احساس

(Shoukat Ullah, Banu)

ماضی کے جھرکوں میں اپنے بچپن کو دیکھتا ہوں تو ایک مسحور کُن احساس ذہن کے دریچوں میں جگہ بنا لیتا ہے۔ یہ وہ دور تھا جب روایتی کھیل گُلی ڈانڈا ، چھپن چھپائی اور چور پولیس مقبول کھیل ہوا کرتے تھے۔ ہم بھی اپنے ہم عصر ساتھیوں کے ساتھ ان کھیلوں سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ اُس وقت کمپیوٹر اور موبائل فونز ہمارے معاشرے میں وارد نہیں ہوئے تھے البتہ کرکٹ کا کھیل پاکستان میں زور پکڑتا جارہا تھا اور پھر شارجہ کے میدان میں جاوید میانداد کے آخری بال پر بھارت کے خلاف چھکے سے یہ کھیل زیادہ مقبول ہو گیا۔ یوں روایتی کھیلوں میں اپنی جگہ بنا بیٹھا اور گلی ، محلوں میں کھیلا جانے لگا۔ کرکٹ کے کھیل کا بخار ہمارے معاشرے میں اتنا سرایت کر گیا کہ قومی کھیل ہاکی کو دیمک کی طرح چاٹ لیا۔ اس ساری تمہید کا مقصد بچپنا یاد کرنا نہیں ہے بلکہ جب ہم گلی ، محلوں میں کھیلتے تھے تو ہمیشہ ایک ہی بات بڑوں سے سننے کو ملتی تھی کہ فلاں شخص بیمار پڑاہے اور تمہیں تھوڑاسا احساس بھی نہیں ہے کہ اتنا اُودھم مچا رکھا ہے۔ ہم تھوڑے وقت کے لئے خاموش بیٹھ جاتے اور پھر میدان لگا لیتے۔ جب دوبارہ ہمارا دنگا دھوم بلند ہونے لگتا پھر کسی بڑے کی آواز سنائی دیتی اور ہم اِدھر اُدھر بھاگ کر چھپ جاتے۔ ہم چھوٹے اور ناسمجھ تھے لیکن بڑوں کو احساس ہوتا تھا کہ ہمارے شور و غُل سے بزرگ ، بچے اور بیمار پریشان ہورہے ہوں گے۔ ان ساری باتوں سے جہاں بچپن کی یادیں خوش کُن لمحوں کی طرح محسوس ہو رہی ہیں تو وہاں اپنے بڑوں میں پایا جانے والا احساس کا جذبہ بھی قابل ذکر و تعریف ہے۔ بد قسمتی سے آج کے معاشرے میں احساس کا یہ جذبہ دیگر اچھی اقدار کی طرح روٹھا جارہا ہے۔

گزشتہ دنوں ایک شادی کی تقریب میں شرکت کی غرض سے راولپنڈی جانے کا اتفاق ہوا۔ رسم حنا والے دن میں اور کچھ دوست مہمان خانے میں بیٹھے تھے۔ ابھی رسم شروع ہونے میں کافی وقت تھا۔ وہاں موجود اشخاص دنیا و مافیا سے بے خبر اپنے موبائل فونز کے ساتھ مصروف تھے۔ اُن کو اردگرد کے ماحول میں فی الحال کوئی دل چسپی نہیں تھی ۔کوئی فیس بُک ،تو کوئی ایس ایم ایس کرنے میں مصروف و مگن تھا۔ مغرب کی اذان میں پون گھنٹہ باقی تھا کہ اچانک آسمان کو کالی گھٹاؤں نے گھیرے میں لے لیا اور منٹوں ، سیکنڈوں میں اندھیرا چھا گیا۔ اندھیرے کی وجہ سے پرندے مہمان خانے میں موجود پیڑوں پر آنا شروع ہوگئے کیوں کہ موسم کی اچانک بدلتی صورت حال نے انہیں دھوکہ دے دیا تھا۔ جونہی ہزاروں واٹ کے بلب روشن ہوئے تو پرندوں کی پریشانی میں مزید اضافہ ہوا کیوں کہ ماحول دن کی طرح روشن بن گیا تھا۔ پرندوں کی خوب چہچہاہٹ کے بعد پیڑوں پر سناٹا چھا گیا۔ شاید پرندوں نے بدلتی صورت حال کے ساتھ خود کو ایڈجسٹ کرلیا تھا۔ لیکن رات گئے رسم حنا کے دوران جو آتش بازی ہوئی ، انہوں نے پرندوں کو نہ صرف بے آرام کیا بلکہ پیڑ چھوڑنے پر مجبور کیا۔ مجھے نہیں معلوم کہ اُن پر رات کتنی بھاری گزری ہوگی ۔ اس وقت مجھے خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے واقعات یاد آنا شروع ہوئے۔ ایک مرتبہ آپ ؓ اُونٹ کے زخم پانی سے صاف کررہے تھے اور ساتھ ساتھ فرما رہے تھے ۔ ’’میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ قیامت کے دن یہ میری شکایت نہ کردے‘‘۔ ایک دفعہ آپ ؓ رات کے وقت گزشت کر رہے تھے کہ ایک گھر سے بچوں کے رونے کی آوازیں ائیں۔ جب آپ ؓ نے دیکھا کہ ایک عورت بیٹھی ہے اور اس کے اردگرد بچے رو رہے ہیں۔ آپ ؓ نے دروازے کے قریب جا کر دریافت کیا کہ بچے کیوں رو رہے ہیں۔ عورت نے کہا ۔ ’’ بھوک کی وجہ سے رو رہے ہیں ‘‘۔ آپ ؓ نے دریافت کیا۔ ’’ یہ ہانڈی کیسی ہے جو چولہے پر چڑھائی ہوئی ہے ؟ ‘‘۔ عورت نے جواب دیا ۔ ’’ اس ہانڈی میں پانی رکھا ہے تا کہ بچے سو جائیں اور یہ سمجھیں کہ ہانڈی میں کوئی چیز پک رہی ہے ‘‘۔ حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو نہایت دکھ ہوا اور فوراً دارالصدقہ گئے اور تھیلا آٹا ، گھی ، چکنائی ، کھجوروں ، کپڑوں اور درہم سے بھر کر غلام سے کہا۔ ’’ مجھے یہ سب کچھ اٹھوا دو ‘‘۔ غلام نے کہا ۔ ’’ اے امیر المؤ منین ! آپ کی طرف سے میں اٹھوائے دیتا ہوں ‘‘۔ آپ ؓ نے غلام کو منع کرتے ہوئے فرمایا۔ ’’ کیا تم قیامت کے دن میرا بوجھ اٹھا سکو گے ؟‘‘۔ آپ ؓ نے وہ سامان لے کر عورت کے گھر گئے۔ ہانڈی اپنے ہاتھوں سے تیار کی اور بچوں کو اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلایا۔ جب بچے پیٹ بھر کر کھا چکے اور خوشی سے اچھلنے لگے تو آپ ؓ نے اپنے غلام سے کہا ۔ ’’ جب میں نے ان بچوں کو روتا دیکھا تو اچھا نہ لگا ، یہاں تک کہ ان کو ہنستا ہوا نہ دیکھوں۔ پس جب میں نے ان ہنستا دیکھا تو میرا جی بھی خوش ہوا ‘‘۔ یہ تھے خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ، جوانسانوں کے ساتھ ساتھ حیوانوں کے لئے بھی احساس کے جذبات رکھتے تھے۔ اگر ہم اپنے معاشرے کو دیکھیں تو احساس کا جذبہ ماند پڑ گیا ہے۔ یہ وہ جذبہ ہوتا ہے جو معاشری تعلق کو مضبوط بناتاہے لیکن بد قسمتی سے ہمارے معاشرے سے احساس کا جذبہ دیگراچھی اقدار کے ساتھ معدوم ہوتا جارہا ہے جس کی وجہ سے معاشرہ آئے روز بگاڑ کا شکار ہوتا جارہا ہے ۔ پس ہمیں چاہیئے کہ معاشرے میں اچھی اقدار کو فروغ دیں تاکہ صحت مند معاشرہ تشکیل پا سکے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shoukat Ullah

Read More Articles by Shoukat Ullah: 202 Articles with 128892 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 Jun, 2018 Views: 400

Comments

آپ کی رائے