ذکر الہی

(Babar Alyas, Chichawatni)
اللہ کا ذکر ہی دلوں کا سکون ھے

یہ نغمہ گل و لالہ کا نہیں پابند
بہار ہو کہ خزاں لا الہ الا اللہ
حدیث قدسی میں ارشاد ہے کہ !
میرا بندہ میرے بار ے میں جو گمان کرتا ہے، میں اس گمان کے ساتھ ہوتا ہوں، جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اُس کے ساتھ ہوتاہوں اگر بندہ مجھے دل میں یاد کرتا ہے تو میں اسے دل میں یاد کرتاہوں اور اگر وہ مجھے بر سر عام یاد کرے تو میں اسے بر سرعام یاد کرتاہوں (بخاری) .

عربی لغت میں ذکر کرنے کے مندرجہ ذیل معانی ہیں یاد کرنا، ذہن میں کسی چیز کو دہرانا ، بار بار دیکھنا یا بھولی ہوئی چیز کو یاد کرنا، قول بیان کرنا وغیرہ اور قرآن میں یہ لفظ نصیحت اللہ کی یاد، نماز ، دعا اور تلاوت قرآن کے معانی میں استعمال ہوا ہے۔

ان سب سے یاد الٰہی اور ذکر خدا مشترک ہے قرآن پاک میں ذکر کے مقابل غفلت کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جن کے معانی خدا فراموشی ہے لہذا ذکر الٰہی کا مفہوم یہ ٹھہرا کہ بندہ مومن اللہ تعالیٰ کی طرف سے کبھی غافل نہ ہو بلکہ ہر وقت اور ہر حالت میں خالقِ حقیقی کو یاد رکھے کیونکہ جو دم غافل سو دم کا فر یعنی جو سانس خدا تعالیٰ کے ذکر سے غافل ہوا وہ کفر کی حالت میں گزری ۔

ذکر الٰہی کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ سے تعلق جوڑنا، رشتہ مستحکم کرنا ہے کیونکہ ذاکر پر اللہ بھی توجہ دیتا ہے اور اسے اپنی رحمت میں چھپالیتا ہے جیسا کہ اوپر حدیث قدسی بیان ہو چکی ہے۔

ایک جگہ سرور کائنات ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ !
جو لوگ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے بیٹھتے ہیں فرشتے ان کے گرد گھیرا ڈال لیتے ہیں، رحمت خداوندی ان پر چھاجاتی ہے۔اطمینان و سکینت ان پر نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ ان کا ذکر فرشتوں سے کرتا ہے(صحیح مسلم)۔

اقسامِ ذکر میں علماء حق اس کی دو بڑی اقسام بیان کرتے ہیں ۔ ۱۔ خفی۔۲۔ جلی اور جیسا کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ترجمہ ’’اور اپنے پروردگار کو دل میں عاجزی سے اور ڈرتے ہوئے دھیمی آواز سے یاد کرو‘‘ (سورۃ الاعراف۲۰۵) ۔

ذکر خفی سے مراد پوشیدہ کے ہیں یعنی دل میں اللہ کا ذکر کیا جائے زبان خاموش رہے اور دل بیدار اور متحرک ہوتا ہے۔ اسے ذکر قلبی بھی کہتے ہیں اور صوفیا ء کرام کے نزدیک تو ذکر قلبی کے وقت درمیان سے کائنات کا واسطہ بھی ہٹادیا جاتا ہے اور براہ راست یاد اللہ کے تصور کو اپنے دل میں جگہ دی جاتی ہے اس لیے ان کا قول ہے کہ ’’جو دم غافل سو دم کافر‘‘ اور ذکر جلی سے مراد وہ ذکر ہے جس میں اللہ کو بلند آواز سے یاد کیا جائے تاکہ سامعین بھی شریک ہوں اسے لسانی یا زبانی ذکر بھی کہتے ہیں اور یہ بھی بیان کرتاھے کہ لسانی ذکر کی بھی دو اقسام ہیں۔
۱۔ الفرادی ذکر : جو انسان اکیلا اور تنہائی کرے۔
۲۔ اجتماعی ذکر: اجتماعی ذکر زیادہ افضل ہے کیونکہ اس صورت میں جذبات و احساسات و خیالات میں یک جہتی پیدا ہوتی ہے۔ اور ذکر کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔

نبی کریم ﷺ نے بھی اجتماعتی ذکر میں بہت فضلیت بیان فرمائی۔قرآ ن کریم میں بھی ذکر الٰہی کے بارے میں ارشادات موجود ہیں کہ۔۱۔ اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ پابند رکھیے جو اپنے پر وردگار کو صبح و شام محض اس کی خوشنودی کی خاطر پکارتے ہیں۔ (سورۃ الکھف۲۸) ۔

دوسری جگہ ارشاد ہے کہ !عقلمند ہیں وہ جو اللہ تعالیٰ کی یاد میں اُٹھتے بیٹھتے اورپہلوں کے بل لیٹے ہوئے مصروف رہتے ہیں اور زمین و آسمان کی تخلیق پر غور و فکر کرکے وہ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار یہ سارا نظام تو نے عبث اور بے کار پید ا نہیں فرمایا پس تو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا(سورۃ عمران ۱۹۱)۔

ایک جگہ اور ارشاد ہوتاہے کہ ! اے ایمان والوں اللہ کو بہت کثرت سے یاد کرو، تو مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا میرا شکر کرتے رہنا اور ناشکری نہ کرنا (سورۃ البقرہ ۱۵۲)۔

سنو دلوں کا سکون و آرام اور اطمینان اللہ کے ذکر میں ہے یقیناًذکر الٰہی بڑی شان والا ہے۔ایک اعرابی نے حضور ﷺ سے سوال کیا کہ کون سا عمل افضل ہے آپ ﷺ نے فرمایا! جب تو دنیا چھوڑے تو تیری زبان اللہ کے ذکر سے تر ہو۔ اس طرح ایک اور حدیث میں ارشاد ہوتا ہے کہ ! حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا لوگو! بہشت کے باغوں کی سیر کرو۔ لوگوں نے عرض کیا بہشت کے باغ کیا ہیں ؟فرمایا مجالس الذکر یعنی ذکر کی مجلس اس طرح حضرت ابو موسی اشعریؓ سے روایت ہے کہ سرورکائنات نے فرمایا جو شخص اللہ کو یاد کرتا ہے ۔ اس کی مثال زندہ جیسی ہے اور جو شخص ذکر نہیں کرتا اس کی مثال مردہ جیسی ہے۔ (بخاری و مسلم )۔ مفسر قرآن حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں ان میں سے ایک صرف ذاکرین کے لیے ہے۔ اللہ کے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ !مفرد لوگ (یعنی اہل تفرید و توحید)بہت آگے بڑھ گئے صحابہؓ نے عرض کیا مفرد کون ہیں ؟ فرمایا اللہ کثرت سے ذکر کرنے والے مرد اور عورتیں (مسلم)۔اور ابو داؤد کی روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا! میں تمہیں ایسی چیز ن بتاؤں جو درجات کو بلند کرنے والی ہو اور سونے چاندی ( اللہ کی راہ میں ) خرچ کرنے سے بھی بہتر اور (جہاد) میں دُشمنوں کو قتل اور قتل ہونے سے بھی افضل ہے صحابہؓ نے کہا ضرور فرمائے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا ذکر (مسند احمد )۔ ان احادیث سے ذکر کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے اور ذکر الٰہی کو جہاد اور دیگر اعمال پر فضیلت دینے سے مراد یہ ہے الٰہی اطاعت الٰہی کی اصل اور اعمال خیر ہے ۔ نبی کریم ﷺ کی احادیث مبارکہ سے اور قرآنی آیات سے جو ذکر الٰہی کی فضیلت معلوم ہوتی ہے اور صحابہ کرامؓ کی زندگیوں میں اس تلقین کا بڑا خوشگوار اثر ہوا ۔ خود آپ ﷺ کی زندگی سراپا ذکر تھی اور قرآن مجید میں ذکر الٰہی کو اہل ایمان کا خاص وصف بیان کیا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کواُٹھتے بیٹھے اور لیٹے ہر حال میں یاد کرتے ہیں (سورۃ عمران ۱۹۱)۔ میرے ہم وطنو! مادہ پرستی کے موجودہ دور میں ہر شخص پریشان اور دنیا کا طالب نظر آتا ہے اس وجہ سے آج کا جدید انسان حقیقی مسرت سے محروم ہے و ہ امن و سکون کا متلاشی ہے دنیا اسے ذہنی سکون اور قلبی اطمینان دینے میں ناکام رہی ہے۔ ذکر الٰہی سے دل اطمینان پاتے ہیں۔ حضرت معاذ بن جبلؓ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر سے بڑھ کر کسی آدمی کا کوئی عمل عذاب قبر سے نجات دلانے والا نہیں ہے ۔ انسان ذکر الٰہی سے اللہ کا محبوب بن جاتا ہے اور اسے قرب الٰہی نصیب ہوتا ہے اس کی دُعا قبول ہوتی ہے۔ ذکر کرنے سے آدمی میں خشوع و خضو ع، عاجزی اور خوف الٰہی پیدا ہوتا ہے۔ قرآن میں ہے کہ ! ۱۔ اللہ کو کثرت سے یاد کرو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ (سورۃ حم ۱۰)۔ ۲۔ اور جب اللہ کو یاد کیا جاتا ہے تو ان کے دل کانب اُٹھتے ہیں پس اصطلاح میں اللہ تعالیٰ کی تقدیس اور تسبیح توحید اور تحمید اس کی عظمت و جلالت اور اس کی صفات کمال کے بیان اور دھیان کو ذکر الٰہی کہا جاتا ہے۔ ذکر الٰہی وہ راستہ ہے کہ اس سے بندہ بارگاہ عالیہ تک پہنچ سکتا ہے۔ آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے کہ ذکر اللہ سے ہمارے قلوب منور اور ہماری زبانیں تر رہیں ، اور اس کی برکات و ثمرات ہمیں نصیب ہوں (آمین)۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Babar Alyas

Read More Articles by Babar Alyas : 254 Articles with 90831 views »
استاد ہونے کے ناطے میرا مشن ہے کہ دائرہ اسلام کی حدود میں رہتے ہوۓ لکھو اور مقصد اپنی اصلاح ہو,
ایم اے مطالعہ پاکستان کرنے بعد کے درس نظامی کا کورس
.. View More
01 Aug, 2018 Views: 956

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ