موہے عشق نچایا کر تھیا تھیا (سترھویں قسط)۔

(Mona Shehzad, Calgary)

صبا کو یاد آیا کہ عمران اردو لکھ نہیں سکتا تھا ۔وہ اردو ہمیشہ رومن حروف تہجی میں لکھتا تھا ۔ صبا کو طلاق نامے کے ساتھ موصول شدہ خط اردو کے حروف تہجی میں لکھا ہوا تھا ۔صبا کا دل امید اور بے امیدی کے بیچ ڈول رہا تھا ۔ایک بار خوش امیدی اس کو آس دلاتی کہ عمران نے اس کو طلاق نہیں دی ہے دوسری طرف ناامیدی کے مہیب سائے اس کو ڈراتے کہ وہ اس کو دولت کی لالچ میں چھوڑ چکا ہے ۔اسی شش و پنج میں صبا نے بینک جانے کا فیصلہ کیا ۔عمران نے اس کے نام بینک اکاؤنٹ کھولا ہوا تھا ۔بینک جاکر اس کو پتہ چلا کہ اس کے اکاؤنٹ میں پندرہ لاکھ موجود ہیں۔اس نے طلاق نامے کے ساتھ آنے والےدو لاکھ کا چیک بھی جمع کروادیا۔ وہ اپنی سوچوں میں پریشان بینک سے نکل رہی تھی کہ اس کا ٹاکرا سسٹر نسرین سے ہوگیا ۔سسٹر نسرہن عمران کے ہسپتال میں ہیڈ نرس تھیں ۔سسٹر نسرہن نے صبا سے کنی کترانے کی بھرپور کوشش کی مگر صبا نے اس کے آگے ہاتھ جوڑ دئے صبا کی ویران حالت دیکھ کر سسٹر نسرین اس کو قریبی ریسٹورنٹ میں ملنے کو کہا اور تیزی سے اس کے پاس سے گزر گئیں۔صبا کی چھٹی حس نے اس کو اردگرد نگران آنکھوں کا احساس دلایا۔صبا غیر محسوس طریقے سے ریسٹورنٹ میں داخل ہوئی ۔وہاں اسے سسٹر نسرین لیڈیز واش روم کی طرف جاتی دکھائی دیں وہ بھی ان کے پیچھے پیچھے واش روم میں داخل ہوگئی ۔ انھوں نے صبا کو دیکھ کر کہا :
ہمارے پاس صرف چند منٹ ہیں اس سے پہلے کہ تمھاری نگرانی کرنے والے ادھر پہنچ جائیں۔
صبا! عمران صاحب اچھے انسان ہیں مگر اپنے والدین کے آگے مجبور ہیں۔تم اگر کوٹھے واپس نہیں جانا چاہتی تو کہیں اور چلی جاؤ ۔یہ لوگ بااثر اور پررسوخ ہیں ۔یہ تمہیں حدود آرڈیننس کے تحت پھنسوانے کا بندوبست کررہے ہیں ۔"
صبا نے روتے ہوئے سسٹر نسرین کو بتایا کہ وہ امید سے ہے۔مگر انھوں نے صبا کو کہا کہ وہ لوگ کسی طور پر اس کو عمران کے بچے کی ماں نہیں بننے دینگے۔کسی بھی روڈ ایکسیڈینٹ کو اس کی موت کا باعث بنا دینگے۔وہ کبھی بھی ایک طوائف زادی کے بطن سے اپنی نسل نہیں بڑھنے دینگے۔صبا کی ریڑھ کی ہڈی میں سرد لہر دوڑ گئی ۔وہ جانتی تھی کہ سسٹر نسرین ایک نیک اور ایماندار عورت ہے اور وہ معلومات جو دے رہی ہے وہ سو فیصد درست ہوگی ۔
سسٹر نسرین نے معذرت خواہانہ لہجے میں کہا :
" میں اب چلونگی تمھاری نگرانی کرنے والوں کو میں نہیں چاہتی کہ ان کو اندازہ ہو کہ میں نے تمھیں خبردار کردیا ہے اور اگر تم کسی مصیبت کا شکار ہوجاؤں تو وعدہ کرو کہ میرا نام نہیں پکڑاؤ گئی ۔"
صبا نے پرنم آنکھوں سے اثبات میں سر ہلایا ۔سسٹر نسرہن کے رخصت ہونے کے بعد صبا کا وجود زلزلوں کی زد میں تھا ۔اس نے اپنے آپ کو سنبھالا اور واپس آکر گھر کی راہ لی ۔صبا نے گھر پہنچ کر اپنے کپڑے اور زیورات ایک سوٹ کیس میں پیک کئے ۔وہ اپنے مہر کا چیک پہلے ہی اپنے اکاؤنٹ میں جمع کرواچکی تھی ۔اس وقت ساری نقدی،زیورات اور بینک اکاونٹ ملا کر اس کے پاس مبلغ تیس لاکھ تھے ۔اس نے اپنے دل کو ڈھارس دی ۔وہ بڑی شدت سے رات کا انتظار کرنے لگی ۔نصف شب کے بعد اس نے برقع پہنا جو آج اس نے بازار سے خریدا تھا ۔شٹل کاک برقعے میں کوئی بھی اسے بڑی بی سمجھ سکتا تھا۔اس نے سوٹ کیس پکڑا اور خاموشی سے بلڈنگ سے نکل گئی ۔بلڈنگ کے سیکیورٹی گارڈ بھی نیند کے مزے لے رہے تھے ۔بلڈنگ سے نکل کچھ دیر پیدل چلنے کے بعد اس کو ایک ٹیکسی مل گئی ۔اس نے اپنی ڈرامہ نگاری کے فن سے فائدہ اٹھا کر ایسی آواز میں ٹیکسی ڈرائیور سے بات کی کہ وہ اس کو عمر رسیدہ بڑھیا سمجھا ۔ٹرین اسٹیشن پر اس نے راولپنڈی کاٹکٹ خریدا ۔صبا کے اعصاب بری طرح کھچے ہوئے تھے اس کی نظریں بار بار یہ جائزہ لینے میں مصروف تھیں اگر وہ اپنے نگرانوں کو جل دینے میں کامیاب ہوئی ہے یا نہیں۔جب ٹرین نے کراچی کا اسٹیشن چھوڑا تو اس نے اطمینان کا سانس لیا مگر اس کے ساتھ ہی اس کا دل تاسف سے بھر گیا اس کی زندگی کی سب سے بڑی خوشی کے وقت اس کا شریک حیات اس کو اکیلا چھوڑ گیا تھا ۔یکا یک صبا کا دل نفرت سے بھر گیا اس نے سوچا:
آج سے عمران تم میرے لئے مر گے ۔تم نے میرے ساتھ دل لگی کی تھی۔
اس کو مونا شہزاد کی لکھی ہوئی نظم" محبت کا خلاصہ " یاد آگئی ۔اس نے کھڑکی کے شیشے سے منہ ٹکایا اور زیر لب نظم دہرائی۔
محبت کا خلاصہ
جاناں! محبت کی ہے بس اتنی کہانی
کسی کے لئے یہ دل لگی
کسی کے لئے دل کی لگی
جو آتی یہ سمجھ کسی کے پڑھانے سے
تو ہوتا ہر شخص حامل عشق یہاں
ہوتے کئی قلندر اور صوفی یہاں
بکتا نہیں سر بازار عشق یہاں
لگتی نہ بولی یہاں سر عاشقان کی
ہر کوئی قیس ہوتا ،ہر کوئی مرزا ہوتا
کیا ہی اچھا ہوتا اگر محبت کا کوئی نصاب ہوتا
تو محبت کرنے والوں کا یوں قال نہ ہوتا۔

اس کی آنکھوں سے دو آنسو نکل کر اس کے عارض پر بہنے لگے ۔ٹرین چھکا چھک کرتی اپنی منزل کی طرف دوڑتی جارہی تھی ۔
(باقی آئندہ )۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mona Shehzad

Read More Articles by Mona Shehzad: 168 Articles with 174911 views »
I used to write with my maiden name during my student life. After marriage we came to Canada, I got occupied in making and bringing up of my family. .. View More
18 Jun, 2018 Views: 581

Comments

آپ کی رائے