♡♡" الوداع میرے پیارے اباجی "♡♡

(Mona Shehzad, Calgary)

آج ماضی کا جھروکہ کھولا تو یاد آیا میں چھ سال کی تھی کہ مجھے نمونیا ہوگیا جو بگڑ گیا اور میں شدید علیل ہوگئی ۔دن ہفتوں میں بدلتے گئے ، میں علیل سے علیل تر ہوتی گئی ۔ میرے جسم سے گوشت ختم ہوگیا، میں ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گئی ۔ میرے تیماردار میرے اباجی تھے کیونکہ والدہ پر باقی بہن بھائیوں کی زمہ داری بھی تھی۔ اباجی نے اپنی نوکری سے دو مہینے کی چھٹی لے لی۔ان کے باس نے چھٹی دینے سے تعرض کیا تو اباجی نے کہا :
میں نوکری چھوڑ کر استعفے لکھ دوں؟
ان کے باس نے چپ کرکے چھٹی منظور کردی۔ دنیا کا کوئی ڈاکٹر نہیں تھا جو اباجی نے نہیں چھوڑا ۔ میرا بچپن کراچی شہر میں گزرا ۔وہاں فاصلے بہت زیادہ تھے ۔اباجی رکشہ، ٹیکسی کرتے ، پیدل چلنے والی جگہوں پر مجھے گود میں اٹھائے پھرتے ۔آخرکار ایک سپیلسٹ نے Ampicloax آزمانے کی سوچی مگر شرط تھی کہ دوائی چھ چھ گھنٹے بعد دی جائے ۔اس دور میں اینٹی بایوٹک کو پانی ابال کر اس کے سفوف کو اس پانی میں گھولنا پڑتا تھا ۔اباجی دوائی لائے اور دوائی بنائی ۔پھر اباجی کو میں نے اس پابندی سے دوائی دیتے دیکھا، وہ ساری رات جاگتے اور مجھے دوائی دیتے ۔ اس دور میں کمزوری کے باعث مجھ سے اٹھا نہ جاتا اور میرے ابا مجھے باتھ روم تک گود میں اٹھا کر لے جاتے ۔ اباجی نے دو ماہ مجھے پل بھر کے لئے نہیں چھوڑا ۔جس کی زندگی سے سب مایوس تھے وہ بچ گئ اور روبہ صحت ہوگئی ۔ پھر وقت گزرا اور میری نظر کمزور ہوگئی میں ٹی وی بہت قریب سے بیٹھ کر دیکھتی، اسکول سے بھی شکایت آنے لگی کہ یہ بلیک بورڈ سے کام دیکھ نہیں پاتی ۔اباجی بنیادی طور پر Chemist تھے OGDC کی نوکری کے باعث مہینہ مہینہ بھی فیلڈ پر رہتے تھے ، اباجی جب ایک فیلڈ سے واپس آئے تو ایک دن اباجی مجھے آنکھوں کے ڈاکٹر کے پاس لے کر گئے ،وہ اباجی سے بہت خفا ہوا کہ آپ کی بیٹی کی آنکھیں اتنی کمزور ہوگئی اور آپ کو اندازہ تک نہ ہوا۔ مجھے یاد ہے کہ optics کی دکان تک اباجی روتے ہوئے گئے کہ میں کیسا باپ ہوں جس کو اس بات کا اندازہ ہی نہیں ہوا کہ میری بیٹی کی بینائی کمزور ہوگئی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ اباجی نے مجھ سے معافی مانگی ، میں سات سال کی ناسمجھ بچی ناسمجھی سے مسکرا کر بولی:
اباجی! مجھے تین کہانیوں کی کتابیں دلا دیں تو میں آپ کو معاف کردونگی ۔"
مجھے یاد ہے ہم کتابوں کی دکان پر رکے اور اباجی نے کہا:
بیٹا! جتنی مرضی کتابیں اٹھا لو ۔
میری حالت اس صحرانورد کی سی تھی جس کو ہفت اقلیم کی دولت مل گئی ہو۔
وقت کا پہیہ گزرا میرے میٹرک کے امتحان میں پچیس دن رہ گئے ۔مجھے نمونیا ہوا اور امتحان سے چند دن پہلے پھر Relapse ہوگیا ۔ میں شدید علیل ہوگئی ۔ میرے اساتذہ کی امیدیں مجھ سے وابستہ تھیں کہ فیڈرل بورڈ میں کوئی پوزیشن میری وجہ سے اسکول کو ملے گی ۔مجھے اباجی دوبارہ اپنے کمرے میں لائے اسی طرح راتوں کو جاگ کر مجھے دوائی دیتے ۔میں شدید بخار اور کھانسی سے بےحال تھی ۔اباجی مجھے سمجھاتے رہے کہ میں متحان میں نہ بیٹھوں، مگر میں اپنی دو سال کی محنت ضائع کرنے پر راضی نہیں تھی ۔ سخت سردیوں کے دن تھے ۔اباجی صبح مجھے ٹیکسی پر اسکول چھوڑتے، تین گھنٹے بعد دوبارہ مجھے ٹیکسی پر گھر چھوڑتے، یوں بیماری میں میں نے میٹرک کے امتحان دئے، اباجی کی تیمارداری اور خدمت کے باعث میں ایک دفعہ پھر کھڑی ہوگئ ۔
میرے اباجی سے ساری بہنیں اور امی ڈرتی تھیں مگر مجھے ان سے کبھی خوف محسوس نہیں ہوا تھا، میں ان سے بڑی بے تکلفی مگر ادب سے اختلاف رائے کرتی ۔
میرا پہلا آرٹیکل "الاخبار" میں 1992 میں چھپا، میرے ابا نے جب پڑھا تو بے اختیار روئے اور بہت داد دی پھر میرے لکھنے کے سفر میں وہ میرے ناقد بن گے ۔1996 میں جب میں اہم اے کر رہی تھی ، اباجی کو آنتوں سے خون آنے لگا، اباجی کی زندگی سے ڈاکٹر مایوس تھے۔ شدید خون کی ضرورت تھی ، میں اباجی کے پاس اکیلی ہسپتال میں تھی۔میں نے O positive ہونے کے باعث اباجی کو ایک بوتل خون دیا ، مجھے یاد ہے کہ اباجی بار بار کہتے :
بیٹا! تم نے پچھلے سال ماں کو خون دیا اب مجھے ۔ہم تمھارے مقروض ہوگئے۔
میں ہنس پڑی اور بولی :
وہ طویل دن اور راتیں بھول گئے جب آپ میرے تیماردار تھے۔
اباجی گھر آگئے میں ان کے کمرے میں زمین پر بستر لگا کر سوتی اور ساتھ ساتھ ایم اے اکنامکس پارٹ ون کے چند دن بعد ہونے والے امتحان کی تیاری کرتی ، اباجی روبہ صحت ہوگئے اور زندگی معمول پر آگئی ۔
اباجی کی ریٹائرمنٹ پر اباجی نے اڈیالہ روڈ پر کوٹھی کی تعمیر شروع کی۔ میں اباجی کا سایہ تھی ۔شکن دوپہروں میں ہم سیمنٹ کی بوریوں کا حساب کرتے، اس گھر میں ماربل سے لے کر ٹائل ہر چیز میری پسند کی آئی ۔ ترکھان کو الماریوں، دروازوں کے ڈیزائن میں نے کیٹلاگ سے سلیکیٹ کرکے دئے ۔ لان میں ہر پودا، درخت، پھول میرے مشورے سے لگا۔ غرض میرے خواب میرے اباجی نے ہورے کیے ۔
گھر مکمل ہوا تو ایم اے اکنامکس کے بعد مجھے ایم ایڈ کرنے کا خیال چرایا ۔ امی نے آگے پڑھنے کی اجازت اور فیس دونوں دینے سے انکار کردیا، انھوں نے کہا :
لوگ شادی سے انکار کرنے لگیں گے کہ لڑکی عمر رسیدہ ہے اگر اتنی ساری ڈگریاں لے لو گی۔
میں اباجی کی عدالت میں مقدمہ لے کر حاضر ہوئی وہ امی کے انکار کی وجہ سن کر بہت ہنسے ۔ فارم پر دستخط کیے اور مجھے فیس کے پیسے دیئے اور بولے :
جو جاہل میری بیٹے کی پڑھائی پر اعتراض کریں گا میں اسے رشتہ نہیں دونگا ۔
2000جون میں میرے میاں شہزاد احمد اعوان کا رشتہ آیا، میں نے اباجی سے مشورہ مانگا، وہ مسکرائے اور بولے :
بیٹا ! مرد کی خوبصورتی اس کی شرافت اور اس کی تعلیم ہوتی ہے ۔شہزاد کی آنکھوں میں حیا ہے ساتھ نبھائے گا۔
میں نے سر جھکا دیا اور میں نومبر 2000 میں بیاہی گئی ۔2001 میں بیٹے اور میاں کے ساتھ کینیڈا آگئی ۔ اباجی مجھ سے ملنے کینیڈا 2005 میں آئے اور دوبارہ 2007 میں امی کے ساتھ آئے ۔ اس وقت میں قرضے کے انبار میں ڈوبی ہوئی تھی ۔اباجی نے مجھے بہت سختی سے سمجھایا ۔اس وقت ان کی سختی مجھے اچھی نہیں لگی مگر وقت نے ثابت کیا کہ انھوں نے جو سبق مجھے سکھایا وہ میرے میاں اور میں آسانی سے سیکھنے والے نہیں تھے ۔ایک دن ہم نے قرضے سے پاک سورج بھی اپنے سر پر چمکتا پایا۔ میں اباجی کی مشکور ہوں کہ اباجی نے مجھے خودی کا سبق پڑھایا ۔
میں اور میرے میاں کینیڈا آنے کے تیرہ سال بعد پاکستان 2015 میں گئے مگر کبھی میرے والدین کے منہ پر گلہ یا شکوہ نہیں آیا۔
2015 میں جب اباجی کی بیماری پر پاکستان پہنچی تو اباجی نہا کر ٹی وی لاونج میں بیٹھے تھے کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ میں اتنے سالوں بعد ان کو بستر پر پڑا دیکھوں ۔
میں ہر سال اس کے بعد پاکستان جاتی ، علی الصبح نماز کے بعد اباجی کو نماز کے بعد ناشتہ بنا کر دیتی ان کے ساتھ باتیں کرتی ۔
میرے اباجی میرے رول ماڈل اور میرے ہیرو ہیں ۔اس سال میرے اباجی اس دفعہ گردوں میں پتھری کے آپریشن کے لئے ہسپتال داخل ہوئے مگر درحقیقت وہ کینسر سے جنگ لڑ رہے تھے اور ناواقف تھے مگر یہ جنگ وہ ہار گئے ۔ایک عام بیماری موزی اور جان لیوا بیماری میں کب بدل گئی ہمیں پتا ہی نہیں چلا ۔ یہ آرٹیکل ایک tribute میری جانب سے میرے پیارے ابا کے لئے۔۔ اللہ تعالی میرے اباجی کے درجات بلند فرمائے اور ہماری دعائیں ان کے لئے قبول فرمائے ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mona Shehzad

Read More Articles by Mona Shehzad: 168 Articles with 179123 views »
I used to write with my maiden name during my student life. After marriage we came to Canada, I got occupied in making and bringing up of my family. .. View More
21 Aug, 2018 Views: 208

Comments

آپ کی رائے