ہماری پسماندگی اور ایف سی آر

(Muhammad Yonas, )

پختونوں کے ساتھ مسئلہ نہیں بلکہ مسائل ڈھیر سارے ہیں۔ جیسا کہ تعلیم سے دوری، انسانی بنیادی حقوق سے محرومی، اور سماجی و معاشی پسماندگی وغیرہ۔ خصوصاًوفاق کے زیر انتظام قبائیلی علاقہ جات جس حالات سے گزر رہے ہیں وہ دنیا کے سامنے ہے۔ ان سب مسائل اور ترقی سے محروم رکھنے کا بنیادی وجہ فرنٹئر کرایمز ریگولیشن کے نام سے نافذ قانون ہے ، جو کہ کسی بھی پہلو سے قانون نہیں کہلایا جاسکتا، جوکہ ایک سو سالہ سال سے فاٹا کے پسماندہ عوام پر مسلط ہے۔

ان حالات سے نکلنے اور فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کیلئے ہر ایک قبائلی باشندے کو چاہے وہ طالب العلم ہو یا استاذ سیاسی لیڈر ہو یا کارکن الغرض ہر خاص وعام کو اپنا کردار نبھانا ہوگا۔ بطور اپنے کردار کے میں نے یہ ضروری سمجھا کہ ایف سی آر کے بارے میں پوری تحقیق کرکے اپکے سامنے پیش کرسکوں تاکہ ایف سی آر کے سدِباب میں لوگ اپنا کردار اداکریں۔ میرا یہ تحقیق مقالہ ابھی نامکمل ہے، تاہم وقت کی ضرورت کے پیش نظر اس تحقیق کا کچھ حصہ قارئین کی نذر ہے۔

تحقیق کا عنوان ہے، قبائیلی علاجات کی ترقی کے تناظر میں ایف سی آر کا تجزیہ مندرجہ بالا عنوان کے بارے میں تمام تر تحقیق طریقوں کو بروئے کار لایا گیاہے، جیسے ایس ایس آئی، انٹرویوز، لیٹریچر ریویو وغیر۔

فاٹا پاک افغان بارڈر پر واقع وہ قبائیلی پٹی ہے ، جو گزشتہ تین دھائیوں سے بدامنی اور سماجی ناچاقی کی زد میں ہے۔ یہ پٹی سات انتظامی ایجنسیوں، اور چھ قبائیلی ریجنز پر مشتمل ہے۔ جہاں پر ایف سی آر مسلط ہے، جس نے لوگوں کی زندگی کو اجیرن بنا رکھی ہے۔

یہ قانو ن دراصل ۱۸۴۸ میں قبائیل کے آزادی کو بصورت دیگر ختم کرنے کیلئے بنائی گئی۔ جبکہ ہم نے پہلے بھی عرض کیا کہ یہ کسی بھی پہلو سے قانون نہیں کہلایا جاسکتا۔ کیونکہ قانون کا مقصدوہ منظم اور عوامی نمائیندوں کی سفارشات سے علاقے کی ضروریات کو دیکھ کر بنایا جاتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے یہ ریگولیشن ہے اور اٹھارہ سو اٹھتالیس میں بنایا گیا ہے ۔ جو کہ صرف اور صرف سامراجی تسلط کو مظبوط کرنے کی غرض سے نافذ کیاگیاہے۔ جس نے یہاں کے لوگوں کو بنیادی حقوق سے محروم کر رکھا ہے۔ علاوہ ازیں جائیداد کی کوئی مناسب اندراج نہ ہونے کی وجہ سے علاقے کے لوگوں کو تنازعات کا شکار بنایا گیا ہے۔ جو کہ قبائیلی عوام کے حب الوطنی اور وطن کیلئے دی گئی قربانیوں سے چشم پوشی کی مترادف ہے۔

۱۹۷۳ ائین پاکستان کے تحت قبائیلی علاقوں سے منتخب ہوکر آنے والے نمائندگان فاٹا کیلئے قانون سازی کے مجاز نہیں ہے۔ جو کہ قبائیلی نمائندگان کی مزاق ہی سمجھی جاسکتی ہے۔ اب ایسی صورت حال میں ہماری حالت اس بات کا تقاضہ کرتی ہے۔ کہ ہر قبائیلی اپنے طور پر اس مکروہ قانون کو ختم کرنے کیلئے تیار ہوکر ہر فلیٹ فارم سے اس کے خلاف علم جہاد بلندکرے۔ یہ نہ صرف اپنے آپ پر بلکہ آنے والے نسلوں پر بھی احسان ہوگا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Yonas

Read More Articles by Muhammad Yonas: 5 Articles with 4327 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 Jul, 2018 Views: 341

Comments

آپ کی رائے