"چلے کی کرامت یا پیر کی " (سو لفظوں کی کہانی)۔

(Mona Shehzad, Calgary)

شاداں کی ساس نے آج بھی بے اولادی کے طعنوں سے اس کو چھلنی کیا اور ساتھ ہی اس کو بدبخت قرار دیا کیونکہ وہ پیر صاحب سے چلا کروانے پر راضی نہیں تھی ۔ رہی سہی کسر اللہ وسایا نے پوری کردی ۔اس نے شاداں کو بانجھ قرار دیتے ہوئے اس بات کا اعلان کیا کہ اگر شاداں نے پیر صاحب کے آستانے پر رہ کر چلہ نہ کھینچا تو وہ نہ صرف اس کے سامنے دوسری شادی کرئے گا بلکہ اس کو طلاق بھی دے دے گا ۔
وہ رات شاداں پر بھاری تھی ۔
صبح اٹھ کر شاداں نے پیر صاحب کے آستانے پر رہ کر چلہ کھینچنے کی حامی بھر لی۔
آج نو مہینے کے بعد شاداں کی گود میں جڑواں بیٹے تھے ۔اللہ وسایا اور اس کی ساس ملنے جلنے والوں کے آگے پیر صاحب کے باکرامت ہونے کے گن گا رہے تھے ۔
شاداں کے ہونٹوں پر رہ رہ کر استہزائیہ سی مسکراہٹ آجاتی ۔وہ بے اختیار کہتی:
"واقعی باکرامت پیر ہیں۔ . "
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mona Shehzad

Read More Articles by Mona Shehzad: 168 Articles with 175666 views »
I used to write with my maiden name during my student life. After marriage we came to Canada, I got occupied in making and bringing up of my family. .. View More
01 Jun, 2018 Views: 222

Comments

آپ کی رائے