"ابلیس کا انٹرویو "

(Mona Shehzad, Calgary)

رمضان المبارک سے ایک رات پہلے میری ملاقات ایک معمر شخص سے ہوئی. اس کی وضع قطع میں کوئی چیز ہٹ کر تهی یا اس کے انداز و اطوار کچھ غیر معمولی تھے. میں سمجھ نہیں سکی کہ کس چیز نے مجھے روکنے پر مجبور کیا. میں گاڑی روک کر نیچے اتری. اس شخص کے پاس کافی زیادہ سامان تھا. میں نے اندازہ لگایا کہ یہ کہیں ویکیشن vacation گزارنے جارہا ہے. نارتھ امریکہ میں اتنے سال گزارنے کے بعد یہ عادت سی بن گئی ہے کہ اگر کسی کو مدد کا طلبگار دیکھیں تو خودبخود ہی قدم رک جاتے ہیں.
میں نے پاس جا کر نرمی سے پوچھا :
کیا آپ کو مدد کی ضرورت ہے؟ اس معمر شخص نے حیرت سے مجھے دیکھا اور کہا :
اچھا! تم میری کیا مدد کرسکتی ہو.؟
میں نے کہا :
اگر آپ نے کہیں قریب ہی جانا ہے تو میں آپ کو چھوڑ دیتی ہوں.
اس نے اثبات میں سر ہلایا.
سامان پکڑ کر وہ پیسنجر سیٹ پر بیٹھ گیا. میں نے گفتگو بڑھانے کے لئے اس سے پوچھا:
آپ کا تعلق کہاں سے ہے؟
وہ بے اختیار ہی بولا:
میرا تعلق اب تو کہیں سے بھی نہیں ہے. جدھر سے میرا تعلق تھا اس کو میں نے اپنے تکبر سے ہار دیا.
مجھے بابا جی میں ایک کہانی نظر آئی میں نے بے ساختہ پوچھا :
آپ مجھے اپنی کہانی سنائینگے؟
اس نے بے اختیار کہا :
بی بی ! قرآن پڑھا ہے. ؟
میں نے اثبات میں سر ہلایا.
وه بولا :
آدم اور ابلیس کا قصہ نظر سے گزرا؟
میں نے اثبات میں سر ہلایا. اس نے ٹھنڈی سانس لے کر کہا :
میں ابلیس ہوں.کل سے میری قید شروع ہے.
میری حس ظرافت پھڑکی میں نے سوچا :
بڑے میاں مذاق کررہے ہیں.
میں نے شگفتگی سے کہا :
قید ہونے سے پہلے ایک انٹرویو دیتے جاو.
اس نے مجھے سنجیدگی سے جواب دیا؛
پوچھو کیا پوچھنا ہے.
میں نے کہا :
تم بتاو کیا کہنا چاہتے ہو؟
اس نے مسکرا کر کہا :
رمضان میں میں تو پابند سلاسل ہونگا لیکن میرا کام چلتا رہے گا. قتل وغارت کا بازار گرم رہے گا. میں نے حیرت سے پوچھا :
وه کیسے؟
وه مسکرایا اور بولا :
میں اور میرے چیلے تو اب لمبی لمبی ویکیشن پر رہتے ہیں. میں نے انسان کے نفس کو اس پر حاوی کردیا ہے. اب لالچ، حسد، نفرت، کینہ پروری، عدم برداشت فحاشی اور زنا ان کے اندر ایسے پنپ گیا ہے کہ میں اور میرے چیلے دور ره کر بھی اپنی خوراک پاتے رہتے ہیں. معصوم بچے بچیوں کی آبروریزی ہو، بم دھماکہ ہو،کشمیر یا غزہ پر فائرنگ ہو ،سیاسی مڈہ بھیڑ ہو،تعلیمی اداروں میں فائرنگ ہو.فائدہ تو میرا اور میرے چیلوں کا ہی ہوتا ہے.

میرے ہاتھ سے سٹیرنگ ویل بےقابو ہوگیا ایک بے اختیار چیخ میرے ہونٹوں سے نکلی. آنکھ کھلنے پر شکر کیا میں اپنے بستر پر تهی اور سحری کا الارم بج رہا تھا.
میں وضو کرنے کهڑی ہوئی تو بے اختیار دعا نکلی؛
"اے میرے مولا! ہمارے نفس نیک کردے. "
آپ کے اوپر ہے آپ اسے کہانی سمجھیں یا حقیقت؟
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mona Shehzad

Read More Articles by Mona Shehzad: 168 Articles with 175629 views »
I used to write with my maiden name during my student life. After marriage we came to Canada, I got occupied in making and bringing up of my family. .. View More
18 May, 2018 Views: 280

Comments

آپ کی رائے