سلسلہ وار ناول رازی قسط نمبر ٨

(Akram Saqib, Sahiwal)

ابو صالح ایاز سے رازی کا رابطہ بہت پہلے ہوا تھا جب وہ ٹی ایف ڈبلیو میں شامل ہوا تھا ۔ وہ بہت پرہیزگار اور صالح نوجوان تھا۔ اور چاہتا تھا کہ تمام مسلمان راہ راست پر آ جائیں ۔ صراط مستقیم پر چلنے والے بن جائیں ۔ ٹی ایف ڈبلیو کا اردن میں دفتر تھا اور ابو صالح ایاز وہاں مہاجر بن کر آیا ہوا تھا ۔ وہ دل ہی دل میں بہت کڑھتا تھا کہ یہودیوں نے اُسے اور اس اُس کے ہم وطنوں کو زبردستی ملک سے نکالا ہوا ہے ۔ وہ آئے دن یہودیوں کے بڑھتے ہوئے مظالم سے تنگ تھا ۔ وہ چاہتا تھا کہ وہ کچھ کر جائے ۔ جان تو اﷲ تعالیٰ کی دی ہوئی ہے اگر یہ اسی کے لئے کسی مقصد میں چلی جائے تو اس سے زیادہ سعادت اور کیا ہو سکتی ہے ۔ وہ منظم جہاد کا ذکر اکثر نفیس سے کرتا رہتا تھا ۔ نفیس اردن والے دفتر کا امیر تھا ۔ اُس نے ساری رپورٹ احمد یسیٰن کو بھیجی کہ اس طرح کے مشورے فلسطینی نوجوان دیتے ہیں ۔
احمد یسین نے رازی سے رابطہ کیا اور اپنے مسلح جہاد کے بارے مشورہ کیا ۔مکمل منصوبہ بندی ہو گئی اور ابو صالح ایاز کوٹی ایف ڈبلیو سے الگ کر دیا گیا تاکہ وہ اپنے اس مشن کو شرمندۂ تعبیر کر سکے ۔ ابو صالح ایاز کو دو طرح سے رہنمائی بہم پہنچائی گئی اور سہولیات بھی دی گئیں ۔
ابو صالح ایاز نے اپنے مہاجر کیمپ میں ہم خیال دوستوں کو اکٹھا کیا اور اس نیک کام کے لئے تجویز پیش کی ۔ اس کے ساتھ دس ساتھی اور مل گئے اور رازی کی منصوبہ بندی سے ابو صالح ایاز نے اپنا کام شروع کر دیا۔
وہ رازی کو آئیڈیل سمجھتا تھا اس لئے اُس نے جذباتیت سے کام لیتے ہوئے ’R‘ والے لاکٹ تمام ساتھیوں کو دے دئیے ۔ یہی سے رازی نظروں میں آنا شروع ہو گئی ۔ ایک خودکش حملہ ہوا تو Rوالا لاکٹ ملا ۔ دوسرے میں میں بھی Rوالا لاکٹ ملا ۔ سپر مین او ر ایس ون تک اطلاع پہنچی اور وہ اپنے ذرائع سے رازی تک پہنچنے کی کوشش کرنے لگے ۔
نسوار خان نے ایس ون کو معلومات پہنچادیں اور سپر مین کے جاسوس جو ہر جگہ کام کر رہے تھے وہ بھی رازی کے بارے میں جان گئے ۔ غنیمت یہ ہوا کہ رازی چونکہ صرف ایک نام تھا اُس کے پیچھے کون تھا یہ معلوم نہ ہوسکا ۔ قیاس آرائیوں سے اور کچھ اندازوں سے ٹرسٹ کے ساتھ کٹریاں ملائی گئیں اور ایس ون اور سپر مین دونوں اس نتیجے پر پہنچے کہ ٹرسٹ ہی کے اندر رازی موجود ہے۔
رازی کے پیچھے کون لوگ ہیں کون یہ تنظیم چلا رہے ہیں ان کو ڈھونڈ نکالنا اور ان کو ختم کرنا دونوں کا مقصد اوّل ٹھہر گیا اور اسی کام کے لئے دونوں نے الگ اپنی پارٹیاں روانہ کر دیں ۔ ویلنیٹنا اور جے جے ایس ون کے لئے آئے اور دو مرد اور دو خواتین سپر مین نے بھیجے ۔
*۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔*
نازیہ اور نسوار خان اپنے دفتر میں بیٹھے کسی بات پر ہنس رہے تھے کہ فون کی گھنٹی بجی ۔ نازیہ نے فون اٹھایا اور کال کرنے والے کا نام پوچھا ۔ فون کرنے والا جے جے تھا اور وہ نسوار خان سے ملنا چاہتا تھا ۔ نازیہ نے نسوار خان سے پوچھا اور فون اس کے حوالے کر دیا ۔ جی فرمائیے ۔ نسوار خان بولا
مجھے مسٹر شیر ون نے آپ سے ملاقات کرنے کے لئے کہا ہے ۔ انہوں نے آپ سے پہلے ہی رابطہ کر لیا ہو گا ۔
ہاں تم پہنچ چکے ہوں ۔ تمہارے ساتھ لیڈی رپورٹر بھی ہیں۔
جی ہاں ہم دو ہیں او رہم افغانستان کی رپورٹنگ ایجنسی سے افغانستان کی رپورٹنگ کے لئے تعینات کئے گئے ہیں ۔
آپ کے لئے تمام انتظامات ہو چکے ہیں آپ یہ ایڈریس نوٹ کر لیں اور یہاں پہنچ جائیں ۔ اگر پہنچنے میں دقت ہو تو آپ اپنا مقام بتائیں ہمارا آدمی آپ کو گائیڈ کر دے گا ۔
جی یہ بہتر ہو گا ۔ ہم ایک ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے ہیں۔ وی تھاسن اور جے تھاسن کے نام سے کمرہ نمبر 13 ہیں ۔
آپ انتظار کریں ہمارا آدمی ابھی آ کر آپ کو لے آتا ہے۔
جی بہت شکریہ
کوئی بات نہیں
تھوڑی ہی دیر میں ایک شخص اس ہوٹل میں آیا اور ان کو کو ایک کوٹھی میں پہنچا آیا جو نسوار خان نے ان کے کے لئے خالی کروا دی تھی ۔ وی اور جے دونوں نے اپنا سامان گاڑی سے اتارا اور آرام کرنے کے لئے بیڈ روم میں چلے گئے ۔
*۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔*
جنیفر اور لانگ فیلو
رومانہ کو ریڈیو سننے کا بے حد شوق تھا اور یہ شوق بھی عجیب طرح کا تھا کہ وہ شارٹ ویو کا ایف ایم ٹیون کر کے بہت عجیب و غریب قسم کے ریڈیو سٹیشن تلاش کرتی رہتی تھی ۔ اس کوشش میں اسے ایک نیا تجربہ ہوا ۔ اس کے ریڈیو سیٹ میں ٹیلی فون سنائے دینے لگے ۔ عورتوں میں تجسس کا مادہ مردوں سے کہیں زیادہ ہوتا ہے ۔ اس لئے تو وہ ایک دوسری سے کنسوئیں لیتی رہتی ہیں ۔ اس تجسس کی وجہ سے وہ اپنا ریڈیو سیٹ آن کرتی اور کوئی ایسی فریکوئنسی تلاش کرتی جہاں پر فون کی گفتگو ہو رہی ہو ۔ جب کال ختم ہو جاتی تو دوسری شروع ہو جاتی ۔ ایک دن وہ اپنے اسی مشغلے میں مصروف تھی کہ ایک فون اٹیچ ہو گیا ۔
رومانہ بہت سی زبانیں جانتی تھی کیونکہ اس کا والد رئیس احمد ناصر بہت سے ممالک میں رہ چکاتھا ۔ اس لئے اسے تھوڑی بہت عبرانی زبان بھی آتی تھی ۔ آج والا فون عبرانی زبان میں تھا اور کوئی عورت کہہ رہی تھی کہ ہم منزل مقصود پر پہنچ چکے ہیں کل سے اپنا کام شروع کر دیں گے ۔ جب بھی کوئی غیر معمولی بات ہوتی تو وہ اس کا ذکر اپنے ابو سے ضرور کرتی ۔ اس نے فون اٹھایا اور اپنے ابوکے گھر ملایا ۔ وہاں سے جواب ملا کہ آپ اپنا پیغام ریکارڈ کر ا دیں صاحب گھر پہ نہیں ہیں ۔ اس نے اپنا پیغام ریکارڈ کرایا۔ تھوڑی ہی دیر بعد رئیس گھر آیا اور فون چیک کیا ۔ وہاں اسے رومانہ کا پیغام سنائی دیا ۔ اس نے فوراً رومانہ سے بات کی اور اس سے کہا کہ وی اسی فریکوئنسی پہ اپنا ریڈیو سیٹ آن رکھے ۔ وہ ابھی اپنے کسی آدمی کو بھیج کی ریڈیو منگوا لیتا ہے ۔ رئیس نے کچھ دیر سوچا اور پھر خود ہی باہر نکل آیا ۔ پہلے تو رومانہ کے گھر جا پہنچا ۔ رومانہ اس کی اکلوتی بیٹی تھی جس کی شادی کو ایک سال ہوا تھا ۔ اس نے گاڑی کا ہارن بجایا اور گیٹ کھل گیا ۔ رومانہ بہت خوش ہوئی اپنے والد کو دیکھ کر ۔ وہ کچھ دیر باتیں کرتے رہے ۔ رومانہ نے اپنے والد کی تواضح کی اور فون کا ماجرا سنایا ۔
رئیس رومانہ کے کمرے میں گیا اور فریکوئنسی نوٹ بھی کر لی اور رومانہ کا ریڈیو وہاں سے اٹھایا اور نیا وہاں رکھ دیا اور گھر آگیا ۔ وہاں پر اس نے ریڈیوں سیٹ آن کیا اور ا س کا کنکشن ایک ٹیپ ریکاڑد سے جوڑ دیا ۔ اور ساتھ ہی احمد یسین اور زکریا مختیا کو وہ فریکوئنسی نوٹ کروائی کہ اس فریکوئنسی پر جو بھی بات ہو وہ نوٹ کریں انہیں بہت سی معلومات مل جائیں گی ۔
*۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔*
وکٹوریا بہت پہلے قبول کر کے ٹی ایف ڈبلیو میں شامل ہو چکی تھی ۔ اس کا تعلق سپر میں کی تنظیم دی سام سے تھا۔ او ر اس میں اس سے پتہ نہیں کیا ۔ کیا پاپڑ بیلوائے گئے ۔ اسے بڑی بڑی شخصیات کے سامنے چارہ بنا کر پیش کیا جاتا رہا ۔ اس کو مادر وطن کی خدمت کے پردے میں چھپایا گیا ۔ اس سے وہ کام لئے گئے جو ایک عورت کبھی بھی گوارا نہیں کرتی کہ اس سے لئے جائیں ۔ اس کے نتیجے میں اگرچہ اسے ڈھیروں امریکی ڈالر ملتے تھے مگر وہ ان سے تنگ آ چکی تھی ۔ اتنا کچھ کرنے اور اتنا کچھ حاصل کر نے کے باوجود اسے رات کو نیند نہیں آ تی ۔ پہلے خواب آور گولیاں کھا کر سوتی پھر وہ بے اثر ہو گئیں پھر شراب میں ملا کر سونے لگی کچھ عرصہ بعد یہ حرابہ بھی ناکام ہو نے لگا ۔
مغربی دنیا کا بڑے سے بڑا کلب بڑے سے بڑا کینو اس نے چھان مارا مگر اسے ڈالر تو ملتے سکون نہ ملتا ۔ ایک دن ٹی ایف ڈبلیو کا ایک ساتھی سیڑھیاں اتر رہا تھا اور وہ سیڑھیاں چڑھ رہی تھی تاکہ اپنے اپارٹمنٹ میں جا سکے ۔ وہ بہت ہی مختصر لباس میں تھی ۔ اور ایسے لباس میں اسے جو بھی دیکھتا تھا دیکھتا رہ جاتا تھا ۔ مگر وہ بھلا آدمی تھا اس نے اس کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا بلکہ اپنی نظریں دوسری طرف کر لیں ۔ وہ تیزی سے نیچے آئی اور پھر اوپرچڑھنے لگی ۔ اس شخص کے دل کی دھڑکن اور اتنی جوان اور اتنی حسین پھر اتنے دلکش لباس میں ملبوس ہوں اور یہ اجنبی مجھے ایک نظر بھی دیکھنا گوارا نہیں کرتا ۔
تیسری مرتبہ پھر نیچے آئی اور اس شخص کے قریب سے گزری پھر بھی ایسا ہی ہوا۔ اس سے تو اب رہا نہ جا سکا۔ اس نے غصے کے عالم میں اس شخص سے پوچھا کہ وہ کیا چیز ہے جو اسے نظر انداز کر رہا ہے ۔
اس کے ساتھی نے جواب دیا کہ بی بی ایسی کوئی بات نہیں ۔ اصل میں ہمارا مذہب اس بات کی اجازات نہیں دیتا کہ ہم غیر محرم عورتوں کو نظر بھر کے دیکھیں ۔ یہ سب بڑا عیب ہے ۔ ہمارے آقاﷺ کا فرمان ہے کہ نظر شیطان کے تیروں میں سے ایک تیر ہے اور جس چیز پر پڑتی ہے اس کا عکس دل میں اتار دیتی ہے ۔ اس لئے میں اپنی نظروں کی حفاظت کر رہا ہوں کہ کہیں آپ پر نہ پڑ جائیں تو وکٹوریہ یہ باتیں سن کر دم بخود رہ گئی ۔ اور کہنے لگی کہ ایسا کون سا مذہب ہے ۔ ساتھی نے بتایا کہ اسلام ہے وہ سچا دین ہے جو اس اچھائی کا درس دیتا ہے ۔ مگر مسلمان ملکوں کے شہزادے اور امیر کبیر لوگ وزراء اور بیوروکریٹس نہیں جانتے اس بات کو۔ جانتے ہیں مگر عمل نہیں کرتے کبھی تو وہ اس موج کی بے سکونی میں الجھے رہتے ہیں۔
میں اسلا م کے بارے میں کچھ اور جاننا چاہتی ہوں ۔
آپ ایسا کریں کہ یہ ہمارے مرکز کا پتہ ہے ۔ آپ وہاں تشریف لے آئیں ۔
میں ابھی تمہارے ساتھ جانا چاہتی ہوں ۔
اس لباس میں آپ کے لئے جانا مناسب نہ ہو گا ۔ اس لئے لباس تبدیل کر لیں ۔
وہ لباس تبدیل کر کے آئی اور ساتھ مرکز پہنچ گئیں ۔
وہاں پر موجود امیر صاحب درس دے رہے تھے ۔ جب سب لوگ اٹھ گئے تو انہوں نے ان کا مقصد پوچھا۔
وکٹوریا نے کہا کہ وہ اسلام قبول کرنا چاہتی ہے ۔ امیر صاحب نے اسے کہا کہ اس کے لئے پہلے غسل کرنا پڑے گا ۔ انہوں نے اسے غسل کے آداب بتائے ۔ مستورات والے غسل خانے میں اس نے غسل کیا ۔ پھر امیر صاحب نے اسے کلمہ اسلام پڑھایا اور اس کی تشریح بتائی ۔ ایمان کے بارے میں مختصر سی بات بتائی اور گناہوں سے توبہ کروائی ۔ وکٹوریہ نے سچے دل سے توبہ کی اور وعدہ کیا کہ وہ آئندہ بھی یہاں آکر سچے دین سیکھے گی ۔ جب وہ گھر آئی تو اسے بغیر کوئی سبب اختیار کئے نیند آ گئی اور دوسرے دن وہ دیر تک سوتی رہ گئی ۔ اس کا نیا نام مومنہ رکھا گیا ۔
*۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔*
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: akramsaqib

Read More Articles by akramsaqib: 71 Articles with 30990 views »
I am a poet,writer and dramatist. In search of a channel which could bear me... View More
15 May, 2018 Views: 415

Comments

آپ کی رائے