حیرت انگیز مُلک جہاں اندھے گاڑیاں چلاتے ہیں

(Saleem Ullah Shaikh, Karachi)

عنوان دیکھ کر آپ چونک گئے ہوںگے کہ دنیا میں کوئی ایسا ملک بھی ہے جہاں اندھے گاڑیاں چلاتے ہیں، اور یہ جاننے کے لیے کہ وہ کون سا ملک ہے ، آپ نے فوراً پڑھنے کے لیے کلک کردیا ۔ میں آپ کی یہ حیرت ابھی دور کیے دیتا ہوں۔ وہ ملک ہے ’’ اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ جہاں اندھے بھی گاڑیاں چلاتے ہیں ۔ لیجیے آپ کی حیرت تو مزید بڑھ گئی کہ کیوں کہ بحیثیت ایک پاکستانی آپ نے پاکستان میں اندھوں کو گاڑیاں چلاتے کبھی دیکھا ہی نہیں ہوگا۔

دیکھیے نابینا پن یا اندھے پن کی کچھ اقسام ہوتی ہیں۔ کچھ لوگ باالکل نابینا ہوتے ہیں یعنی انہیں کچھ نظر نہیں آتا۔ نابینا پن کی ایک قسم وہ ہوتی ہے جس میں انسان دن کی روشنی میں تو دیکھ لیتا ہے لیکن سورج ڈوبنے کے بعد مصنوعی روشنی میں ان کے لیے دیکھنا ممکن نہیں ہوتا۔ نابینا پن کی ایک تیسری قسم وہ ہوتی ہے جس میں انسان کو کچھ مخصوص رنگ نظر نہیں آتے یا وہ رنگوں میں امتیاز نہیں کرپاتے۔ ایسے لوگوں کو کلر بلائنڈ کہا جاتا ہے۔ نابینائوں یا اندھوں کی چوتھی قسم وہ ہوتی ہے جو جسمانی طور پر بالکل ٹھیک ہوتے ہیں لیکن عقلی طور پر نابینا ہوتے ہیں، بصیرت تو بہت دور کی بات ہے انہیں اپنے اگلے قدم کا نتیجہ تک نہیں معلوم ہوتا بالکل شیخ چلی کی طرح کہ جو جس شاخ بیٹھا تھا اسی کو کاٹ رہا تھا اور اس کو یہ احساس نہیں تھا کہ یہ شاخ کٹ گئی تو نقصان میرا ہی ہوگا۔

پاکستان کے تمام شہروں میں بالعموم جبکہ کراچی میں بالخصوص ٹریفک کی صورتحال دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ گاڑیاں چلانے والے افراد کی اکثریت عقلی طور پر اندھے ہیں یعنی عقل کے اندھے ہیں اور انہیں یہ نہیں پتا ہوتا کہ وہ کیا کررہے ہیں۔ میں آپ کے سامنے کچھ مثالیں رکھوں گا تو بات واضح ہوجائے گی۔ آپ گاڑی چلا رہے ہیں یا کسی گاڑی میں کسی کے ساتھ سفر کررہے ہیں۔ آپ کا سگنل بند ہوجاتا ہے، آپ سگنل بند ہونے پر رک جاتے ہیں تاکہ دوسری طرف کی گاڑیوں کو موقع ملے لیکن اسی دوران آپ دیکھیں گے کہ بیشتر موٹر سائیکل سوار اور کئی رکشہ اور کاروں والے بھی نہ صرف لائٹ زرد ہونے پر بلکہ بتی سرخ ہونے پر بھی رکنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ سگنل پر کھڑے ہونے کے بجائے بس کسی طرح سگنل عبور کرلیا جائے۔ عمومی طور پر اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نہ تو ایک دو گاڑیاں تو نکل جاتی ہیں لیکن بیشتر گاڑیاں نہ تو خود نکل پاتی ہیں اور نہ ہی ان گاڑیوں کو نکلنے دیتی ہیں جن کا سگنل کھلا ہوتا ہے ۔نتیجہ ٹریفک جام کی صورت میں نکلتا ہے۔

اب ٹریفک جام ہونے کے بعد عقل کے اندھوں کی ایک دوسری کھیپ سامنے آتی ہے۔ یہ کھیپ عام طور سے موٹر سائیکلوں پر سوار ہوتی ہے۔ ان عقل کے اندھوں کو اتنی عقل نہیں ہوتی کہ تھوڑا صبر کرلیں تاکہ صورتحال قابو میں آجائے ، اس کے برعکس یہ لوگ فوری طور پر اپنی موٹر سائیکلیں فٹ پاتھ پر چڑھا کر دوڑانا شروع کردیتے ہیں، ایک طرف تو یہ عقل کے اندھے پیدل چلنے والوں کے لیے خطرناک ثابت ہوتے ہیں دوسرا یہ ان کا حق مارتے ہیں لیکن ان کو یہ پتا نہیں ہوتا کہ فٹ پر چلنے کے بعد بھی آخر کار سگنل پر فٹ پاتھ پر اترنا پڑے گا، یہ لوگ جب فٹ پاتھ سے اتر کر سڑک پر آتے ہیں تو مزید خرابی کا سبب بنتے ہیں اور ان کی وجہ سے ٹریفک جام کی صورتحال مزید خراب ہوتی ہیں۔

عقل کے اندھوں کی ایک کھیپ وہ بھی ہے جو سگنل پر رکنے کے بجائے اپنی گاڑی کو مخالف سمت والی سڑک پر ڈال دیتےہیں ،ان لوگوں کو یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ ان کی اس حرکت سے انہ صرف یہ کہ خود ان کی زندگی خطرے میں پڑ جاتی ہے بلکہ مخالف سمت سے آنے والوں کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے ۔ جب کہ ایسی صورتحال میں سب سے زیادہ نقصان سڑک پار کرنے والوں کو ہوتا ہے کیوں کہ عام طور سے سگنل پر کئی افراد بشمول خواتین اور بچے سگنل کی بتی سرخ ہونے کا انتظار کرتے ہیں اور جیسے ہی سگنل بند ہوتا ہے یہ لوگ موقع غینمت جان کر سڑک پار کرنے لگتے ہیں ان کی پوری توجہ آنی والی گاڑیوں کی طرف ہوتی ہے لیکن مخالف سمت سے آنے والے ان پر بلائے ناگہانی کی طرح نازل ہوتے ہیں اور حادثات کا سبب بنتے ہیں۔ راقم الحروف خود اس طرح ایک دفعہ موٹر سائیکل سوا ر کا نشانہ بن چکا ہے اور نتیجے میں اپنے سر پر 4 تانکے لگوا چکا ہےجب کہ متعدد بار ایسے لوگوں کی وجہ سے حادثے کاشکار ہونے سے بال بال بچا ہے۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ سڑک پار کرنے کے دوران مخالف سمت سے آنے والے موٹر سائیل سوار نے مجھے ٹکر ماری ، ساتھ ساتھ خود بھی گر پڑے اور دوسری موٹر سائیکل پر موجود ان کا ساتھی مجھ پر غصہ کرتے ہوئےکہنے لگا کہ ’’ آپ کو نظر نہیں آتا، دیکھ تو لیتے کہ گاڑی آرہی ہے۔‘‘ دل تو چاہا کہ اس کے جواب میں ان منہ پر ایک تھپڑ جڑ دیا جائے لیکن صرف یہی کہنے پر اکتفا کیا کہ ’’ غلطی بھی آپ کی اور غصہ بھی مجھ پر ، میں بالکل ٹھیک جارہا تھا آپ رانگ سائیڈ سے آرہے ہیں۔‘‘ قریب تھا کہ موقع پر موجود لوگ اس کے ساتھ دو دو ہاتھ کرتے وہ فوراً اپنے ساتھی کے ساتھ موٹر سائیکل دوڑاتے ہوئے روانہ ہوگئے۔

عقل کے اندھوں کی ایک قسم وہ بھی ہے جن کو ہارن بجانے کی بیماری ہوتی ہے۔ اگر ٹریفک بالکل ٹھیک طرح سے رواں دواں ہے اور ہارن فوبیا کا شکار افراد بھی اس میں موجود ہیں تو ان کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنی گاڑی کو اڑاتے ہوئے لے جائیں، اس کے لیے یہ لوگ ہارن کا بےجا استعمال کرتے ہیں، یہ لوگ ہر گاڑی کو دور سے ہی ہارن دینا شروع کردیتےتاکہ وہ ان کے راستے سے ہٹ جائیں اوریہ ’’نواب ابنِ نواب‘‘ گاڑی کی رفتار کو آہستہ کیے بغیر چلتے جائیں۔ یہ لوگ ٹریفک سگنل اور ٹریفک جام کے دوران بھی ہارن بجانے سے باز نہیں آتے، حالانکہ انہیں نظر آرہا ہوتا ہے کہ اس وقت سگنل بند اور جب تک سگنل نہیں کھلے گا اس وقت تک گاڑیاں آگے نہیں جاسکتی لیکن اس کے باوجود یہ ہارن بجا کر اپنی جہالت کا ثبوت دیتے ہیں۔ علاوہ ازیں کسی ٹریفک جام کی صورت میں تو ان کی جہالت عروج پر ہوتی ہے کیوں کہ انہیں اچھی طرح پتا ہوتا ہے اور نظر بھی آرہا ہوتا ہے کہ جب تک آگے راستہ صاف نہیں ہوگا اس وقت تک گاڑیاں نہیں چل پائیں گی لیکن اس کے باوجود یہ لوگ ہارن بجا کر دوسروں کو اذیت پہنچاتے ہیں۔

اب میں ان اندھوں یعنی عقل کے اندھوں کی سب سے گھٹیا قسم کا ذکر کروں گا۔ جب کبھی آپ کو ٹریفک جام میں پھنسنے کا اتفاق ہوا ہوآپ نے دیکھا ہوگا کہ جس مقام پر ٹریفک پھنسا ہو ا ہے، وہاں سے لوگوں نے بڑی مشکل سے راستہ بنایا ہے اور اب کچھ ہی دیر میں ساری گاڑیاں رواں دواں ہوجائیں گی اور ٹریفک جام ختم ہوجائے گا۔ اتنے میں آپ کی لین یا مخالف لین میں سے کوئی رکشہ، ٹیکسی ، کار یا موٹر سائیکل والا اپنی گاڑی کو اپنی لین سے نکال کر دوسری لین میں ڈال دے گا اس یقین کے ساتھ کہ دوسرے تو بے وقوف ہیں میں ابھی ان سب سے آگے بڑھ جائوں گا، ان کی دیکھا دیکھی عقل کے دوسرے اندھوں نے بھی فوراً اپنی گاڑیاں دوسری لین میں ڈال دیں ۔اور پھر یہ ہوا کہ جو لوگوں نے محنت کرکے جس ٹریفک جام کو ختم کرنے کی کوشش کی تھی ، ان موصوف کی اس کمینگی کی وجہ سے وہ کوشش ناکام ہوگئی کیوں کہ آگے جانا تو ممکن نہیں تھا لیکن اب پیچھے بھی نہیں ہٹ سکتے اور نہ ہی سامنے والی گاڑی کو راستہ مل سکتا ہے۔ اس لیے اب عوام کے مزید کئی گھنٹے اس اذیت کو برداشت کرتے ہوئے گزریں گے۔

جی تو اب آپ سمجھ گئے نا کہ میں نے یہ کیوں کہا تھا ’’ وہ ملک ہے ’’ اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ جہاں اندھے بھی گاڑیاں چلاتے ہیں ۔‘‘اپنے اردگرد غور کیجیے۔ کیا یہی سب کچھ نہیں ہورہا؟ کوئی فرد انتظار کرنے، صبر کرنے کے لیے تیار نہیں ہے حالانکہ چند منٹوں کا صبر کئی گھنٹوں کی اذیت سے بچاتا ہے لیکن ہم لوگ یہ سمجھنے کو تیار نہیں ہیں۔چلتے چلتے ایک دلچسپ حقیقت بیان کرتا چلوں کہ ہمارے معاشرے میں لوگوں کو صرف ٹریفک سگنل پر رکنے اور گاڑی چلانے کے دوران ہی وقت بچانے کا خیال آتا ہے ، اس کے لیے ہم قانون شکنی کرتے ہیں، دوسروں کو اذیت پہنچاتے ہیں، خود بھی تکلیف اٹھاتے ہیں، ایندھن جلا کر توانائی ضائع کرتے ہیں ، لیکن نکڑ پر کھڑے ہوکر اسکول کالج کی لڑکیوں کو گھورنے، ڈبو اور ویڈیو گیمز پر گھنٹوں کھڑے رہنے،اور گلی محلے میں فضول بیٹھ کر ہمیں کبھی یہ احساس نہیں ہوتا کہ ہمارا وقت ضائع ہورہا ہے، بس گاڑی چلاتے وقت اور سگنل پر رکتے وقت ہمیں لگتا ہے کہ ہمارا وقت ضائع ہورہا ہے۔ خدا را اس رجحان کو بدلیں ، صبر اور انتظار کی عادت ڈالیں اور اپنی لین میں چلنے کی عادت ڈال لیں تو میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ ملک میں کبھی ٹریفک جام نہیں ہوگا اور حادثات میں بھی 70 سے 80 فیصد کمی آسکتی ہے۔ آزمائش شرط ہے۔
اندازِ بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ اُتر جائے ترے دل میں مری بات

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Saleem Ullah Shaikh

Read More Articles by Saleem Ullah Shaikh: 525 Articles with 1069635 views »
سادہ انسان ، سادہ سوچ، سادہ مشن
رب کی دھرتی پر رب کا نظام
.. View More
26 Jun, 2018 Views: 544

Comments

آپ کی رائے