یہ دیس ہمارا ہے ہمیں اس نے پکارا ہے

(RIAZ HUSSAIN, Chichawatni)
اگر ہم مثبت سوچ پیدا کر لیں، اپنی اپنی حیثیت کے مطابق کچھ نہ کچھ واپس کرنا شروع کردٰیں تو وہ دن دور نہیں جب ہم ترقی یافتہ قوموں اور ممالک میں شامل ہو جائیں گے۔ تعلیمی میدان میں کچھ اوور ٹائم دے دو، مالی طور پر اسلام کی روح سے دوسرے کی مدد کر دو۔ قوت اخوت عوام بن جائیں۔ ڈاکٹر مسیحا، ٹیچر معمار، دکاندار ایماندار، دنیا ہمیں بُری نظر سے دیکھنا چھوڑ دے گی۔ پاکستان دُنیاکا خوبصورت ترین ملک ہے۔ بے پناہ معدنیات سے بھرا ہوا ہے۔ بس اپنا اپنا ضمیر پاک کرکے ہر قدم وطن عزیز پاکستان کی بہتری کے لیے اٹھاو تو دیکھو نہ غربت، نہ لڑائی، نہ فاقہ کشی اور نہ چوری چکاری وغیرہ وغیرہ یہ سب کام ہمارے خود کرنے کے ہیں۔ اللہ کریم مجھے اور تمام پاکستانیوں کو سچااورمحب وطن پاکستانی بنا دے آمین۔

معدنیات کے ذخائر

قلم اُٹھانا ایک بڑی ذمہ داری کا عمل ہے۔ ویسے ہی کسی کے متعلق اوٹ پٹانگ مارنا بہت آسان ہے مزہ اس میں ہے کہ پہلے قلم اٹھانے اور کسی کے متعلق کچھ کہنے کے لئے آپ کے پاس کچھ نہ کچھ سچائی ہو اور آپ کے کردار میں بھی اس کی جھلک نظر آئے۔ آج پاکستان کو وجود میں آئے لمبار عرصہ گزر چکا ہے۔ بے شمار اتار چڑھاؤ، لاتعداد قربانیوں اور بے پناہ سوچ بچار کے بعد حاصل کیا جانے والا ملک، یہ پاک سر زمین خون کے آنسو رو رہی ہے۔ قلمکار لکھتا ہے۔
یہ دیس ہمارا ہے ہمیں اس نے پکارا ہے
آزادی والو میری قدر کرو آزادی نے رو رو پکارا ہے
تم سے تو یہ پیڑ بھی ہیں اچھے جنہوں نے دشمن کو للکارا ہے
یہ دیس ہمارا ہے ہمیں اس نے پکارا ہے

یہ اس پاک سرزمین کی آواز ہے جسے سننے کے لئے دل و دماغ کے ساتھ ساتھ ایک پاکستانی کا با ضمیر ہونا ضروری ہے۔ ہمارا دیس کہتا ہے کہ اگر آزادی محض غلام ہی رہنے کے لئے حاصل کی تھی تو پھر ان لا تعداد قربانیوں کا کیا مقصد!اگر مثبت پہلو کو سامنے رکھتے ہوئے آزادی حاصل کی ہے تو پھر میری (آزادی) کی قدر کرو ورنہ تو دشمن کے رستے میں حائل ہونے والے درخت آپ اور آپ کے ضمیر سے بہتر ہیں جو بے زبان ہو کر بھی دشمن کا رستہ روکتے ہیں کیونکہ انہیں احساس ہے کہ اس پاک سر زمین کی ماؤں، بہنوں نے آزادی کے لئے جو قربانیاں دی ہیں۔ اورہ کس حال میں بے عزت، بے سروسامانی کی حالت میں ہمارے سائے میں بیٹھ کر دن گزارتی تھیں۔ کیا ہم نے کبھی سوچا؟ کیا ہم نے اپنے آباؤ اجداد کی قربانیاں اور ان کی اہمیت اپنی نسل تک پہنچائی؟ کیا یہ ایک زمین کا ٹکڑا ہمیں ایک دن کی محنت سے مل گیا ہے؟ کبھی سوچا ہے کہ اگر آپ ایک مرلے کا گھر بنا رہے ہوں اور اس کی اینٹیں باہر پڑی ہوں تو اس میں سے کوئی آدمی، پڑوسی، راہ چلتے چند اینٹیں اٹھالے تو کیا ہو؟ چند اینٹیں صرف چند روپوں کی مالیت کی ہیں لیکن آپ اس کے بدلے میں اس پڑوسی، راہ چلتے ہوئے ضرورت مند کو قتل کرنے سے دریغ نہیں کریں گے۔ افسوس صد افسوس چند روپوں کی حفاظت کے لیے تو قتل کرنا بھی گناہ نہیں سمجھتے لیکن دوسری طرف ہم خودہی ملک کو چیل اور کووّں کی طرح نوچ رہے ہیں۔ اس کے بدلے میں کیا ہوگا۔ قتل کیا جائے؟؛ملک بدر کیا جائے؟ اس کی سزا خو د ہی تجویز کرو اپنا احتساب خود کرو یہ و ہ وقت ہے کہ اپنے اندر ایک مثبت اور سچے پاکستانی کی سوچ پیدا کروورنہ۔۔۔۔۔۔۔ میرے عزیز ہم وطنوں اگر ہم ان قربانیوں کو بھول چکے ہیں، جن کی بدولت ہمیں پیار ا وطن، آزاد ملک ملا تو پھر آئیے ایک میں آپ کو ضمیر کی آواز سے روشناس کرواتا ہوں۔ ملک بننے کے بعد ہمارے اوپر کون کون سے قرض ہیں؟ اس قرض کو کسی نہ کسی طرح اتارنا ہے، اگر ملک نہ ہوتا، ریونیو اکٹھا نہ ہوتا، تو کیا ہم سمجھتے ہیں کہ آج ہمارے ہر گھر کافرد تعلیم حاصل کر پاتا۔ پھر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے کم از کم لاکھو ں میں رقم درکار تھی لیکن اس معاشرے کے اس قرض کو اتارنے کے لئے آپ نے اپنا کردار ادا کیا؟ اگر ایک ڈگری پرپانچ لاکھ روپے خرچ آتاہے لیکن ہم صرف ایک لاکھ روپے میں حاصل کرتے ہیں تو ہماری جگہ چار لاکھ روپے کس نے ادا کئے۔ اس چار لاکھ روپے قرض کو اتارنے کا کوئی پلان تیار کیا؟ اگر نہیں تو کیوں؟ اعلیٰ ڈگری حاصل کی اس کے بدلے جاب ملی۔ جاب کے بدلے تنخواہ ملکی لیکن جس معاشرے کے آپ قرض خواہ ہیں اس کے لئے تو کچھ نہیں کیا، ملک کی قربانی یا اس کے قرض کی بات تو بعد میں ہے اگر آپ کو تعلیمی میدان میں جاب کرنے کا موقع ملا ہے کیا آپ نے اپنا فرض پوری ایمانداری سے ادا کیا؟ کیاآپ نے اس قرض کو اتارنے کے لئے قوم میں سچی اور مثبت سوچ پیدا کی؟ کیا آپ نے تعلیمی اوقات کار کے علاوہ زائد وقت دیا؟ کیا آپ نے دیے سے دیا جلانے کی کوشش کی؟ کیا آپ کی فرض شناسی سے کوئی سچاپاکستانی حکمران پیدا ہوا؟ اگرا س کا جواب نہیں ہے تو پھر سوچو ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا؟اگر کروڑوں کی آبادی میں کروڑوں کا جواب نہیں ہے تو ہم کیوں اچھے وقت اور اچھے حکمران کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ کیا ایسا ممکن ہے کہ گندم بو کر کپاس کی فصل کاٹی جائے، کانٹے دار درخت لگا کر اچھا پھلدار اور خوشبو والا پودا اُگے گا ہر گز نہیں ذرا سوچیں! ہم نے کتنے کانٹے دار درخت لگائے ہیں اور کتنے پھول اور پھلدار؟ ہر فرد ملت کے مقدر کا ستارہ، رات کو سوتے وقت ہر پاکستانی کو کچھ لمحات کے لئے سوچنا ہوگا کہ ہم کہاں ہیں اور ہمارا ملک و قوم اور معاشرہے کے لئے کیا کردار ہے؟اللہ تعالیٰ سے دُعا گو ہو ں کہ ہمیں سچا اور محب وطن پاکستان بنا دے آمین۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: RIAZ HUSSAIN

Read More Articles by RIAZ HUSSAIN: 117 Articles with 63616 views »
Controller: Joint Forces Public School- Chichawatni. .. View More
26 May, 2018 Views: 272

Comments

آپ کی رائے