ایک ستارہ تھا وہ کہکشاں ہوگیا

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: فائزہ خالد، ڈسکہ
آج سے ٹھیک 2سال پہلے 8 جولائی 2016 بروز جمعہ مقبوضہ کشمیر میں ایک 22 سالہ نوجوان اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ بھارتی فورسز کی دہشت گردی کے نتیجے میں شہادت کے مرتبے پر فائز ہوا۔ وہ نوجوان کوئی اور نہیں بلکہ برہان مظفر وانی شہید تھا جو 15 سال کی عمر میں اپنے سر پر کفن باندھ کر گھر سے نکلا اور 2010ء میں ایک مسلح تنظیم میں شمولیت اختیار کر لی۔

برہان مظفر وانی نے سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے آزادی کشمیر کی ایسی تحریک چلائی جس نے بھارت کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔ سوشل میڈیا کی اس تحریک آزادی کشمیر کے ذریعے بہت سے نوجوان برہان وانی کی اس تحریک میں شمولیت اختیار کرنے لگے اور کشمیر کی ہندو جارحیت سے آزادی کے لئے سرکردہ نظر آئے۔ بھارتی سکیورٹی ایجنسیز اور بھارتی حکومت نے برہان وانی کی تحریک آزادی کے لئے چلائی گئی مہم کی شہرت دیکھتے ہوئے برہان وانی کے سر کی قیمت 10 لاکھ روپے مقرر کر دی۔ اس کے باوجود برہان وانی اپنی تحریکی سر گرمیوں میں سرکردہ نظر آیا۔

تحریک کی اصل طاقت اس کا اور ان تمام نوجوانوں کا جذبہ تھا جو دن بدن اس کی تحریک میں شمولیت اختیار کر کے آزادی کی اس مہم میں اس کا ساتھ دے رہے تھے۔ اس تحریک کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ یہ اپنے حق کے لئے چلائی گئی تھی آزادی کا وہ حق جو ہر کشمیری کا حق ہے لیکن حق کے لئے اٹھائی گئی ہر آواز کو دبانے کی بھرپور کوشش کی جاتی ہے اور یہاں بھی یہی معاملہ ہوا۔ آخر کار بھارتی فورسز نے 8 جولائی 2016 کو برہان وانی اور اس کے دو ساتھیوں کو اپنی دہشت گردی کا نشانہ بنا ڈالا لیکن بھارتی فورسز اور ایجنسیز کو اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ شہید کی موت قوم کی خیات بن کر ابھرتی ہے اور کشمیر بھی انشااﷲ بہت جلد ایک الگ ریاست بن کر ابھرے گا۔

برہان وانی کی شہادت کے بعد کشمیر کا ہر نوجوان اپنے اندر ایک برہان وانی کو دیکھتا ہے۔ برہان وانی شہید کی میت کو بھارتی فورسز نے سری نگر کے بازاروں میں گھمایا تاکہ آئندہ نوجوان نسل کو بتایا جا سکے کہ برہان وانی کے نقش قدم پر چلنے والوں کے خلاف دہشت گردی کی ایسی ہی گھناؤنی سازش رچائی جائے گی۔ وہ کشمیری نوجوانوں کو ڈرا نہ سکے اور کشمیری عوام نے برہان وانی کی شہادت پر شدید ردِ عمل کا مظاہرہ کیا۔ مقبوضہ کشمیر کی گلیوں میں نوجوان اپنے سر پر کفن باندھ کر گھر سے نکل پڑے اور جگہ جگہ بھارتی فورسز اور کشمیری نوجوانوں کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئیں، کرفیو نافذ کر دیا گیا لوگوں کو برہان وانی کی آخری رسومات میں شرکت سے روکنے کے لئے ہر ممکن کوشش کی گئی مگر اس کے باوجود لاکھوں افراد نے برہان وانی کی آخری رسومات میں شرکت کی۔

بھارتی سیکورٹی فورسز اور ایجنسیز کو اس بات کا اندازہ ہو چکا ہے کہ وہ برہان وانی سے تب تک چھٹکارا نہیں پا سکتے جب تک اس کی چلائی ہوئی تحریک کو منزل نہیں مل جاتی۔ امریکا اور بہت سے مغربی ممالک یہاں تک کہ خود بھارت کو بھی اس بات کا اندازہ ہو چکا ہے کہ وہ چاہ کر بھی اس تحریک کو پاکستانی دہشت گردی کا نام نہیں دے سکتے کیونکہ کشمیری عوام خود بھارت کی جارحیت اور انتہا پسندی سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ان شاء اﷲ بہت جلد کشمیری عوام بھی آزادی کی مسرت سے مستفید ہوں گے۔ پاکستان کا ہر نوجوان کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہے اور ان کے لیے دعا گو بھی۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1232 Articles with 503573 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
09 Jul, 2018 Views: 188

Comments

آپ کی رائے