جہنم کے سوداگر(چھٹی قسط)

(Muhammad Jabran, Lahore)

تہہ خانے کا منظر ہی ایساتھاجسے دیکھ کر ہم دونوں کی حالت غیر ہورہی تھی۔ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں تھاکہ ہماری گفتگو کے دوران ساری بازی پلٹ جائے گی۔میرامنہ بے اختیارگول ہوااور پھر اس میں سے سیٹی نکل گئی جبکہ مرزا منصورکی تو چیخ ہی نکل گئی اس کے سر کے بال بھی کھڑے ہوگئے تھے۔اسکرین پر ہمارے چار ہونہار جوانوں کی لاشیں تہہ خانے کے فرش پر پڑی ہوئی ہمارا منہ چڑا رہی تھیں اس کے علاوہ عابد گینگ کے جو افراد عابد اور ڈیوڈ کے ساتھ آئے تھے وہ لوگ بھی اپنی اپنی زندگی کی بازی ہارچکے تھے۔جبکہ عابدڈان اور ڈیوڈ انتہائی محتاط انداز میں تہہ خانے کے زینے چڑھتے ہوئے اپنے ہاتھوں میں نغمے اگلتے ہوئے ہتھیار تھامے تہہ خانے کادروازہ کھول کر اوپر داخل ہورہے تھے۔یہ منظر واقعی حیران کن تھاکیونکہ پیرالائز ہونے کے بعد ان کے جسموں میں اس قسم کی حرکتیں اور چسُتیاں ہونا سمجھ سے باہر تھیں ۔بظاہر یہی گمان کیاجاسکتاتھاکہ وہ اب تک پیرالائز ہونے کاڈرامہ کرتے ر ہے تھے اور انہوں نے اس کا توڑ لیبارٹری میں داخل ہونے سے قبل ہی کردیاتھا۔یہ تمام سچوئیشن دیکھ کر تو مرزا منصور کی تمام پلاننگ ہی احمقانہ لگ رہی تھی کیونکہ وہ نہ صرف صحیح سلامت تھے بلکہ اب مکمل بارود بن کر ہم پر پھٹنے والے تھے۔
مرزا منصور نے سب سے پہلے مصنوعی لیبارٹری میں خطرے کا الارم بجادیاپھر اس کے ساتھ ہی اس نے دراز میں ہاتھ ڈال کر ایک ریوالور میری طرف پھینکاجسے میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے کیچ کر لیااور دوسرا ریوالوراس نے اپنے ہاتھوں میں سجالیا۔اس کے بعد وہ پھرتی کے ساتھ ٹیبل کی دوسری طرف سے گھوم کر میرے پاس آیااور مجھے آئی کوڈ میں ایک میسج دینے کے بعد وہ دروازہ کھول کر راہداری میں داخل ہوگیا۔میں نے بے اختیار اپناہاتھ سر پر پھیرااورایکشن میں آنے کے لئے تیارہوگیا۔میں اپنی گرفت ریوالور پر مضبوط کرتاہواباہر نکلااور مرزا منصور کے پیچھے ہولیا۔شیطان کی آنت کی ماند اس طویل راہداری میں پہلے کی طرح نہ بندہ نہ بندے کی کوئی ذات تھی البتہ خطرے کے الارم کی آواز پوری شدت کے ساتھ اس لیبارٹری کے سوئے ہوئے باسیوں کو جگارہی تھی۔مگر بظاہرتویہی لگتاتھاکہ مجال ہے کہ ان کے کانوں پر جوں بھی رینگی ہو۔
مرزا منصور اپنی ریوالور اپنی چھاتی کے ساتھ لگائے نہایت محتاط انداز میں تیزتیز چل رہاتھا،میں بھی اس کی پیروی کرتے ہوئے اسی انداز میں چلے جارہاتھا۔دیکھتے ہی دیکھتے اس نے ایک کمرے کے دروازہ پر رک کر پوری شدت کے ساتھ اپنی لات گھمائی تو وہ ایک دھماکے سے کھلااور اس کے ساتھ ہی ایک گولی سنسناتی ہوئی اس کے پاس سے گزرتے ہوئے اس دروازے کے عین مقابل ایک اور کمرے کے دروازے میں جاکر پیوست ہوگئی۔اس نے فوراًاپنے آپ کو سمیٹااور دروازہ کے ساتھ لگ کر کھڑا ہوگیا۔میں اب اس کے بالکل پاس آگیاتھا۔ہم دونوں اب کندھے کے ساتھ کندھا ملائے کھڑے تھے مگراچانک ماحول پرگہری خاموشی طاری ہوگئی ۔الارم بھی مسلسل بجنے کی وجہ سے تھک کر اچانک ہی خاموش ہوگیاتھااور اس کی خاموشی کے ساتھ ہی ہمارے کانوں میں عجیب سے سیٹیاں بجنے لگیں۔
یہ لیبارٹری اب مجھے مصنوعی سے زیادہ آسیب زدہ لگنے لگی تھی ۔پہلے میں نے مرزا پر گھٹن محسوس کر نے کا طعنہ ماراتھامگر اب مجھے خود یہاں پر گھٹن محسوس ہورہی تھی۔جس کہانی کا صبح سے چرچاتھاکہ اس کاڈراپ سین ہوگیالگتامگرتھاکہ ابھی تک نہیں ہوا اور قارئین کو ابھی پردہ گرنے کا مزید انتظارکرناتھا۔وہ انتظار طویل بھی ہوسکتاتھااور مختصر بھی میراذہن تیزی سے چل رہاتھااور پھر ایک خیال کے آتے ہی میں نے ایک دم سے زمین پر چھلانگ لگائی اور رول ہوتاہوا میں جوں ہی دروازہ کے سامنے آیادو تین گولیاں شاں کی آواز کے ساتھ میرے بدن کوہلکاسا چھوتے ہوئے نکل گئیں ۔ایک گولی ٹھیک میرے ساتھ زمین پر لگی تھی جبکہ دو مجھے چھوتے ہی دور نکل گئی تھیں اور میں بچ گیاتھا۔خیر میں فوراًہی اچھلااور دروازے کی دوسری سائیڈ پر مرزا منصور کے بالکل سامنے کھڑا ہوگیا۔اب ہمارے درمیان محض دروازہ ہی رہ گیاتھااور خاموشی۔۔۔۔۔دروازہ بھی ایساجس سے ہر لمحہ موت جھانک رہی تھی۔
********
اسے تو میں لاکھوں میں پہچانتاتھایہ ڈریگن گروپ کا سربراہ میجرڈریگن تھااورڈیوڈنے کرنل اشر کو رہا کرواتے ہوئے اسی گروپ کا
ہیڈکوا ٹرتباہ کردیاتھا۔اس دوران ڈیوڈ نے میجر ڈریگن کی بھی خوب ٹھکائی بھی لگائی تھی اس کی ہڈی پسلی ایک ہوگئی تھی۔دراصل ہوا کچھ یوں تھاکہ کرنل اشر کو ایک مشن کے دوران ڈریگن گروپ کے جاسوسوں نے لندن ائیرپورٹ سے اغوا کرلیاتھاجس کے بعد وہ اسے روس لے گئے تھے ۔کرنل اشر کے ہاتھ ایک بہت ہی اہم روسی راز برطانیہ لگ گیاتھاجس کے بعد اس کی خواہش تھی کہ وہ ڈریگن گروپ کو اس کے ذریعے بلیک میل کرے۔وہ راز ایک مائیکرو فلم کی صورت میں تھاجسے وہ پہلے ہی ڈیوڈ کے ہاتھ امریکہ بھجواچکاتھاور خود وہ ضروری کام میں الجھے ہونے کی وجہ سے وہیں رکارہا۔اسی چکر میں اس کو اغوا کرلیاگیاتھا۔ڈریگن گروپ جو روس کا مانا ہوا ٹاپ سیکرٹ گروپ تھاانہوں نے کرنل اشر کو میجر ڈریگن کے حوالے کردیاتھا۔جہاں پر میجر ڈریگن نے اسے خوب ٹارچر کیاتھا۔لیکن اس کہانی کی سب سے کمال بات یہ تھی کہ ڈیوڈ نہ صرف وہ مائیکرو فلم اپنے ہیڈکواٹر امریکہ چھوڑ کر آیاتھابلکہ واپسی پر وہ خفیہ طور پر روس پہنچااور پھر اس نے ڈریگن گروپ کا ہیڈکواٹر جو ناقابل تسخیر سمجھاجاتاتھاوہ ٹریس کیااور پھر نہ صرف کرنل اشر کو ا س نے وہاں سے رہاکروایاتھابلکہ ڈریگن گروپ کا ہیڈکواٹر بھی تباہ کردیا۔جس سے اس گروپ کا ناقابل تلافی نقصان ہواتھااس وقت ڈریگن نے خفیہ راستے سے بھاگ کر اپنی جان بچائی تھی۔اس دن کے بعد یہ گروپ زیرزمین چلاگیاتھااور اب اچانک یہ ظاہر ہورہاتھاجو کسی بھی طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتاتھا۔
اب بازی پلٹ چکی تھی جو چال وہ چلتااس کا ہمیں جواب دیناتھا۔ فرق صرف اتناتھاکہ ڈیوڈ کی جگہ وقار علی جان تھااور ڈیوڈ کی روح تو اب فضاؤں میں ہی کہیں بھٹک رہی تھی۔میجرڈریگن نے اس وقت گرے کلر کی فلیٹ ہیٹ پہنی ہوئی تھی اور اسی مناسبت سے اس نے اوور کو ٹ اور اندر تھری پیس سوٹ پہن رکھاتھا۔اس نے جیب سے پائپ نکالا اور اس کے ساتھ ہی ایک ڈبیہ بھی نکال لی ۔اس کے بعد وہ میرے سامنے تھوڑا ساجھکااور مجھے گھورتے ہوئے کہنے لگا۔
"کیاحال ہیں ڈیوڈ؟بڑے عرصے بعد ملاقات ہورہی ہے۔سگریٹ پیو گے؟۔۔۔۔۔۔۔۔تمہاری پروفائل دیکھ کراندازہ ہواکہ تم چین اسموکرہو۔ویسے زیادہ خوش مت ہونا تمہیں میں صلاح نہیں کر رہابس تمہارے اندر آگ لگارہاہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہاہاہا"اس نے ایک زور دار قہقہہ لگایااور پھر اپنے پائپ کو اپنے ہاتھوں میں گھماناشروع کردیاکبھی ایک ہاتھ میں تو کبھی دوسرے ہاتھ میں اس دوران وہ مجھے تیز نظروں سے گھورتابھی جارہاتھا۔اس سے قبل اس نے تمباکو والی ڈبیہ اپنے پاس کھڑے ہوئے آدمی کو پکڑا دی تھی جب اس کے دونوں ہاتھ فارغ ہوئے تو ہی اس نے اسی قسم کی حرکتیں شروع کردیں۔پھر اس نے اپنے آدمی کی مدد سے اپنے پائپ میں تمباکو بھر ااور اس کے ساتھ ہی موجود دوسرے آدمی سے اس نے لائٹر کی مدد سے آگ لگوائی اور پھر پائپ منہ میں رکھ کر اس نے بھرپور کش لگاکر دھواں فضامیں چھوڑ دیا۔
"بہت خوب میجرڈریگن !اچھاتڑکالگالیتے ہوہاتھ میں پائپ اور صلاح تم سگریٹ کی کررہے ہوبھئی کمال ہے ویسے ۔لیکن تمہاری پرو فائل میں تو میں نے یہ پڑھاہے کہ تم یاروں کے یارہوانہیں کبھی تم دھوکہ نہیں دیتے ۔روکھی صلاح توتم بالکل بھی نہیں کرتے ۔۔۔۔۔۔۔۔نا۔۔۔نہ"میں نے اس کے رعب میں آئے بغیر اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نہایت مطمئن انداز میں کہاتو وہ میری بات سن کرایک بار پھر سے قہقہہ لگاکرہنس پڑا۔اس مکروہ ہنسی میں اس کے چہرے پر پڑنے والی پھٹکار میں مزید اضافہ ہوگیاتو اب وہ پکابُل ڈاگ لگنے لگاتھا،اس پر اپنے پیلے دانتوں کا تڑکا اس کی شخصیت کو مزید قابل نفرت بنارہاتھا۔
"آہا ۔۔۔۔۔بہت خوب اچھالگاتمہارا یہ انداز،تمہاری پروفائل میں صرف تمہاری فائٹ کے چرچے ہی بیان نہیں ہوئے بلکہ تمہاری گفتگو کاسلیقہ بھی خوب پھلجھڑیاں لگاکر بیان سے ہواہے۔۔۔۔۔ویری گڈجیسالکھاتھاتمہیں ویسے ہی تمہیں پایا ۔۔۔۔مل کر خوشی ہوئی ،ویسے کیاخیال ہے تمہارے کرنل اشر کو تمہاری رتی برابر بھی فکر ہے ؟کیاوہ تمہاری خاطر تمہارے پیچھے آئے گا؟جیسے تم دوڑے دوڑے پاگلوں کی طرح اس کے پیچھے پیچھے آئے تھے؟اور مجھے اور میرے گروپ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایاتھا؟؟"اس نے پہلے تو میری تعریف کی اور پھر دانت پیستے ہوئے اپنی گزشتہ ناکامی کا حال بیان کرتے ہوئے پہلاپتہ پھینکا۔
"سیکرٹ سروسز کی اس بے رحم دنیا میں کس کو کس کی کتنی پراہ ہوتی ہے جناب ڈریگن جی یہ تم بھی خوب اچھی طرح سے جانتے ہوکوئی تازہ تازہ اس دنیامیں تو وارد نہیں ہوئے ناں؟آخر تم نے جو اپنے چہرے سے بھی بڑی مونچھیں اپنے چہرے کی زینت بنارکھی ہیں جن کاکل وزن تمہارے اپنے وزن سے بھی زیادہ ہوگا اور جس کی دہشت کی وجہ سے تمہارا اپنامنہ بھی اب کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا۔پھر یہ خام خواہ توتم نے نہیں رکھی ناں لازماًاس کے پیچھے برسوں کی تپسیاشامل ہوگی ایک عمر گزاری ہے تم نے اس فلیڈ میں ۔اب تک ہر بازی کھیل کر جیت اور ہار چکے ہوگے پھر بھی اتنے بھولے بن رہے ہو۔۔۔۔۔۔تمہیں معلوم ہوناچاہیے کہ میں ایک معمولی سامہرہ ہوں کرنل اشر آخر میری خاطر اتناخجل خوار کیوں ہوگا؟۔۔۔۔"میں نے بھی اپنی عادت سے مجبور اس کی ٹھیک ٹھاک درگت بناتے ہوئے کہا۔
"دیکھوڈیوڈ مجھے تم کاکا نہ سمجھو۔۔۔۔۔۔۔جس طرح تم اپنی باتوں سے مجھے گھمانے کی کوشش کررہے ہومیں اتنی آسانی سے تمہاری باتوں میں نہیں آنے والااس کی خاطر تمہیں مزید محنت کرنا ہوگی۔تم و ہ ہیرا ہو جس کی خاطر ڈیوڈ اپنی پوری بلیک ڈائمنڈفورس بھی داؤ پر لگادیگااور تمہیں بچانے کی خاطر اسے اپنے سر کے بل بھی چل کر آنا پڑا تووہ ایسا بھی کرے گا۔مگر تمہیں کبھی بھی اپنے ہاتھوں سے نکلنے نہیں دے گا،تم اس کی سب سے بڑی کمزوری ہوصرف اس لئے نہیں کہ تم نے اسے میرے چنگل سے چھڑایاتھابلکہ اس لئے کہ تمہاری وجہ سےُ اس کی ایجنسی کانام ہے کوئی لوگوں میں دھاک بیٹھی ہوئی ہے ۔اگر تم نہیں رہے تو اس کی ایجنسی جھاگ کی طرح بیٹھ جائے گی۔۔۔۔۔۔اور میں تمہاری ہر رگ سے اچھی طرح واقف ہوں ۔تمہاری ہر چال کوخوب سمجھتاہوں زیادہ ہوشیار بننے کی کوشش نہ کرو ورنہ تمہارے ڈیتھ وارنٹ پر میں خود تمہارے خون سے دستخط کر وں گااور تم نے مجھ پر جتناتشدد کیاتھاوہ مجھے ابھی تک نہیں بھولا ہے اسی حساب سے تمہارے جسم کے اتنے ٹکڑے کروں گا کہ تم بھی انہیں نہیں گن سکوگے۔۔۔سمجھے؟" اسے میری باتیں اس قدر ناگوار گزری تھیں کہ اس کاپارہ سو ا نیزے پر چلاگیاتھااور قریب تھاکہ وہ پھٹتااور اپنے ساتھ مجھے بھی لے جاتا۔میں نے بھی اس پر جواباًنفسیاتی داؤکھیلنے کی سوچی اور عرض کی۔
"آزماکر دیکھ لو اتنے غصیلے کیوں ہورہے ہو ؟چالیس اس وقت تمہارے ہاتھ میں ہیں ،جیسے چاہوتم انہیں استعمال کرلواور میں تمہارے سامنے بے بس بیٹھاہوں۔یہ میدان ہے اور گھوڑے کی لگام بھی تمہارے ہاتھ میں ہے اسے جیسے چاہے دوڑالو۔ میں پھروہی بات دہراؤنگاکہ میں ایک معمولی ساسیکرٹ ایجنٹ ہوں اپنے باس کے اشارے پر چلنے والا ایک عام سے کارکن اور بس ا س سے زیادہ میری کوئی حیثیت نہیں ۔۔۔۔۔یہ ہیرا ویرا میں تمہارا نظروں میں ہونگااپنی ایجنسی کی نظروں میں نہیں مجھے وہ تب تک استعمال کرتی رہے گی جب تک میرے بازؤں میں جان ہے اس کے بعد وہ مجھے ٹشوپیپرکی طرح پھینک دے گی۔میری خاطر وہ اپنا سر کسی بھی دلدل میں نہیں ڈالے گی البتہ تمہیں ضرور مجھ سے خوف زدہ ہونا چاہے کیونکہ اس سے قبل بھی میں صرف تمہاری نہیں تمہارے سمیت تمہارے پورے گروپ کی اینٹ سے اینٹ بجاچکاہوں مجھے وہی عمل دوبارہ دہرانے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔۔۔۔"
"تم نے کہہ دیااور میں نے مان بھی لیا۔تم اب تک مجھے بہت ایزی لے رہے ہویہ جانتے ہوئے بھی کہ میری پروفائل میں یہ لکھاہواہے کہ میں بھیڑئیے سے زیادہ سفاک ہوں اور انسانی جان کی بوٹی بوٹی کرنامیرے ایمان کاحصہ ہے۔مجھ سے بڑا درندہ تمہیں شاید اس پوری زمین پر نہیں ملے گا۔تم جیسے ایجنٹوں کی میرے سامنے پتلونیں گیلی ہوجاتی ہیں اور گھگھی بندھی ہوتی ہے ان کی۔کیونکہ میرے نزدیک کسی انسان کی کوئی وقعت نہیں ہے۔اگر تم اس روش سے باز نہ آئے اور اَن قریب تم نے اپنے آپ کو راہ راست پر نہ ڈالا تو تم اس روم میں موجود دیگر قیمتی لوازمات پہلے ہی دیکھ چکے ہوئے ہو۔اگر تمہاری نظروں سے وہ سب کچھ نہیں گزرا تو ایک بار پھر سے دیدے پھیلاکر اچھی طرح سے سب کچھ دوبارہ دیکھ لو۔خوب تسلی کرلوکیونکہ شاید بعد میں تمہارے پاس اتناوقت بھی نہیں رہے اور یہ سب کچھ میں نے محض تمہاری خاطر نمائش کے لئے نہیں رکھے انہیں ٹیسٹ بھی کرناہے ۔اس کے ساتھ ساتھ تم اِن ہٹے کٹے جوانوں کو بھی دیکھ لو یہ بھی ویسے ہی میرے ساتھ تم سے سلام دعاکرنے نہیں آئے اور نہ ہی میں انہیں تمہاری دیدار کی خاطر لایاہوںیہ ضرورت پڑنے پر درندہ بن کر تم جیسے حقیر کیڑے مکوڑے نماانسانوں کی کھالیں ادھیڑنا بھی جانتے ہیں ۔۔۔۔۔"ایک دم سے اس کی ذہنی رو بھٹک کر بگڑگئی تھی اور وہ بری طرح سے بپھر گیاتھا۔اس کی آنکھوں سے شعلے اور کانوں سے دھوئیں نکل رہے تھے ۔اس کی پروفائل میں جہاں اس کی دیگر کئی خصوصیات میں نے پڑھی تھیں وہیں ایک جگہ خاص طور پر یہ بھی لکھاہواتھاکہ بیٹھائے بٹھائے اس کے دماغ کی سوئی بارہ بجادیتی تھی اور پھر یہ اپنے اختیار اور کنڑول سے باہر نکل کرواقعی درندہ بن جاتاتھا۔اس کاپارہ اتناہائی ہوجاتاتھاکہ خود اگر اسے کوئی درندہ دیکھ لے تو وہ بھی شرماجائے ۔
"میجر صاحب اتناغصہ کرنے کی کیاضرور ت ہے میں نے تو جوحقیقت تھی وہ آپ کے سامنے پوری طرح سے کھول کر رکھ دی، آپ کو تو صرف جھوٹ سے نفر ت ہے پھر یہ سچ سن کر اس قدر آپے سے باہر کیوں ہوتے جارہے ہیں ابھی تو ہمارے گفتگو شروع ہی ہوئی ہے نہ جانے عشق کے امتحان آگے کون کو ن سے آئیں ؟آپ تو پہلے ہی میدان ہار بیٹھے ہیں ۔مانا کہ سچ کڑوا ہوتاہے مگر ایسا بھی کیا کہ آپ کے دماغ میں لال بتی ہی جل گئی ۔لیکن مسٹر ڈریگن اگر تم اسی طرح غصہ کرتے رہوگے تو میں تمہیں مزید تاؤدلاؤنگاتاکہ تمہارادماغ واقعی لال پیلاہوجائے پر یہ دھمکیاں دینے سے کچھ نہیں ہوگاجو کرناہے کرگزرو مرد بنوڈریگن مرد۔ہنٹر اٹھاؤ اور شروع ہوجاؤانتظار کس بات کا کر رہے ہو؟؟ بلکہ میں تو کہتاہوں کہ ان کو بھی کیوں زحمت دیتے ہوخود ہی شروع ہوجاؤذرا ہم بھی دیکھیں تمہارے زورِ بازو میں کتنادم ہے یا بس صرف بڑکیں ہی لگاسکتے ہو؟"
"ہاہاہا۔۔۔۔۔صحیح کہاتم نے غصہ اپنے وقت پر ہی اچھالگتاہے گڈشو مسٹر ڈیوڈتم نے میری زندگی کے فلسفے کے عین مطابق بات کی ہے کہ غصہ جتناآرہاہووہ وقت پر اچھی طرح سے نکال دیناچاہے ۔ناکم نہ زیادہ اس معاملے میں میں کافی انصاف پسند واقع ہواہوں ۔کسی کا حق نہیں مارتااصول اور ضابطے کے مطابق ہی میرے سر کا سورج سوا نیزے پرچڑھتاہے۔ابھی تمہارے حصے کی ٹھکائی بھی ادھار رہتی ہے بے فکررہووقت آنے پر وہ حساب بھی بے باک کردوں گاتمہارا حق بھی تمہیں پورا پورا ملے گا۔میں اس قسم کی کوئی چیزادھار نہیں رہنے دیتااس میں بھی تم میرا انصاف ضروردیکھ لو گے ۔۔۔۔اچھاباقی باتیں تو ہوتی رہیں گیں اس سے قبل تمہارے لئے ایک گفٹ ہے ۔۔۔کیاخیال ہے ابھی اسے دیکھناپسند کروگے ؟"
"عجیب بے تکی بات کر تے ہومسٹر ڈریگن میں نے تمہیں پیٹتے ہوئے کوئی انصاف نہیں برتاتھااور نہ ہی میں اس معاملے میں کسی بھی قسم کے انصاف کرنے کاقائل ہوں۔میں سانپ کو اس کے سر ابھارنے سے قبل ہی اس کے بل میں مارنے کا قائل ہوں اور اسی اصول کے تحت چلتاہوں۔تمہیں یہ اچانک انصاف کہاں سے یاد آگیا؟ ہنڑ اٹھاؤ اور شروع ہوجاؤ اِدھر اُدھر کی نہ ہانکواور جہاں تک گفٹ کاتعلق ہے جب بعد میں بھی دیکھناہے تو پھر دیر کس بات کی اور انتظار کس چیزکا؟میرے خیال میں تمہیں دکھادیناچاہے ۔"اس دوران وہ پائپ سے گہرے گہے کش لیتارہااور میری باتوں کاتو جیسے اس پر کوئی اثرہی نہیں ہورہاتھا۔وہ ڈھیٹ ہونے کے ساتھ ساتھ بے عزتی پروف بھی لگتاتھا۔میں چاہتاتھاکہ جو کام اس نے بعد میں کر نا ہے وہ ابھی کرلے، جس بدلے کی آگ میں کب سے جل رہاتھااس کی وہ خواہش پوری ہو جانی چاہیے۔ تاکہ جب وہ اپنے تمام پتے کھیل چکے تو پھر میں اسے اپنے پتے شوکرواؤں۔مگر وہ گیم اپنے حساب سے کھیلناچاہ رہاتھامیری پچ پر آکر کھیلنے کے لئے تیار ہی نہیں تھا۔میری بات ختم ہونے تک اس کے پائپ کا تمباکو بھی ختم ہوچکاتھااس نے ایک دو آخری کش دل کو ٹھنڈک پہنچانے کی غرض سے لگائے اور پھر اسے اپنے پاس کھڑ ے آدمی کے حوالے کرتاہوادوبارہ سیدھاہوکر بیٹھ گیا۔چند لمحے وہ مجھے گھورتارہاجیسے مجھے اندر ہی اندر تو ل رہاہو۔اس کے وجود کا زہر اس کی آنکھوں سے ظاہر ہورہاتھاوہ یہ ظاہر میرے جسم میں محض اپنی نظروں سے ہی داخل کرناچاہتاتھا۔پھر اس نے اپنی کوٹ کی اندرونی جیب سے میرا موبائل فون نکال لیااور پھر مسکراتے ہوئے مجھے دیکھنے لگا۔کچھ دیر بعد اس نے موبائل اپنے ہاتھوں میں اچھال اچھال کر میری دھڑکنوں کو تاؤدکھانے لگاکہ آیامجھ پر بھی اس کا اثر ہوتابھی ہے یانہیں ۔میرے چہرے پر نہ کوئی رنگ آیااور نہ ہی گیابلکہ ہمیشہ کی طرح سپاٹ ہی رہا۔مجھے اطمنان سے بیٹھا دیکھ کر وہ کچھ دیر اندر ہی اندر پیچ و تاب کھانے لگااور پھر اس نے بے چینی سے پہلوبدلتے ہوئے مجھے کہا۔
"کیوں مسٹر ڈیوڈ عرف کرنل اشر کے ہونہارہیرے اسے پہچانتے ہوتم؟"
"سبھی کو معلوم ہے کہ یہ میرا موبائل ہے اس میں کون سی انہونی بات ہے جسے تم لہرا لہراکر مجھ پر اپنی برتری ظاہر کرناچاہتے ہو۔صاف ظاہر ہے جس وقت تمہارے آدمیوں نے مجھے اغوا کیاہوگاتو یہ اس وقت میرے کوٹ کی اندرونی جیب میں تھا۔۔۔اس میں کون سی آئن سٹائن کی سائنس چھپی ہوئی ہے یاتم مادام کیوری کی کوئی کیمیائی تھیوری پوچھ رہے ہو جس پر مجھے سوچناچاہے ؟"
"اس میں انہونی بات یہ ہے کہ اس فون پرایک کوڈ لگاہواتھاجس کی وجہ سے یہ لاک تھالیکن تمہارے لئے یہ ایک بریکنگ نیوز ہے کہ اس کوڈ کو ہم نے ڈی کوڈ کردیاہے یعنی اب یہ اَن لاک ہوچکاہے۔میرے خیال میں تمہارے لئے اتناہی کافی ہے۔۔۔۔"
"تو اس میں مجھے ہرگز کوئی حیر ت نہیں ہوئی اور نہ ہی میرے لئے کوئی یہ بریکنگ نیوز ہے ۔اس میں چند عشقیہ قسم کے پیغامات ہیں جومجھے میری کولیگ نے بھیجیں ہیں جو مجھ سے شادی کرناچاہتی ہے اور اس کے علاوہ میری ایجنسی کے چند دوستوں کے فون نمبرز وغیرہ ہیں ۔تمہیں بلاوجہ اتنی تکلیف ہوئی اسے ڈی کوڈ کرنے میں معلوم نہیں اس کے پاس ورڈ کو ہیک کرنے کے لئے تم اس کے اوپر کتنے ہیکرز لگائے ہونگے مجھے بول دیتے تمہیں میں خود ہی بتادیتا ۔۔۔۔۔۔دیکھومسٹر ڈریگن تمہاری یہ چال بھی میں نے الٹادی ہے۔اس موبائل سے تمہیں کچھ نہیں ملنے لگافون نمبروں سے تم کیاکرلوگے جو اب تک تم کچھ نہیں کرسکے۔اس میں ایسی کوئی کام کی چیز نہیں ہے جس سے تم مجھے بلیک میل کرو یا مجھے کسی بھی حوالے سے ٹریپ کرنے کی کوشش کرو۔میں کوئی دودھ پیتابچہ نہیں ہو ں کہ اپنے ملک کا کوئی سرکاری راز ایک موبائل میں لئے پھروں گا۔اب تک میرے اغوا کی خبر بلیک ڈائمنڈایجنسی کے ہیڈکواٹر تک پہنچ چکی ہوگی سب نے میرے نمبرز بلاک کردیئے ہونگے ۔۔۔۔۔"میں نے بدسطور مسکراتے ہوئے پراعتماد لہجے میں اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہاتو ایک بار پھر اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا،اس کی ذہنی رو ایک بار پھر سے بھٹک گئی ۔اس کی آنکھوں میں انگارے اترے ہوئے تھے ۔اس نے اپنے پاس کھڑے ہوئے آدمیوں میں سے ایک کی طرف اشارہ کیاتو وہ اس کے مزید پاس ہوگیا۔
"ہنٹر اٹھاؤ اور شروع ہوجاؤ اور تب تک اس پر کوڑے برساتے رہوجب تک اس کی آنکھیں لال نہ ہوجائیں۔اگر اس کی آنکھیں لال نہ ہوئیں اور ان میں سے پانی نہ نکلاتو تمہیں یہیں پر الٹالٹاکر تمہاری کمرپر اتنے کوڑے برسائے جائیں گے کہ تمہاری آنکھیں لال ہوجائیں گی۔۔۔۔چلوشروع ہوجاؤ۔۔۔۔۔۔"ابھی اس کی بات ختم ہوئی ہی تھی کہ ایک ملازم نے آکر اطلاع دی کہ اس کی گولیاں کھانے کا وقت ہوچکاہے ۔اس نے فوراً اپنی ہیٹ اتار کر اپنا سر کھجاناشروع کردیاپھر اس نے اپنی ہیٹ کو دوبارہ اپنے سر پر رکھااور اس بار قدرے نرم لہجے میں کہنے لگا۔
"ہاں یہیں پر لے آؤ۔۔۔۔۔۔۔مجھے ابھی کھانی ہیں "اب وہ مجھ سے نظر یں نہیں ملارہاتھااس نے جس شخص کو کوڑا اٹھاکر میری آنکھیں لال کرنے کا حکم دیاتھاایک بار پھر اس نے اپنا ہاتھ بلند کر کے اسے ایسا کرنے سے روک دیا۔
"رک جاؤ ۔۔۔اس عیار شخص کاابھی ٹائم نہیں آیابہت خوش قسمت ہے یہ ۔۔۔۔۔"میجر ڈریگن کے ایسا کہتے ہی کوڑے بردار نے اپنا کوڑا واپس فرش پر پھینک دیا۔
"رک کیوں گئے میجرڈریگن ؟تمہیں کس بات کاانتظار ہے ؟کیاتمہیں اپنے ساتھی پر بھروسہ نہیں ہے ؟یا مصالحت کر نے کا سوچ رہے ہو؟میں نے محسوس کیا ہے کہ تم کافی انصاف پسند ہو تمہاری یہ ادا مجھے اچھی لگی ہے تو تم سے مصالحت ہوسکتی ہے کیا خیال ہے تمہارا ؟"
"تم کچھ زیادہ ہی عیار بننے کی کوشش نہیں کررہے ؟بہت خوش قسمت ہو کہ اب تک بچے ہوئے ہواور پتہ نہیں میرے ذہن کو بھی بار بار کیاہوجاتا ہے کہ میں تمہیں چھوڑ دیتاہوں۔تم مجھے بار بار تاؤ بھی دلارہے ہو اس کے باوجود میں تمہیں نہ جانے کیا سوچ کر چھوڑ دیتاہوں۔۔۔بات تو تم نے معقول کی ہے تم سے مصالحت یقیناہوسکتی ہے۔۔۔۔۔"اس کے بعد اس نے اپنا چہرہ نیچے جھکالیاپتہ نہیں اسے کو ن سی چیز اند ر ہی اندر کاٹ رہی تھی ۔ چند لمحے توقف کرنے کے بعد وہ پھر سے گویاہوا:
"دیکھو ڈیوڈمیں اب تم سے صاف بات کر رہاہوں اگر تم مجھ سے تعاون کرو گے تو میں تم سے وعدہ کرتاہوں کہ تمہیں میرے آدمیوں نے جیسے اٹھایا تھابالکل ویسے ہے صحیح سلامت واپس چھوڑ کر آئیں گے اور وہ بھی باحفاظت ۔لیکن اگر تم نے اپنی وہی ہیرا پھیری والاراستہ چناتو پھر میرے ہاتھوں کو تمہارے اوپر چلنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔میں تمہیں صاف بتارہاہوں کہ کوڑے تو تم کھاؤ گے ہی کھاؤ گے ساتھ میں تمہیں اپنی جان سے بھی ہاتھ دھونے پڑیں گے اور میں تمہیں ایسی عبرتناک موت مارونگا کہ تمہاری روح صدیوں تک اسی کمرے میں بلبلاتی رہے گی اور تمہیں کبھی چین نصیب نہیں ہوگا۔تم یہ بات خوب اچھی طرح سے جانتے ہوکہ میں نے تم سے بدلہ لیناہے اور وہ میں لیکر رہونگا تم نے مجھے بے پناہ نقصان پہنچایاکہ پھر مجھے دوبارہ اٹھنے میں اتناعرصہ لگ گیا۔روسی حکومت نے مجھ سے اپناہاتھ چھڑالیامیں کہا ں کہاں نہیں دربدر پھرتارہامگر میری کسی نے کو ئی پرواہ نہیں کی۔یہ سب کچھ میں کیسے بھول سکتاہوں تم نے میری تنظیم کو تنکوں کی طرح بکھیردیا۔میں آسمان پراڑرہاتھامگر تم نے مجھے زمین پر پٹخ دیا۔تم سوچ نہیں سکتے کہ مجھ پر کتنامشکل وقت آیامجھے انڈرگراؤنڈ جاناپڑا۔لیکن اس سب کچھ کے باوجود میں ایک بار پھر سے اٹھامیں نے اپنی تنظیم کو پھر سے کھڑا کیاتو تم مجھ سے یہ توقع رکھتے ہو کہ میں تم جیسے انسان کو زندہ رکھ کر اپنے بقاکی جنگ جیت سکتاہوں تو تمہاری یہ بھول ہے یہ غلطی میں ہرگزنہیں کروں گا۔۔۔تمہارے جیسے شیطان کا سر میں ثواب سمجھ کر کچلنا پسند کروں گا۔"
"صاف صاف بولو میجر کے تم کیاچاہتے ہو؟بہت پہیلیاں بجھوالیں تم نے اب سیدھامدعے پر آؤاور یہ بات تم اپنے ذہن کے آخری گوشے میں محفوظ کرلو کہ میں جسمانی تشدد برداشت کرنے کی پوری صلاحیت رکھتاہوں آزمائش شرط ہے کرکے دیکھ لیناشاید تمہیں تمہاری کسی ظلم وبربریت کرنے والی حِس کو سکون مل جائے ۔مگر جو بات میں نے نہیں بتانی تو نہیں بتانی تم چاہے میرے سامنے الٹا ہی کیوں نہ لٹک جاؤ۔جو کچھ بھی کرلوتم ہزار جتن کرکے بھی مجھ سے کچھ نہیں اگلواسکوگے یہ بات اٹل ہے لیکن یہ تو واضح کر وکہ آخر تمہاری ذہن میں ایسا کیا چل رہا ہے جس کو تم بتانے میں باربار ہچکچارہے ہو۔جب تک بات کلیئرنہیں ہوگی تو گفتگوآگے نہیں بڑھ سکتی ممکن ہے میں کچھ تمہاری مددکرپاؤں۔اس لئے تمہیں اب چاہئے کہ تم اپنے تمام پتے شو کردو۔۔۔۔"میری بات ابھی درمیان میں تھی کہ اس کاملازم ایک بار پھر کمرے میں داخل ہواتو اس بار اس کے ہاتھ میں ایک ٹرے تھی جس میں ایک پانی کا گلاس اور چند ادویات رکھی ہوئیں تھیں۔۔۔۔اس نے اچانک اپناہاتھ لہراکر مجھے رکنے کا اشارہ کیاتو میں اپنی بات ادھوری چھوڑ کر اس کے منہ کی طرف دیکھنے لگ گیا۔اس نے پہلے ایک گولی اٹھائی اور پھر اسے اپنی ہتھیلی پر رکھ کر منہ میں ٹپکاتے ہوئے پانی کاگلاس اٹھاکر اس میں سے ایک بڑاگھونٹ بھرکر پانی نگلا۔چند لمحے توقف کے بعد اس نے ایک اور گولی اٹھائی اس کے ساتھ بھی وہی عمل دہرایا۔چند ساعتوں کے لئے یہ عمل جاری رہا،گولی پے گو لی اس کے منہ کے اندر جارہی تھی اور وہ بار بار اپنا بڑا سا منہ کھول کر اپنے پیلے دانتوں کی اور بدبودار زبان کی نمائش کرتاتھا۔خدا خدا کر کے وہ عمل ختم ہواتو اس نے ملازم کو جانے کا اشارہ کیااور خود گہرے گہرے سانس لینے لگا۔
میں نے کافی ٹھوس لہجے میں بات کی تھی تاکہ اگر اسے میرے بارے میں تھوراسابھی شک تھا تو وہ دور ہوجاتا۔کمرے میں کچھ دیر مکمل سکوت رہا پھر اس نے سر اٹھاکر میری جانب حسبِ سابق گھورناشروع کردیامیں نے بھی اس کی آنکھوں کے اندر اپنی نظریں گاڑھ دیں اور پھر وہاں سے ہوتاہوا اس کے وجود میں اتر کے اس کے دلی جذبات،احساسات اور کیفیات کا اندازہ لگانے لگا۔بڑی عجیب و غریب طبعیت کا مالک تھا۔اس کی آنکھوں میں کئی پراسرار رنگ آئے اور چلے گئے جنہیں میں کوئی مفہوم نہ پہناسکا۔کچھ دیر مزید گزر گئی مگر دونوں جانب سے کوئی بات چیت نہ ہوئی گویاوہ بھی مجھے تول رہاتھا کہ جو میں کہہ رہاہوں آیامیں اس پر پور ا اتروں گابھی یانہیں ؟کافی دیر کے بعد جب وہ اندر ہی اندر شاید کسی خاض نکتے پر پہنچاتو تو اس نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کاٹ کھانے والی خاموشی کوبالآخر توڑا:
"ڈیوڈ تمہارے اس مستحکم رویہ نے مجھے بہت زیادہ تذبذب کا شکار کردیاہے میرے خیال میں تمہیں کرنل اشر کے پاس نہیں بلکہ میرے ڈریگن گروپ میں ہوناچاہے تھا خیر یہ سب قسمت کے کھیل ہیں اور قسمت سے ایک حد تک لڑا جاسکتاہے اس سے زیادہ نہیں اس کے بعد اس کی مرضی وہ جس کے نصیب میں مہربان ہوجائے اور اگر چاہے تو کسی کا نصیب ہی کھوٹاکردے۔۔۔تمہاری پروفائل میں ایک بات یہ بھی لکھی ہوئی ہے کہ جب ایک بار تم نے کرنل کی ایجنسی جوائن کرلی تواس کے بعد تم اپنی وفاداری کبھی تبدیل نہیں کرسکتے اور تمہاری یہی عادت مجھے مجبور کررہی ہے کہ میں نے جو سوچا ہے اس پر عمل کر لوں۔تم اپنے ارادے کے پختہ ہو جب ایک با ت دل میں ٹھان لوتوپھر اس سے پیچھے نہیں ہٹتے ہو۔میں صاف صاف بات کرونگا کہ مجھے وہ فلم چاہے جو تمہارے باس نے برطانیہ سے حاصل کی تھی ۔۔۔اگر تم نے انکار کیاتو مجھے گھی الٹی انگلی سے بھی نکالنا آتاہے۔وہ میرے ملک کی امانت ہے مجھے وہ واپس چاہے ہر صور ت میں ۔۔۔"
"تو تمہیں اتنی بڑی تمہید باندھنے کی کیاضرورت تھی آخری بات پہلے کردیتے تو سارا مسئلہ ہی ختم ہوجاتا۔نہ بات کوڑوں تک پہنچتی اور نہ ہی تمہاری اور میری بلاوجہ کی منہ ماری ہوتی ۔تمہیں چاہیے تھا کہ سیدھ مدعے پر آتے ۔خیر اب جیسے تم نے صاف گوئی سے اپنامقدمہ پیش کرنے کی کوشش کی ہے اسی طرح میں بھی تمہیں صاف صاف اپنی بات کرتاہوں کہ اول تو مجھے اس مائیکر وفلم کا کچھ پتہ ہے کہ وہ اس وقت کہاں ہے۔میں نے اسے بلیک ڈائمنڈایجنسی کے ہیڈکواٹر تک ضرور پہنچایاتھامگر اس کے بعد میرا تعلق واسطہ ختم ہوگیا۔وہ میرا درد سر نہیں تھی اب یہ کرنل اشر جانے اور اس کا کام کہ وہ اس مائیکرو فلم کا کیاکرتا ۔اس کے بعد دوسری اور آخری بات بھی سن لو کہ اگر مجھے اس فلم کا پتہ بھی ہو تب بھی میں تمہیں بتانے کا مجاز نہیں ہوں اب یہ میر ے ملک کی حکومت کاراز ہے سو یہ ارادہ اپنے دل سے نکال دو ۔تم جیساکہ میری پروفائل خوب اچھی طرح سے پڑ ھ چکے ہوتو تمہیں اب مجھ سے اس معاملے پر مزید بحث نہیں کرنی چاہے تم جانتے ہو کے اس میں تمہیں ناکامی کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔میں تمہاری سوچ سے زیاد ہ مضبوط ارادوں کا مالک ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔"وہ میری بات غور سے سنتارہااور پھر مجھ سے کچھ کہنے کے بجائے اپنے ساتھی کو روسی زبان میں کچھ کہاتو وہ اپناسر ہلاتا ہوا خاموشی سے کمرے کا دروازہ کھول کر باہر نکل گیا۔اس کے جاتے ہی آٹومیٹک دروازہ ایک بار پھر بند ہوگیا۔
اب میجر ڈریگن ایک بار پھر مجھے گھور رہاتھا۔اس کی آنکھوں میں ایک بار پھر سرخی اترآئی تھی ۔چونکہ گھی سیدھی انگلی سے نہیں نکل رہاتھااب وہ اپنی انگلی ٹیڑھی کر کے نکالنے کے چکروں میں تھا۔میں بھی خاموشی سے اسے برابر گھورے جارہاتھا۔کچھ دیر اسی طرح گھورنے کا سلسلہ چلتارہا۔سیکنڈ منٹس میں تبدیل ہورہے تھے اور کمرے کا ماحول ایسا تھا کہ جیسے سب کو سانپ سونگھ گیاہو۔سبھی خاموش تھے کہ پھر اسی خاموشی کو میجرڈریگن کے آدمی نے دروازہ کھول کر توڑا۔اس کے ہاتھ میں ٹیلی فون تھاجس کے پیچھے ایک لمبی سی تار لگی ہوئی تھی۔وہ اسے لئے انتہائی مدئبانہ انداز میں میجر ڈریگن کے سامنے کھڑا ہوگیا۔جبکہ فون کو دیکھتے ہی میجر نے مجھ سے نظر یں ہٹاکر ایک نظر فون کو دیکھا اور دوسری نظر اس نے اپنے آدمی پر دوڑائی پھر اس نے ہاتھ بڑھاکر فون کاریسور اٹھالیا۔اس کے بعد وہ میرے موبائل سے ایک نمبر نقل کر کے اسے اپنے فون پر ڈائل کرنے لگا۔جوں ہی دوسری طرف سے رِنگ جانے لگی میجر نے اچانک ہی اپنا ہاتھ بلند کر کے ایک نامعلوم اشارہ کیاتو میرے ساتھ کھڑے ہوئے اس کے ایک اور آدمی نے اپنی پینٹ کی اندرونی جیب سے ایک سیاہ کپڑا نکال کر میرے منہ پر مضبوطی سے باندھ دیا۔تاکہ دورانِ گفتگو میں کسی بھی قسم کا شور شرابہ یاکوئی بھی اشارہ نہ کرسکوں۔اس عرصے میں اس نے لاؤڈر کا بٹن بھی پریس کردیاتھالائن ملتے ہی دوسری طرف سے کرنل اشر کی آواز آئی:
"یس کرنل اشراسپیکنگ ۔۔۔۔۔۔"
"تمہارا پرانا ہمدرد میجر ڈریگن بول رہاہوں شاید تمہیں یاد ہو اگر نہیں یاد تو میری آواز سن کر ضرور یاد آجائے گا اگر پھر بھی یاد نہ آیاتو یہ تو لازمی یاد ہوگا ناں کہ روس میں تمہاری ہڈیاں کس نے کھڑکائی تھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہاہاہا۔۔۔۔۔۔ ہو تا ہے ہو تا ہے کبھی کبھی ایسا بھی ہوتاہے انسان ہو ناں اور عمر کا بھی تقاضہ ہوگاباتیں بھول جاتی ہونگی کوئی نہیں اب یاد آجائیں گی۔یقیناتم اس وقت اپنے ہونہار لڑکے کی وجہ سے پریشان ہوگے ؟؟اب تم خود ہی سوچوجب وہ ایسے گل کھلائے گا تو اس کی شامت تو آئے گی ناں کہ نہیں ؟میں چاہوں گا کہ تمہاری پریشانی میں کسی حد تک دور کردوں وہ اپنے چچامیجر ڈریگن کے پاس ہے اور بخیرو عافیت ہے ۔یعنی بالکل محفوظ ہے تو تمہیں اس کی فکر کر نے کی کوئی ضرور ت نہیں ،لیکن اس کی زندگی تمہارے تعاون سے مشروط ہے۔اگر تم چاہوتو اپنے ہونہار ایجنٹ کی زندگی ضائع ہونے سے بچا سکتے ہواور ہزار بار سوچ سمجھ کر جواب دیناکیوں کہ میں نے ابھی پچھلے بدلے بھی چکانے ہیں ۔اگر تم نے مجھے میرے مطلب کی چیزپہنچادی تو تمہیں تمہارا لڑکابغیر کسی توڑ پھوڑ کے مل جائے گااور وہ بھی صحیح سلامت کیوں ہے ناں مزے کی بات؟ لیکن اگر تم نے مجھے میری مطلوبہ چیز نہ پہنچائی تو میرے پاس اس کے بعد دو ہی حل ہونگے ایک یہ کہ میں اسے اس کی زندگی سے ہمیشہ کے لئے آزاد کردوںیاپھر اسے رہتی دنیاتک بھکاری بناکر اسے مزید کسی کام کرنے کے قابل نہ چھوڑوں۔اب فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے اور اگر چاہوتو میں تمہاری مکمل طور پر تسلی بھی کرواسکتاہوں مگر میری شرط برقرار ہے ۔۔۔"
" مسٹر ڈریگن اس لمبی چوڑی تقریر کا مجھ پر کوئی اثرنہیں ہوا،میں سمجھاتم نے کسی اہم کام کے سلسلے میں مجھے یاد کیا ہے ۔میرااتنا قیمتی وقت برباد کرنے کے لئے شکریہ ۔ڈیوڈ اب میرے کسی کام کا نہیں رہاچاہوتو اسے بھکاری بنادو یاپھر سرکس میں کسی مداری کے ساتھ اسے کھڑا کردو میرااس سے کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے۔"دوسر ی طرف سے کرنل اشر کی حسبِ توقع بے حد بے رخی سی آواز آئی جیسے اسے واقعی میجر ڈریگن کے فون کرنے پر افسوس ہوا ہواور اس کا وقت برباد ہواہو۔
"تمہاری بلیک ڈائمنڈ ایجنسی میں اگر کوئی ڈائمنڈ ہے تو وہ ڈیوڈ ہے میں نے بہت سوچ سمجھ کر اپنے پتے لگائے ہیں ۔میں اس کھیل کا پرانا کھلاڑی ہوں اتنی آسانی سے تم مجھے چلتانہیں کرسکتے۔۔۔۔"میجر ڈریگن نے گہر ا سانس لیتے ہوئے کہا۔
"مسٹر ڈریگن تمہارے پتوں کی میرے سامنے کوئی حیثیت نہیں ہے اور مجھے ان سے کوئی سروکار نہیں ۔تم چاہے نئے کھلاڑی ہو یا پرانے میری بلاسے میرے سر سے اترو اب ۔۔۔۔ پتہ نہیں میں کہاں مصروف تھامیرا سارا پلان ہی گڑبڑکردیاتم نے ۔۔۔ اب تم فو ن رکھوگے بھی یا میں تمہیں دو چار ٹھنڈی گرم سناؤں تب جاکر تمہارا ہوش ٹھکانے آئے گا۔تم نے جو کرنا ہے وہ کرویہ میرا درد سر نہیں ہے ۔اب سے ڈیوڈ تمہارا ہوا تم جو کرسکتے ہووہ کرلواس کے ساتھ ۔۔۔۔۔"
"لگتاہے کہ ابھی میں نے تمہارے ساتھ پورے پتے شئیر نہیں کئے تبھی تمہاری یہ اچھل کود بند ہونے کانام ہی نہیں لے رہی ۔میں اونچی پرواز کرنے والے پرندے کے پر کاٹ دیا کرتاہوں اور مجھے یہ تمہاری گفتگو ایک آنکھ نہیں بھارہی ۔اب تیار ہو جاؤ میں تمہیں بتاناچاہتاہوں ۔تمہاری جان جس چیزمیں بند ہے وہ چیز میرے قبضے میں ہے۔"یہ کہتے ہی اس نے اپنی جیب سے چند فوٹو گرافس نکال لیئے اور انہیں میرے سامنے لہرانے لگا۔انہیں دیکھ کر میری آنکھوں میں قدرتی طور پر ایک تیز چمک پیدا ہوئی جو اس بات کی طرف اشارہ تھاکہ انہیں میں نے پہچان لیاہے۔
"اچھا تعجب ہے کہ تم اب بھی کچھ دکھانا چاہتے ہو؟ یعنی تمہاری ٹوکری میں اب بھی کوئی نہ کوئی خرگوش چھپابیٹھاہے۔شوکروذزرا مجھے بھی تو پتہ چلے ۔ویسے میرے خیال میں تمہاری اب اتنی پوزیشن نہیں رہی کہ تم مجھے کچھ شو کرا سکوتم ہارچکے ہو۔ میں نے تمہارا شو چلنے سے پہلے ہی فلاپ کردیاہے۔۔"دوسری طرف سے چہکتی ہوئی آواز آئی ۔مگر جلد ہی کرنل اشر کا یہ چہکنابند ہونے والاتھا۔کیونکہ اب جو وہ پتہ پھینکے والا تھاوہ کرنل اشر کو جیتے جی مار دیتا۔یہ آخری پتہ جو وہ پھینکے والاتھاوہ واقعی ترپ کا پتہ ثابت ہوتا۔۔۔۔۔

(جاری ہے )

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Jabran

Read More Articles by Muhammad Jabran: 47 Articles with 41208 views »

I am M Phil Scholar In Media Studies. Previously, i have created many videos which are circulating all over Social Media.
I am the Author of thre
.. View More
24 Jun, 2018 Views: 610

Comments

آپ کی رائے