ڈارک ویب اندھیر نگری چوپٹ راج

(محمد ابو سفیان اعوان, Lahore)

ڈارک نیٹ،ڈیپ نیٹ اس کا استعمال اور اثرات

یہ بات حقیقت ہے کہ انٹرنیٹ کی آمد سے انسانی طرز زندگی،معاشرتی میل ملاپ اور سائنسی و تعلیمی میدان میں انقلاب برپا ہو گیا ہے۔

انٹرنیٹ نے جہاں معلومات اور اطلاعات کے ساتھ ساتھ سماجی رابطے میں بے پناہ اضافہ کیا ہے اور لوگوں کی زندگی پر مثبت اثرات مرتب کیے ہیں۔ وہی اس کے منفی اثرات بھی قوموں کی اقدار و روایات اور مذہبی و معاشرتی قوانین کی دھجیاں اڑاتے نظر آتے ہیں۔ انٹرنیٹ کی وسیع و عریض دنیا منفی کردار کے حامل لوگوں ہاتھوں میں ہونے کی وجہ سے یہ انسانیت کے لیے زہر قاتل ثابت ہورہی ہے۔

ڈارک نیٹ اور ڈیپ ویب کیا ہے اور یہ عام انٹرنیٹ سے کس طرح مختلف ہے-

دنیا بھر میں انٹرنیٹ کے اربوں صارفین ہیں جو مختلف انداز سے اس سے جڑے ہوئے ہیں۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹس ہوں یا آن لائن بینکنگ سسٹم،سیکورٹی کے نظام ہوں یا دفاعی نوعیت کے انتظامات ہوں تمام کے تمام کسی نہ کسی انداز میں انٹرنیٹ سے وابستہ ہیں۔ تعلیمی میدان سے لیکر معاشی اور معاشرتی ترقی میں انٹرنیٹ کا استعمال بڑی اہمیت رکھتا ہے۔

انٹرنیٹ کا عام صارف جب کسی بھی مقصد کے لیے انٹرنیٹ کا استعمال کرتا ہے تو وہ گوگل یا مختلف سرچ انجنز کا استعمال کرتا ہے اور مطلوبہ ویب سائٹس تک رسائی کے لیے www. _____ com. جیسی ایکسٹینشن استعمال کرتا ہے انٹرنیٹ کا یہ حصہ تمام لوگوں کی رسائی اور دسترس میں ہے اور تمام لوگ اس سے اپنے اپنے انداز میں مستفید ہوتے ہیں۔

انٹرنیٹ کی دنیا کا دوسرا حصہ ڈیپ ویب کے نام سے جانا جاتا ہے اس حصے میں مختلف آئی ٹی کمپنیز،آن لائن بینکنگ کا ڈیٹا،مختلف دفاعی اداروں کے خفیہ ڈاکیومنٹس کے تبادلے اور حکومتوں کے ہائی پروفائل ڈیٹا کو محفوظ رکھنے کے لیے اور اس کے تبادلہ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ۔

اس حصے میں صرف مطلوبہ شخص ہی اپنی شناخت اور پاسورڈ کے ساتھ صرف مطلوبہ مواد تک رسائی حاصل کر سکتا ہے انٹرنیٹ کا یہ حصہ بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے۔

انٹرنیٹ کی بے حد و حساب دنیا کا تیسرا سب سے بڑا اور محفوظ ترین حصہ ڈارک نیٹ یا پاتال کہلاتا ہے۔

یہ حصہ دنیا بھر کے جرائم پیشہ عناصر کے لیے جنت کی حیثیت رکھتا ہے۔

2007 کے بعد اس حصے کے صارفین کی تعداد میں غیر معمولی اضافے دیکھنے میں آیا ہے۔اس وقت دنیا بھر میں اس کے یوزرز کی تعداد کروڑوں میں ہے۔

انٹرنیٹ کی دنیا میں ایک ایسی کمیونٹی بھی ہے جس تک رسائی عام براؤزر سے ممکن نہیں ہے۔ یہ کمیونٹی دنیا بھر میں منشیات کی خرید وفروخت،اسلحے کی تجارت اور جعلی ڈاکیومنٹس کے تبادلے کے ساتھ ساتھ ہر قسم کی غیر قانونی کاموں میں ملوث ہے۔ یہ لوگ غلاموں کی تجارت اور انسانی اعضاء کی خرید وفروخت کا گھناؤنا کام بھی ایک طویل عرصے سے سرانجام دے رہے ہیں۔

ان لوگوں کا لین دین کا طریقہ نہایت محفوظ اور پراسرار ہوتا ہے کہ بڑے بڑے سیکیورٹی ادارے اور سائبر کرائم سیلز بھی ان کا سراغ لگانے میں ناکام ہوجاتے ہیں۔

یہ لوگ اپنے معاملات میں بڑے محتاط واقع ہوتے ہیں۔اور دنیا بھر سے پوری چھان بین کے بعد قابل اعتماد لوگوں کو ہی اپنی کمیونٹی کا حصہ بناتے ہیں۔

ڈارک ویب تک رسائی اتنی آسان نہیں ہے۔ عام سرچ انجن اور براؤزر کو استعمال کرتے ہوئے ڈارک اور ڈیپ ویب تک رسائی قریباً ناممکن ہے ۔اس مقصد کے لیے خاص قسم کے براؤزرز کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثلاً ٹور اور اونین براؤزرز

ڈارک ویب ک رسائی کے لیے مطلوبہ ویب سائٹ کے ایڈمن سے رابطہ کرنے کے بعد صرف مطلوبہ ایڈریس اور پاسورڈ کے ذریعے ہی رسائی ممکن ہوتی ہے۔

ڈارک ویب کا سب سے خطرناک اور پراسرار حصہ ڈارک یا ریڈ رومز (Dark or red rooms) ہے۔

اس حصہ میں براہِ راست قتل غارت گری اور بچوں،بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے مناظر دکھائے جاتے ہیں۔ ایسے لوگ جن کے پاس بے تحاشہ دولت ہوتی ہے اور وہ نفسیاتی عارضوں میں مبتلا ہوتے ہیں وہ دوسرے لوگوں کو مصیبت میں دیکھ کر خوشی محسوس کرتے ہیں۔اور وہ اس مقصد کے لیے پیسوں کو پانی کی طرح بہاتے ہیں اور اپنی حس لطافت کی تسکین کے لیے اپنی پسند کی اذیتیں دینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ کمسن بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے مناظر براہِ راست دکھانے کے لیے باقاعدہ بولیاں لگتی ہیں اور زیادہ قیمت دینے والے کو اس کے مطلوبہ انداز میں سیکس (sex) دکھایا جاتا ہے۔ اس میں بڑی عمر کے افراد کمسن بچوں کے ساتھ سیکس کرتے ہیں۔ یہ سیکشن پیڈوفیلیا یا وائلنٹ پورن انڈسٹری کہلاتا ہے۔ لوگوں کے گلے اور کلائیوں کے ساتھ ساتھ جسم کے تمام اعضاء کاٹنے کے مناظر بھی براہِ راست پیجز پر دکھائے جاتے ہیں۔ ان خطرناک اور دل دہلا دینے والے مناظر کو دیکھنے والے لوگ مطلوبہ رقم کی ادائیگی کے بعد ہی ان کو جوائن کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔

ڈارک ویب میں انسانی سمگلنگ اور تمام جرائم کا معاوضہ اور رقوم کی ترسیل ڈیجیٹل کرنسی(Digital currency) یعنی بٹ کوائن اور مختلف کرپٹوکرنسیز میں ہوتا ہے۔ جس کو مانیٹر کرنا حکومتی اداروں کے بس میں بھی نہیں ہے۔اور نہ ہی کوئی اس کی ٹرازیکشن کے متعلق کسی قسم کا ایکشن یا عدالتی کاروائی کر سکتا ہے کیونکہ یہ ایک آزاد (independent) کرنسی ہے۔

کچھ لوگوں کا یہ مطالبہ ہے کہ ڈارک ویب پر پابندی عائد کر دینی چاہیے۔ان لوگوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ڈارک ویب یا کسی بھی قسم کی جدید ٹیکنالوجی کسی محدود دائرہ میں مقید کرنا آسان کام نہیں ہےاور نہ ہی ان عناصر کی مکمل طور پر بیخ کنی کوئی آسان کام ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی نوجوان نسل کو مناسب انداز میں راہ نمائی دیں۔اور ان کی اعلیٰ اقدار و روایات کے مطابق ذہن سازی کریں تا کہ وہ رفتار زمانہ کا ساتھ دیں اور ملک اور مذہب دشمن عناصر کی ریشہ دوانیوں کا مقابلہ کرسکیں۔

اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد ابو سفیان اعوان

Read More Articles by محمد ابو سفیان اعوان: 18 Articles with 11948 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 May, 2018 Views: 877

Comments

آپ کی رائے