یار کو ہم نے جا بجا دیکھا - 13 قسط نمبر

(Adeela Chaudry, Renalakhurd)

آج تیسرا دن تھا وہ ہوش میں آ کر بھی ہوش میں نہیں تھا۔کچھ کھا رہا تھا نہ پی رہا تھا نہ ہی کچھ بول رہا تھا۔ماں کو سامنے دیکھتے ہی زور زور سے چیخیں مار کر رونے لگتا اپنا سر دیواروں سے ٹکرانے لگتا۔ایک عجیب سی کیفیت طاری تھی اس پہ۔ماں کا رو رو کے الگ برا حال تھا۔پڑوسن کے بتانے پر وہ اسے زبردستی ایک عامل بابا کے پاس لے گئیں۔ عامل نے کہا کہ اس پر ایک ضدی چڑیل کا سایا ہے جسے نکالنے کے لیے عمل بھی سخت کرنا پڑے گا۔ عامل نے عمل کے ساتھ ساتھ اس پر ڈنڈوں کی بارش کر دی۔ماں کے بچا کر واپس لے جانے تک وہ اس کا اچھا خاصا حشر کر چکاتھا۔پڑوسن کے لاکھ روکنے کے باوجود وہ وہاں مزید ایک پل نہ رکیں اور بیٹے کو لے کر گھر آ گئیں۔اگلے دن وہ اسے ایک دماغی علاج کے ڈاکٹر کے پاس لے گئیں۔اس نے جو علاج تجویز کیا اس سے وقتی سکون تو ملا اسے لیکن وہ بالکل ٹھیک نہ ہو سکا۔ اس کے باپ کے آنے کے بعد وہ دونوں اسے شہر کے ہر اچھے ڈاکٹر کے پاس لیکر گئے لیکن بے سود رہا۔اس کو پڑنے والے دوروں کی شدت میں کوئی کمی نہ آ سکی۔
دیکھیے میں ایک مسلمان ہونے کی وجہ سے یہ سب نہیں کہہ رہا نہ ہی اس میں میرا کوئی فائدہ ہے اور نہ ہی میری آپ سے کوئی دشمنی۔ میں تو محض اس لیے کہہ رہا ہوں کیونکہ آپ کے بیٹے کا حقیقت میں ہی یہ پرابلم ہے۔اور ویسے بھی یہ صرف میری ہی نہیں ہمارے پورے بینچ کی متفقہ راۓ ہے جس میں دو ہندو ایک سکھ ایک انگریز اور ایک میں یعنی مسلمان ڈاکٹر شامل ہیں۔اگر آپ ہماری بات پہ غور کریں تو آپ کو احساس ہو گا کہ آپ کے بیٹے کا یہ ہی علاج ہے۔
وہ اس وقت بھی شہر کے سب سے مہنگے ہسپتال میں بیٹھے تھے جہاں سے وہ اب اس کا علاج کروا رہے تھے۔دیپ اپنی ماں کے ساتھ باہر بیٹھا تھا جبکہ اس کے پاپا اندر ڈاکٹر سے بات چیت کر رہے تھے۔
جا بچہ جا وہ ڈاکٹر ٹھیک کہتا ہے تیرے بیٹے کا صرف وہی ایک علاج ہے۔ وہ اپنی تسلی کی خاطر اسے ایک بار محلے کے سب سے بڑے پنڈت جی کے پاس لے گئے انہوں نے بھی یہ راۓ دی تو وہ ٹوٹے قدموں گھر لوٹ آۓ۔
کیا ہو گیا ہے اس کو پہلے تو یہ ایسا کبھی نہیں تھا۔ماں روتے روتے بولی
مجھے سمجھ آ گئی ہے کہ دیپ کو کیا ہوا ہے اور یہ بھی کہ اس کا علاج کیا ہے۔ اس کے پاپا لاؤنج میں صوفہ سے ٹیک لگاۓ چھت کو گھورتے ہوۓ بولے
تو پھر جلدی کریں نہ کچھ بھگوان کے لیے مجھے میرا بیٹا ہنستا کھیلتا واپس لا دیں پلیز۔ ماں نے روتے ہوۓ التجا کی
بھاگ بھری تو کیا جانے اس کیا علاج کیا ہے۔وہ کہتے ہیں نہ کہ ہونی کو کون ٹال سکا ہے۔میں کیسے ٹال سکتا تھا پھر بھلا؟ وہ مسلسل ایک ہی پوزیشن میں بیٹھے رہے
آپ کیا بول رہے ہیں جی مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔ ماں نےحیرت سے سوال کیا
کچھ نہیں بھاگ بھری تو جا مجھے ایک پیالی چاۓ کی بنا دے تا کہ میرے خالی رہ جانے والے ہاتھوں میں کچھ تو آۓ۔ ان کی پرسوچ نگاہیں مسلسل چھت کی طرف ہی تھیں۔ماں یونہی حیرت میں ڈوبی چاۓ بنانے کو اٹھ گئیں۔ ان کے اٹھتے ہی ماندیپ صاحب نے آنکھیں بند کر لیں اور دو موٹے موٹے موتی آنکھوں کے کناروں سے نکل کر بالوں میں کھو گئے۔
میں ہار گیا بابا۔میں ہار گیا۔میں نے کھو دیا اس کو بھی۔میں نے اسے کھو دیا۔میرے ہاتھ خالی رہ گئے بابا۔آنکھیں بند کیے مان صاحب نے اپنے باپ کو مخاطب کیا اور سسکیاں لے کر رونے لگے۔چاۓ پینے کے بعد وہ اپنے کمرے میں جا کر لیٹ گئے کچھ دیر آرام کے بعد وہ دیپ کو لیکر باہر نکل گئے۔اس کی ماں کے پوچھنے پر کہا کہ اس کا علاج کروانے جا رہا ہوں۔ماں کو تسلی ہو گئی کہ اب ان کا بیٹا بالکل ٹھیک ہوجاۓ گا لیکن ان کی یہ خوشی عارضی ثابت ہوئی۔چند ہی گھنٹوں بعد مان صاحب اکیلے واپس لوٹ آۓ۔دیپ کی ماں نے سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھا لیکن وہ نظریں چرا کر کمرے میں جا کر لیٹ گئے۔تھوڑی دیر بعد وہ کمرے میں ان سے دیپ کا پوچھنے گئیں تو کیا دیکھتی ہیں کہ مان صاحب لائٹ آف کیے دایاں بازو اپنی آنکھوں پہ رکھے لیٹے ہوۓ ہیں۔انہوں نے لائٹ آن کر دی
پلیز لائٹ آف ہی رہنے دو۔ مان صاحب نے اسی پوزیشن میں لیٹے لیٹے کہا
میں کر دوں گی لائٹ آف پہلے مجھے بتائیں میرا بیٹا کہاں ہے؟؟؟ انہوں نے پاس بیٹھ کر جیسے ہی مان صاحب کا بازو پیچھے ہٹایا مارے حیرت اور خدشے کے ان کی آنکھیں اور منہ دونوں کھلے کے کھلے رہ گئے وہ رورہے تھے۔
مان صاحب کیا ہوا ہے؟میرا بیٹا کہاں ہے؟؟ آپ تو اس کا علاج کروانے گئے تھے پھر اسے کہاں چھوڑ آۓ ہیں بتائیں نہ مجھے؟؟؟ وہ انہیں جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر پوچھ رہی تھیں
وہ چلا گیا بھاگ بھری وہ چلا گیا۔ اسے جانا ہی تھا وہ اب نہیں آۓ گاـ کبھی بھی نہیں آۓ گا۔ انہوں نے کہتے ہوۓ چہرہ دوسری طرف کر لیا
کہاں چلا گیا مان صاحب؟؟ کیوں نہیں آۓ گا واپس؟؟ بتائیں کہاں گیا ہے میں خود اسے لے کر آؤں گی۔ وہ انہیں مسلسل جھنجھوڑے جا رہی تھیں
کہہ دیا نا ایک بار کہ اب کبھی نہیں آۓ گا وہ تو نہیں آۓ گا پھر کیوں بار بار سوال کرتی ہو؟؟؟ وہ غصے سے ان کا بازو جھٹک کر اٹھ کر بیٹھ گئے۔دیپ کی ماں ان کو اس طرح پریشان اور ہارا ہوا دیکھ کراور بھی اونچی آواز میں رونے لگیں انہیں فورًا احساس ہو گیا کہ وہ بھی پریشان ہیں اسی لیے نرم لہجے میں گویا ہوۓ
اسے لگن لگ گئی تھی بھاگ بھری۔سچی لگن۔پھرتو یا میں اور یہ دنیا اب اس کے کسی کام کی کہاں رہی تھی۔میں اسے کیسے روک لیتا بھاگ بھری کیسے؟؟ جتنا رونا ہے رو لے پر تیرا رونا اس کو واپس نہیں لاۓ گا کبھی۔اس کو تو جانا ہی تھا۔ مجھے دیکھ میرا ایک ہی بازو تھا وہ بھی کٹ گیا بھاگ بھری وہ بھی کٹ گیا۔میں خالی رہ گیا کچھ نہیں بچا میرے پاس کچھ بھی تو نہیں بچا۔وہ ان کو اپنے ساتھ لگاۓ زور زور سے رونے لگے
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Adeela Chaudry

Read More Articles by Adeela Chaudry: 23 Articles with 29333 views »
I am sincere to all...!.. View More
07 Jun, 2018 Views: 955

Comments

آپ کی رائے
Beautiful. Bohat eee acha novel ha. Mai bohat wait karti hu is ka. Api plz jaldi episode dia karen.
By: Yumna, Faisalabad on Jun, 22 2018
Reply Reply
0 Like