یو پی ٹارگٹ کے نام پر پرائمری ہیڈ اور اساتذہ کا استحصال

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: علینہ فاطمہ، ر حیم یار خان
ایک انار سو بیمار کا نعرہ تو آپ نے سنا ہی ہوگا۔ یعنی ایک انار سو بیماریوں کے علاج کے لیے کافی ہے۔ اسی طرح پاکستان میں ایک ڈیپارٹمنٹ ایسا بھی ہے جس میں آنے کے بعد اس ڈیپارٹمنٹ میں کام کرنے والوں کے لیے بھی یہی کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے اصلی فریضہ انجام دینے کے ساتھ دوسرے کام کرنے کی بھی صلاحیت رکھتے ہوں۔ یعنی کہ شعبہ ایک اور کام سو۔

امید ہے آپ سب بھی سمجھ گئے ہونگے کہ میرا اشارہ کس طرف ہے۔ جی ہاں میں بات کر رہی ہوں اساتذہ کرام کی خاص طور پر پرائمری اسکول کے اساتذہ اور ہیڈ ماسٹرز کی جن پر نت نئے طریقے سے دباؤ ڈال کر نہ صرف ان سے کام نکلوائے جاتے ہیں بلکہ ان کی انسلٹ کا بھی کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا جاتا گویا، انہوں نے نوکری کر کے ان کا کوئی حق مار دیا ہے جس کی سزا ان سے اس طرح لی جاتی ہے۔

بات کرتے ہیں پہلے ہیڈ ماسٹرز کی جن کے ذمہ اسکول کے سارے انتظامات کے ساتھ ڈاک کا کام بھی ہوتا ہے۔ جس کے لیے کبھی کبھی تو ان بیچاروں کو اسکول سے چھٹی کے بعد بھی دفتروں میں پابند کیا جاتا ہے۔ اور مزے کی بات ان دفاتر میں ایک کرسی تک نہیں ہوتی کہ جس پر یہ تھوڑی دیر بیٹھ ہی سکیں۔ تو اس مقصد کے لیے یا تو ان کو کھڑا رکھا جاتا ہے یا پھر کسی خیراتی ادارے میں بچھائی جانے والی دریوں سے کام چلا لیا جاتا ہے۔

یہی نہیں آج کل رہی سہی کسر رمضان کے بابرکت مہینہ میں گھر گھر سروے کے لیے بھیج کر پوری کی جا رہی ہے۔ اس سخت ترین گرمیوں میں روزہ کی حالت میں ہیڈ کے ساتھ باقی اساتذہ کی بھی شامت آئی ہوئی ہے۔ اوپر سے ایک کلو میٹر کے فاصلے پر جہاں 10اسکول موجود ہیں وہاں پر ڈیڑھ سو تک کا ٹارگٹ دے کر ان اساتذہ کو مزید ذلیل کیا جا رہا ہے۔ ایک پرائمری اسکول کی ہیڈ اور ٹیچر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ رمضان کے مہینے میں روزے کی حالت میں ان سے آج بھی سروے کروایا گیا اور سروے رپورٹ کے بعد بھی اے ای او اور ڈپٹی نے ان کی ہمت کی داد دینے کے بجائے یہ حکم نامہ جاری کیا ہے کہ وہ اس سے بھی زیادہ بچے اسکول میں داخل کریں اور نئے بچے داخل نہ کرنے کی صورت میں ان کی تنخواہ کاٹی جائے گی۔ پھر بھی اگر مزید بچے نہ داخل کئے گئے تو نوکری سے فارغ ہونے کے لیے تیار ہو جائیں۔

یہ سب بتاتے ہوئے انہوں نے کہا اب ہماری تو نیند بھی اڑ چکی ہے کہ ہم بچے لائیں تو کہاں سے لائیں۔ یہ سب بیان کرتے ہوئے میں ایک بات ان سب منیجمنٹ سسٹم کے سربراہان سے صرف اتنا سا سوال کرنا چاہتی ہوں کہ سارا دن اے سی کے نیچے بیٹھ کر احکامات صادر کرنے کی بجائے صرف ایک دن ہمارے ساتھ سروے کر سکتے ہیں تو مہربانی ہو گی کر لیں تاکہ آپ کو بھی پتہ چلے اصل حقیقت کا۔ تب آپ کو بھی پتہ چلے گا کہ کس طرح سے ذلیل ہو کر ایک آپ لوگوں کی طرف سے دیئے گئے ٹارگٹ پورے کئے جاتے ہیں اور اس پر بھی نوکری سے فارغ کرنے کی جو دھمکیاں دی جاتی ہیں کم از کم یہ تو بند کر ہی دی جائیں گی۔ آخر میں سیکریٹری ایجوکیشن پنجاب رانا مشہود صاحب سے مودبانہ گذارش ہے خدارا اساتذہ کرام کی مشکل کو سمجھیں اور روز کی ذلالت اور انسلٹ کو بند کیا جائے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1226 Articles with 497276 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Jun, 2018 Views: 326

Comments

آپ کی رائے