"موہے عشق نچایا کر تھیا تھیا "(پندرھویں قسط)۔

(Mona Shehzad, Calgary)

صبا اور عمران کے شب و روز محبت کے ہنڈولے میں جھولتے گزر رہے تھے ۔عمران نے بارہا دفعہ صبا کو گھر کے کاموں کے لئے میڈ رکھنے کی آفر کی مگر صبا کے پرزور انکار پر رک گیا ۔صبا کو عمران کے اور گھر کے کام خود کرکے روحانی خوشی ملتی تھی ۔صبا ہر لحاظ سے ایک وفا شعار اور مشرقی بیوی ثابت ہورہی تھی ۔ان کے فلیٹ کو اس نے بہت محبت سے ڈیکوریٹ کیا تھا ۔

آج صبا کو ان کے بیڈ روم کے پردے پک کرنے تھے مگر عمران ایک میٹنگ میں الجھا ہوا تھا ۔آج صبا کی طبیعت صبح سے بوجھل تھی مگر نئے پردے کمرے میں ڈالنے کے خیال سے وہ محبورا ڈرائیور کے ساتھ بازار چلی گئی ۔پردوں کے شو روم سے باہر نکلتے ہوئے صبا کو اچانک زور کا چکر آیا ۔شوروم کے ساتھ ہی ایک لیڈی ڈاکٹر کا کلینک تھا ۔صبا نے سوچا
"شاید میرا بلڈ پریشر لو ہے مجھے ڈاکٹر کے پاس جانا چاہیے ۔"

اسی خیال کے پیش نظر وہ کلینک میں چلی گئی ۔کچھ دیر بعد اس کی باری آئی ڈاکٹر نے اس کا چیک اپ کرکے مسکراتے ہوئے اسے خوشخبری سنائی ۔صبا کو اپنی خوش قسمتی پر ناز سا ہونے لگا ۔وہ شاداں و فرحاں گھر آگئی ۔مگر آج وقت لگتا تھا جیسے رک سا گیا ہو۔وہ بڑی بے صبری سے عمران کا انتظار کرنے لگی ۔وہ دل ہی دل میں سوچتی کہ وہ عمران کو کیسے یہ خوشخبری سنائے گی ۔شام رات میں بدل گئی مگر عمران کا دور دور تک نشان نہ تھا ۔صبا کا دل کسی انہونی کے خیال سے کانپ رہا تھا ۔اس نے عمران کے موبائل پر بارہا دفعہ فون کیا مگر اس کا نمبر بند تھا ۔ہسپتال فون کیا تو انھوں نے بتایا کہ وہ تو شام کو ہی گھر جانے کے لئے نکل گیا تھا ۔صبا کی آنکھیں بار بار چھلک پڑتیں اس کا دل ڈوبا جارہا تھا ۔رات کا مہیب سناٹا اس کو ہو لا رہا تھا ۔روتے روتے صبا کی آنکھ لگ گئی ۔صبا نے بہت مہینوں بعد وہ خواب پھر دیکھا۔وہ جنگل میں اکیلی بھاگ رہی تھی اس کے پیچھے بھیڑیوں کا ایک غول لگا ہوا تھا ۔وہ جتنا تیز بھاگتی اتنی ہی بھیڑیوں کی غراہٹیں اس کے قریب آتی جاتیں ۔آخرکار وہ ایک پتھر سے ٹھوکر کھا کر گر جاتی ہے اور ایک بھاری بھیڑیا اس کی ٹانگ منہ میں دبوچ لیتا ہے ۔صبا کی آنکھ اپنی ہی ہولناک چیخ سے کھل گئی ۔صبا کا پورا جسم پسینے سے شرابور تھا اس کے جسم پر کپکپاہٹ طاری تھی آج اس کو تسلی تشفی دینے والا کوئی نہیں تھا ۔وہ بڑے درد سے بولی:
"عمران آپ کدھر کھو گئے ہیں۔"
اس کی آواز اپنی ہی سسکیوں میں ڈوب گئی۔
(باقی آئندہ )۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mona Shehzad

Read More Articles by Mona Shehzad: 168 Articles with 178960 views »
I used to write with my maiden name during my student life. After marriage we came to Canada, I got occupied in making and bringing up of my family. .. View More
30 May, 2018 Views: 451

Comments

آپ کی رائے