پرتشدد احتجاج کا رجحان اور ہماری اخلاقی اور قومی ذمہ داریاں

(Muhammad Abu Sufyan Awan, Lahore)

وطنِ عزیز پاکستان میں گزشتہ کچھ سالوں سے پرتشدد احتجاج کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے۔جو ہماری املاک اور وسائل کے نقصان کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر ہماری جگ ہنسائی کا باعث بن رہا ہے۔

معاملہ قتل کا ہو سڑک بلاک کر دی۔ ٹریفک جام کردیا۔

گیس کی بندش ہوئی تو چوکوں میں ٹائر جلاکر اخلاقی اور فضائی آلودگی کا موجب بن گئے۔

پسندیدہ امیدوار ہار گیا تو ڈنڈے کے کر بازاروں میں نکل آئے۔

ہسپتال میں کوئی ہلاک ہوگیا تو ادھر ہنگامہ شروع کر دیا۔

کوئی مذہبی معاملہ حل طلب ہوا تو عوام الناس کے ساتھ مل کر ہنگامہ آرائی اور دنگا فساد بپا کر دیا۔

ختم نبوت کا سنگین معاملہ پیش آیا تو جذباتی عوام کے لاؤ لشکر کے ساتھ وطن عزیز پاکستان کے دارالحکومت کی جانب چڑھائی شروع کر دی۔

کیا
ہم اخلاقی طور پر اتنے گھٹیا ہوچکے ہیں کہ ہم اپنے نقصان کے مقابلے میں دوسروں کو ایذا دینے کو باعث اطمینان سمجھتے ہیں۔

کیا
ہم ذہنی طور پر اتنے پسماندہ ہوچکے ہیں کہ ہمیں اپنے نفع و نقصان کا احساس ہی نہیں ہے۔

کیا

ہم مذہبی طور پر اتنے لاپرواہ اور گم گشتہ ہوچکے ہیں کہ ہم اپنی مذہبی اقدار اور تعلیماتِ اِسلام کو پس پشت ڈال کر اقوام عالم اور مذاہب آفاقی کو اسلام کا خود ساختہ مسخ شدہ چہرہ پیش کر کے اسلام کا کیسا پرچار کر رہے ہیں۔

کیا ہماری اعلیٰ تعلیم و تربیت اور جدید علوم سے بہرہ وری ہمیں اس بات کی طرف گامزن کرتی ہے کہ ہم اپنے ہم وطن،ہم قوم اور ہم مذہب لوگوں پر کفر والحاد کے فتوے لگاکر ہم عالمی استعماری طاقتوں کی فکر ونظر کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کریں۔

کیا وطن عزیز کے ساتھ ہماری محبت کا اظہار یہی ہے

کیا عوامی اور قومی وسائل کا نقصان کرنے پر ہم اپنے مسائل کا حل تلاش کرسکتے ہیں۔

کیا اسلام ہمیں حکومت کے خلاف محاذ آرائی کی اجازت دیتا ہے۔

کیا ہمارے اسلاف کی یہی عظیم الشان روایات ہیں جنکو ہم روا رکھے ہوئے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اخلاقی اعلیٰ ظرفی،مذہبی ہم آہنگی اور قومی یک جہتی کی عدیم النظیر مثال قائم کریں

اور عالمی سطح پر اسلام اور اس کی تعلیمات کی روشنی پھیلائیں اور مملکت خداد پاکستان کا مہذب چہرہ پیش کریں۔

ہماری کامیابی وکامرانی اور ترقی وعظمت کا راز اسی میں مضمر ہے

شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری کوئی بات۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Abu Sufyan Awan

Read More Articles by Muhammad Abu Sufyan Awan: 18 Articles with 11512 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
01 Jun, 2018 Views: 191

Comments

آپ کی رائے