"اوڑھنی"(دوسری قسط)۔

(Mona Shehzad, Calgary)

شاہ زیب کا غصہ آج آسمان کو چھو رہا تھا ۔اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ سب نوکروں کو آج اپنے
بید سے ادھیڑ دے ۔وہ غرایا:
کس حرامخور نے اباجی کو ٹی وی چلا کر دیا ؟
بشیر باورچی کانپتے ہوئے بولا:
" صاحب! وہ ہاشم صاحب بڑے صاحب کو ٹی وی لاونج لے گئے تھے ۔وہ علیشاہ بی بی کا ڈرامہ سیریل آنا تھا ، انھوں نے ڈرامہ لگایا اور بڑے صاحب کو سختی سے منع کیا کوئی بات کرنے سے۔"
شاہ زیب غصے سے بھنبھناتا ہوا ٹی وی لاونج میں داخل ہوا جہاں اس کے بچے اور ان کے کزن انڈین گانوں پر ڈانس پریکٹس کر رہے تھے اور اس کی بیوی اور سالیاں بیٹھی تالیاں بجا بجا کر ان کو داد دے رہی تھیں ۔ اصل میں اس کی بیوی کی بھانجی اگلے ماہ متوقع تھی، سب لوگ اس کی تیاری میں جی جان سے جتے ہوئے تھے ۔شاہ زیب غصے سے دھاڑا ":
"آپ لوگ اس بے غیرتی کو بند کریں گے ۔"
اس کی بیوی کی بڑی بہن اپنی شیفون کی ساڑھی سنبھالتی ہوئی اٹھی اور بولی :
ہمارے جیجا آج اتنے گرم مزاج کیوں بنے ہوئے ہیں؟
شاہ زیب کئ نظر بے اختیار اس کے ننگے پیٹ اور سلیو لیس بازوں پر پڑی بے اختیار اس کی نظر جھک گئی ۔وہ غصہ ضبط کرتے ہوئے بولا:
آپا! ہاشم اباجی کو ٹی وی لاونج میں اگر لے ہی آیا تھا تو علیشاہ نے ٹی وی کیوں چلایا؟
اس کی بڑی سالی اپنے شولڈر کٹ بالوں کو ادا سے جھٹکا دے کر لگاوٹ سے مسکرا کر بولی:
جیج پلیز! مجھے حنا کہہ کر بلایا کیجیے ویسے بھی میری آپ کی عمر برابر ہے تو پلیز یہ "آپا" کا دم چھلہ نکال دیجیے ۔"
شاہ زیب کا دل کیا کہ وہ اپنا سر پیٹ لے۔ اس کی پانچوں سالیاں مٹکتی جھٹکتی اس کے گرد اکٹھی ہوکر علیشاہ کے حق میں بولنے لگیں ۔ شاہ زیب کی نظر اپنی بیوی پر گئی تو وہ بے نیازی سے ایک کونے میں بیٹھ کر سگریٹ کے دھوئیں کے چھلے بنانے میں مصروف تھی ۔ وہ غصے میں اس کی طرف لپکا اور سگریٹ اس سے چھین لیا ۔ مگر صوفیہ اس کے آگے تن کر کھڑی ہوگئی ۔صوفیہ ایک خوبصورت چالیس سالہ عورت تھی ۔ شاہ زیب کی نظر اس کے لباس پر گئ تو اس پر گھڑوں پانی پڑ گیا ۔اس کی بیوی ایک مہین ڈریس میں ملبوس تھی ۔جس سے اس کا جسم چھلک رہا تھا ۔ شاہ زیب صوفیہ کا ہاتھ کھینچتا ہوا اس کو بیڈ روم میں لے گیا۔ شاہ زیب دانت کچکچاتا ہوا بولا:
" صوفیہ بیگم ! یہ میرا گھر ہے۔ شاہ زیب ولا ہے کسی طوائف کا کوٹھا نہیں ہے۔"
صوفیہ ایک بے اعتنائئ سے بولی:
یہ شاہ زیب ولا میرے پاپا نے مجھے جہیز میں دیا تھا، یہ بات کبھی بھولئے گا نہ مسٹر شاہ زیب ۔"
یہ کہہ کر وہ اپنی اونچی ایڑی سے کھٹ کھٹ کرتی کمرے سے چلی گئی ۔شاہ زیب بے دم سا ہوکر اپنے جہازی واٹر بیڈ پر گر گیا وہ بے اختیار بولا:
امی! مجھے معاف کردو، میں بہت بے سکون ہوں مجھے معاف کردو۔"۔
اب اگلی قسط میں دیکھیں گے کہ درحقیقت شاہ زیب ولا میں کون سی بھولی بسری داستان دفن ہے۔
(باقی آئندہ )۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mona Shehzad

Read More Articles by Mona Shehzad: 168 Articles with 178450 views »
I used to write with my maiden name during my student life. After marriage we came to Canada, I got occupied in making and bringing up of my family. .. View More
28 Aug, 2018 Views: 649

Comments

آپ کی رائے