میرے پیارے ماموں کے نام ایک خط

(Mona Shehzad, Calgary)

میرے پیارے ماموں کے نام ایک خط ۔
پیارے ماموں جان !
اسلام وعلیکم!
کل خبر ملی کہ آپ اس جہان فانی سے کوچ کر گئے ۔ابھی رمضان المبارک کے دوران آپ کی علالت کی خبر ملی تھی ۔پھر عید کے بعد پتہ چلا کہ آپ کینسر کے موزی چنگل میں گرفتار ہوگے ہیں۔میں نے جب آپ سے بات کی تو آپ نے مجھے حوصلہ دیا کہ فکر کی بات نہیں ہے ۔اس بیماری کو مینج کرنے کی کوشش کرینگے ۔آپ بس دعا کرو۔
میں فون بند کرکے بھی رو پڑی ۔کینسر ایک مہیب اور ہولناک مرض ہے۔ میں نے زندگی میں اپنے چند پیارے دوستوں کو اس کے ہاتھ شکست کھاتے دیکھا تھا۔
پردیس کے روز وشب بڑے عجیب ہیں ۔ہم لوگ بیماری ؛پریشانی میں بھی فکر روزگار کو چھوڑ نہیں پاتے ۔میرے نزدیک میرا روزگار بھی عبادت کی ایک صورت ہے۔ میرے ہونٹوں پر ہر وقت دعا ورد کی طرح رہتی کہ اللہ تعالی میرے گوگا ماموں کو صحت دے دے ۔میری جان سے پیاری صابر سی مامی کو دکھ نہ دکھانا ۔میری والدہ جن کے بیمار دل کی دھڑکن ان کا بھائی ہے انھیں اس کا دکھ نہ دکھانا ۔مگر شاید میری دعائیں آخرت کے لئے محفوظ کرلی گئیں اور جمعہ کی صبح آپ خاموشی سے عزرائیل کے سنگ رخصت ہوگئے ۔اسی وقت میری اپنی والدہ شدید دل کی گھبراہٹ میں ICU میں زندگی اور موت کی کشمکش میں لڑ رہی تھیں ۔ آپ کے جانے کی خبر ان سے خفیہ رکھی گئی کیونکہ آپ یہ ہرگز نہیں چاہتے کہ آپ کی عزیز از جان بہن پر کوئی آنچ آئے۔
ابھی چند دن پہلے تو آپ ہسپتال جانے سے پہلے بیماری کے باوجود سفر کرکی پنڈی آئے کہ بہن سے مل کر ہسپتال داخل ہونگا ،پھر پنڈی سے گوجرانوالہ دوسری بہن سے ملنے گئے ۔پھر لاہور آکر ہسپتال داخل ہوئے ۔ آپ نے ہمیشہ رشتوں کو محبت سے سینچا ۔آپ نے بھانجے،بھانجیوں،بہنوں ،اپنوں،پرایوں سب کو پیار سے سیراب کیا ۔مجھے آج بھی وہ کھانے یاد ہیں جو ہمارے لاہور آنے پر آپ خاص طور پر خود پکاتے اور دیگچے میں سے اچھی اچھی بوٹیاں نکال نکال کر ہماری پلیٹوں میں ڈالتے اور اپنی بڑی بڑی آنکھیں کھول کر اپنی گہری آواز میں پوچھتے:
ہاں بھی بچوں کیسا بنا ہے۔؟
ہماری گڈو آنٹی انتہائی متواضع اور ملنسار خاتون ہیں۔وہ ہمیشہ ہماری فرمائشوں پر پکاتیں تھیں مگر جس دن آپ نے پکایا ہوتا آپ ان کو بھی چھیڑتے:
ہاں بھی گڈو کیسا پکا ہے ؟
ہمیشہ آپ سے رخصت ہوتے وقت جہاں دعائیں آپ دونوں ساتھ دیتے وہاں ان کے ساتھ ساتھ میری مامی کے محبت سے خریدے ہوئے تحفے بھی زبردستی ساتھ کرتے تھے ۔
اٹھارہ سال قبل آپ نے ہی میرے نکاح نامے پر گواہ کے دستخط کئے تھے۔ایجاب و قبول کے لئے آپ مجھ سے پوچھنے اور دستخط کروانے آئے تھے ۔ میرے سر پر قرآن رکھ کر آپ نے مجھے نئے سفر پر روانہ کیا تھا۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ آپ میری گاڑی کے ساتھ دوڑتے دوڑتے میرے میاں کو نصیحت کرتے جاتے کہ
"ہماری بیٹی بڑی نازوں کئ پلی ہے دھیان رکھنا ۔"
مجھے کہتے:
"بیٹا ! ہمارا سر اونچا رکھنا۔"
بس یادوں کا ایک ریلہ ہے اور میں خس وخشاک کی طرح بہتی جاتی ہوں۔ بچپن سے جوانی تک ہمیشہ آپ سے پیار بھی کیا اور شرارتوں پر ڈانٹ بھی کھائئ ۔ابھی پچھلے تین سال سے آپ کا وعدہ تھا کہ ہم سے ملنے کینیڈا آئینگے ۔مگر یہ واحد وعدہ ہے جو آپ نے پورا نہیں کیا ،شاید آپ کے بس میں نہیں تھا۔
مجھے امید ہے آپ بہت سکون وآرام میں ہونگے ۔میری آپ کی دوبارہ ملاقات انشااللہ دنیا سے اچھی جگہ پر ہوگی۔مجھے یقین ہے کہ آپ دنیا سے خوبصورت اور پرسکون جگہ پر پہنچ چکے ہیں
اچھا ماموں جان اب اجازت دیجیے ۔
آپ کی پیاری بھانجی ۔
مونا شہزاد ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mona Shehzad

Read More Articles by Mona Shehzad: 168 Articles with 178766 views »
I used to write with my maiden name during my student life. After marriage we came to Canada, I got occupied in making and bringing up of my family. .. View More
14 Jul, 2018 Views: 1964

Comments

آپ کی رائے
sad sister,,,jis tarha apny ye article likha hai,,,,ik ik lafz apki feelings mamu sy apk piar ka mouh bolta saboot hai,,,,parh kay bhot sy apny yaad aa gye ,,,khas kar meri nani amma ,,, hum jabh bhi mamu k ghar jaty hein,,,jo saya ban kar hamary pechy pechy phirtien ye kha lu wo kha lu,,,,jabh bhi hum mn sy kisi k exams hty wo roz 2 nafal ada krti hamary liye k paper achy hu jaein,,,,marty dam tak un ka zubaan par mera naam tha ,,,,jitna piar unhe ny diya koi hisaab nhi,, likhny bethun tu kitaab ban jaye,,,apka art parh k wo shiddat sy yaad aye,,,,,par wo hamary dil mn hein aur hamesha rhein gein,,,,,
By: Mini, mandi bhauddin on Aug, 06 2018
Reply Reply
0 Like
شکریہ ۔زندگی کے سفر میں یہ سب سے بڑا المیہ ہے کہ پیار کرنے والوں کاساتھ چھٹ جاتا ہے۔
By: Mona Shehzad, Calgary on Aug, 11 2018
0 Like