آخر یه ملک کس طرح چل رها هے

(محمد یوسف راهی, Karachi)

محترم پڑھنے والوں کو میرا آداب میں نے اپنے پچھلے کالم (ذرا سوچئیے ) میں اس بات کا ذکرکیا تھا کہ ہمارے کچھ کرپٹ اور نہل لوگ کو مسلسل ایک سوال ستارہا ہے کہ آخر جیسا بھی ہے یہ ملک اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ کیسے پہلتا پہولتا جارہا ہے جبکہ اس ملک کو تبہ کرنے والوں نے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی اور اس پر کچھ پوائنٹ بھی بتائے تھے لیکن آج میں اسی موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے یہ بات بتانے کی کوشش کروں گا کہ آخر ہمارا یہ ملک کس وجہ سے دشمنوں کی ناپاک نظروں اور آفت و بلیات سے بچہوا ہے اور کس طرح کڑوڑوں لوگوں کو اپنے دامن میں سمیٹ کر ان کو آزاد فضاؤں میں سانس لینے کا موقع فرہم کررہا ہے .

سب سے پہلے تو آپ یہ دیکھئیے کہ اس کرہ ارض میں کتنے ممالک ہیں جو اپنے اپنے وقت پر آزادی جیسی نعمت سے سرشار ہوکر اپنے دیس کی آزاد فضاؤں میں سانس لیتے ہوئے نظر آتے ہیں لیکن ہماری خوش قسمتی ہے کہ وہ مہینہ جسے باری تعالی نے خاص اپنا مہینہ کہا اور وہ ہے رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ جس میں یہ خوبصورت ملک پاکستان ہمیں عطا کیا جس طرح اس مبارک مہینہ میں اتاری گئی کتاب قران مجید قیامت تک آنے والے لوگوں کے لئیے مشعل رہ ہے اور جب بھی کہیں کسی نے اس کی بے حرمتی کرنے کی کوشش کی یا اس کے معنی بدلنے کی جرأت کی تو قدرت والے نے اس کا انجام اس کو اس دنیا میں ہی دکھا دیا اور قیامت تک اس کتاب کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھا سکتا بالکل اسی طرح اس مبارک مہینہ میں آزاد ہونے والا یہ ہمارا ملک پاکستان بھی قیامت تک اسی شان شوکت سے پہلتا پہولتا رہے گا اور اس بابرکت مہینے کے صدقے اس کی طرف کوئی میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرأت بھی نہیں کرسکتااور کر بھی کیسے سکتا ہے پاکستان کی حفاظت کے لئیے کسی بھی طاقتور ایجنسیز کی ضرورت نہیں ہے بلکہ میرے رب نے اس کی حفاظت کے لئیے اپنے اولیأء کرام کو ملک کے گوشے گوشے میں پہیلا دیا ہے جو نہ صرف مخلوق خدا کی خدمت میں مصروف عمل ہیں بلکہ آنے والی ہر مصیبت کو ٹالنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں ابھی پچھلے دنوں رمضان المبارک کے پہلے ہفتے میں محکمہ موسمیات کی طرف سے ایک طوفان کی اطلاع آئی تھی جو تیزی کے ساتھ کراچی کے سمندر سے گزرنے والا تھا لیکن وہ طوفان سمندر تک پہنچنے سے پہلے ہی اپنا رخ بدل گیا اور عمان کے شہر میں داخل ہوکر وہاں تبہی مچادی ایسا کیوں ہوا ایسے کئی طوفان پہلے بھی آئے اور چلے گئے محکمہ موسمیات اس کی کوئی بھی وجہ بتائے لیکن حقیقت یہ ہی ہے کہ یہ ان اللہ والوں کی وجہ سے آنے والے بڑے بڑے طوفان ٹل جاتے ہیں اور یہ ہی وجہ ہے کہ اس ملک کو چلانے کی طاقت نہ کسی حکمران میں تھی نہ ہے اور نہ آئندہ کسی کی ہوگی یہ صرف اور صرف اس رب کی طرف سے عطا کی ہوئی اس طاقت اور ہمت کی بدولت ہے جو اس نے اپنے ولیوں ,بزرگان دین اور اس کے فرمان پر چلنے والے اپنے پیاروں کو عطا کرتا ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جو اس رب کی مرضی سے اپنی اپنی جگہ پر موجود ہیں کہیں عبداللہ شہ غازی کے نام سے تو کہیں دولہا سبزواری کے نام سے کہیں سخی عبدالوہاب شہ جیلانی کے نام سے تو کہیں بابا عبدالغنی کے نام سے کہیں بابا صلاح الدین کے نام سے تو کہیں داتا گنج بخش ہجویری کے نام سے کہیں بہاؤالدین ذکریا ملتانی کے نام سے تو کہیں بابا بلہے شہ کے نام سے گویا اگر میں اسی طرح نام لیتا رہوں تو شاید سیہی ختم ہوجائے مگر ان بزرگان دین کے نام جو ملک کے کونے کونے میں موجود ہیں کبھی ختم نہ ہوں گے .

جب بھی اس ملک میں کوئی دہشت گردی کا واقعہ رونما ہوا یا کوئی حادثہ پیش آیا توخون میں لت پت زخمیوں اور بے جان لاشوں کو اٹھا کر ہسپتال منتقل کرنے والا صرف ایک ہی شخص نظر آتا تھا اور وہ تھا عبدالستار ایدھی وہ لاشیں جن کے اعضاء جسم سے الگ ہوجاتے تھے اور ان کے اپنے بھی ان کو ہاتھ لگانے میں ہچکچہٹ محسوس کرتے تھے تو ان لاشوں کو بھی ایدھی صاحب ہی اٹھاکر لاتےتھے ایدھی اس شخصیت کا نام ہے جس کے دل میں انسانیت کے لئیے درد تھا اور وہ اپنے کام کو سرانجام دینے کے لئیے بوقت ضرورت سڑکوں پر بھیک مانگنے کھڑے ہوجاتے تھے اب ان کے اس مشن کو ان کے صاحب زادے لیکر اپنی کوششوں میں مصروف عمل نظر آتے ہیں اس ملک میں عبدالستار ایدھی , رمضان چھیپا , انصار برنی اور ایسی انسانی حقوق کی کئی تنظیمیں مخلوق خدا کی خدمت میں مصروف عمل ہیں ایسے لوگوں کی وجہ سے ہی یہ ملک چل رہا ہے اور چلتا رہے گا .

جس اللہ تبارک وتعالی نے اپنے پچھلے نبیوں کی امتیوں کو ان کے کسی نہ کسی عیب کی وجہ سے ان پر عذاب نازل کیا تو ان تمام امتیوں کے اندر موجود وہ سارے عیب ہم لوگوں میں موجود ہیں لیکن اس رب کائنات کا ہم پر کڑوڑہا کڑوڑ احسان ہے کہ اس نے ہمیں پچھلی کسی نبی کی امتی میں پیدا نہیں فرمایا بلکہ ہمیں اپنے پیارے حبیب سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے امتی ہونے کا شرف بخشا اور اسی وجہ سے ہم پر اس کی نظر کرم کچھ خاص ہے ورنہ ہمار ےاعمال اور ہمارے حکمرانوں کے کرتوت تو ایسے ہیں کہ ہم پر عذاب الہی آنا کوئی حیرت کی بات نہیں لیکن اس رب کی رحمت اور محبت کا ہم جتنا شکرادا کریں اتنا کم ہے اور وہ جس طرح ہمارے اس ملک پاکستان کو دشمنوں کی میلی نظروں سے بچائے ہوئے ہے اور یہاں کے کرپٹ اور بددیانت لوگوں کی اس ملک کو ختم کرنے کی سازش کو ناکام بنائے ہوئے ہے اور ان کے کسی بھی وار کو کامیاب نہیں ہونے دیتا تو ہمیں بھی اس کے فرمان کے عین مطابق اپنی زندگی کو ڈھالنا ہوگا پاکستان کے بننے سے لیکر آج تک اس ملک کو کوئی ایسا حکمران نہیں ملا جو اس ملک کی ترقی اور اس کو آگے لیجانے میں سنجیدہ نظر آیا ہو اس بات میں کوئی شک نہیں کہ یہ ملک انشأاللہ تاقیامت اسی طرح پہلتا پہولتا رہے گا لیکن ہمیں ملکر اس کو ایک حقیقی فلاحی اور اسلامی مملکت بنانا ہوگا اور کوشش کرکے کسی ایسے شخص کو سامنے لانا ہوگا جس کا ماضی کرپشن سے پاک ہو مخلوق خدا کی صحیح معنوں میں خدمت کا جذبہ ہو کرسی اور مال و دولت کی جس کو حوس نہ ہو اور جو اس ملک کو مکمل طور پر ایک اسلامی ریاست بنانے میں اپنا کردار ادا کرے ہمیں ناامید نہیں ہونا چہئے بلکہ اس باری تعالی سے ہر وقت یہ دعا کرنی چہئے کہ ہمیں آج نہیں تو کل ایسا حکمران عطا کر اور وہ رب جو اپنے بندے سے 70 ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے وہ کسی نہ کسی کی دعا ضرور قبول کرے گا .حضرت اقبال نے فرمایا
ملت کے ساتھ راستہ استوار رکھ
پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد یوسف راهی

Read More Articles by محمد یوسف راهی: 23 Articles with 12102 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 May, 2018 Views: 291

Comments

آپ کی رائے