رمضان کا مقصد و معانی

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: محمد اویس سکندر
رمضان المبارک اسلامی تقریم کا نواں مہینہ ہے۔ اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے۔ ماہ رمضان رمض سے ماخوز ہے اور رمض کا معنی جلانا ہے چونکہ یہ مہینہ بھی مسلمانوں کے گناہوں کو جلا دیتا ہے۔ اس لئے اس کا نام رمضان رکھا گیا ہے۔ قرآن حدیث میں رمضان المبارک کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ رمضان المبارک ہی وہ بابرکت مہینہ ہے جس کا زکر قرآن مجید میں آیا ہے۔ ارشاد ربانی ہے کہ رمضان المبارک کے مہینہ میں قرآن مجید نازل کیا گیا۔ (البقرہ) اس مہینہ میں ایک رات (لیلتہ قدر) ایسی آتی ہے جو ہزار راتوں سے افضل اور بہتر ہے۔ (القدر)

اﷲ تعالیٰ نے اس ماہ کے روزہ کو فرض فرمایا اور اس میں رات کے قیام کو ثواب کی چیز بنایا۔ جو شخص اس مہینہ میں کسی نیکی کے ساتھ خدا کا قرب حاصل کر لے وہ ایسا ہے جیسے غیر رمضان میں فرض ادا کیا اور شخص کسی فرض کو ادا کرے وہ ایسے ہے جیسے غیر رمضان میں میں 70 فرض ادا کرے۔ یہ مہینہ لوگوں کے ساتھ غمخواری کرنے کا ہے۔ اس مہینہ میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔ رمضان شریف وہ مبارک مہینہ ہے جس کی آمد کے موقع پر جنت کے دروازے کھل جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند ہو جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیروں سے جکڑ دیا جاتا ہے۔ رمضان المبارک رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے۔
ابن جوزی ؒ فرماتے ہیں جس طرح حضرت یعقوبؑ کے بارہ بیٹوں میں سے حضرت یعقوبؑ کو حضرت یوسف ؑ زیادہ محبوب اور پیارے تھے ۔ اسی طرح سال کے بارہ مہینوں میں سے رمضان المبارک خدائے زلجلال کو زیادہ عزیز اور محبوب ہے۔ جس طرح خدا تعالیٰ نے حضرت یوسف ؑ کے واسطے باقی گیارہ بھائیوں کی مغفرت فرمائی اسی طرح رمضان المبارک کی برکتوں سے گیارہ مہینوں کی خطائیں معاف فرمائے گا۔رمضان المبارک میں بہت سے مشہور واقعات رونما ہوئے ۔ یکم رمضان المبارک کو جنت کے دروازے کھل جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیروں سے جھکڑا جاتا ہے۔ 3رمضان المبارک کو حضرت ابراہیم ؑ پر صحائف نازل ہوئے۔ 6رمضان المبارک کو حضرت موسیٰ ؑ پر توریت نازل ہوئی۔ 18رمضان المبارک کو حضرت داؤد ؑ پر زبور نازل ہوئی۔ 13رمضان المبارک کو حضرت عیسیٰ ؑپر انجیل نازل ہوئی۔ 27رمضان المبارک کو حضرت امام الانبیاء و المرسلین احمد مجتبیٰ محمد مصطفےٰ ﷺ پر قرآن مجید نازل ہوا۔

حضرت محمد ﷺ کا فرمان ہے۔ رمضان المبارک میں ہر رات میں ایک منادی آسمان طلوع صبح تک یہ ندا کرتا رہتا ہے کہ اے خیر کے طلب گار خوش ہوجا اور برائی چاہنے والے رک جاؤ اور عبرت حاصل کر لو کیا کوئی بخشش مانگنے والا ہے کہ اس کی بخشش کی جائے ۔کیا کوئی توبہ کرنے والا ہے کہ اس کی توبہ قبول کی جائے۔ کیا کوئی سوالی ہے کہ اس کا سوال پورا کیا جائے۔ خدا تعالیٰ رمضان المبارک کی ہر رات میں افطاری کے وقت 60ہزارگناہ گار دوزخ سے آزاد فرماتا ہے۔ جب عید کا دن آتا ہے تب اتنے لوگوں کو آزاد فرماتا ہے جتنے تمام مہینے میں آزاد فرماتا ہے 30مرتبہ 60-60 ہزار۔

رمضان المبارک میں روز رکھنے والے کے بہت فضائل ہوتے ہیں۔ روزہ دار کے منہ کی بدبو خدا تعالیٰ کے نزدیک مشک سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ روزہ دار کے لئے دریا کی مچھلیاں تک دعا کرتی ہیں۔ جنت ہر روز ان کے لئے آراستہ کی جاتی ہے۔روزہ دار کا اس ماہ میں اٹھنا، بیٹھنا ، ، مزدوری کرنا اور سونا عبادت میں شمار کیا جاتا ہے۔ روزہ دار کا ایک بہت بڑا اجر خدا تعالیٰ کی زیارت ہے جو روزہ دار کو محشر کے دن نصیب ہوگی۔ روزہ دار کے تمام گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں اور درجات بلند کر دیئے جاتے ہیں۔

رمضان المبارک کی آخری رات میں روزہ داروں کے لئے مغفرت کی جاتی ہے۔ صحابہ نے عرض کیا ، یہ شب قدر شب مغفرت ہے؟ فرمایا نہیں بلکہ دستور یہ ہے کہ مزدور کو کام ختم ہونے کے وقت مزدوری دی جاتی ہے۔(ابن حنان)

رمضان المبارک کا مہینہ مجموعی طور پر مسلمانوں کے لئے بیشمار فوائد کا حامل ہے۔ اس بابرکت مہینہ کا روزہ ناصرف طبی نقتہ نگاہ سے انسانوں کے لئے مفید ہے بلکہ کائنات کی دیگر مخلوقات کے لئے حیات نوح کا پیغام دیتا ہے۔ یہ رمضان المبارک کی روحانیت کا سبب ہے کہ ابتدائی روزوں میں تو بھوک قدرے لگتی ہے لیکن آہستہ آہستہ انسانی جسم اس کا عادی ہوجاتا ہے کیونکہ جسم کے اندر زخیرہ شدہ چربی اور دیگر اجزاء قدرتی طور پر استعمال ہوجاتے ہیں۔ جسم کی ضرورت خدبخود پوری ہوتی رہتی ہیں۔ قارئین روزہ کا اصل مقصد انسان کی خواہشات کو خدا تعالیٰ کے احکامات کے تابع کرنا اور اسے متقی بنانا ہے۔ جب ایک روزہ دار رمضان المبارک کے پورے مہینے میں کھانے پینے اور نفسانی خواہشات پر قابو رکھتا ہے تو تمام اخلاقی برائیوں سے محفوظ رہتا ہے اور اس کا اکثر وق نیک کاموں یا عبادات میں گزرتا ہے۔ علاوہ ازیں روزہ خواہشات پر قابو پانے کی تربیت کے ساتھ ساتھ انسانیت کی خودپسندی اور اناپسندی کا بھی موثر علاج ہے ۔ خدا تعالیٰ ہم سب کو روزے رکھنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ (آمین)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1242 Articles with 520952 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 May, 2018 Views: 373

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ