ریاست پاکستان اور مظفرآباد کے زندہ لاشیں بنتے دس لاکھ انسان

(Tahir Ahmed Farooqi, muzaffarabad azad kashmir)
ریاست پاکستان اور مظفرآباد کے زندہ لاشیں بنتے دس لاکھ انسان

پورے ملک کی طرح آزادکشمیر کے عوام بھی معمول کے ماحولیاتی خطرات سے دوچار ہیں یہاں کے دیہی علاقوں میں تاحال صورتحال بہتر ہے مگر دس اضلاع کے صدر مقامات شہروں میںآبادی کے دباؤ میں اضافے کے ساتھ بے ہنگم تعمیرات اور درختوں سبزہ زار کے ختم ہونے کے باعث ماحولیاتی مسائل وباء بنتے چلے آرہے ہیں جنکے تدارک کے لیے برسہا برس سے تمام انتظامات قوانین دعوے زبانی جمع خرچ ثابت ہوئے ہیں جسکے نقصانات بچپن سے جوانی اور بڑھاپے کی طرف لے جانے کی طرح بظاہرشدت سے محسوس نہیں ہوئے مگر ناصرف نو سال پہلے خوفناک زلزلے سے تباہی بربادی بلکہ فالٹ لائنیں موجود ہوتے ہوئے ایسے ہی خطرے کے باوجود عالمی ماہرین کی رپورٹس جائیکا پلان کے تحت تعمیر نو میں عوام کو محفوظ رکھنے کے تمام عوامل کو نظر انداز کرکے مطلوبہ اقدامات نہیں کیے گئے بلکہ اسلام آباد سے محسن زلزلہ زدگان صدر پرویز مشرف کی حکومت جانے سے پہلے ہی یہاں سیاسی علاقائی قبیلائی تعصبات میں گرگٹ کی طرح رنگ دکھانا شروع کیے اور تعمیر نو (شہداء کی لاشوں )پر ملنے والے فنڈز اور منصوبہ بندی کا جنازہ نکالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی حتیٰ کہ دارالحکومت پہلے سرساوہ اور پھر کوہالہ کی جانب منتقل کرنے کے منصوبے بنتے رہے مگر راتوں کو بھی یہاں آکرپہرہ دینے والے جنرل پرویز مشرف اور پاک افواج خلق خدا کے لیے مسیحا ء بن گئے۔ تاہم ان کے جانے کے اثرات کے ساتھ ہی ایسا کھیل شروع کیا گیا کہ سات ارب کا واٹر سپلائی سیوریج لائن کا منصوبہ کرپشن کی کھلی دہشتگردی ثابت ہوا ہے یہ دیانتدار ی شفافیت معیار کے مطابق مکمل کیا جاتا تو آج نیلم جہلم پراجیکٹ کے کام شروع کرنے کے باوجود واٹرسیوریج کا سوسالہ محفوظ مستقبل سے بھر پور نظام موجود ہوتا اور شہرکو خوفناک مستقبل کا سامنا نہ ہوتا لیکن یہ پورا سسٹم سڑکات کے نیچے پوشیدہ ہونے کے باوجود مٹی کا ڈھیر ثابت ہورہا ہے ،ان پر تعمیر کردہ سڑکات بناتے ہوئے واٹر سپلائی سیوریج سسٹم کو درمیان میں رکھ کر مزید اربوں روپے خرچ کردیے گئے جسکا اب کوئی مدوا ء نہیں ہے ،اس میں ایراء کے انتظام میں شامل افراد کو یہاں کے سیاسی قبیلائی سرکاری سٹیٹ اپ میں عناصر پر مشتمل مافیا نے شریک جرم کرتے ہوئے یہ دہشتگرد کرپشن کا فراڈ کرکے کم وبیش دس لاکھ آبادی اور ان کے نونہالوں کے مستقبل سے داعش کی دہشتگردی سے کم ظلم نہیں کیا اب اس بربریت کو نیلم جہلم ہائیڈرل پراجیکٹ کیساتھ نتھی کرکے توجہ منتشر کی جاری ہے نیلم جہلم پراجیکٹ شروع کیا گیا تو یہاں کے سیاسی قبیلائی سرکاری محکموں کے اندر سب چپ بیٹھے رہے جنرل مشرف جیسے دارالحکومت کو بچانے والے محسن کی موجودگی میں شاندار معاہدہ کیا جاسکتا تھا مگر واپڈا اور یہاں کے کاریگرمافیا اس سرزمین کے عوام پر مستقبل محفوظ بنانے کے فریضے کو پورا کرنے کے بجائے لوٹ مال کے کھیل میں سبقت لے گئے اربوں کا پراجیکٹ کھربوں میں پہنچادیا مگر ماحولیاتی تحفظ سمیت پانی ودیگر لازمی ضروریات کے اعتبارسے ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے رہے جس کے لیے ابتدائی طور پر چھ ارب کے انتظام کا بروقت استفادہ کیا جاتا یہ بھی کھرب تک پہنچ کر ماحولیات پانی سیوریج سمیت تمام مطلوبہ منصوبہ جات پر عمل کر کے قابل فخر مثال نظرآرہا ہوتا مگر ایک بارش نے جس طرح شہداء زلزلہ کے غداروں کو بے نقاب کرکے ثابت کیا سات ارب کا یہ انتظام ملبہ ہے تو نیلم جہلم پراجیکٹ کے پہلے دوسرے یونٹس سے بجلی پیدا کرنے کے لیے پانی کا رخ سرنگوں کی طرف کرنے سے نوسیری سے کوہالہ اور شہر کے اندر درجہ حرارت کے یکدم بدل جانے سے گرمی کا طوفان کہرام بن گیا اور دریاے کے خاموش ہونے سے سارے شہرکو نالہ لئی بننے کی پیشگوئیاں سچ نظرآنے لگیں ۔ہر طرف ہر جگہ مٹی کے ڈھیروں گندگی غلاظت کے پھیلتے مناظر اور بدبو تعفن کا سیلاب بن چکے ہیں یہاں رہنے والوں کی زندگیاں ہسپتالوں میں تڑپتے مریضوں کے حال سے کم مختلف نہیں ہوں گی مگر اس طرف سپریم کورٹ آف پاکستان کا آڈر چلتا ہے نہ نیب دیکھ سکتی ہے کشمیرکونسل کے ماضی جیسا حال ہے جو یہاں جواب دے تھی نہ وہاں پوچھا جاسکتا تھا تحریک کشمیر اور ریاست کی متنازعہ حیثیت کو ڈھال بنا کر وہاں کے شہداء کشمیر یہاں کے شہداء زلزلہ کے تقدس قربانیوں کو کعبہ کی طرح محترم رکھنے کے بجائے گدوں گیدڑوں کی طرح ان کی مقدس دھرتی کی کمر میں چھرے گھونپ کر ان منصوبوں میں فراڈ کی ساری حدیں پار کر دیں ۔کوئی پوچھے گا تو متنازعہ حیثیت کا ہمیشہ کی طرح آزمودہ فارمولے کا استعمال کرکے تعصباتی ڈھال کی اوٹ میں چھپ جائیں گے اور عوام کو بیوقوف بناتے رہیں گے ،اقتدار مفاد کے لیے یہاں کے آئین کو سپریم کورٹ پاکستان میں لے جاتے ہیں مگر شہدائے کشمیر شہداء زلزلہ کے وارثوں کے مستقبل کے ساتھ سیاسی اخلاقی مالیاتی ’’ریپ‘‘ہوجائے ریاستی تشخص متنازعہ حالت کی آڑ میں مخلص بے لوث عوام کی اپنی سرزمین سے عشق ومحبت کا قصائیوں کی طرح فائدہ اُٹھا کر ان کے جذبات کا کھلواڑ کیا جاتا ہے ،شکرالحمداللہ ملت پاکستان نے مذہب وطن جمہوراور قومی سلامتی عوامی مفاد کے ناموں کی چادراوڑھے ناخدابنے بتوں کا غرور خاک میں ملا دیا ہے نیب پاکستان میں بہت سارے سکینڈلز کے ساتھ نیلم جہلم پراجیکٹ میں کرپشن کی تحقیقات کے لیے منظوری دے دی ہے یہاں کے عوام بھی جاگیں آمدہ موسم سرما آخری مہلت بن کر آرہا ہے اس دوران غیر سیاسی غیر تعیصباتی غیر جماعتی ،غیر نظریاتی افکار کی بنیادوں پر اپنے حقوق کے تحفظ اپنی نسلوں کو محفوظ مستقبل منتقل کرنے کے لیے اپنے اور اپنے شہداء کے میر جعفر میر صادق کرداروں کیخلاف سوشل میڈیا سے لیکر سماج کے میدان تک پراُمن ریلی واک مظاہروں اجتماعات کے انعقاد کے ذریعے مسلسل جدوجہد کرتے ہوئے کیفرکردار تک پہچانے کی شعوری آوازکوکامیاب بنائیں یہ شہر ریاست جموں وکشمیر کے تمام علاقوں زبانوں سے تعلق رکھنے والوں کا باغ یکجہتی ہے جس کا رشک آور اُجلا صحت مند چہرہ وکردار اس طرف اور دوسری طرف سب کے وقار کا ضامن ہے اپنے شہر اپنے علاقے کو قبرستان اور آثارقدیمہ کے زہریلے خنجروں کے وار سے بچایا ہے تو نالہ لئی کا منظر لانے کے کھلواڑ میں ملوث سب کو جیلوں میں سڑتا دیکھنے کا حوصلہ اور جہد بھی پیدا کریں جسکے بغیر شہر کو اُجلا ء اور زندگی گزارنے کے قابل بنائے رکھنے کے دیئے روشن نہیں رہ سکیں گے جاگو اور جگاؤ ریاست پاکستان کو مجبور کرو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اچھی حکمرانی انصاف مساوات کے ساتھ عوامی فلاحی فریضہ کے مینڈیٹ پر عملدرآمد یقینی بنائے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tahir Ahmed Farooqi

Read More Articles by Tahir Ahmed Farooqi: 204 Articles with 67698 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Aug, 2018 Views: 291

Comments

آپ کی رائے