں گے ۔

خدا آپ کا حامی و ناصر ہے ۔ حضرت صاحب یہ فرما کر اپنے دیوان میں تشریف لے گئے ۔
تمام شرکاء نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا ۔ رئیس احمد ناصر آخر کا ر بول پڑا کہ آپ تمام حضرات اس لئے ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ یہ تنظیم تو بن گئی مگر اس کی سربراہی۔
حضرت صاحب نبی کریم ﷺ کی ہر سنت پر عمل کرتے ہیں ان کا یہ عمل بھی حضورؐ کی سنت کے عین مطابق ہے کہ ہم آپس میں مشورہ سے اس تنظیم کے فرائض کی ادائیگی کے لئے اپنی اپنی ڈیوٹیاں سنبھال لیں ۔
میرا مشورہ ہے کہ ہمارا ہر کام مشورے سے ہوگا ۔ یاسر جمال بولا ۔
بالکل مشورہ سے ہوگا ۔ اور مشورہ کون کرائے گا ۔ وہی جو امیر مقرر ہوگا۔
اور امیر کون ہوگا ۔ میرے حساب سے تو ہمارا امیر وہ ہو گا جو عمر میں سب سے بڑا ہے ۔
زکریا مختار نے ادھر ادھر دیکھا ۔ کہ بات اس تک آ رہی ہے ۔
اُس نے جھٹ کہا کہ اپنی اپنی تاریخ پیدائش بتائیں ۔ اس کے مطابق رئیس کی عمر زیادہ نکلی اور وہ امیر مقرر ہو گیا ۔ عمر کی شرط اس لئے آئی کہ علم اور تجربے میں تقریباً سب برابر تھے ۔
تمام حضرات نے اپنے ہاتھ پر بیعت کی اور اُس کو اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ رئیس نے تمام کا شکریہ ادا کیا اور کام کرنے کے طریقہ کار کی وضاحت کی ۔ اور ساتھ ہی تمام لوگوں کو ان کا کام بتایا ۔
میڈ یا اور ٹرسٹ رازی ہی چلائے گی ۔ میڈیا کی سربراہی ریاض علوی اور انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ یاسر جمال کو دیا ۔
احمد یسیٰن کے ذمہ فورس کا قیام اور زکریا مختار کو ٹرسٹ کا انچارج یامین مرزا مالیات کے انچارج بنائے گئے ۔
تمام حضرات کو ہدایت کی گئی کہ وہ سارا کام اپنے گھر پر ہی کریں گے ۔ جہاں پر ایک دوسرے سے رابطہ یاسر جمال کے ذریعے ہو گا ۔ کوئی دوسرے سے براہ راست کوئی بات نہیں کہے گا ۔ اور رئیس تمام سے کسی بھی وقت براہ راست رابطہ کر سکے گا۔ رئیس ہر کام کی ابتداء ۔ ہر مشن کی شروعات حضرت صاحب سے اجازت لے کر کرے گا ۔
*۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔*
ابو صالح ایاز نے بارہ نمبر کو اپنی خفیہ کمین گاہ میں بلایا اور اُسے ضروری ہدایات دیں۔ کہ دشمن اب بہت ہی چوکنا ہے اور اُس سے دوگنا چوکنا ہو کر کام کرنے سے کامیابی ملے گی ۔ ہماری کامیابی کی ایک دلیل یہ ہے کہ یہودی کابینہ میں پھوٹ پڑ رہی ہے۔ ایک گروہ مذکرات اور امن سے رہنے کا تقاضا کر رہا ہے اور دوسرا دہشت گردی کا خواہش مند ہے ۔ ہمارے پاس فی الحال یہی راستہ ہے کہ ہم صہیونی طاقت کو نقصان پہنچائیں ۔ اپنے مقصد کے لئے تم آزاد ہو کہ جیسے بھی کرو تاہم اس کا راز راز ہی رہے۔ نمبر 12نے بہت توجہ سے ساری باتیں سنی اور اپنے مشن کی تیاری کرنے لگ گیا۔ اُس کا نشانہ ایک فحاشی کا اڈا تھا ۔ جس میں یہودی سپاہی اور افسران اکثر آیا کرتے تھے ۔ یہ کام بہت مشکل تھا اور اس کے لئے اعلیٰ درجے کی منصوبہ بندی درکار تھی کیونکہ اس اڈے پر سیکورٹی بہت سخت تھی ۔ اس نے ایک دن اس اڈے کا معائنہ کیا۔
اُسے معلوم ہوا کہ یہاں پر فلسطینی بھی آتے ہیں ۔ انہیں فلسطنیوں کی وجہ سے آزادی نہیں مل رہی ۔ یہ یہودیوں سے بھی اب تر ہیں ۔ ان کے ساتھ بھی وہی سلوک ہونا چاہیے ۔
دوسرے دن اُس نے بھی وہی بہروپ اختیار کیا اور اُس اڈے کے اندر جا دھمکا ۔ اُسے اگرچہ اس کے معمولات کا علم نہ تھا مگر بہت جلد وہ سب کچھ جان گیا ۔ چند دن اُس نے اسی طرح گزارے کہ وہاں آنے والے تمام لوگ اُس سے مانوس ہو گئے ۔ اُسے فوراً پہچان لیتے اور کچھ تو اُس کے دوست بھی بن گئے ۔ اُسے طرح طرح کی شراب پیش کرتے اور ناچتے گاتے۔
یہ سب کرنے کے بعد اس نے ابو صالح ایاز کو اپنی رپورٹ دی کہ وہ انشااﷲ کامیاب ہو گا ۔ اُسے کسی بھی وقت حکم دیا جا سکتا ہے ۔ وہ ہر طرح سے تیار ہے ۔
*۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔*
علوی چونکہ میڈیا کی سربراہی سونپی گئی تھی اور اُس کا منشور یہ تھا کہ اُن عالمی سازشوں کو بے نقاب کیا جائے جو مسلمانوں کے خلاف ہو رہی ہیں ۔ اس لئے اُس نے رئیس کو یاسر جمال کی رپورٹ پیش کی تھی۔ رئیس نے حضرت صاحب سے مشورہ کیا اور اپنے مشن کے متعلق آگاہ کیا ۔ حضرت صاحب نے اجازت دے دی۔ تب وہ اور علوی ہوٹل گئے تھے تا کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کی خفیہ کاروائی سن سکیں آج وہ دن تھا جب ملٹی نیشنل کمپنیوں کے تمام ڈائریکٹر ز اُس ہوٹل میں اکھٹے ہو رہے تھے ۔ یہ میٹنگ رات بارہ بجے ہونے والی تھی ۔ اجلاس کا آغاز ہوا ۔ اور انٹر نیٹ کے ذریعے سپر مین نے تمام ڈایریکٹر ز کو ایجنڈے سے آگاہ کیاکہ کیسے اُن کے خلاف محاذ بنایا جا رہا ہے ۔ اور کیسے اُسے توڑنا ہے ۔ سب سے بڑی کمپنی کے ڈائریکٹر نے صدارت کی کرسی سنبھال رکھی تھی ۔ اُس کا نام جیمز ووڈ تھا ۔ اُس نے حاضرین کو بتایا کہ پاکستان میں ایک تنظیم بنی ہے جس کا مقصد ہماری پروڈکشن کو ختم کرنا ہے ۔ وہ مارکیٹ سے ہمارا نام و نشان مٹانا چاہتے ہیں ۔ اس کام کی ابتداء انہوں نے ایک مشروب سے کی ہے ۔ وہ اپنی بات کو حقائق سے ثابت کر رہے ہیں کہ اس مشروب کا منافع اسرائیئل کو جانا چاہیے ۔ آج مشروب کی مخالفت ہوئی ہے۔ کل کلاں ہمارے دوسری چیزوں کے خلاف بھی معرکہ آراء ہو ں گے ۔ خاص طور پر کھانے پینے کی اشیاء ۔
اس مصیبت سے جان چھڑوانے کی راہ نکالنے کے لئے آپ تمام حضرات کو دعوت دی گئی ہے ۔ آپ اپنی اپنی باری پر اپنے خیالات کااظہار کریں اور اس کا حل بتائیں ۔
جم بیکر جو اُس مشروب ساز کمپنی کا ڈائریکٹر تھا کھڑا ہوا اور جذباتی انداز میں کہنے لگا کہ میں دیکھتا ہوں کون ہمارے مشروب کو بند کرتا ہے ۔ جب حکومت کچھ نہیں کہے گی ۔ اس ملک کا میڈیا ہمارے اشتہار چلاتا رہے گا تو کبھی ہمارا مشروب بند نہ ہو سکے گا ۔
ردر فورڈ جو کاسمٹیکیس کمپنی کاڈائریکٹر تھا بولا کہ آج کے مسلمان کو دولت سے بھی زیادہ عورت عزیز ہے ۔ یہ عورت کے چکر میں اتنا پھنس چکا ہے کہ اسے عورت نظر آ جائے تو یہ باقی سب کچھ بھول جاتا ہے اور ہمارے کاروبار میں تو عورتیں ہی عورتیں ہیں۔ بھلا پھر کیسے بند ہو گا یہ کام ۔
اسی طرح تمام نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔ سپر مین جو یہ ساری کاروائی فون سے سن رہا تھا اور دیکھ بھی رہا تھا نے تمام لوگون کو جھڑکا کہ وہ ضرورت سے زیادہ پراعتماد ہیں ۔ انہیں معاملے کی سنجیدگی کا ادراک نہیں ۔ ایک مرتبہ اگرمسلمان ہماری مصنوعات کے خلاف ہو گئے تو پھر ہمیں یہاں سے کوچ کرنا پڑے گا۔ یہی کاروبار کی آڑ میں تو ہم انہیں ان کے کلچر سے دور کر رہے ہیں اور منافع بھی دونوں ہاتھوں سے کما رہے ہیں ۔
اس کا حل یہ ہے کہ تمام کمپنیاں اپنا پبلسٹی بجٹ دُگنا کر دیں ۔ اور ایسے پرکشش اشتہارات میڈیا کو بنا کر دیں کہ جن میں پیغام بھی ہو کہ ہم پاکستان کے اور پاکستانی عوام کے خیر خواہ ہیں ۔ اور ساتھ میں پاکستانی ملازمین کی مراعات بڑھا دو ۔ اگر کسی نے ایسا نہیں کرنا تو وہ پیک کر کے واپس آ جائے ۔ اب تم کھانا کھاؤ اور میرے مشورے پر غور کرو ۔ میں چلتا ہوں ۔
کمپیوٹر سکرین سے تصویر غائب ہو گئی اور آواز بھی بند ہو گئی ۔ تمام شرکاء نے اس مشورے سے اتفاق کیا ۔ اس کے ساتھ ہی میٹنگ اختتام پذیر ہو گئی ۔
*۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔*
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: akramsaqib

Read More Articles by akramsaqib: 71 Articles with 30972 views »
I am a poet,writer and dramatist. In search of a channel which could bear me... View More
11 May, 2018 Views: 298

Comments

آپ کی رائے