"موہے عشق نچایا کر تھیا تھیا "(چودھویں قسط)۔

(Mona Shehzad, Calgary)

صبا نے دروازے پر کھڑے جوڑے کو ایک منٹ میں پہچان لیا وہ عمران کے والدین تھے ۔اس کے ماتھے پر پسینے کے قطرے آگئے اس کا دل اس رفتار سے دھڑک رہا تھا کہ وہ اپنی دھڑکن کی آواز سن سکتی تھی ۔اس نے ان کو اندر آنے کی دعوت دی ۔ان کے چہرے کے تاثرات سے پتہ چل رہا تھا کہ وہ بہت غضب ناک ہیں۔ اندر داخل ہوتے ہی سیٹھ بندوق والا نے اپنی چیک بک جیب سے نکالی اور چیک سائن کر کے صبا کے منہ پر پھینکا ۔عمران کی ممی نے نخوت سے اس کو مخاطب کرکے کہا
"طوائف کو صرف نوٹوں سے پیار ہوتا ہے اب شرافت سے اس میں اپنی قیمت بھرو اور میرے معصوم بچے کی زندگی سے نکل جاؤ۔"
صبا کی آنکھوں میں ذلت کے احساس سے آنسو آگئے ۔صبا نے بدقت کہا :
"میں پاک ہوں ۔میں نے آپ کے بیٹے سے نکاح کیا ہے ۔میں آپ کی بہو ہوں۔"
اچانک سیٹھ بندوق والا نے صبا کو کس کر طمانچہ لگایا ۔صبا تیورا کر کسی کے قدموں پر گری ۔وہ آنے والا کوئی اور نہیں بلکہ عمران تھا اس نے صبا کو اٹھایا اور اس کے آنسو اپنے ہاتھ سے صاف کئے پھر اس نے اپنے والدین کو مخاطب کرکے کہا:
ممی! ڈیڈی! میں آپ لوگوں کی بہت عزت کرتا ہوں ۔میں آپ کو بتا چکا ہوں کہ صبا سے میری شادی کن حالات میں ہوئی اب یہ آپ کی بہو ہے ۔ میرا پیار ہے ۔اگر آپ مجھ سے پیار کرتے ہیں تو اس کو قبول کرلیجئے ۔"
عمران کے والدین اکٹھے چلائے:
"یہ گندگی کا کیڑا ہماری نسل کو بڑھائے گی ۔سیٹھ بندوق والا کی بہو قرار پائے گی ۔ہرگز نہیں۔"
عمران کے والدین نے اس کو عاق کرنے کی دھمکی دی اور تن فن کرتے نکل گئے ۔
صبا پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے فرش پر گر گئی ۔اس کو ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے اس پر جان کنی کا عالم ہو اس کو لگ رہا تھا کہ اس کے ماضی ایک بدروح کی طرح اس سے چمٹا رہے گا ۔عمران نے اس کو فرش سے اٹھا کر گلے سے لگایا اور پیار سے پوچھا:
"صبا ! کیا آپ اب تک مجھ پر یقین نہیں کرتیں ۔اللہ تعالیٰ کے حکم سے سب صحیح ہوجائے گا ۔میرے والدین ابھی غصہ میں ہیں کچھ عرصے میں مان جائیں گے ۔ خاص طور پر جب آپ ان کی گود میں ایک کلکاریاں لیتا گل گوتھنا ڈالیں گیں ۔"
صبا کا منہ حیا سے سرخ ہوگیا اس نے خجل ہوتے ہوئے عمران کو پیچھے دھکیلا اور کچن کی طرف بھاگ گئی ۔
(باقی آئندہ )۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mona Shehzad

Read More Articles by Mona Shehzad: 168 Articles with 178506 views »
I used to write with my maiden name during my student life. After marriage we came to Canada, I got occupied in making and bringing up of my family. .. View More
29 May, 2018 Views: 461

Comments

آپ کی رائے