اسلام کا وقار کیسے بحال ہو؟

(Prof Masood Akhtar Hazarvi, )

 الحمد ﷲ ہم پورے جوش و خروش کے ساتھ اپنا اکہترواں یوم آزادی منا رہے ہیں۔اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ستانوے فیصد آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ اسلامی شعائر کی عزت و تعظیم ان کے خون کے ایک ایک قطرے میں شامل ہے۔ہرمسلمان ناموس رسالت مآبﷺ پر اپنا سب کچھ قربان کر دینا ابدی سعادت سمجھتا ہے۔اسلام مخالف قوتوں کی طرف سے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہمیشہ کوشش کی جاتی رہی کہ اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کیلئے کسی نہ کسی طرح سے مسلمانوں کے دلوں سے دینی غیرت اور جذبہ عشق رسولﷺ کو نکال پھیکا جائے ۔بقول اقبالؒ
یہ فاقہ کش جو موت سے ڈرتا نہیں ذرا روح محمدﷺ اس کے بدن سے نکال دو
فکر عرب کو دے کر فرنگی تخیلات اسلام کو حجاز و یمن سے نکال دو

مسلمان معاشروں میں فکری انتشاراور مذہبی تذبذب پیدا کرنے کیلئے سیکولر نظام تعلیم کی ترویج بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔برصغیر میں 1857 سے پہلے مسلمانوں کے مختلف ادوار میں قائم شدہ تعلیمی اداروں میں جدید و قدیم علوم سے آراستہ تعلیم دی جاتی تھی جو طالبعلموں میں وسعتِ نظری کے ساتھ ساتھ اپنے عصری مسائل کے ادراک کا شعور بھی پیدا کرتی تھی۔ اس نظامِ تعلیم نے مسلمانوں میں اسلامی طرز زندگی کے خد و خال نمایاں کیے۔انہیں معاشرے کا باوقار فرد بنایا اور ان کے قلوب و اذہان میں اسلام کی سچی محبت پیدا کی۔ کئی صدیوں سے رائج یہ تعلیمی نظام اُس وقت تنزلی کا شکار ہو گیا جب برطانوی راج کے ہاتھوں مسلمان اقتدار سے محروم ہوگئے اور حکومتی سطح پر سیکولر تعلیمی نظام رائج کردیا گیا ۔ مشہور مبصر William Wilson Hunter) کو 1881 میں متحدہ ہندوستان میں ایک تعلیمی کمیشن کا سربراہ بنایا گیا۔ اس کمشن نے تحقیقات کے بعد 1884میں اپنی ریپورٹ پیش کی کی۔ موصوف اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ’’ہندوستان میں اقتدار پر ہمارا قبضہ ہونے سے قبل برصغیر کے مسلمان صرف سیاسی طور پر ہی نہیں بلکہ علمی حوالے سے بھی طاقت ور تھے۔ ان کا قائم کردہ نظامِ تعلیم ہمارے نظامِ تعلیم سے بہت بہتر تھا۔ اس حقیقت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ وہ نظام علمی تربیت اور اخلاقی نکھار کے حسین اصولوں پر مبنی تھا ۔ لیکن ہم نے مسلمانوں کے اس نظام تعلیم کو اس انداز میں پیش کیا کہ لوگوں کو یہ بات ذہن نشین ہو جائے کہ یہ ’’نظام فرسودہ ‘‘ہے‘‘ ۔ مسلمانوں کی تاریخ گواہ ہے کہ انہوں نے دینی اور دنیوی تعلیم کی تقسیم کبھی کی ہی نہیں تھی۔یہ تو برصغیر میں ایک غلام قوم کوملنے والا وہ فرنگی تحفہ ہے جسے بغیر سوچے سمجھے ہم نے پلے باندھ لیا اور اسلام جیسے عظیم اور مکمل ضابطہ حیات کو ماننے والے ابھی تک یہ راگ الاپنے لگے۔ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ حضرت امام جعفر صادق رضی اﷲ عنہ کے شاگردوں میں اک طرف امام ابو حنیفہؒ و امام مالک ؒ کے نام ہیں تو دوسری طرف مشہور مسلم سائنسدان جابر بن حیانؒ بھی ہے۔ دو اول الذکر شخصیات فقہ کے امام بن گئے اورجابر بن حیان ؒنے سائنس کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ اسلام میں لادینیت پر مبنی نظام تعلیم کا کبھی تصور نہیں رہا لیکن بد قسمتی سے برصغیر میں نو آبادیاتی دور میں سیکولر علوم کی ترویج نے مسلمان ارباب اختیاراور مسلم معاشرے کے قلوب و اذہان پر پر گہرے نقوش ثبت کیے ۔ اس کا اثر ابھی تک اس قدر شدید ہے کہ آزادی حاصل کرنے کے باوجود ہم ذہنی کمتری اور نقالی کی روش سے جان نہیں چھڑا سکے۔اگر واقعی ہم اسلام کی عظمت رفتہ کی بحالی چاہتے ہیں تو پہلی توجہ اس سمت مبزول کرنی پڑے گی۔ایک اور اہم بات یہ کہ مغربی ممالک میں کام اورمحنت کشی میں شخصی وقارہے۔ مشہور واقعہ ہے کہ امریکہ کا بتیسواں صدر (1933-1945) Franklin D. Roosevelt اپنے جوتے پالش کر رہا تھا۔ سیکرٹری نے معاونت کی کوشش کی تو اس نے منع کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے جوتے خود پالش کرتا ہوں تاکہ مجھے کسی اور کے جوتے پالش نہ کرنے پڑیں‘‘ ۔ محنت مزدوری، رزق حلال کی تلاش کیلئے تگ و دو اور اپنے ہاتھوں سے کام کاج کرنا اسلام میں بھی بڑی فضیلت والا کام ہے۔ لیکن انگریز دور میں جب ریونیو ریکارڈ مرتب ہوا تو اس میں برصغیر اور خصوصا پنجاب میں آبادی کو دو حصّوں میں تقسیم کر دیا – ایک زمیندار جنہوں نے انگریز سے وفاداری کے صلے میں زمینیں، جاگیریں، اور جائیدادیں حاصل کی تھیں یا پہلے سے ہی خاندانی زمیندار تھے۔ دوسرے طبقے میں محنت مزدوری سے رزق کمانے والے لوہار، ترکھان، جولاہے، موچی، کمبہار وغیرہ شامل کیے گئے ۔ اسلامی شعائر اور اقدار کوDegrade کرنے کیلئے اسی فہرست میں چوتھے نمبر پر امام مسجد کو’’ کمیوں‘‘ میں شامل کیا گیا جبکہ چرچ کے پادری کو’’ فادر‘‘ کا لقب دے کر عزت افزائی دی گئی۔ معاشرے کے کسی بھی طبقے کو رزق حلال کی تلاش کیلئے محنت کی بنا پر حقیر جاننا قابل مذمت فعل ہونے کے ساتھ ساتھ سماج کے بیمار ذہن کا عکاس ہوتاہے۔ مساجد مذہب و ملت کے ایسے عظیم الشان قلعے ہیں جن کے ذریعہ ہمیشہ سے اسلام اور اس کے شعائر کی حفاظت کی جاتی رہی ہے۔معاشرے میں ان کی اہمیت و افادیت کا انکار ممکن نہیں۔اسلام کی عظمت رفتہ کی بحالی کا خواب اس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا جب تک ہم مساجد کے مقام اور ائیمہ کرام کے وقار کو بحال نہیں کریں گے۔ آج کے اس مادی دور میں ہر علم و فن کے حصول کے پیش منظر میں مالی منفعت کی خواہش کارفرما ہوتی ہے۔ وہی ڈگری لی جاتی ہے ، وہی ہنر سیکھا جاتا ہے جس سے اچھی جاب مل سکے یا بہتر کاروبار کر ہوسکے۔ مسجد کا امام بننے کیلئے ایک طالب علم آٹھ سال تک قرآن و حدیث اور ان کی تفہیم کے معاون علوم حاصل کرتا ہے۔ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن نے ’’ شہادۃ العالمیہ‘‘ کو ایم اے عربی اور اسلامیات کے مساوی تسلیم کیا ہوا ہے۔ لیکن اکثر مساجد میں امام کو ایک ادنیٰ ترین سرکاری ملازم جتنی تنخواہ بھی نہیں دی جاتی۔لھذا کسی کو کیا مصیبت پڑی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو دینی تعلیم دلوائے۔ تبدیلی کے اس موسم میں ایک گزارش یہ بھی ہے کہ یونیورسٹی سطح تک دینی و عصری علوم میں خوبصورت امتزاج پیداکیا جائے تاکہ مختلف شعبہ جات میں جانے والے لوگ عصری علوم و فنون کے ساتھ اسلامی اقدار سے بھی آگاہ ہوں ۔امامت کا ایک باوقار علمی معیار مقرر کیا جائے اورہر امام کو وقت حالات کے مطابق دل کش معاوضہ اور مراعات دی جائیں ۔ آپ دیکھیں گے کہ کچھ ہی وقت بعد تبدیلی کا سویرا طلوع ہوگا اور بے شمار گھروں میں دینی و علمی بصیرت کے حامل نوجوان نظرآئیں گے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Masood Akhtar Hazarvi

Read More Articles by Prof Masood Akhtar Hazarvi: 197 Articles with 123794 views »
Director of Al-Hira Educational and Cultural Centre Luton U.K., with many years’ experience as an Imam of Luton Central Mosque. Professor Hazarvi were.. View More
15 Aug, 2018 Views: 377

Comments

آپ کی رائے