تعلیمی معاملہ اور ہماری کوتاہیاں

(Shoukat Ullah, Banu)

ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ یہاں تعلیم کے معاملے میں بڑی کوتاہیاں برتی جارہی ہے ۔ مضامین سے لے کر تعلیمی اداروں کے انتخاب تک بچوں کو یہ معلوم نہیں ہوتا ہے کہ وہ کس راہ پر گامزن ہیں اور ان کی اگلی منزل کیا ہوگی۔ یہاں بچوں کی تعلیم والدین اور بڑے بہن بھائیوں کی خواہشات کی تکمیل ہوتی ہے، یعنی بچے اپنی مرضی اور دل چسپی کے مضامین منتخب نہیں کرسکتے بلکہ بڑوں کی جانب سے اُن کے لئے مضامین منتخب کئے جاتے ہیں۔ با الفاظ دیگر اُن پر جبراً مسلط کئے جاتے ہیں۔ جہاں بڑوں کی خواہشات نہ ہوں تو وہاں معاشرے میں تعلیم سے متعلق پایا جانے والا ٹرینڈ دیکھا جاتا ہے اور اس ٹرینڈ کے پیچھے سارا کھیل پیسے کی ریل پیل کا ہوتا ہے۔ یہ دیکھا جاتا ہے کہ کس شعبہ میں کمائی زیادہ ہے تو بچوں کو اُسی لائن میں دھکیلا جاتا ہے۔ میڈیکل اور انجینئرنگ کی تعلیم کی تو باریاں لگی ہوئی ہیں۔ کبھی میڈیکل کی تعلیم آگے نکل جاتی ہے تو کبھی انجینئرنگ کی۔ یہی وجہ ہے کہ والدین اپنے بچوں کی خواہشات، کارکردگی اور دل چسپی کا خیال نہیں رکھتے اور بچوں کو زبردستی ڈاکٹر یا انجینئر بنانے پر تُلے ہوتے ہیں۔ بیچ میں ٹرینڈ تبدیل ہوا تو وہ اپنے بچوں کا رُخ سی ایس ایس یا پی ایم ایس کی جانب موڑ لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ اگر بچے انٹرمیڈیٹ میں اچھے نمبرات سے محروم ہوجاتے ہیں یا انٹری ٹیسٹوں میں رہ جاتے ہیں تو یہاں ایک بار پھر دیگر شعبوں میں پایا جانے والا ٹرینڈ دیکھا جاتا ہے، یعنی فزیکل سائنسسز ، نیچرل سائنسسز ، سوشل سائنسسز ، مینجمنٹ سائنسسز وغیرہ میں دیکھا جاتا ہے کہ کون سا شعبہ زیادہ مالی لحاظ سے فائدہ مند ہے۔ یہاں بھی بچوں کی اپنی دل چسپی کو روندھا جاتا ہے۔ پس الف سے ے تک بچوں کی تعلیم اپنے بڑوں کی خواہشات یا معاشرے میں پائے جانے والے ٹرینڈ کی مرہون منت ہوتی ہے۔ جب ہم ترقی یافتہ اقوام کا مطالعہ کریں تو وہاں تعلیم کو معاشرتی ضروریات کے ساتھ ہم آہنگ پائیں گے، یعنی وہاں وہی نصاب پڑھایا جائے گا جس کا معاشرے کو ضرورت ہو۔ مثال کے طور پر معاشرے کو کمپیوٹر ایکسپرٹ کی ضرور ت ہے تو وہاں کمپیوٹر اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق نصاب میں کورس شامل کئے جائیں گے تا کہ معاشرتی ضروریات کی تکمیل ہو۔ یہ وہ بنیادی نکتہ ہے جو ان معاشروں کو ترقی کی بلندیوں پر لے جاتا ہے۔ ہمارے ہاں سب کچھ برعکس ہے جب کہ تعلیم سے اُمیدیں کوہ ہمالیہ سے بلند رکھتے ہیں۔ اکہتر سال کا نصاب اُٹھا کر دیکھیں اور خود فیصلہ کریں کہ ہم نے کس سن میں اپنے نصاب کو معاشرتی ضروریات کے ہم آہنگ بنایا ہے۔ اتنے بڑے المیے کا ادراک ایک میٹرک ، انٹرمیڈیٹ یا بیچلر پاس وزیر تعلیم کیسے کر سکتا ہے۔ وہ تو تعلیم کو اُسی ڈگر پر ہانکتا ہے جس پر وہ خود چل کر آیا ہوتا ہے ۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہم اپنے بچوں کے لئے تعلیمی اداروں کے انتخاب میں بھی بڑی کوتاہیاں برت رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں ایک قاری حماد حسن کا میانوالی سے فون موصول ہوا۔ پہلے تو وہ اپنی بے روزگاری کا رونا رو تا رہا اور پھر جس ادارے سے تعلیم حاصل کی تھی ، اُس کی خامیاں اور کمیاں گنواتا رہا۔ جب میں نے اس سیتفصیل دریافت کی تو پتہ چلا کہ موصوف نے 2016 ء میں ایک نجی تعلیمی ادارے سے بی ایس سی (چار سالہ ) میکنیکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی ہے جس کا الحاق یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور کے ساتھ ہے لیکن ابھی تک ادارے کی ایکریڈیشن پاکستان انجینئرنگ کونسل کے ساتھ نہیں ہوئی ہے۔ اَب موصوف کو ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے بی ایس (چار سالہ ) ، یعنی ماسٹر کے مساوی ڈگری دے دی گئی ہے اور جب کسی سرکاری نوکری کے لئے درخواست جمع کرتا ہے تو وہاں پی ای سی کی رجسٹریشن مانگی جاتی ہے ۔ لہٰذا دو سالوں سے نوکری کے چکروں میں دھکے کھاتا پھر رہا ہے۔ اس سلسلے میں اُس نے ادارے سے بات کی تو انہوں نے ٹرخاتے ہوئے کہا کہ یہ نئی ڈگری ہے اورپاکستان میں اس کو متعارف ہونے میں مزید دو سال لگیں گے۔ میں نے اُس سے پوچھا کہ آپ کسی پرائیویٹ انڈسٹری میں درخواست کیوں نہیں دیتے تو اُس نے کہا کہ وہاں بھی اپنی قسمت آزما چکا ہے ۔ انٹرویو کے لئے بُلا لیتے ہیں لیکن تجربے کو وجہ بنا کر نوکری نہیں دیتے۔افسوس کا مقام ہے کہ ہم نے تعلیم جیسے شعبہ میں بے احتیاطی کے رجحان کو فروغ دے دیا ہے۔ سب سے پہلے بچوں کی مضامین میں کارکردگی اور دل چسپی کو نہیں دیکھتے اور انہیں اُن کی مرضی کے خلاف مضامین کا انتخاب کر دیتے ہیں۔ پھررہی سہی کسر غیررجسٹرڈ اداروں میں داخلے کی صورت پوری کردیتے ہیں۔ حالاں کہ ہم اپنے دوسرے معاملات میں احتیاط سے کام لیتے ہیں۔ کوئی بھی چیز خریدتے وقت بیسیوں دکانوں میں اُسی کی قیمت اور معیار کا دریافت کرتے ہیں اور تو چھوڑیں سبزی خریدتے وقت بھی کئی دکانوں اور ریڑرھی بانوں سے قیمت کے ساتھ ساتھ معیار بھی چیک کرتے ہیں۔ لیکن افسوس تعلیم کے معاملے میں ہم نہایت غافل اور بے احتیاط واقع ہوئے ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shoukat Ullah

Read More Articles by Shoukat Ullah: 202 Articles with 125140 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 Jul, 2018 Views: 351

Comments

آپ کی رائے