رمضان المبارک میں روزے رکھنے کاحقیقی مقصد

(Muhammad Siddique Prihar, Layyah)
اللہ تعالیٰ کاامت مسلمہ پراحسان عظیم ہے کہ اس خالق کائنات نے اپنے پیارے محبوب رحمت دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کورمضان المبارک جیسا بابرکت اورعظمتوں والامہینہ عنائت فرمایا۔اس مہینہ میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پرروزے فرض کیے ہیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کافرمان عالی شان ہے کہ
’’ اے ایمان والوتم پرروزے فرض کیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پرفرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگاربنو‘‘

کتاب قانون شریعت کے صفحہ ایک سوپچانوے پرلکھا ہے کہ روزہ بھی مثل نمازکے فرض عین ہے ۔اس کی فرضیت کامنکرکافراوربلاعذرچھوڑنے والاسخت گناہ گاراوردوزخ کاسزاوارہے۔جوبچے روزہ رکھ سکتے ہوں ان کورکھایاجائے اورقوی مضبوط لڑکے لڑکیوں کومارکرروزہ رکھایاجائے ،پورے ایک مہینہ رمضان کاروزہ فرض ہے۔شریعت میں روزہ کے معنی ہیں۔اللہ تعالیٰ کی عبادت کی نیت سے صبح صادق سے لے کرسورج ڈوبنے تک کھانے پینے اورجماع سے اپنے آپ کوروکے رکھنا۔مسلمان روزہ کی حالت میں کھانے پینے سے پرہیزکرتے ہیں۔کیاروزہ صرف بھوکاپیاسارہنے کاہی نام ہے۔کیاپوراایک مہینہ روزانہ پندرہ گھنٹے کچھ نہ کھانانہ پینا ۔ روزہ ہوجائے گا۔اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی جس آیت مبارکہ میں روزہ کی فرضیت کاحکم دیا ہے توساتھ یہ بھی فرمادیا ہے کہ یہ روزے کس لیے فرض کیے گئے ہیں۔روزوں کامقصدبھوک پیاس برداشت کرناہی ہوتا تواللہ تعالیٰ فرمادیتا کہ تاکہ تم بھوکے پیاسے رہو۔تاکہ تم فاقے سے رہو۔اللہ تعالیٰ نے ایساکچھ نہیں فرمایا ۔بلکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تاکہ تم پرہیزگاربنو۔روزہ کامقصدمسلمانوں کوصرف بھوکاپیاسارکھنانہیں بلکہ پرہیزگاربناناہے۔کتاب مختصرصحیح بخاری کے صفحہ چارسوستانوے پرحدیث رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لکھی ہوئی ہے جس کامفہوم یوں ہے کہ سیّدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاروزہ عذاب الٰہی کے لیے ڈھال ہے پس روزہ دارکوچاہیے کہ فحش بات نہ کہے اورجہالت کی باتیں(مثلاًمذاق، جھوٹ، چیخنا، چلانا ، اورشوروغل مچاناوغیرہ) بھی نہ کرے اوراگراس سے کوئی شخص لڑے یااسے گالی دے تواسے چاہیے کہ دومرتبہ کہہ دے کہ میں روزہ دارہوں۔قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ روزہ دارکے منہ کی خوشبواللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبوسے بھی زیادہ عمدہ ہے (اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ )روزہ دار اپنا کھانا پینااوراپنی خواہش وشہوت میرے لیے چھوڑدیتا ہے۔(تو) روزہ میرے ہی لیے ہے اورمیں ہی ا س کابدلہ دوں گااورہرنیکی کاثواب دس گناملتا ہے (لیکن روزہ کا ثواب اس سے کہیں زیادہ ملے گا)اسی کتاب کے صفحہ چارسوننانوے پرلکھا ہے کہ سیّدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاجوشخص جھوٹ بولنااوردغابازی کرنانہ چھوڑے تواللہ تعالیٰ کواس بات کی کچھ بھی پروانہیں کہ وہ (روزہ کانام کرکے) اپناکھاناپیناچھوڑدے۔اسی کتاب کے صفحہ پانچ سوچھ پرلکھا ہے کہ سیّدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن اس حال میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اوراس نے عرض کی یارسول اللہ میں توبربادہوگیا۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاکیاہوا۔اس نے عرض کی کہ میں نے روزہ کی حالت میں مجھ سے یہ غلطی ہوگئی۔تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاکیاتوایک غلام آزادکرسکتاہے اس نے عرض کی کہ نہیں۔پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاکیاتوپے درپے دومہینے کے روزے رکھ سکتا ہے تواس نے عرض کی کہ نہیں۔پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاکیاتوساٹھ مسکینوں کو کھاناکھلاسکتاہے تواس نے عرض کی کہ نہیں(سیّدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ ) فرماتے ہیں کہ بھرنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے توقف کیا۔ہم اسی حال میں تھے کہ کوئی شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کھجوروں سے بھراہواخرمے کی چھال کاایک ٹوکرالایا۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ سائل کہاں ہے ۔ تو اس نے عرض کی کہ میں حاضرہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس ٹوکرے کولے لے اورخیرات کردے۔اس نے عرض کی یارسول اللہ کیااپنے سے زیادہ محتاج کوخیرات دوں تواللہ کی قسم مدینہ کے دونوں پتھریلے میدانوں کے درمیان کوئی گھرمیرے گھرسے زیادہ محتاج نہیں ہے ۔یہ سن کررسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتناہنسے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دانت مبارک نظرآنے لگے۔پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایااچھاپھراپنے ہی گھروالوں کوکھلادے۔اس حدیث مبارکہ سے بہت سے درس ملتے ہیں۔یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ روزہ کاکفارہ اس وقت دوصورتوں میں اداکیاجاسکتاہے کہ دومہنے کے روزے رکھنا یا ساٹھ مسکینوں کوکھاناکھلانا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ جواس سائل کوکھجوروں کاٹوکرااس کو دے کراجازت دے دی کہ وہ یہ کھجوریں اپنے گھر والوں کو کھلادے تواس کاکفارہ اداہوجائے گا۔یہ اختیارصرف اورصرف ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہی حاصل ہے۔دنیاکاکوئی اورشیخ الاسلام، کوئی شیخ الحدیث، کوئی مفتی، کوئی عالم اس طرح کافتویٰ نہیں دے سکتا۔ اس حدیث مبارکہ سے ہمیں جودرس ملتے ہیں ان میں سے پہلادرس یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کواللہ تعالیٰ نے مکمل اختیارات سے نوازرکھا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کومکمل اختیارات سے نوازرکھا ہے کہ وہ شریعت کے معاملات جس طرح چاہیں چلاسکتے ہیں۔اس حدیث مبارکہ میں سائل نے جب کفارہ اداکرنے کی تینوں صورتوں میں کفارہ اداکرنے سے معذوری ظاہرکردی تواس کے بعد شریعت کی روسے اس کے روزے کاکفارہ اداکرنے کی کوئی صورت باقی نہیں تھی۔ رسول اکرم نورمجسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس شخص سے فرماسکتے تھے کہ اگرتوان تینوں صورتوں میں سے کسی ایک صورت میں بھی کفارہ ادانہیں کرسکتاتواس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی حل نہیں ہے۔ شریعت میں روزہ کاکفارہ اداکرنے کی یہی تین صورتیں ہیں۔ لیکن رحمت دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص سے ایساکچھ نہیں فرمایا۔کھجوروں کاٹوکراکسی نے خدمت اقدس میں پیش کیا تواسے فرمایا کہ اسے مدینے کے غریبوں میں تقسیم کردو۔ اس نے دیکھا کہ آج دریائے رحمت جوش میں ہے تواس نے عرض کی یارسول اللہ مدینے میں مجھ سے زیادہ غریب کوئی نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا کہ جااپنے ہی گھروالوں کوکھلادے۔ اس حدیث مبارکہ سے دوسرادرس یہ ملتا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کایہ عقیدہ اورایمان تھا کہ ہماری تمام مشکلات کاحل سروردوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود ہے ۔ اس لیے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کوجب بھی کوئی مشکل پیش آتی توبارگارہ نبوت میں حاضرہوجاتے۔ یہ سائل بھی روزہ ٹوٹ جانے کے بعد بارگاہ رسالت میں حاضرہوااوراپنی مشکل پیش کی۔اس حدیث مبارکہ سے یہ درس بھی ملتا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پرہیزگاری کے کس درجہ پر فائز تھے ۔ اگربشری تقاضوں کے مطابق کسی صحابی سے کوئی غلطی ہوجاتی تووہ اس کے ازالہ کی فوری کوشش کرتے ، بارگاہ رسالت میں پیش ہوکراپنی غلطی کی تلافی کی درخواست کرتے۔اپنی غلطیوں کوچھپاتے نہیں تھے۔اس حدیث مبارکہ سے ایک اوردرس یہ بھی ملتا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کواپنے اعمال، اپنی غلطیوں کاکتنااحساس ہوتا تھا۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے اس طرح کی غلطیاں اس لیے ہوجاتی رہی ہیں کہ اس سے اللہ تعالیٰ کے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کودین سکھانامقصودتھا ۔ کہ جب کسی امتی سے ایسی غلطی ہوجائے تووہ اس غلطی کاکفارہ یاازالہ اس طرح کرے۔ یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حسن تربیت، فیضان نظرکاہی اثرہے کہ صحابہ کرام پرہیزگاری کے اعلیٰ درجہ پرفائزتھے یہی وجہ ہے کہ اس صحابی سے جب روزہ ٹوٹ گیا تووہ بارگاہ نبوت میں پیش ہوگیا یہ بات تووہ پہلے سے ہی جانتاتھا کہ کفارہ کی تینوں صورتوں میں سے کسی ایک صورت میں وہ کفارہ ادانہیں کرسکتا۔جب ایسی صورت حال ہوجائے توذراسوچیں مسلمان کی کیاکیفیت ہوگی۔ اس کی بے بسی ومجبوری نہ جانے اسے کیاکیاصدمات سے دوچارکررہی ہوگی۔اس صحابی کاایمان اورعقیدہ تھا کہ اگرچہ میں کسی بھی صورت میں کفارہ ادانہیں کرسکتا۔لیکن میری اس مشکل کاحل بارگاہ نبوت سے ہی ملے گا۔ وہ اپنے عقیدہ پرثابت قدم رہا بارگاہ نبوت سے اسے اس کی مشکل کاایساحل بھی مل گیا جونہ اس سے پہلے کسی کوملااورنہ ہی اس کے بعد۔ مشکوٰۃ شریف کی جلداول کے صفحہ چارسوچھتیس پرحدیث مبارکہ درج ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جوشخص بغیرکسی رخصت یامرض کے رمضان کاایک روزہ افطارکرلیتا ہے زمانہ بھرروزے رکھنااس کی قضانہیں بن سکتا ۔اگرچہ تمام عمرروزے رکھے۔اس سے اگلے صفحہ پرلکھی ہوئی حدیث مبارکہ کامفہوم یہ ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کتنے ہی ایسے روزہ دارہیں ان کوروزوں سے صرف پیاس ملتی ہے اورکتنے رات کوقیام کرنے والے ہیں ان کوقیام سے صرف بیداری ملتی ہے۔ایسے روزہ دارموجودہ دورمیں کثرت سے پائے جاتے ہیں ۔ جن کوروزہ رکھنے سے پیاس اورتراویح پڑھنے سے بیداری ہی ملتی ہے۔کتاب انوارالحدیث کے صفحہ دوسوچوالیس پرحدیث مبارکہ درج ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ جوشخص (روزہ رکھ کر) بری بات کہنااوراس پرعمل کرناترک نہ کرے توخدائے تعالیٰ کواس کی پروانہیں کہ اس نے کھاناپیناچھوڑدیا ہے ۔اس حدیث کے تحت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یعنی مطلب یہ ہے کہ روزہ قبول نہ ہوگا۔اس لیے کہ روزہ کے مشروع اورواجب کرنے کامقصدیہی بھوک اورپیاس نہیں ہے ۔بلکہ لذتوں کی خواہشات کاتوڑنااورخودغرضی کی آگ بجھانامقصودہے تاکہ نفس خواہشات کی جانب راغب ہونے کی بجائے حکم الٰہی پرچلنے والاہوجائے۔

روزہ کامقصد بھوک وپیاس برداشت کرنانہیں بلکہ پرہیزگاری کی تربیت حاصل کرنا ہے۔ علامہ رضاثاقب کہتے ہیں کہ جہاں ہم انتیس شعبان المعظم کوکھڑے ہوتے ہیں یکم شوال المکرم کوبھی اسی جگہ کھڑے ہوتے ہیں۔ پوراایک مہینہ ہم بھوک وپیاس میں گزاردیتے ہیں اس کے علاوہ ہمیں کچھ حاصل نہیں ہوتا۔آج کے مسلمانوں کے روزے بھوک وپیاس پرہی مشتمل ہوتے ہیں۔ روزہ کے دیگرعوامل پرعمل کرنااب بہت کم دکھائی دیتا ہے۔کسی نے رمضان المبارک سے چندروزپہلے فیس بک پرکیاخوب لکھا کہ اب وہ مہینہ آنے والا ہے جس میں پچاس روپے کی چیزدوسوروپے میں بیچ کردوکاندارکہے گا کہ جلدی کرو کہیں نمازنہ رہ جائے۔عام دنوں میں چائے پانی کاخرچہ مانگاجاتاہے اوررمضان المبارک میں افطاری کاچاہے روزہ کسی کابھی نہ ہو۔روزہ رکھ کرجھوٹ بولنا، فراڈ کرنا، دھوکہ دینا، ذخیرہ اندوزی کرنا، زیادہ منافع لینا، ماتحت افرادسے عام دنوں کی نسبت زیادہ کام لینا، دونمبر، غیرمعیاری اورناقص اشیاء سستے داموں بیچ کر احترام رمضان المبارک کانام دے دینا، روزہ رکھ کرچغل خوری کرنا، ایک دوسرے کاحق غضب کرنا، گالیاں دینا، زبان درازی کرنا، بہتان تراشی کرنا، وعدہ خلافی کرنا، کمزوراوربے سہاروں پرظلم کرنا، لوٹ مارکرنا، مہنگائی کاطوفان کھڑاکرنا ، بدنگاہی، بدزبانی اوربدکلامی جاری رہے توایسے روزے کاکوئی فائدہ نہیں۔ کوئی یہ بھی نہ سمجھ لے کہ پھرتوروزہ رکھاہی نہ جائے ۔ روزہ توفرض ہے ضرورضروررکھاجائے۔ روزہ کے ساتھ ساتھ اس کے دیگرعوامل پربھی سختی سے عمل کیاجائے۔ سب روزہ دارہی ایسے نہیں ہوتے۔ اب بھی ایسے روزہ دارموجودہیں جوصحیح معنوں میں روزہ رکھتے ہیں، روزہ کے حقوق پورے کرتے ہیں۔ ایساکام نہیں کرتے جس سے روزہ پراثرپڑتاہو۔ صرف اورصرف اللہ تعالیٰ کی رضا اوررسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشنودی کے لیے ہی روزے رکھتے ہیں۔ ایسے روزہ داروں کواللہ تعالیٰ روزہ کاپوراپورااجردے گا۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Siddique Prihar

Read More Articles by Muhammad Siddique Prihar: 335 Articles with 150362 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
23 May, 2018 Views: 396

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ