گھر کی خوشیاں

(Maryam Arif, Karachi)

 تحریر: ام محمد سلمان ، کراچی
دو دن پہلے محترمہ عابدہ گورمانی صاحبہ کے سسرالی، ازدواجی خوشیوں کے موضوع پر لیکچر سنے تو بے اختیار ہی اپنی ساس امی کی یاد تازہ ہو گئی۔۔۔ ایسا لگ رہا تھا ان کی گفتگو کے آئینے میں میری مرحومہ ساس کا عکس نظر آرہا ہے۔ بس بے اختیار ہی قلم اپنی اماں جی کی مدح سرائی میں چل پڑا۔۔۔ وہ جو بہت مہربان، صلح جو اور خاموش طبیعت تھیں۔یہ ان دنوں کی بات ہے جب میری شادی کو تین چار سال ہی ہوئے تھے ۔ عیدالاضحی کا موقع تھا اور عید کا تیسرا دن تھا جب میری دونوں بڑی نندوں نے بمع اہل و عیال عید ملنے آنا تھا ۔

اماں جی اس دن بہت خوش تھیں کہنے لگیں بہو کھانا اچھا سا بنا لینا، ایسا کرو قورمہ، شامی کباب، اور کچھ میٹھا بنا لو ساتھ رائتہ سلاد وغیرہ ۔ میں نے کہا ٹھیک ہے اماں جی ۔ اور میں بھی خوشی خوشی اپنے کام میں لگ گئی ہاں میں واقعی خوش تھی تہوار پہ بہنیں بیٹیاں گھر آتی ہیں تب ہی تو خوشی دوبالا ہوتی ہے ۔
میں صبح ناشتے کے بعد ہی باورچی خانے میں مصروف ہو گئی ۔ سب سے پہلے کھیر بنا کے رکھی تاکہ ٹھنڈی ہو جائے تو فریج میں رکھ دوں پھر قورمہ بنایا، شامی کباب بنانے کے لیے گوشت اور دال میں باقی مصالحے ڈال کر چولہے پر پکنے کے لیے رکھا اور دوسرے کام نمٹانے لگی ۔ جب وہ آمیزہ پک کے تیار ہو گیا تو اسے سل پر پیس لیا ۔ پہلے گرما گرم روٹیاں پکا کے ہاٹ پاٹ میں رکھیں اور پھر کباب تلنا شروع کیے ۔ اتنے میں مہمان بھی آگئے اور میری دونوں چھوٹی نندوں نے دسترخوان پہ کھانا چن دیا ۔

جب سب کھانے سے فارغ ہو گئے تو دونوں نندیں بھی اماں کے پاس ہی آکر ان کے تخت پر بیٹھ گئیں ۔ چھوٹی نند اپنے شوہر کا نام لے کر کہنے لگیں اماں! ساجد کہہ رہے تھے کباب چٹ پٹے نہیں بنے مرچیں کم رہ گئیں۔
میرا دل ایک دم ہی دھک سے رہ گیا ہائے اﷲ اتنی محنت کرنے پر بھی کھانا انھیں پسند نہیں آیا ابھی میرے دل میں ایسے ویسے خیالات آنا شروع ہی ہوئے تھے کہ ایک دم اماں کی آواز آئی کیا کہا تم نے؟ کباب اچھے نہیں لگے تمہارے میاں کو؟ (اماں کا انداز بڑا تیکھا تھا) یہاں ہماری بہو صبح سے کام میں لگی ہے، دو گھنٹے بیٹھ کر اس نے سل پہ کباب کا مصالحہ پیسا ہے اور تمہارے میاں کے مزاج ہی نہیں مل رہے۔۔؟؟؟

حد کر دی تم نے۔۔۔ ارے وہ ہری مرچوں کی چٹنی علیحدہ سے بنا کے تو رکھی تھی بہو نے، ساتھ میں رائتہ سلاد سب کچھ تھا اور تمہارے میاں کو چٹ پٹے ہی نہیں لگے۔۔۔ جاؤ بی بی خود اپنے گھر جا کر میاں کو مرچوں کے کباب بنا کر کھلا دینا ۔

چھوٹی آپا ایک دم سے گھبرا گئیں ۔ ارے نہیں اماں میرا یہ مطلب نہیں تھا کھانا بہت اچھا بنا میں تو بس یہ کہہ رہی تھی کہ کباب میں تھوڑی مرچیں کم تھیں ۔ ہاں وہی میں بھی کہہ رہی ہوں کہ ذرا سی مرچیں کم رہ گئیں تو کون سی بڑی بات ہو گئی؟ میں نے ہی کہا تھا اسے کہ کباب میں مرچیں کم رکھے ۔ چھوٹی آپا جزبز ہو کر رہ گئیں کہنے لگیں اماں ایسا لگ رہا ہے ہم پرائے ہیں اور وہ آپ کی بیٹی ہے ۔

ارے ہاں یہی ہے میری بیٹی ۔ تم تو اپنے اپنے سسرال چلی گئیں یہ دونوں چھوٹی بھی چلی جائیں گی میرے ساتھ تو وہی رہتی ہے ناں، میرے گھر کی رونق ہے، میرے آنگن کی بہار ہے اور میری کتنی خدمت کرتی ہے تو میں کیوں نہ اسے اپنی بیٹی سمجھوں؟ اور یاد رکھو تم! میری بہوئیں، میری بیٹیاں ہی ہیں ۔ میں انھیں بیٹی سمجھتی ہوں تو وہ مجھے ماں سمجھتی ہیں۔ اور میں حیران ہو کر انھیں دیکھ رہی تھی جانے کیوں آج انھیں جلال سا آگیا تھا حالانکہ ان کا مزاج تو ایسا نہیں تھا۔ بعد میں، میں نے پوچھا اماں آپ کو اتنا غصہ کیوں آ گیا تھا اس وقت؟ اتنی سی تو بات تھی ۔

تو کہنے لگیں اتنی سی بات کہاں تھی؟ تم صبح سے ان کے لیے کھانے پکانے میں مصروف تھیں اور بجائے کھانے کی تعریف کرنے کے، وہ نقص نکالنے لگ گئیں یہ کتنی غلط بات ہے ۔ مجھے بہت دکھ ہوا ان کے اس طرح کہنے سے ۔ اور میں تشکر بھری آنکھوں سے انھیں دیکھتی ہی رہ گئی ۔

بس ایسی ہی تھیں میری ساس امی، اس دنیا سے چلی گئیں مگر اب بھی میری یادوں اور دعاؤں میں رہتی ہیں ۔ مجھے نہیں یاد پڑتا کبھی میرے پکائے ہوئے کھانوں میں انھوں نے عیب نکالا ہو اچھا نہ لگتا تو کہتی تھیں اگلی بار جب پکاؤ تو مجھ سے پوچھ لینا ۔

اور اس وقت تو میری شادی کے شروع دن ہی تھے۔۔۔ جب انھوں نے مجھے سودا لا کے دیا اور کہنے لگیں دلہن! آلو گوشت پکا لو، لیکن شوربا تھوڑا پتلا رکھنا ۔ میں نے حسب عادت سعادت مندی سے سر ہلا دیا اور جب دوپہر کو کھانا لگایا تو وہ پہلا لقمہ لیتے ہی بے ساختہ ہنسنے لگیں۔۔۔ اے دلہن یہ کیا پکایا ہے تم نے؟ یہ کیا قیدیوں کا سا سالن بنا کے رکھ دیا؟ افف خدایا اتنا شوربہ؟ اور پھر ہنسیں۔ ۔ ۔ ۔

اور میں حیران۔۔۔ اماں آپ نے ہی تو کہا تھا کہ شوربہ پتلا رکھنا ہے؟ ہاں میں نے کہا تھا بہو۔۔۔ لیکن اتنا زیادہ نہیں۔ آئندہ جب پکاؤ تو شوربہ اس سے کم رکھنا۔ چلو آجاؤ اب تم بھی کھانا کھا لو شاباش اور میں نے بھی ان کا وہ قیدیوں والا جملہ خوب انجوائے کیا۔

اکثر کھانا کھاتے ہوئے چھوٹے بچے میری گود سے لے لیا کرتی تھیں۔ لاؤ اسے مجھے دو، تم آرام سے کھانا کھا لو۔ پتا ہے مجھے جب بچے گود میں ہوں تو کہاں سکون سے کچھ کھایا جاتا ہے ۔ ان کے ہوتے مجھے کبھی ایسی صورت حال کا سامنا نہیں کرنا پڑا ۔ زندگی میں سکون تھا، آرام تھا، خوشیاں تھیں صرف اس لیے کہ وہ بہو کو اپنی بیٹی سمجھتی تھیں ۔ ان کی باتیں تو بہت ہیں، جی چاہتا ہے ان پر ایک کتاب لکھ دوں۔۔۔ اﷲ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے ان کی قبر کو نور سے بھر دے آمین یا رب العالمین ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1241 Articles with 520079 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Jul, 2018 Views: 299

Comments

آپ کی رائے