بھارتی فلمیں اور پاکستانی بچے

(Babar Alyas, Chichawatni)
اگر والدین اپنے گھرانے میں ہی ایک پروگرام ترتیب دے لیں اور ہر شام والد, والدہ, چاچا ,تایا, دادا جان, دادی جان, میں سے کو ئی ایک گھر کے بچوں کو اخلاقی, درس دیں تو انشاءاللہ بہت جلد ایک اخلاقی قدروں سے آشنا نسل پروان چڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا.

موجودہ معاشرے کی اخلاقی قدریں,معیار تعلیم, شب ؤ روز پیش آنے واقعات جنکو ٹی وی پر زنا ؤ زیادتی کی فلمی انداز میں دکھایا جاتا ھے اخبارات میں چھپنے والی معاشرتی بے حیائی ؤ بے حسی کی کہانیاں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں کبھی 12سالہ گوہر نے بھارتی فلم سے متاثر ہو قتل کر دیا ,کبھی کسی نے فلمی انداز میں چوری اور بنک ڈکیتی کر لی, کبھی بچوں اور بچیوں کا تاوان کے لیے اٹھا لینا وغیرہ جیسے واقعات شامل ہیں. بھارتی میڈیا اور بھارتی فلمیں کس بُری طرح ہماری نسل پر اثر انداز ہو کر اس کو بگاڑ رہی ہیں.اس کا اندازہ کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکنیت کی حد تک بڑھتا جا رہا ھے اہل علم ؤ ہنر اور حکومتی سطح پر اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ہمارے نوجوان بھارتی فلموں میں موجود ہیرو اور ولن کے کردار کو مکمل طور پر کاپی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور عملی اقدامات اٹھا کر ناقابل تلافی جرم کر بیٹھتے ہیں۔ بھارتی فلمیں ہماری نوجوان نسل کے کردار اور مذہب کو بگاڑ رہی ہیں۔ ان کے رویوں پر بھارتی فلموں ، بھارتی زبان کے الفاظ کی چھاپ موجود ہے۔ سٹار پلس پر چلنے والے ڈراموں نے مسلمان بچیوں کی سوچ اور کردار پر بے حد بُرا اثر ڈالا ہے ۔ پہلے مسلمان بچیاں ماں اور باپ کی عزت کرتی تھیں۔ اب بات بے بات ان سے بحث کرتی ہیں اور ان کو بے وقوف ثابت کرتی ہیں۔ پہلے مسلمان لڑکی شوہر کو مجازی خدا اور اس کی خدمت کرنا مذہبی فریضہ سمجھتی تھی ۔ آج مسلمان لڑکی بھارتی ڈراموں سے متاثر ہو کر شوہر اور ساس پر حکم چلاتی ہے۔ نتیجہ کے طور پر خانگی مسائل بڑھ رہے ہیں۔ پہلے لڑکی طلاق سے خوفزدہ ہوتی تھی، آج وہ دھڑلے سے طلاق کا مطالبہ کرتی ہے اور اس کے بعد اپنی ’’آزاد‘‘ زندگی شروع کرنے کی تگ و دو میں لگ جاتی ہے۔ مسلمان بچوں کے ذہن کچے ہیں۔ آج کل والدین بچوں کو مدرسے بھیجنے اور مذہب کی تعلیم دلانے پر توجہ نہیں دیتے مگر ڈرامے اور فلمیں دیکھنے کی اجازت دیتے ہیں ہر فلم اور ڈرامے میں ہندوؤں کے بت، دیوی ، دیوتاؤں خاص طور پر ’’کالی‘‘ اور اگنیش‘‘ وغیرہ لازمی طور پر دکھائے جاتے ہیں۔ ان پر چڑھا وے چڑھانے کے طریقے دکھائے جاتے ہیں اور بعض ڈراموں اور فلموں میں وہ اپنے خدا کا مذاق بھی اُڑاتے ہیں اور یہی کچھ معصوم بچوں کے ذہنوں میں ’’فیڈ‘‘ ہو رہا ہے خدارا سوچئے یہ بچے بڑے ہو کر کیسے مثالی مسلمان بنیں گے۔ جبکہ ان کی گھٹی میں ہندو وانہ تعلیم پڑی ہوئی ہے۔ ان کو کیسے پتہ چلے گا کہ ہندومت ، سکھ ازم، اور اسلام میں کیا فرق ہے۔ یہ کیسے سمجھیں گے کہ اللہ رب العزت نے صرف دین اسلام ہی کو پسند فرمایا ہے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہاتو ہم ایک دہ نسلو ں کے بعد اپنا اسلامی تشخص کھو بیٹھیں گے، ہندو ؤ انہ سازش اور ا ن کی دشمن ذہنیت جیت جائے گی۔ ہمیں ہندوؤں کی اس مذموم اور مکارانہ چال کا منہ توڑ جواب بھی دینا ہوگا اور اپنے معصوم بچوں کو اس یلغار سے بچانا بھی ہو گا یہ اس وقت اسلامی معاشرے کا اہم ترین مسئلہ ہے۔ ہماری نسل کی بنیادوں میں سے اسلام نکل رہا ہے۔ اور ہندو ازم داخل ہو رہا ہے۔ ہمیں انفرادی طو ر پر ، اجتماعی طور پر اور حکومتی سطح پر لحاظ سے اس یلغار کے آگے بند باندھنا ہے، حکومت کو ٹیکنالوجی کی سطح پر اس حملہ کو روکنا چا ہیے والدین کو اپنے طور پر انڈین چینلز سے اپنے بچوں کو بچانا چاہیے ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ دینا تو اس وقت ہماری بدحالی میں گزر ہی ہے۔ ہم کہیں اپنی آخرت بھی نہ کھودیں اور باشعور سمجھدار مسلمان وہی ہے۔ جو اپنی دینا کے ساتھ ساتھ اپنی آخرت بھی بچالے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Babar Alyas

Read More Articles by Babar Alyas : 286 Articles with 98409 views »
استاد ہونے کے ناطے میرا مشن ہے کہ دائرہ اسلام کی حدود میں رہتے ہوۓ لکھو اور مقصد اپنی اصلاح ہو,
ایم اے مطالعہ پاکستان کرنے بعد کے درس نظامی کا کورس
.. View More
14 Jun, 2018 Views: 238

Comments

آپ کی رائے