آخری لوگ

(Mohammed Masood, Nottingham)
ہم وہ آخری لوگ ہیں جنہوں نے مٹی کے گھڑوں کا پانی پیا

ہم وہ خوش نصیب لوگ ہیں جنہوں نے رشتوں کی اصل مٹھاس دیکھی

ہم کتنے خوش نصیب لوگ ہیں ، کیونکہ ہم وہ آخری لوگ ہیں جنہوں نے مٹی کے بنے گھروں میں بیٹھ کر پریوں کی کہانیاں سنیں ، ہم وہ آخری لوگ ہیں جنہوں نے بچپن میں محلے کی لکڑی کی بنی چھتوں پہ اپنے دوستوں کیساتھ روایتی کھیل کھیلے ، ہم وہ آخری لوگ ہیں جنہوں نے لالٹین کی روشنی میں ناول پڑھے ، جنہوں نے اپنے پیاروں کیلیئے اپنے احساسات کو خط میں لکھ کر بھیجا ، ہم وہ آخری لوگ ہیں جنہوں نے بیلوں کو ہل چلاتے دیکھا جنہوں نے کھلیانوں کی رونق دیکھی ، ہم وہ آخری لوگ ہیں جنہوں نے مٹی کے گھڑوں کا پانی پیا ہم وہ آخری لوگ ہیں جنہوں نے عید کا چاند دیکھ کر تالیاں بجائیں ، ہمارے جیسا تو کوئ نہیں کیونکہ ہم وہ آخری لوگ ہیں جو سر پہ سرسوں کا تیل انڈیل اور آنکھوں میں سرمہ لگا کر شادیوں پہ جاتے تھے ، ہم وہ لوگ ہیں جو پلاسٹک کے جوتے پہن کے گلی ڈنڈا کھیلتے تھے ، اور گلے میں مفلر لٹکا کے خود کو بابو سمجھتے تھے ، ہم وہ دلفریب لوگ ہیں جنہوں نے شبنم اور ندیم کی ناکام محبت پہ آنسو بہائے اور جہانگیر خان اور جانشیر خان کو نکمے ترین انسان سمجھتے رہے ، ہم وہ بہترین لوگ ہیں جنہوں نے تختی لکھنے کی سیاہی گاڑھی کرنے کیلیئے دوات میں چینی پھینکی ، جنہوں نے سکول کی گھنٹی بجانے کو اعزاز سمجھا ، ہم وہ خوش نصیب لوگ ہیں جنہوں نے رشتوں کی اصل مٹھاس دیکھی ہمارے جیسا تو کوئ بھی نہیں ، کبھی وہ بھی زمانے تھے سب چھت پر سوتے تھے اینٹوں پر پانی کا چھڑکاؤ ہوتا تھا ایک سٹینڈ والا پنکھا بھی چھت پر ہوتا تھا لڑنا جھگڑنا سب کا اس بات پر ہوتا تھا کہ پنکھے کے سامنے کس کی منجی نے ہونا تھا سورجُ کے نکلتے ہی آنکھ سب کی کھلتی تھی ڈھیٹ بن کر پھر بھی سب ہی سوئے رہتے تھے وہ آدھی رات کو کبھی بارش جو آتی تھی پھر اگلے دن بھی منجی گیلی ہی رہتی تھی وہ چھت پر سونے کے سب دور ہی بیت گئے منجیاں بھی ٹوٹ گئیں رشتے بھی چھوٹ گئے بہت خوبصورت خالص رشتوں کا دور لوگ کم پڑھے لکھے اور مخلص ہوتے تھے اب زمانہ پڑھ لکھ گیا تو بے مروت مفادات اور خودغرضی میں کھو گیا۔ اللہ پاک ہمارے بزرگوں کا سایہ ہم پر سلامت رکھے انکا بہت خیال رکھا کریں انکو وقت دیا کریں 😢

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mohammed Masood

Read More Articles by Mohammed Masood: 59 Articles with 99396 views »
محمد مسعود اپنی دکھ سوکھ کی کہانی سنا رہا ہے

.. View More
18 Jun, 2018 Views: 705

Comments

آپ کی رائے