معاشی اصلاحات۔۔۔ریاست سے افراد تک

(Zain ul Hassan, Jalal Pur Bhatian)

سوال کسی دو منزلہ عمارت کی تعمیر کاہو یا لاکھوں مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلے کسی ملک کی تنظیم کا، یقیناً وسائل کا حصول نا گزیر ہے۔ لہذا ریاست کے نظم ونسق کو چلانے کے لیے ان وسائل سے سرمایہ پیدا کرنے اور پھر سرمائے کی عوام تک مناسب تقسیم کے لیے ایک نظام ترتیب دیا جاتا ہے، جو نہ صرف معاشرے میں انصاف کو یقینی بناتا ہے بلکہ حقیقت میں پوری ریاست کی ترقی و خوشحالی اور امن و امان کی بنیاد ہوتا ہے۔ تاہم پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال میں صرف اتار چڑھاؤ ہی نہیں بلکہ تقسیم سے ہی چند ایسے گڑھے موجود ہیں، جو وقت کے ساتھ مزید گہرے ہوتے جارہے ہیں۔ نتیجتاً ملک میں کاروبار ٹھپ پڑے ہیں، بے روزگاری عام ہے اور لوگوں کو روٹی، کپڑا اور مکان جیسی بنیادی ضروریات بھی میسر نہیں۔یہاں تک کہ مجموعی طور پر ملک کی 30 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔ آخر قدرتی وسائل سے مالامال ہونے کے باوجود ایک عام آدمی کی ان تک رسائی ممکن کیوں نہیں؟ حالانکہ اﷲ تعالیٰ کا واضح ارشاد ہے:
ھو الذی خلق لکم مافی الارض جمیعا۔
’’اﷲ تعالیٰ نے تمہارے لئے زمین میں سب کچھ پیدا کیا ہے۔‘‘(البقرہ:29)

وہ یقیناً ہر شے کا پالنے والا ہے مگر خلیفتہ اﷲ کی حیثیت سے تقسیم کا اختیار کافی حد تک انسان کے اپنے پاس ہے۔ اگر وہ خالق کے بنائے ہوئے قوانین اور معاشی ڈھانچے کو پسِ پشت ڈال کر سرمایہ درانہ یا اشتراکیت کا نظام اپنا لے، جو کہ مکمل طور پر سود کی بنیاد پر کھڑے ہیں تونتیجہ یہی ہوگا کہ آج پوری دنیا کے تقریباً 50 فیصد ذخائر فقط ایک فیصد لوگوں کی ملکیت ہیں۔ پاکستان میں بھی صورتحال کسی قدر مختلف نہیں۔ ورنہ کیوں 60 فیصد نوجوان آبادی والے رکھنے والا ملک آج بھی غیروں کی قوت بازو کا محتاج ہے؟ مزید یہ کہ ملک کے اندر بے روزگاری کی شرح 5.72 فیصد ہے جو رواں سال کے اختتام پر مزید بڑھ جانے کا خدشہ ہے۔ اگر ان حالات کے ذمہ داران میں ملک کی سیاسی صورتحال کا بھی نام لیا جائے تو کچھ غلط نہ ہو گا۔ تقسیم کے فوراً بعد ہی سے امداد کے نام پر لیے جانے والے قرضوں نے ملک کو یوں جکڑا کہ ہم آج تک ان کے شکنجے سے باہر نہیں نکل سکے۔ اوپر سے قرض حسنہ، آشیانہ سکیم اور انکم سپورٹ جیسی محدود معاشی اصلاحات کی مدد سے عوام کو ملکی ترقی کے سبز باغ دیکھا کر معیشت کا فقط پینٹ بدلا جاتا ہے اور تمام مسائل جوں کے توں باقی رہتے ہیں۔ مثلاً گزشتہ پانچ میں لیے ہوئے قرضے کا نصف سابقہ قرضہ جات کی ادائیگی پہ صرف ہوا جبکہ مجموعی طور پر ملک پر 18 بلین ڈالر کا بوجھ مزید بڑھ گیا۔ اسی طرح وقتی استحکام کے نام پر ملکی پالیسیوں اور اس کے وسائل پر بیرونی طاقتوں کی اجارہ داری مفاہمت کے نام پر قبول کر لی جاتی ہے۔ جہاں تک سیاسی شخصیات کا تعلق ہے تو ان کو ملکی مفاد سے کوئی غرض نہیں، جس کا واضح ثبوت ان کی نام نہاد معاشی پالیسیاں ہیں۔ خزانہ بھرنے کے لیے ریاستی اداروں کی نجکاری کر دی جاتی ہے اور نجکاری کا پیسہ کرپشن کی نذر ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ درآمدات اور برآمدات میں عدم توازن، بیرونی سرمایہ کاری کی کمی، قدرتی ذخائر کا عدم استعمال، شرح خواندگی میں کمی، دہشت گردی، کرپشن، اقربا پروری اور اس جیسے دیگر مسائل خوشحال معاشرے کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ نتیجتاً ایک عام آدمی تمام وسائل سے محروم رہتا ہے جس سے ''بھوک انسان کو کفر تک لے جاتی ہے '' کے مصداق متعدد دیگر مسائل نہ صرف معاشرے میں جنم لیتے ہیں بلکہ بڑی تیزی سے اپنی جڑیں بھی مضبوط کرتے ہیں۔آج ملک کی 59 فیصد آبادی بے روزگار ی کو ہی اپنا بڑا مسئلہ سمجھتی ہے۔ لہذا جب تک خالق کے بنائے ہوئے قوانین سے جدید جملہ ریاستی اداروں کی پیوندکاری نہیں کی جاتی، کسی حقیقی تبدیلی کا خیال محض خام خیال ہی ہے۔۔۔

یقینا اس تمام صورتحال کے باوجود انسان اپنی آنکھیں بند کر ان مسائل کے ہونے کو کوس نہیں سکتا بلکہ ان کے حل کیلیے آواز اٹھانا ہی اولین فرض ہے۔ بقول حبیب جالب:

؂ ہر شخص اب سر پر کفن باندھ کر نکلے
حق کیلیے لڑنا تو کبھی بغاوت نہیں ہوتی

دوسرا یہ کہ ہر ممکنہ حد تک اپنی معاشی صورتحال کی بہتری کے لیے اقدامات کیے جائیں، تو آئیے دیکھتے ہیں وہ کون سے ایسے عوامل ہیں جو کسی شخص کے لیے اپنی معاشی صورتحال بہتر کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں:

''لاتقنطو''، ''الا ماسعی'' اور '' الکاسب حبیب اﷲ'' کے الفاظ سفرِ معاش میں ایک شخص کے لیے عملی ضابطے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لہذا اس بات سے انسان کے غلط راستوں کے تمام بے بنیاد دعوے رد کر دے گئے ہیں۔ اوـل تو اﷲ کی رحمت سے مایوسی ایک عظیم گناہ ہے۔ جس کا عملی تقاضہ یہ ہے جس حد تک ممکن ہو اپنی کوشش جاری رکھی جائے، پھر تھوڑا ملے یا کم، اس سے بہتر کیا ہو سکتا کہ اﷲ کا دوستانہ مل جائے۔
رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا:کسی نے اس سے بہتر کھانا نہیں کھایا جو اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھائے۔''
اس کے ساتھ ہی گداگری کی شدید الفاظ میں ممانعت بھی کی گئی ہے:

''تم میں سے کوئی شخص رسی کپڑے اور اپنی پیٹھ پر لکڑی کا گٹھا لا د کر لائے یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی شخص کے پاس آئے اور اس سے سوال کرے،وہ اسے دے یا نہ دے۔‘‘

انسان 'کوشش' کے زمرے میں بھی کئی مؤثر اقدامات سر انجام دے سکتا ہے جیسا کہ:

(۱) کسی بھی مسئلے کے حل کے لیے اس کا صحیح ادراک بہت ضروری ہے۔ لہذا ہر صاحب ِفہم شخص کو چاہیے کہ اپنے اخراجات کا حساب رکھے اور روزانہ کی بنیاد پر ان کا جائزہ لے، جس سے مستقبل کا لائحہ عمل تیار کرنے میں آسانی میسر آسکے۔

(2) انسان کو اپنی معاشی صورتحال کے پیشِ نظر اپنے اخراجات کو کم سے کم کرنا چاہیے اور جہاں تک ہو سکے آمدن کا ایک خاص حصہ بچت کے طور پر مخصوص کر لینا چاہیے، جو کسی مناسب وقت پر استعمال ہو سکے یا کسی طرح کی سرمایہ کاری کا ذریعہ بن سکے۔مختصراً چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانے چاہیے۔

(3) ایسے لوگوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہنا چاہیے جو مثبت فکر کے حامل دوسروں کے لیے خیر سگالی کا جذبہ رکھتے ہوں اور اور جن سے سیکھنے کے مواقع میسر آسکتے ہوں۔

(4) قسمت کو قصوروار ٹھہرا کر ہاتھ پہ ہاتھ نہیں رکھا جا سکتا۔ یقینا مواقع تبھی پیدا ہوتے ہیں جب انسان اپنا سفر جاری رکھتا ہے۔ قسمت کو کوسنے سے کچھ ہاتھ نہیں آتا بلکہ وہ قیمتی سرمایہ بھی چھوٹ جاتا ہے جو وقت کی صورت میں موجود ہے۔ دوسرا یہ کہ کسی پرائس بانڈ یا لاٹری کے ذریعے راتوں رات امیر ہونے کا خواب بھی محض دھوکہ ہے۔ لہذا اس سے ہر ممکنہ حد تک گریز کرنا چاہیے۔ یقیناً ''قطرہ قطرہ قلزم'' کی مصداق کامیابی کا کوئی شارٹ کٹ موجود نہیں ہے۔

(5) بہتر سے بہتر کی خواہش میں انسان اکثر اپنا سب کچھ کھو دیتا ہے۔ اوروں کو دیکھنے کے بجائے انسان کو اپنے سفر پہ دھیان دینا چاہیے اور ہر معاملے میں قناعت پسندی کی روش اپنانی چاہیے۔ ورنہ ''ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے ''کے مصداق زندگی میں انسان کبھی بھی مطمئن نہیں ہو سکتا۔

(6) اپنے آپ کو ہر ممکنہ حد تک مصروف عمل رکھنا چاہیے۔ اکثر وقت گزرنے کے ساتھ انسان کے ہنر کی بھی کوئی قیمت نہیں رہتی۔ لہذا بدلتے وقت کے ساتھ خود کو نئے راستے پر ڈال لینے میں کوئی بری بات نہیں۔'ہر فن مولا' افراد بدلتے وقت کے ساتھ حالات کے مطابق خود کو ڈھال لیتے ہیں۔

(7) آج کے دور میں روزگار کا ایک بہترین ذریعہ آن لائن ارننگ (Free lancing)بھی ہے۔ متعدد ویب سائٹس یہ مواقع فراہم کرتی ہیں جن سے بھر پور حد تک فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

(8)تعلیم بذات خود ایک عظیم سرمایہ ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں تعلیمی نظام ایسا نہیں ہے کہ وہ روشن مستقبل کی ضمانت ہو۔ تاہم صرف اس بات کو جواز بنالینا بھی نا انصافی ہو گی, انسان کو مؤثر تعلیم کی طرف دھیان دینا چاہیے اور خود کو بجائے صرف کتابوں تک محدود کرنے کے اپنے علم کو عملی زندگی میں استعمال کرنا چاہیے۔ آج ملک کا ایک بہت بڑا پڑھا لکھا طبقہ چند اسی طرح کے مسائل کی وجہ سے بے روزگاری کا شکار ہے۔

(9) اپنے مال ایک خاص حصہ ضرورت مندوں پر اﷲ کی راہ میں خرچ کر دینا بھی ایک محبوب عمل ہے جس سے خوشحالی کے راستے خود بخود کھلتے چلے جاتے ہیں۔

'' تم جو کچھ مال خرچ کرو گے اس کا پورا پورا بدلہ تمہیں دیا جائے گا اور تمہارا حق نہ مارا جائیگا۔'' (البقرہ: 273)

(10) کاروبار میں ملازمت کی نسبت ترقی کے مواقع زیادہ ہوتے ہیں۔ لہذا محض چند ہزار روپوں کی نوکری کی خاطر در بد ٹھوکریں کھانے سے کئی درجے بہتر ہے کہ انسان اپنے محدود وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے کوئی کسی ذاتی کاروبار کا آغاز کر لے۔ آج بہت سے چہرے ایسے ہیں جو خود اعتمادی اور محنت کے بل بوتے پر اسی اصول پر عمل کرتے ہوئے ملک کے لیے باعثِ فخر بن چکے ہیں اور یہ گن گاتے نظر آتے ہیں:

؂ جب مَیں آیا تو اکیلا تھا، گِنا تھا تُم نے
آج ہر سمت مِرے چاہنے والے گِن لو

خلاصہ کلام یہ ہے کہ پاکستان کے معاشی نظام میں جدید اصلاحات کی ضرورت ہے جو اس لڑھکتی گاڑی کواپنی روشن منزل کی جانب ایندھن فراہم کر سکیں۔ علاوہ ازیں ہر شخص کو اپنی قسمت کوسنے کے بجائے جائز طریقون سے ممکنہ حد تک نفع حاصل کرنا چاہیے جو کم از کم اس کی ذاتی حیثیت میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی لا سکے۔ لیکن جہاں تک ملک کی مجموعی صورتحال کا سوال ہے تو اس کا حل ایک معاشی انقلاب کے علاوہ اور کچھ نہیں جو اسلام کے مروجہ قواعد و قوانین سے ہی ممکن ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Zain ul Hassan

Read More Articles by Zain ul Hassan: 5 Articles with 1932 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Aug, 2018 Views: 417

Comments

آپ کی رائے