شبلی شکنی کی روایت

(ڈاکٹر خالد ندیم, Sargodha)
شبلی نعمانی کی شخصیت اور ان کے فن کا جہاں اعتراف کیا جاتا رہا ہے، وہیں ان کی کردار کشی اور ان کی فن پر اعتراضات بھی ہوتے رہے ہیں۔ اس مقالے میں شبلی کے خلاف تحریروں کا تجزیاتی مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔

شبلی شکنی کی روایت
(پس منظر و پیش منظر)

علامہ شبلی پر ندوۃ العلما اور اس کے پس منظر میں جو تنقید، تنقیص یا ہنگامہ آرائی ہوئی، وہ اَب تاریخ کا حصہ ہے؛ لیکن ادبی دنیا میں بھی ان پر کچھ کم کیچڑ نہیں اُچھالا گیا۔ اگرچہ ان کی علمی و ادبی خدمات کو تسلیم کیا جا چکا ہے اور بطور شاعر، مؤرخ، نقاد، انشاپرداز اور دانشور ان کی صلاحیتیں مسلمہ ہیں، جس کا ثبوت ان کی رحلت کے ایک صدی بعد تک ان کی تصانیف کی متواتر اشاعت سے ملتا ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ابتدائی طور پر ظاہر ہونے والا شبلی مخالف رویہ بتدریج شبلی شکنی کی روایت میں بدل چکا ہے۔
ادبی دنیا میں علامہ شبلی کی اوّلین مخالفت مولوی عبدالحق کی طرف سے ہوئی، جو وقتاً فوقتاً اور جا و بے جا ان کے بارے میں ایسے جملے ادا کرتے رہے، جن سے شبلی کے بارے میں چہ مگوئیاں ہونے لگیں۔ ساتھ ہی ساتھ مولوی صاحب نے کوشش کر کے تصانیفِ شبلی کے بارے میں ایسی فضا تیار کی، جس سے شبلی کی علمی حیثیت مشکوک ہو جائے۔ یاد رہے کہ مولوی عبدالحق علی گڑھ میں شبلی کے شاگرد تھے اور بعد ازاں جس انجمن ترقی اردو کے وہ جنرل سیکرٹری ہوئے، شبلی نعمانی اس کے بانی سیکرٹری (جنوری ۱۹۰۳ء- فروری ۱۹۰۵ء) رہ چکے تھے، البتہ مولوی عبدالحق کا شخصی جھکاؤ مولانا الطاف حسین حالی کی طرف تھا، جو آہستہ آہستہ جانب داری سے جا ملا۔ وہ حالی و شبلی کے تعلقات کی گہرائی اور گیرائی کا اندازہ نہ کر سکے اور حیاتِ جاوید کو ’کتاب المناقب‘ اور ’مدلل مداحی‘ قرار دینے پر شبلی سے زندگی بھر برہم رہے، البتہ یہ بھول گئے کہ انھی شبلی نے حیاتِ سعدی کو ’بے مثل‘ قرار دیا تھا۔ ڈاکٹر خلیق انجم لکھتے ہیں:
دلچسپ بات یہ ہے کہ انجمن ہی نے شبلی پر ایسا خطرناک حملہ کیا کہ جس سے وقتی طور پر شبلی کی شہرت کو خاصا نقصان پہنچا۔ میری مراد ہے، شبلی کی شعر العجم پر حافظ محمود شیرانی کے اُس طویل تنقیدی مضمون سے، جو انجمن ترقی اردو کے سہ ماہی رسالے اردو میں قسط وار شائع ہوا اور بعد میں وہ طویل مضمون کتابی صورت میں بھی شائع کیا گیا۔ ایسے شواہد موجود ہیں، جن سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ مضمون مولوی عبدالحق کی فرمائش پر لکھا گیا تھا۔
مولوی صاحب کی فرمائش یا ترغیب پر شعر العجم پر حافظ محمود شیرانی کی طرف سے یہ تنقید، جسے تنقیص کہنا مناسب ہے، اردو کے متعدد شماروں(اکتوبر ۱۹۲۲ء، جنوری ۱۹۲۳ء، اپریل ۱۹۲۳ء، اکتوبر ۱۹۲۳ء، اپریل ۱۹۲۴ء، جنوری ۱۹۲۶ء اور اکتوبر ۱۹۲۹ء) میں شائع ہوئی۔ان شماروں کا دَورانیہ سات برسوں پر پھیلا ہوا ہے، جس سے مدیر و محقق کی مستقل مزاجی کا اندازہ ہوتا ہے۔ اسی دَوران میں منشی محمد امین زبیری کے مرتبہ خطوطِ شبلی کا مقدمہ لکھتے ہوئے مولوی صاحب نے اپنی خواہش کو پیشین گوئی کے طور پر بیان کیا، لکھتے ہیں:
مولانا شبلی کی تصانیف کو ابھی سے نونی لگنی شروع ہو گئی ہے۔ زمانے کے ہاتھوں کوئی نہیں بچ سکتا، وہ بہت سخت مزاج ہے، مگر آخری اِنصاف اُسی کے ہاتھ ہے۔ ان کی بعض کتابیں ابھی سے لوگ بھولتے جاتے ہیں اور کچھ مدت کے بعد صرف کتاب خانوں میں نظر آئیں گی۔
شبلی کی کتابوں کو تو ’نونی‘ نہ لگی، لیکن مولوی عبدالحق کے یہ تنقیدی جملے ان کی ناقدانہ حیثیت پر سوالیہ نشان ضرور لگا گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جس زمانے میں علامہ شبلی نعمانی ندوہ کے لیے سرگرم تھے، منشی محمد امین زبیری (۱۸۷۰ء-۱۹۵۸ء) ریاست بھوپال میں صیغہ تاریخ کے مہتمم کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہے تھے۔ بیگم بھوپال کو ندوہ اور سیرت النبیؐ سے بہت دلچسپی تھی، چنانچہ ان منصوبوں کے لیے انھوں نے فراخ دلی سے اخلاقی اور مالی تعاون کیا۔ علامہ شبلی اور بیگم صاحبہ کے درمیان سفیر کی ذمہ داری امین زبیری ادا کرتے تھے۔ اس سلسلے میں زبیری صاحب کے نام شبلی کے اکتیس خطوط دستیاب ہوئے ہیں، جو مکاتیبِ شبلی کی جلد اوّل میں شامل ہیں۔ ان تمام خطوط میں شبلی نے انھیں ’محبی‘ کے لفظ سے مخاطب کیا ہے اور خود امین زبیری کو شبلی سے بہت عقیدت تھی۔
سید سلیمان ندوی نے شبلی نعمانی کے مکاتیب پر مشتمل دو مجموعے ۱۹۱۶ء اور ۱۹۱۷ء میں مرتب کر دیے تھے۔ مرتب نے مکاتیبِ شبلی کی اشاعت کا خیال اکتوبر ۱۹۰۹ء کے الندوہ میں پیش کیا تھا، جس کے نتیجے میں ملک بھر سے ہزاروں خطوط جمع ہو گئے۔ مرتب کے مطابق، ’جلد اوّل کے اکثر خطوط مولانا کی زندگی میں صاف ہو کر ان کی نظر سے گزر چکے تھے‘، لیکن اس کی اشاعت کا مرحلہ طے نہ ہو سکا۔ ۱۹۱۴ء میں شبلی کی رحلت کے بعد دوبارہ اعلان کیا گیا تو ’ہر طرف سے خطوط کی بارش‘ ہونے لگی۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان ہزاروں خطوط میں سے صرف دو مجموعے ہی کیوں مرتب ہو سکے، اس کا جواب سید سلیمان جلد اوّل کے دیباچے میں دیتے ہیں:
مَیں نے صرف اُن خطوط کو انتخاب کیا ہے، جن سے یا تو مولانا کے ذاتی سوانح کا کوئی واقعہ ظاہر ہوتا ہے یا ان میں کسی علمی، اصلاحی اور قومی مسئلے کا ذکر ہے یا انشاپردازی کا ان میں کوئی نمونہ موجود ہے۔ ان ہی اصول ہاے ثلثہ کی رہبری سے ہزاروں خطوط کے انبار سے یہ چند دانے چھانٹ کر الگ کیے گئے ہیں، ورنہ ایک سچے مومن کے نزدیک تو قرآن کی سب سورتیں برابر ہی ہیں۔
خطوں کی جمع آوری کے لیے ان اعلانات اور ان کے جواب میں ہزاروں خطوط کی موصولی سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ بات ملک بھر میں مشتہر ہوئی ہو گی، ایسے میں یہ بات تسلیم کرنے میں تامل ہو سکتا ہے کہ عطیہ فیضی یا ان کی بہنیں اس خبر سے لاعلم رہی ہوں؛ البتہ عطیہ کے ۱۹۴۶ء کے مضمون سے ، جس کا ذکر ذرا بعد آئے گا، معلوم ہوتا ہے کہ مکاتیبِ شبلی کی ترتیب کے دَور میں سید سلیمان ندوی کو یہ خطوط دستیاب نہیں ہوئے تھے، ورنہ عطیہ کے نام شبلی کے یہ خطوط ’ذاتی سوانح‘، ’علمی، اصلاحی اور قومی مسئلے‘ یا ’انشاپردازی‘ سے ایسے بے نیاز نہیں تھے کہ ان سے صرفِ نظر کیا جاسکتا؛ البتہ مرتب کے مذکورہ بالا اقتباس کے آخری جملے سے مکتوب نگار کی ’تقدیس‘ اور ان کی ذات اور کردار کی بابت مرتب کی احتیاط کا اندازہ لگایا جا سکتا۔ بہرحال، ان مجموعوں کی اشاعت کے برسوں بعد جب امین زبیری کو عطیہ فیضی اور زہرا بیگم کے نام شبلی کے خطوط کا علم ہوا تو انھوں نے ان کو مرتب کر کے شائع کر دیا۔ ان کا کہنا تھا:
جس وقت یہ نادر مجموعہ جناب زہرا بیگم صاحبہ اور جناب عطیہ بیگم صاحبہ کی عنایت سے میرے ہاتھوں تک پہنچا، اُسی وقت مَیں نے مکاتیبِ شبلی میں اس کمی کو محسوس کیا اور خیال آیا کہ اس کو شائع کرایا جائے، لیکن چونکہ مَیں محض مالی دِقت کے لحاظ سے شائع نہیں کر سکتا تھا، اس لیے مَیں نے مولانا شبلی مرحوم کے ایک نہایت ارادت مند فاضل دوست کو، جن کی ذرا سی توجہ اس کی اشاعت کی کفیل ہو سکتی تھی، لکھا ؛ لیکن جنابِ موصوف نے بعض وجوہ سے ان خطوط کی اشاعت ہی مناسب تصور نہ فرمائی، اس لیے مَیں بھی کسی قدر متردّد ہو گیا اور دیگر دوستوں اور بزرگوں سے مشورہ لیا۔ ان میں سے بعض نے کسی قدر ترمیم کے ساتھ اور بعض نے علیٰ حالہٖ شائع کرنے کی راے دی اور خصوصاً مولوی عبدالحق صاحب نے تو اشاعت پر مجبور ہی کر دیا۔
شبلی کی کتابوں کو ’نونی‘ لگنے کی پیشین گوئی اور تنقید شعر العجم کے ذریعے شبلی کے علمی وقار کو مسمار کرنے کے بعد ان کی شخصیت کے انہدام کا یہ بہترین موقع تھا، جسے مولوی عبدالحق کسی طور ضائع نہیں کرنا چاہتے تھے۔ مولوی صاحب کے خیال میں ’بڑا ظلم ہو گا، اگر یہ خط یونہی پڑے ردّی میں مل جائیں اور تلف ہو جائیں اور دنیا اس نعمت سے محروم رہ جائے‘ اور یہ کہ ’اگر یہ خط نہ چھپے تو اس کا الزام آپ [منشی محمد امین ] کے سر رہے گا اور اردو زبان کی عدالت میں آپ سب سے بڑے مجرم سمجھے جائیں گے‘۔
مولوی صاحب کے ’اصرار‘ پر امین زبیری نے یہ مجموعہ مکاتیب مرتب کر دیا اور مالی دُشواریوں کے باوجود اپنے اشاعتی ادارے ظل السلطان بک ایجنسی بھوپال سے شائع کر دیا، لیکن مولانا شبلی کے ’نہایت ارادت مند فاضل دوست‘ کے بارے میں ان کے دل میں گرہ بندھ گئی؛ حالانکہ اس موقع پر شبلی سے متعلق مکتوب الیہم اور مرتب کا رویہ بہت مثبت رہا، جس کا اظہار خطوطِ شبلی کے ’التماس و انتساب‘ سے ہوتا ہے۔ امین زبیری لکھتے ہیں:
(۱) غالباً اردو فارسی زبان میں ایسے خطوط کا یہ پہلا مجموعہ ہو گا کہ جو ایک علامۂ دَوراں نے خواتین کے نام لکھے ہوں اور اس میں عورتوں کی مختلف خصوصیات کے متعلق ایسے گراں مایہ خیالات ہوں۔
(۲) ان بیگمات کے دل میں مولاناے مرحوم کی خاص عظمت و محبت ہے۔ یہ خطوط ان کو ہر چیز سے زیادہ عزیز ہیں اور مَیں نے دیکھا کہ نہایت حفاظت کے ساتھ ان کی آہنی الماری میں رکھے ہوئے تھے اور ہزاروں اطمینان دِلانے کے بعد مجھے اجازت دی گئی کہ مَیں بمبئی میں اپنے قیام گاہ پر ان کو نقل کروں۔
(۳) یہ دونوں بہنیں جس وقت مولانا کا تذکرہ کرتی ہیں اور ان کے واقعات سناتی ہیں تو ان کے لب و لہجہ اور الفاظ سے وہ احترام ، وہ عظمت اور وہ محبت نمایاں ہوتی ہے، جس کا تعلق سننے اور دیکھنے ہی سے ہے۔
شبلی نعمانی کے لیے ’علامۂ دَوراں‘ اور ’مولاناے مرحوم‘ کے القاب امین زبیری کے دل میں مکتوب نگار کے لیے احترام کے جذبات کی عکاسی کرتے ہیں؛ اسی طرح مکتوب الیہم علامہ کے خطوط کو ’ہر چیز سے عزیز‘ رکھتی ہیں اور علامہ کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کے لب و لہجہ اور الفاظ سے احترام ، عظمت اور محبت نمایاں ہوتی ہے؛ گویا اس مجموعے کی اشاعت تک مرتب یا مکتوب الیہم کے ہاں علامہ شبلی کے بارے میں کسی منفی جذبے یا خیال کا شائبہ نہیں ملتا۔
خطوطِ شبلی کی بنیاد پر اسماعیل یوسف کالج میگزین بمبئی (۱۹۳۴ء) میں نجیب اشرف ندوی کا مضمون ’شبلی اور بمبئی‘، تماہی ہندوستانی الٰہ آباد (اکتوبر ۱۹۳۶ء) میں قاضی احمد میاں اختر جوناگڑھی کا مضمون ’مولانا شبلی بحیثیت شاعر‘ اور کتاب (اپریل ۱۹۴۵ء) میں وحید قریشی کا مضمون ’شبلی کی حیاتِ معاشقہ‘ شائع ہوا؛ جب کہ نومبر ۱۹۴۳ء میں آل انڈیا ریڈیو دہلی سے ’شبلی کی شخصیت خطوں کے آئینے میں‘ کے نام سے سلطان حیدر جوش کی ایک گفتگو نشر ہوئی؛ البتہ شبلی کی شخصیت کے بارے میں مرتبِ خطوطِ شبلی کا پہلا منقی ردّ عمل حیاتِ شبلی کی اشاعت کے بعد ذکرِ شبلی کے نام سے۱۹۴۶ء میں منظر عام پر آیا۔ نجیب اشرف ندوی، قاضی احمد میاں اختر جوناگڑھی اور سلطان حیدر جوش وغیرہ کی تحریریں اور تقریریں گمنامی کی نذر ہوگئیں، لیکن وحید قریشی کے مقالے کی گونج آج بھی سنائی دیتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۹۴۳ء میں سید سلیمان ندوی کی مؤلفہ حیاتِ شبلی کا شائع ہونا تھا کہ شبلی کے خلاف ایک محاذ کھل گیا۔ مؤلف کی طرف سے علی گڑھ اور سرسید سے شبلی کے اختلافات کو نمایاں کرنے اور عطیہ فیضی کے نام شبلی کے خطوں کو نظر انداز کرنے سے حیاتِ شبلی متنازع ہو گئی۔ حیرت اس بات پر ہے کہ علامہ شبلی اور حیاتِ شبلی میں امتیاز روا نہ رکھا گیا۔ مخالفت مؤلفِ حیات کی مقصود تھی، لیکن نشانہ شبلی بنے۔ اس سلسلے میں ایک سخت ردّعمل ۱۹۴۵ء میں ڈاکٹر وحید قریشی کے مقالے ’شبلی کی حیاتِ معاشقہ‘ کی صورت میں سامنے آیا، جو انھوں نے حلقہ اربابِ ذوق میں پڑھا۔ یہ مقالہ اسی برس رسالہ اپریل میں کتاب اور پھر مئی میں ادبی دنیا میں شائع ہوا۔ اس بحث میں عطیہ فیضی (ادبی دنیا، جولائی اگست ۱۹۴۶ء)، خالد حسن قادری(نگار)، علامہ نیاز فتح پوری (نگار)، منشی محمد امین زبیری (شبلی کی زندگی کا ایک رنگین ورق ۱۹۴۶ء)، قاضی عبدالغفار (پیام، ۶؍جون ۱۹۴۶ء)، مولانا عبدالماجد دریابادی (الاصلاح)، مولوی احمد مکی (ہماری کتابیں،اگست ستمبر ۱۹۴۶ء)، عبدالرزاق ملیح آبادی (یادِ ایام، دسمبر ۱۹۴۶ء) اور بمبئی کے بعض ہفتہ وار اخباروں نے حصہ لیا۔ ان مضامین و تاثرات کی روشنی میں، ترمیم و اضافے کے بعد وحید قریشی کا زیرِ بحث مقالہ ۱۹۵۰ء میں مکتبہ جدید لاہور کی طرف سے کتابی صورت میں شائع ہوا۔
مؤلفِ حیاتِ شبلی کو یہ دعویٰ نہیں تھا کہ ’یہ تالیف سوانح عمریوں کے صحیح اصول پر پوری منطبق ہے‘، البتہ انھوں نے کی کوشش کی تھی کہ ’جو کچھ معلوم ہو، اس کو بے کم و کاست سپردِ قلم کر دیا جائے‘، لیکن وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ:
محبت اور عقیدت کی نظر جہاں مخدوموں کی بہت سی خامیوں کے دیکھنے سے قاصر رہتی ہیں، وہاں بدگمانوں کی نگاہیں سب سے پہلے ان ہی پر پڑتی ہیں اور ان کے تکرار اور اعادہ میں ان کو ایسی لذت ملتی ہے کہ وہ ممکن کمالات سے بھی اغماض برت جاتی ہیں؛ لیکن یہ دونوں باتیں در حقیقت نفسیاتِ فطرت کے مطابق ہیں اور اس میں معتقد و منتقد دونوں معذور ہیں۔
حیاتِ شبلی اور شبلی کی حیاتِ معاشقہ انھی دونوں انتہاؤں کی عکاس ہیں۔ سید سلیمان ندوی، عطیہ کے نام شبلی کے خطوں کو سرے سے نظر انداز کر گئے تو وحید قریشی نے ان خطوں کے مندرجات کو اس انداز میں ترتیب دیا کہ من مانے نتائج برآمد کیے۔ اس بات کا اندازہ وحید قریشی کے درج ذیل جملے سے لگایا جا سکتا ہے، وہ لکھتے ہیں:
شبلی جیسے مذہبی خیالات کے آدمی کا عشق اور پھر وہ بھی بڑھاپے میں، مانی جانے والی بات نہیں۔ شبلی کے طرف داروں کے نزدیک تو ان باتوں کا ذکر ہی لاحاصل ہے، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان چیزوں کا تعلق شبلی کی ادبی زندگی سے مطلق نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ صرف اسی ایک خیال نے شبلی کی شاعرانہ عظمت کو ہماری نظروں سے بہت حد تک اوجھل رکھا ہے۔
گویا فریقین اعتدال کی راہ اختیار کرنے کو تیار نہیں۔ شبلی کے بعض اشعار کی تعبیر کرتے ہوئے وحید قریشی اس انتہا کے بھی آخری سرے تک جا پہنچتے ہیں۔ ان کے نزدیک ’اگر مولانا کا عشق اوّل اوّل حجاب کی منزل میں تھا تو اس کے ساتھ ہی اس کا جنسی پہلو بھی ابتدا ہی سے نمایاں تھا‘ حالانکہ شیخ محمد اکرام کا خیال ہے:
اس قسم کے اشعار کو شبلی کے لکھنوی مذاقِ شعر کا نتیجہ سمجھنا چاہیے۔ انھوں نے کئی چشموں سے فیض حاصل کیا تھا اور اخیر میں عام طور پر ان کا مذاق بے حد سلجھ گیا تھا، لیکن ان کی ابتدائی ادبی تربیت اودھ پنچ اور پیامِ یار کے صفحات سے ہوئی تھی اور یہ اثر اخیر تک کچھ نہ کچھ قائم رہا، چنانچہ ۔۔۔ شبلی کی محبت کے جنسی یا غیر جنسی پہلوؤں پر راے قائم کرنا صحیح نہیں۔
بظاہر تو وحید قریشی نے شبلی کے عشق کے جنسی پہلو پر بحث کتاب کے ذیلی عنوان ’نفسیاتی مطالعہ‘ کی وجہ سے کی ہو گی، لیکن ان کے مقالے میں کسی ایک ماہر نفسیات کی راے یا کسی ایک نفسیاتی اصول کو پیش نظر نہیں رکھا گیا۔ ان کے خیالات کی ساری عمارت محض قیاسات کی بنیادوں پر استوار ہے۔ حالات و واقعات کے بیان اور شبلی کی خطوط اور شاعری سے اقتباسات کے باوجود غالباً وحید قریشی کو قارئین پر اعتماد نہیں تھا، چنانچہ انھیں مجبوراً اِن جملوں پر مقالے کو ختم کرنا پڑا کہ ’شبلی ناکام جیے اور ناکام مرے۔ یہی ان کی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ ہے اور یہی ان کی زندگی کا سب سے بڑا المیہ‘؛ جب کہ شیخ محمد اکرام سمجھتے ہیں کہ ’شبلی کے قلم کی ایک ایک سطر موجود ہے اور اردو ادب کا جزو بنتی جاتی ہے۔ شبلی کے خیالات آج بھی فضا میں گونج رہے ہیں اور قوم کے دِل و دِماغ پر ان کا سکہ برابر جاری ہے‘۔
وحید قریشی کی ساری تحقیق اور نتائج کو ان کے ایک جملے کی کسوٹی پر پرکھا جا سکتا ہے، لکھتے ہیں:
بیگم صاحبہ جنجیرہ کے خاندان سے مولانا کے دوستانہ تعلقات قسطنطنیہ کے زمانے میں قائم ہوئے تھے، جو مئی ۱۸۹۲ء کا واقعہ ہے اور غالباً اُس وقت عطیہ ایک آدھ برس کی بچی تھی؛حالانکہ عطیہ فیضی ۱۸۷۷ء میں پیدا ہوئی تھیں، یوں ۱۸۹۲ء میں ان کی عمر پندرہ برس ہونی چاہیے اور ۱۹۰۶ء میں مشیر حسین قدوائی کے ہاں انچاس سالہ شبلی سے ملاقات کے وقت انتیس برس ؛ چنانچہ محقق کے اس ’غالباً‘ کا نتیجہ تحقیق یہی ہونا چاہیے تھا کہ ’شبلی جیسے مذہبی خیالات کے آدمی کا عشق اور پھر وہ بھی بڑھاپے میں‘۔
وحید قریشی کی یہ ’تحقیق‘ اردو زبان و ادب کی تاریخ میں ایک ’چیزے دِگر‘ کی حیثیت رکھتی تھی، چنانچہ اس کتاب کا چھپنا تھا کہ منشی محمد امین زبیری اور شیخ محمد اکرام بھی میدان میں اُتر آئے اور ادبی دنیا کے صلاح الدین کی دعو ت پر عطیہ فیضی کو بھی اپنے تاثرات قلم بند کرنے کا موقع مل گیا۔
ڈاکٹر وحید قریشی کا شمار اردو زبان و ادب کے لائق اساتذہ اور مستند ناقدین و محققین میں ہوتا ہے، یہی وجہ تھی کہ اس کتاب کی اشاعت کے بعد کسی موقع پر انھوں نے اپنے خیالات سے رجوع کر لیا، چنانچہ انھوں نے زیرِ بحث کتاب کو تلف کرنے کی شعوری کوشش کی؛ لیکن چونکہ تیر کمان سے نکل چکا تھا، اس لیے ایک بات یار لوگوں کے ہاتھ آ گئی اور صدیوں کے لیے گرمیِ محفل کا سامان ہو گیا۔
حال ہی میں عرفان احمد خاں نے وحید قریشی کی اس کتاب کو مرتب کر کے شائع کیا۔ ’عرضِ مرتب‘ میں ان کا کہنا ہے:
اپنے وقتوں (۱۹۵۰ء) میں اس کتاب نے بڑا تہلکہ مچایا تھا، مگر علما کے شور مچانے پر کتاب کے مصنف نے اپنی تصنیف اور اس کے مندرجات سے دستبرداری کا ’سرد اعلان‘ کر دیا، بلکہ مصنف نے ایک قدم اَور آگے بڑھاتے ہوئے ’بااثر‘ ہو جانے پر خود اپنی ہی کتاب کو اُن تمام لائبریروں سے ’غائب‘ کرا دیا، جو اُن کے یا اُن کے دوستوں کے حلقہ اثر میں تھیں۔
ان بیانات سے یہ اندازہ نہیں ہو رہا کہ مرتب علما کے شور پر معترض ہیں یا ’بااثر‘ وحید قریشی کی شخصیت کو کمزور ثابت کرنا مقصود ہے۔ ڈاکٹر وحید قریشی کو براہِ راست جاننے والی کتنی ہی علمی شخصیات، اللہ انھیں تادیر سلامت رکھے، ابھی موجود ہیں۔ ان کی راے میں وحید قریشی مرحوم مضبوط اعصاب کے مالک تھے اور وہ کسی کے رعب دبدبے میں آنے والے نہ تھے۔ کسی دباؤ میں آ جانا ان کی شخصیت پر الزام کے برابر ہے؛ البتہ ان کے فکری ارتقا نے انھیں اپنے تنقیدی فیصلوں سے رجوع کرنے پر مجبور کیا ہو تو الگ بات ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سید سلیمان ندوی نے حیاتِ شبلی کے معاونین میں منشی محمد امین زبیری کو بھی شمار کیا گیا تھا۔ مولانا عبدالسلام ندوی کے ابتدائی مسودے اور اقبال احمد خاں سہیل کی مؤلفہ سیرتِ شبلی کے بعد ان کے فراہم کردہ لوازمے کو سب سے اہم قرار دیا اور ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اعتراف کیا تھا کہ ’محبی منشی محمد امین صاحب زبیری علی گڑھ انسٹیٹیوٹ گزٹ وغیرہ کے پرانے فائلوں سے بہت سی مفید تحریریں، نظمیں اور واقعات نقل کر کر کے بھیجتے رہے‘۔
منشی امین زبیری کے لیے جو اندازِ تخاطب، یعنی ’محبی‘ شبلی نے تاحیات اختیار کیا، مؤلفِ حیاتِ شبلی نے اُسے برقرار رکھا۔ اندازہ ہوتا ہے کہ استاد اور شاگرد دونوں امین زبیری کی محبت اور احترام کے قائل رہے۔ پھر حیاتِ شبلی میں ایسا کیا تھا کہ امین زبیری نہ صرف مؤلفِ حیات سے بے زار ہوئے، بلکہ اپنے ممدوح سے بھی متنفر ہو گئے اور ذکرِ شبلی کے نام سے ایک سخت تبصرہ لکھ ڈالا۔ یاد رہے کہ منشی محمد امین زبیری ۱۹۳۱ء میں بھوپال سے سبک دوش ہوئے اور علی گڑھ کو مستقر بنایا، دوسری جانب سید سلیمان ندوی درِ شبلی سے اُٹھے اور آستانۂ اشرفیہ پر جھک گئے۔ یوں دیوبند اور علی گڑھ کے مابین قدامت و جدت کی آویزش دو مصنفوں کے مابین تصادم کی صورت اختیار کر گئی۔ ذکرِ شبلی کے پس منظر میں یہی جذبہ کارفرما تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ دراصل سرسید مرحوم کی عقیدت کا تقاضا بھی ہے اور ایک قومی خدمت بھی ہے کہ دنیا ایک عالم فاضل کے افترائیات اور اختراعیات [کذا] سے متاثر نہ ہو‘، گویا ایک جانب سرسید کا دِفاع کیا جائے اور دوسری جانب سید سلیمان ندوی کے بعض بیانات کی حقیقت منکشف کی جائے۔
عجیب بات ہے کہ تیس بتیس برس گزرنے کے بعد بھی امین زبیری پر شبلی کی ’حقیقت‘ ظاہر نہ ہو سکی، حالانکہ وہ ۱۹۲۶ء میں خطوطِ شبلی بھی مرتب کر چکے تھے۔ حیاتِ شبلی پر ان کے ردّ عمل کو وقتی نہیں کہہ سکتے، بلکہ اس غیظ و غضب کی تپش ۱۹۵۲ء تک محسوس ہوتی رہی، جب انھوں نے شبلی کی زندگی کا ایک رنگین ورق(۴۱ صفحات) میں مزید رنگ بھرے اور اسے شبلی کی رنگین زندگی(۹۶ صفحات) کے نام سے شائع کیا۔ ذکرِ شبلی کے دیباچے میں امین زبیری نے حالات کے تغیر کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
قیامِ علی گڑھ کے زمانہ میں میری علامہ سید سلیمان سے جو وقتاً فوقتاً ملاقات ہوئی، اس میں ان کی بعض باتوں سے محسوس ہوا کہ وہ علی گڑھ اور سرسید سے سخت تعصب، بلکہ نفرت رکھتے ہیں اور مسلم لیگ کی حقارت اور مسلم سیاست سے بیزاری ان کے دل کی گہرائیوں اور جسم کے ریشہ ریشہ میں سرایت کیے ہوئے ہیں۔
امین زبیری کی اس بات کو محض تفنن طبع کا سامان نہیں سمجھا جا سکتا، اس میں کچھ حقائق بھی شامل ہیں۔ ’علی گڑھ اور سرسید سے سخت تعصب، بلکہ نفرت‘ تو دیوبند کا مطمح نظر تھا ہی، ’مسلم لیگ کی حقارت اور مسلم سیاست سے بیزاری‘ کا اظہار بھی دارالمصنّفین کے مہمان خانے میں کانگریسی رہنماؤں کے بارہا قیام سے مل جاتا ہے۔ ان معاملات میں سید سلیمان ندوی کا رویہ کیسا ہی کیوں نہ ہو، محمد امین زبیری کے جوابی حملے کا جواز فراہم نہیں ہوتا۔ انھیں ایک دُکھ اس بات کا تھا کہ سید سلیمان ندوی نے خطوطِ شبلی شائع کرنے سے معذوری کا اظہار کیا تھا، بلکہ ’بعض وجوہ سے ان خطوط کی اشاعت ہی مناسب تصور نہ فرمائی‘ اور دوسرا دُکھ اس کا کہ ان کی خواہش کے باوجود علی گڑھ اور سرسید سے متعلق ابواب انھیں دِکھائے نہیں گئے۔ افسوس کہ امین زبیری ناراض تو تھے سید سلیمان ندوی سے اور ان جرائم کی عبرت ناک سزا بھی انھیں کو دینا چاہتے ہوں گے ؛ لیکن وہ یہ بھول گئے کہ ان کے اس عمل سے نقصان کس کا ہوگا، چنانچہ جنھیں وہ ’علامہ دَوراں‘ اور ’مولاناے مرحوم‘ کے ناموں سے یاد فرماتے تھے، ان کے غیظ و غضب کا شکار ہو گئے۔ ذکرِ شبلی کی اشاعتِ اوّل کا معاملہ نہایت دلچسپ ہے، خود امین زبیری کی زبان سنیے:
۱۹۴۶ء میں ایک مکمل تنقید اڑھائی سو صفحے کی لکھی، جو کتب خانہ دانش محل امین الدولہ پارک لکھنؤ سے شائع ہوئی۔ اشاعت سے قبل ایک صاحب نے حق تالیف ادا کرنے کے معاہدے پر، جو مولوی عبدالحق کے ذریعے سے ہوا تھا اور بحق انجمن منتقل کر دیا گیا تھا، مسودہ لے لیا؛ مگر بعد کو حکیم اسرار احمد کریوی نے، جو انجمن کے سفیر خاص تھے، مولوی صاحب کی اجازت سے اس پر قبضہ کر لیا اور صرف چند نسخے شائع کیے اور بہ تعداد کثیر تلف کر دیے گئے۔ کیوں تلف کیے گئے، یہ راز حل نہ ہوا۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس موقع پر مولوی عبدالحق بھی ہاتھ کھینچ گئے اور شبلی شکنی کے اس منصوبے میں سرپرست و معاون نہ بنے۔ ’صرف چند نسخے شائع‘ کرنے کا مقصد محض ماحول کو گرمانا ہو سکتا ہے، ورنہ وہ باقی نسخوں کو تلف نہ کرتے۔ حیرت ہے، امین زبیری پر یہ راز نہ کھل سکا۔
اس تلف شدہ کتاب کا کوئی نسخہ راقم کی دسترس میں نہ آ سکا، البتہ اس کا دوسرا اڈیشن پیش نظر ہے، جو مکتبہ جدید لاہور سے ۱۹۵۳ء میں شائع ہوا اور جسے مرتب نے سابقہ مسودے کا خلاصہ قرار دیا ہے۔ یہ کتاب دراصل سید سلیمان ندوی کے بیانات کی تردید پر مشتمل ہے۔ اس کے بالاستیعاب مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ محمد امین زبیری تنقیص کے نام پر تنقیدی فریضہ انجام دینے کی کوشش کر رہے تھے۔ ابتدا میں مبصر نے شبلی کی عظمت سے متعلق دیباچہ حیاتِ شبلی سے پانچ اقتباسات پیش کرکے بالترتیب سب کا مفصل جواب دیا۔ علی گڑھ کی زندگی کے بارے میں مؤلفِ حیات کے بیانات کی تردید کی، سرسید سے ’کشمکش اور اختلاف‘ اور اس سلسلے کی ’نوشعاعوں‘ پر تفصیلی بحث کی اور شبلی کی زندگی کے بعض واقعات سے ان کی شخصیت کو نشانہ تنقید بنایا۔ اندازِ تنقید ملاحظہ فرمائیے:
بمبئی میں وہ ایک نہیں، کئی تیروں کے گھائل ہوئے تھے اور ایک پریشان بوالہوس کی طرح، اور اسی ہوس و پریشاں نظری میں ایک ممتاز و تعلیم یافتہ گھر کو براے چندے مطمح نظر بنا لیتے ہیں اور خطوط میں اور شعر و سخن میں وہ جذبات و میلانات ظاہر کرتے ہیں، جو شبلی جیسے عالم و فاضل کے چہرہ پر نہیں کھلتے۔ ۱۴۸؍صفحات پر مشتمل اس تبصرے کا مرکزی خیال انھیں کے الفاظ میں یوں پیش کیا جاسکتا ہے:
مولانا شبلی کے اس احترام کو مدِنظر رکھتے ہوئے، جس کے کہ وہ صحیح طور پر مستحق ہیں، اس امر کو بیان کرنے میں کوئی باک نہیں کہ وہ اپنے اور ابنِ خلدون کے قول کے مطابق، سیاست سے بعید ترین تھے اور انھوں نے سیاسیاتِ ہند کو مطلق نہیں سمجھا تھا۔ سرسید کی پالیسی پر بیدردانہ اعتراض ان کی سیاسی کوتاہ نظری کی بین دلیل ہے، جو پالیسی روز بروز صحیح سے صحیح تر ثابت ہوئی اور بالآخر پاکستان پر منتج ہو گئی۔
ذکرِ شبلی سے امین زبیری کا اطمینان نہ ہوا تو اسی برس (۱۹۴۶ء) خطوطِ شبلی کو بنیاد بنا کر شبلی کی زندگی کا ایک رنگین ورق مرتب کر ڈالی۔ یہ محض اکتالیس صفحات پر مشتمل ایک کتابچہ تھا، جسے بعد میں اضافہ و ترمیم کے ساتھ ۱۹۵۲ء میں شبلی کی رنگین زندگی کے نام سے شائع کیا گیا۔ اس وقت یہی اڈیشن پیش نظر ہے، جسے جمیل نقوی نے مرتب کیا۔ مرتب نے درست لکھا ہے کہ شبلی کی رنگین زندگی کچھ ایسی رنگین نہ تھی، جسے پیش کرتے ہوئے تکلف محسوس ہو‘ اور یہ کہ ’اُن [عطیہ] کے ساتھ مولانا شبلی کو جو لگاؤ تھا، اس کی وجہ سواے اس کے اَور کچھ نہیں کہ مولانا اپنے سابقہ خشک زاہدانہ ماحول سے نکل کر دفعتہ ایک زیادہ خوش گوار اور حیات افروز ماحول سے دوچار ہوئے، جس نے ان کے خوابیدہ جمالیاتی احساسات کو بیدار کر دیا‘۔ خود زبیری صاحب مؤلف حیاتِ شبلی کے اس بیان کے پیچھے پناہ لیتے ہوئے کہ ’عشق و محبت کا جذبہ فطرتِ انسانی کا خمیر ہے‘ ۔۔۔ فرماتے ہیں کہ ’ہمارا فلسفہ اخلاق تو عشق نفسانی کو بھی ایک فضیلت قرار دیتا ہے‘، چنانچہ ان کے خیال میں ’اگر مولانا شبلی کے عشق و محبت کے افسانوں کو بیان کیا جائے تو ان کی علمی و قومی عظمت میں کوئی فرق نہیں آ سکتا‘ اور ’یہ مختصر تبصرہ نہ توشبلی کی تفضیح و تضحیک ہے اور نہ بدطینتی پر مبنی ہے، بلکہ تکملہ حیاتِ شبلی ہے‘ ۔
اگرچہ منشی محمد امین زبیری نے اس تالیف کو حیاتِ شبلی کا تکملہ قرار دیا، لیکن ان کا انداز بہت جارحانہ تھا، چنانچہ انھوں نے ترتیبِ زمانی کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنے پسند کے نتائج برآمد کیے۔ خطوطِ شبلی کے بارے میں یہ کہہ کر کہ ’ان میں کوئی بات اور کوئی چیز ایسی نہیں، جو اخلاقی ابتذال کہی جا سکے‘، لکھتے ہیں کہ ’اس مجموعہ خطوط کی اشاعت کے بعد ہی مکاتیبِ شبلی کو بہت سے مکاتیب کے اضافوں کے ساتھ علامہ سید سلیمان نے ایک مقدمہ لکھ کر دو حصوں میں شائع کیا‘؛ حالانکہ مکاتیبِ شبلی کی جلد اوّل ۱۹۱۶ء اور جلد دوم ۱۹۱۷ء میں شائع ہو چکی تھی، جب کہ خطوطِ شبلی کی اشاعت ۱۹۲۶ء میں ہوئی۔ مہدی حسن افادی، ابوالکلام آزاد اور بعض تلامذہ کے نام خطوں کے مندرجات سے متعلق ان کے جملوں کی کاٹ ملاحظہ کیجیے:
’ان میں مولانا اتنے کھل کھیلے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے‘۔
’ابوالکلام آزاد کے نام کے مکاتیب نے تو انھیں بالکل عریاں کر دیا ہے‘۔
’مولانا شبلی علمی رفعت و بلندی سے اخلاقی ابتذال کی پست سطح پر آ جاتے ہیں‘۔
شبلی سے متعلق منشی محمد امین زبیری کی رنجیدگی کے اسباب جاننے کے لیے زیرِ نظر کتاب میں حیاتِ شبلی پر ان کا درج ذیل تبصرہ بہت مفید ہو سکتا ہے۔ زبیری صاحب لکھتے ہیں:
جب تنقیدی نظر سے ہم اس کتاب کو پڑھتے ہیں تو اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ علامہ مرتب نے متذکرہ اصولِ سوانح نگاری سے دانستہ اعراض کیا ہے۔ بیشتر رطب و یابس روایات پر واقعات کے ہوائی قلعے بنائے اور دوسروں پر گولہ باری کی ہے۔ واقعات کی تخلیق، ان کا اخفا، حق و باطل کی تلبیس، مبالغہ، تبختر، رکاکتِ بیان، علی گڑھ تحریک اور سرسید کی تنقیص و حقارت اور افترائیات کا ایک طومار ہے اور طرہ یہ ہے کہ خطوطِ شبلی کو، جو مکاتیبِ شبلی سے ایک علیحدہ مجموعہ ہے اور صرف دو بیگمات (عطیہ بیگم فیضی و زہرا بیگم فیضی) کے نام ہیں، قطعی نظر انداز کر دیا۔
خطوطِ شبلی کو نظر انداز کرنا اور علی گڑھ اور سرسید کی مخالفت بنیادی سبب قرار پاتے ہیں شبلی کی مخالفت کے۔ اس سلسلے میں زبیری صاحب کا ایک اَور بیان بھی قابلِ ذکر ہے۔ ۱۹۳۶ء-۱۹۳۷ء میں کانگریس کی طرف سے مسلم عوام سے رابطہ کرنے اور مسلم لیگ کی قوت توڑنے کی مہم شروع ہوئی تو ابوالکلام آزاد نے بھرپور کردار ادا کیا۔ زبیری صاحب کے خیال میں اگرچہ وہ ناکام رہے، تاہم۱۹۴۰ء میں انھیں کانگریس کا صدر منتخب کر لیا گیا۔ دارالمصنّفین اور ان کے رفقا سے قریبی تعلق کی بِنا پر یہ اعزاز اس ادارے کے لیے باعثِ فخر تھا۔ زبیری صاحب لکھتے ہیں:
اسی زمانے میں حیاتِ شبلی مرتب ہو رہی تھی، اس میں اتحادِ اسلامی اور کانگریس کی ہمرہی کو شبلی کا فیض صحبت تو دِکھایا، مگر مسلم انڈیا کے اعتماد قطعی زائل ہونے اور ان [ابوالکلام آزاد] کو شوبوائے سمجھے جانے کا اشارۃً بھی ذکر نہیں کیا۔
متذکرہ بالا تمام الزامات سید سلیمان ندوی پر عائد کیے گئے ہیں اور موجبِ سزا شبلی ٹھہرے، اس سے منشی محمد امین زبیری کی علمی دیانت کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شبلی کی حیاتِ معاشقہ کے مصنف وحید قریشی، صلاح الدین صاحب کے بھی شکریہ گزار‘ ہیں، ’جو محترمہ عطیہ بیگم سے ایک ایسا مضمون حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے، جس کے بغیر یہ موضوع یقیناًتشنہ رہ جاتا‘۔ عطیہ فیضی کا یہ مضمون ’مولانا شبلی اور خاندانِ فیضی‘ کے عنوان سے ادبی دنیا (جولائی اگست ۱۹۴۶ء) میں شائع ہوا۔ یاد رہے کہ ۱۹۲۲ء-۱۹۲۳ء میں عطیہ نے مدیرِ ظلّ السلطان کے مدیر محمد امین زبیری کو شبلی کے خطوط دِکھائے اور انھیں رسالے میں اشاعت کی اجازت دے دی، بعد ازاں یہ خطوط ایک مجموعے کی صورت میں شائع ہوئے، وہ لکھتی ہیں:
اس واقعہ کو سالہاسال ہو گئے، مگر اَب تھوڑا عرصہ ہوا، جب میرے علم میں آیا کہ اُسی زمانے میں مولانا شبلی کے شاگرد اور جانشین سید سلیمان ندوی نے بھی ان کے خطوط کا ایک مجموعہ مکاتیبِ شبلی کے نام سے شائع کیا تھا اور اس میں بعض خطوط ایسے بھی شائع کیے، جن سے ہمارے نام کے خطوط کے ساتھ رابطہ اور سلسلہ ہے اور میری ذات اور شخصیت کے متعلق اشارے ہیں۔ ان سے ادیبوں اور افسانہ نگاروں کو بھی ایک بڑا مواد اور مشغلہ ہاتھ آ گیا ہے۔ ریڈیو پر تقریر ہوئی اور اردو رسائل میں مضامین شائع کیے گئے، اگرچہ ہمارے خطوں میں تو کوئی بات ایسی نہ تھی۔
ان بیانات پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ مکاتیبِ شبلی ۱۹۱۶ء-۱۹۱۷ء میں شائع ہوتے ہیں، جن میں عطیہ کی ’ذات اور شخصیت کے متعلق اشارے‘ ہیں، لیکن حیاتِ شبلی کی اشاعت تک عطیہ سے متعلق کسی ادیب یا افسانہ نگار کے ہاتھ نہ تو کوئی ’مواد‘ آتا ہے اور نہ کوئی ’مشغلہ‘۔ عطیہ فیضی، شبلی کے خطوط کے جن مندرجات کو اپنی ذات اور شخصیت کے متعلق ’اشارے‘ قرار دیتی ہیں، اگر وہ اتنے ہی تشویش ناک ہوتے تو اس طویل عرصے (۱۹۱۷ء سے ۱۹۴۶ء) میں ان کی بھنک عطیہ کے کانوں میں ضرورپڑتی۔ مکاتیبِ شبلی کے بارے میں عطیہ کا یہ کہنا بھی کافی دلچسپ ہے کہ ’ابھی [۱۹۴۶ء میں] تھوڑا عرصہ ہوا، جب میرے علم میں آیا‘۔ دوسری جانب، اگر ان مکاتیب میں عطیہ کی ذات اور شخصیت کے متعلق ’اشارے‘ تھے تو اس کی جستجو عطیہ نے نہیں، محمد امین زبیری نے کی اور عطیہ نے بھی کمال مہربانی سے اپنے نام شبلی کے خطوط براے اشاعت ان کے حوالے کر دیے۔ یہ خط پہلے ظلّ السلطان شائع ہوئے اور پھر کتابی صورت (خطوطِ شبلی) میں منظر عام پر آئے، لیکن حیرت ہے کہ ادبی دنیا میں اس پر بھی کوئی قابلِ ذکر ہلچل نہیں ہوتی؛ ورنہ تو یہی دو مواقع تھے، جب ادیبوں اور افسانہ نگاروں کے ہاتھ کوئی بات آ سکتی تھی، لیکن ان دونوں مواقع سے نہ کسی نے فائدہ اٹھایا اور نہ ہی اپنی شہرت کا سامان کیا۔ شبلی کے خط تو شائع ہو گئے، جن سے معلوم ہو گیا کہ ان میں کون کون سے’اشارے‘ ہیں، لیکن عطیہ کے خطوط کے پردۂ اخفا میں چلے جانے کے بعد ان ’اشاروں‘ کا سبب معلوم نہ ہو سکا، چنانچہ ان کا یہ بیان تحقیق طلب رہ جاتا ہے کہ ’ہمارے خطوں میں تو کوئی بات ایسی نہ تھی‘۔ عطیہ معترض ہیں:
مولانا ایک شریف گھر میں ایک عالم، ایک بزرگ اور ایک بہت بڑے مذہبی مشن کے مبلغ کی طرح جاتے ہیں۔ یہاں بڑی عزت سے ان کا استقبال ہوتا ہے، لیکن ان کے دل میں اَور ہی جذبات پیدا ہو جاتے ہیں، جن کو ایسے راز دار دستوں کے خطوں میں بھی ظاہر کرتے رہتے ہیں، جو مہذب، تعلیم یافتہ اور عالم بھی ہیں اور یہ بزرگ ان خطوں کو اشاعت کے لیے نذر کر دیتے ہیں اور ان کے جانشین بھی، جو علم و اخلاق اور ادب کے اعتبار سے کافی شہرت رکھتے ہیں، ان کو شائع کرتے ہیں اور یہ بھی نہیں سوچتے کہ اس طرح وہ لائبل کے جرم کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ کیا اسی معیارِ شرافت پر ان عالموں اور فاضلوں کو ناز ہے؟
اگر شبلی کے ’دل میں اَور ہی جذبات پیدا ہو جاتے ہیں‘ ، جنھیں وہ ’راز دار دوستوں کے خطوں میں بھی ظاہر کرتے رہتے ہیں‘ تو اس سے عطیہ بے خبر نہ تھیں، بلکہ شبلی انھیں بھی مطلع کرتے رہتے تھے۔ ۹؍جون ۱۹۰۹ء کے خط میں لکھتے ہیں، ’اب تو تمھارے خطوط ایسے ہوتے ہیں کہ احباب کو مزے لے لے کر سناتا ہوں اور لوگ سر دھنتے ہیں‘۔ ۱۳؍اکتوبر ۱۹۱۰ء کو بتاتے ہیں، ’میرے خاندان کی عورتیں ۔۔۔ تم سے بڑے شوق سے ملتیں، کیونکہ تمھارا اکثر تذکرہ میری زبان سے سنتی رہتی ہیں‘، حتیٰ کہ ۱۵؍جولائی ۱۹۰۹ء کے ایک خط میں رقم طراز ہیں، ’میری لڑکی علاج کے لیے آئی ہے، وہ تمھارے خط پڑھ کر سخت حیرت زدہ ہوتی ہے کہ اس قابلیت کی بھی عورتیں ہوتی ہیں‘۔ جن کے دل میں ’اَور ہی جذبات‘ ہوتے ہیں اور کسی کو ’مزے لے کر‘ سناتے ہیں تو وہ مکتوب الیہ کو نہیں بتاتے اور نہ ہی اس بات کا خاندان کی عورتوں یا بیٹی کے سامنے ذکر کرتے ہیں۔ عطیہ کا یہ بیان بھی توجہ طلب ہے:
ہم نے مولانا کے خطوں کو، جو ہمارے نام آتے تھے، ہمیشہ معصومانہ روشنی میں دیکھا، کیونکہ ان میں بظاہر کوئی ایسی بات نہ تھی کہ ہم میں سے کوئی بھی کسی قسم کی بدگمانی کرتا یا کسی برائی کا احساس ہوتا، البتہ بعض نظموں میں شوخی ضرور ہوتی تھی، جو شاعرانہ طبیعت کا خاصہ ہے؛ لیکن اب معلوم ہوتا ہے کہ یہ راز و اشارات اُن ہی جذبات پر مبنی تھے اور بعض نظموں میں بھی ان کو شاعری کے پردے پر ظاہر کرتے تھے ۔انسان کے علم کا اندازہ تو ایک دِن میں ہو جاتا ہے، لیکن نفس کی خباثت برسوں میں بھی نہیں معلوم ہوتی اور ہم بھی اسی علم و لاعلمی میں رہے۔
عطیہ کے ان بیانات پر وحید قریشی نے نہایت دلچسپ نوٹ لکھا ہے:
اس اقتباس میں دلائل سے زیادہ جذبات کا استعمال ہوا ہے اور مولانا شبلی کی ذات پر بعض نازیبا اور ناواجب حملے کیے گئے ہیں۔ شبلی جذباتی آدمی ضرور تھے، لیکن ’خبیث‘ نہیں۔ ۔۔۔متذکرہ بالا اقتباس میں لاعلمی پر جو ضرورت سے زیادہ زور دیا گیا ہے، ہمیں سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے اور ہم علامہ شبلی اور علامہ اقبال کے ان جملوں کو شک کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں، جن میں عطیہ صاحبہ کو ذہن و فطین کہا گیا ہے۔
واضح رہے کہ ۱۹۰۸ء میں دستۂ گُل، ۱۹۰۹ء میں بُوے گُل، ۱۹۱۶ء اور ۱۹۱۷ء میں مکاتیبِ شبلی اور ۱۹۲۶ء میں خطوطِ شبلی کی اشاعتوں کے باوجود موضوعِ زیرِ بحث پر کسی طرف سے کوئی سوال نہیں اُٹھایا گیا، لیکن ۱۹۴۳ء میں حیاتِ شبلی شائع ہونے کے فوری بعد عطیہ سے متعلق گفتگو کا آغاز ہو گیا۔ اس بحث کا آغاز محمد امین زبیری سے ہوتا ہے، جن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے عطیہ لکھتی ہیں کہ ’انھوں نے ہماری پوزیشن کو تبصرۂ حیاتِ شبلی میں بیان کر کے صاف کر دیا اور دنیا کو اصل حقیقت بتا دی‘۔ کیا اندازِ تحسین ہے! یہ وہی امین زبیری ہیں، جنھیں نہ تو مکاتیبِ شبلی میں عطیہ کی ذات اور شخصیت کے متعلق ’اشاروں‘ سے کوئی اذیت پہنچی اور نہ ہی خطوطِ شبلی شائع کرتے ہوئے انھیں کچھ ملال ہوا، ملال ہوا تو اُس وقت جب حیاتِ شبلی منظر عام پر آئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھی وحید قریشی کے ’خیالاتِ عالیہ‘ پر بحث جاری تھی کہ شیخ محمد اکرام کی شبلی نامہ منظر عام پر آ گئی۔ انھوں نے دس باب باندھے،جن میں سے چند ایک موضوعِ زیرِ بحث سے تعلق رکھتے ہیں۔ دوسرے باب ’علی گڑھ‘ کے ابتدائی حصے میں علی گڑھ کالج میں آمد، سرسید سے شبلی کے تعلقات، کالج میں شبلی کے شب و روز، شبلی کی قدیم اور کالج کی جدید تعلیم کے ان پر اثرات اور کالج کی درس و تدریس سے تصنیف و تالیف کے لیے وقت نکالنے جیسے معاملات پر سیر حاصل گفتگو کے بعد انھوں نے سید سلیمان ندوی کے بعض بیانات کا تنقیدی جائزہ لیا ہے؛ یعنی ’سرسید اپنے ہم نشینوں سے آمنّا و صدقنا کے سوا کوئی اختلافِ راے برداشت نہیں کرتے تھے‘، ’سرسید چاہتے تھے کہ مسلمان مذہب کے سوا ہر بات میں انگریز ہو جائیں‘ یا ’اخیر عمر میں سرسید کی یہ بڑی خواہش تھی کہ ان کی سوانح عمری لکھی جائے‘ وغیرہ وغیرہ۔ شیخ اکرام لکھتے ہیں کہ انھوں [سلیمان ندوی] نے سرسید کی جو بھونڈی اور خلافِ واقعہ تصویر کھینچ کر بچارے شبلی کی مخالفت کا سامان کیا ہے، وہ شبلی کے دل و دِماغ کی نہیں۔
سید سلیمان ندوی کے ان خیالات پر کہیں تو شیخ محمد اکرام نے وضاحتیں پیش کیں اور کہیں کہیں طنزیہ انداز اختیار کیا۔ یہاں دو اقتباسات پیش کیے جاتے ہیں، تاکہ شیخ صاحب کے اندازِ اسلوب کو محسوس کیا جا سکے، لکھتے ہیں:
سید سلیمان ندوی نے شبلی کے خطوط، مضامین، اشعار مرتب کیے ہیں۔ ان چیزوں کو مرتب کرتے ہوئے انھوں نے بہت سی قابلِ اعتراض باتوں پر سیاہی پھیر دی ہے، لیکن عقیدت مند آنکھوں کو قابلِ اعتراض باتیں مشکل سے ہی نظر آتی ہیں اور سید سلیمان ندوی کی احتسابی کارفرمائی کے بعد اَب ان چیزوں کا یہ عالم ہے کہ آپ شبلی کی شخصیت کے خلاف کوئی فردِ جرم مرتب کرنا چاہیں تو آپ کو شبلی کے ہاتھ کی لکھی ہوئی تائیدی دستاویزات مل جائیں گی۔ اپنے استاد پر یہ احسان کر کے اور حیاتِ شبلی میں بھی بعض ایسے رخنے چھوڑ کر، جن سے شبلی کی اصل شخصیت پر تھوڑی بہت نئی روشنی پڑ جاتی ہے، سید سلیمان اب اسے اپنے استاد کی خیرخواہی سمجھتے ہیں کہ ہر اُس شخص کا منہ چڑائیں، جس کا قد و قامت شبلی سے بلند ہے۔
شبلی کو سرسید سے لاکھ اختلاف سہی، لیکن سرسید کی نسبت ان کی وہ گری ہوئی راے ہرگز نہ تھی، جو سید سلیمان کی ہے؛ جنھیں سرسید کو قریب سے دیکھنے کا کوئی موقع نہیں ملا ، یا اُن لوگوں کی ہے، جو حقیقی واقعات سے بے خبر ہیں۔آپ سرسید کے اس کارٹون کو دیکھیے، جو سید سلیمان نے حیاتِ شبلی میں پیش کیا ہے اور اس کا شبلی کی اُس تصویر سے مقابلہ کیجیے، جو شبلی نے اُس وقت کھینچی تھی، جب وہ علانیہ سرسید کے خلاف صف آرا تھے۔
یہاں مصنف نے شبلی کے مضمون ’مسلمانوں کی پولیٹکل کروٹ‘ سے ایک اقتباس پیش کیا ہے، جس سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ شبلی تو آخر عمر تک سرسید کی عظمت اور بلندی کردار کا ذکر برسرمحفل کرتے رہے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ مضمون مسلم گزٹ لکھنؤ میں ۱۲؍فروری ۱۹۱۲ء، ۴؍مارچ ۱۹۱۲ء اور ۹؍اکتوبر ۱۹۱۲ء کے شماروں میں شائع ہوا۔ یہی مضمون ماہ نامہ معارف اعظم گڑھ کے شمارے جولائی ۱۹۱۶ء میں شائع ہوا اور اَب مقالاتِ شبلی جلد ہشتم میں شامل ہے۔ درج ذیل اقتباس یہیں سے نقل کیا جا رہا ہے۔ شبلی لکھتے ہیں:
وہ پُر زور دست و قلم، جس نے اسبابِ بغاوتِ ہند لکھا تھا اور اُس وقت لکھا تھا، جب کورٹ مارشل کے ہیبت ناک شعلے بلند تھے۔ وہ بہادُر، جس نے پنجاب یونیورسٹی کی مخالفت میں لارڈ لٹن کی اسپیچوں کی دھجیاں اُڑا دی تھیں اور جو کچھ اُس نے ان تین آرٹکلوں میں لکھا، کانگریس کا لٹریچر حقوق طلبی کے متعلق اس سے زیادہ پُرزور لٹریچر نہیں پیدا کر سکتا۔ وہ جاں باز، جو آگرہ کے دربار سے اس لیے برہم ہو کر چلا آیا تھا کہ دربار میں ہندوستانیوں اور انگریزں کی کرسیاں برابر درجہ پر نہ تھیں۔
شیخ محمد اکرام نے دوسری گرفت عطیہ فیضی کے حوالے سے ہے۔ ان کے خیال میں ’منتشر خطوط اور مبہم اشعار کی بِنا پر کسی کی داستانِ دل مرتب کرنا آسان نہیں، لیکن جب فریقین میں سے ایک شبلی کی سی قومی اہمیت رکھتا ہو اور دوسرا پرائیویٹ خطوط کو اشاعت کے لیے حوالے کر دے تو پھر اس داستان کی ترتیب ناگزیز سی ہو جاتی ہے‘۔ شیخ اکرام خطوطِ شبلی، شبلی کی حیاتِ معاشقہ اور شبلی کی زندگی کا ایک رنگین ورق کا ذکر کرتے ہوئے خطوطِ شبلی اور غزلیاتِ بمبئی کو ایک لڑی میں پرونے کا ارادہ ظاہر کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں ’ان تحریروں میں غلطی اور غلط فہمی کی گنجائش ہے‘، لیکن عطیہ کے مضمون ’مولانا شبلی اور خاندانِ فیضی‘ نے اس مسئلے کو حل کر دیا۔ شیخ صاحب کی طرف سے عطیہ کے اس بیان کو کہ ’مولانا ایک شریف گھر میں ایک عالم، ایک بزرگ اور ایک بہت بڑے مذہبی مشن کے مبلغ کی طرح جاتے ہیں، جہاں بڑی عزت سے ان کا استقبال ہوتا ہے، لیکن ان کے دل میں اَور ہی جذبات پیدا ہو جاتے ہیں‘، بغیر کسی تامل و تردّد کے درست مان لینے کا مشورہ ان کی جانب داری کا اظہار ہے۔ ان کا یہ خیال بھی ان کے تعصب کو ظاہر کرتا ہے کہ ’اس امر کا کوئی ثبوت نہیں کہ اس آگ کو شعلہ زن رکھنے کی عطیہ بیگم صاحبہ نے کوئی بھی کوشش کی تھی‘، گویا وہ عطیہ کے خطوط کی عدم موجودگی میں محض قیاس پر بنیاد پر عطیہ کی معصومیت پر مہر تصدیق ثبت کر رہے ہیں اور شبلی کے ’زود اشتعال‘ جذبات کے بھڑک اٹھنے کی اطلاع بہم پہنچاتے ہیں۔
وحید قریشی نے عطیہ کی پیدائش کو ۱۸۹۲ء سے ڈیڑھ دو سال قبل کا واقعہ قرار دیا، جس کے مطابق عطیہ اور شبلی کی ملاقات کے وقت (۱۹۰۶ء میں) دونوں کی عمریں بالترتیب سولہ اور انچاس برس قرار پاتی ہیں، دوسری جانب شیخ محمد اکرام عطیہ کی عمر بیس سال سمجھتے ہیں، چنانچہ ان کے خیال میں ’مولانا کو اس قابل باکمال بِست سالہ لڑکی نے جس طرح مسحور و بیخود بنا دیا تھا، اس کا اندازہ خطوطِ شبلی کے صفحے صفحے سے ہوتا ہے‘۔ حیرت ہے کہ ۱۹۷۱ء میں یادگارِ شبلی لکھتے وقت بھی وہ عطیہ(پ: ۱۸۷۷ء) کی عمر کا درست تعین نہ کر سکے اور اس میں یہی جملہ دہرا دیا، یہی وجہ ہے کہ انھوں نے’شبلی اور عطیہ میں شاید تیس سال کا فرق‘ محسوس کیا۔
شیخ اکرام ایک طرف وحید قریشی کے بعض خیالات کی تردید کرتے ہیں تو دوسری جانب خود بھی قیاس آرائی سے کام لیتے ہوئے اپنی مرضی کے نتائج نکالتے ہیں:
خطوطِ شبلی کے ایک اندراج سے خیال ہوتا ہے کہ دستۂ گُل کی بعض غزلیں اسی نشے کا اثر تھیں، جس نے خطوطِ شبلی کو ایک خم کدۂ محبت بنا دیا ہے، لیکن یہ فیصلہ کرنا کہ کون سی غزل کس لمحے کی یادگار ہے اور اس میں کس واقعے کی طرف اشارہ ہے، آسان نہیں۔ یہ تو ایسا کام ہے، جسے اگر ’عالم السرائر‘ مولانا ابوالکلام آزاد (جو بمبئی کی بعض رنگین صحبتوں میں شبلی کے شریک تھے) چاہیں تو بخوبی سر انجام دے سکتے ہیں اور دل دادگانِ شبلی کو ممنونِ کرم کر سکتے ہیں۔
اس اقتباس میں قیاس آرائی اور مزے لینے کی کیفیت دونوں پائی جاتی ہیں۔ یہ انداز تحقیقی اصولوں کے سراسر منافی ہے۔ استخراجِ نتائج کے لیے قیاس آرائی، طنزیہ لب و لہجہ اور لذت پسندی سود مند نہیں ہو سکتے۔اس موقع پر وہ عطیہ فیضی، بیگم مہدی افادی اور مولانا ابوالکلام آزاد کے حوالے سے خوب ’دادِ تحقیق‘ دیتے ہیں، لیکن اگلے ہی باب ’ندوۃ العلما لکھنؤ‘ کے پہلے پیراگراف میں شبلی کے ہاں معاملات کے توازن اور اعتدال کا اور جذباتی کیفیات پر قومی اور مذہبی فرائض کو ترجیح دینے کا اعتراف بھی کرتے ہیں، لکھتے ہیں:
بمبئی اور کلکتہ کی دلچسپیاں شبلی کے لیے بلا کی کشش رکھتی تھیں، لیکن ندوہ کی کشش اس سے زیادہ تھی۔ شبلی کو اگر عطیہ اور زہرا کی صحبت اور بمبئی اور کلکتہ کے خوش نما مناظر سے تعلق خاطر تھا تو اس مجموعۂ اضداد کو اپنی قوم اور مذہب اور اپنے علمی و ادبی مشغلے ان سے بھی زیادہ عزیز تھے۔ وہ بمبئی یا جزیرہ جاتے، تب بھی ان کا معمول تھا کہ اپنے عزیز اور حسین میزبانوں سے اُس وقت ملتے، جب صبح صبح اپنے وظیفہ علمی سے فارغ ہو جاتے، چنانچہ شبلی کی رنگین دلچسپیوں سے ان کے قومی کاموں میں کوئی فرق نہ آیا، بلکہ ان کی سب سے زیادہ قومی مصروفیت کے یہی دِن تھے۔
جیسا کہ ایک وقت پر وحید قریشی نے اپنے نتائجِ تحقیق سے سرد مہری ظاہر کر دی، اسی طرح شیخ محمد اکرام نے شبلی نامہ کے دوسرے اڈیشن یادگارِ شبلی میں ’خطوطِ شبلی کی صحیح تعبیر‘ پیش کرتے ہوئے اپنے خیالات پر نظرثانی کر لی۔ ذیل میں شیخ صاحب کے مذکورہ بیان سے منتخب حصے پیش کیے جاتے ہیں:
عطیہ بیگم سے شبلی کو جو تعلق خاطر تھا، اگر یہ خیال کیا جائے کہ ان جذبات کی نوعیت ایک ’گناہ‘ کی تھی، جس کا ’ستر‘ چاہیے توہمیں اس سے اختلاف ہے۔ ۔۔۔ شبلی نے عطیہ کی نسبت اپنی راے کو ’گناہ‘ نہیں سمجھا اور نہ ہی اس پر ’پردہ‘ ڈالنے کی بڑی کوشش کی۔ ۔۔۔ عطیہ سے مراسم قدیم طرز کی ثقہ ہستیوں کو ناپسند ہوں گے، لیکن شبلی قدیم طرز کی ایک ثقہ ہستی نہ تھے، پھر ان میں ’گناہ‘ کے اصل مفہوم والی کوئی بات نہ تھی۔ ۔۔۔ عطیہ بیگم سے شبلی نے جو امیدیں باندھ رکھی تھیں، اس میں ان کی طبعی رومانیت کو بھی دخل تھا، لیکن یہ بھی انصاف نہیں کہ اس دل بستگی کے علمی اور اصلاحی پہلوؤں کا نظر انداز کر دیا جائے۔ ۔۔۔ اس میں غیر معمولی ذہانت اور قابلیت کی قدر، ہمت اور الوالعزمی کے لیے احترام، پولیٹیکل خیالات سے اتفاق راے، یہ سب باتیں شامل تھیں اور ان سب کے پس پشت یہ ارمان کہ ان کے ایک کرم فرما کی بیٹی، جس کے خاندان میں پردے کا رواج نہیں، ’ان مشہور عورتوں کی طرح اسپیکر اور لیکچرر بن جائیں، جو انگریز اور پارسی قوم میں ممتاز ہو چکی ہیں‘ اور اب جو ’وہ میدان میں آ چکیں، جو کچھ ہو، کمال کے درجہ پر ہو‘۔ شبلی اس جذے کو گناہ نہیں سمجھتے تھے، سواے معاندین یا خاص اہلِ احتساب کے، اس پر پردہ نہ ڈالتے تھے۔ ان کے دل میں کوئی چور نہ تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
علامہ شبلی کی رحلت کے بعد شبلی شکنی کی تمام تر ذمہ داری علی گڑھ کے تعلیم یافتہ مولوی عبدالحق نے سنبھال رکھی تھی، ان کے ساتھ ساتھ مولانا وحید الدین سلیم کی بھی بعض تحریریں شامل ہیں، جو سرسید کی زندگی کے آخری پانچ سالوں میں ان کے لٹریری سیکرٹری رہے؛ لیکن یہ بھی ہے کہ اس پورے دَورانیے (۱۹۱۴-۱۹۴۳ء)میں مولوی صاحب کے ’ارشادات‘ کا نوٹس نہیں لیا گیا ، لیکن حیاتِ شبلی کا منصہ شہود پر آنا تھا کہ صرف ایک سال (۱۹۴۶ء) میں شبلی کی مخالفت میں چھوٹی بڑی تین کتابیں شائع ہو جاتی ہیں اور یہ سلسلہ ۱۹۵۰ء، ۱۹۵۲ء اور ۱۹۷۱ء تک چلتا رہتا ہے۔
دیکھا جائے تو شبلی کی مخالفت میں خود شبلی کا قصور محض حیاتِ جاوید پر چند الفاظ پر مبنی تنقید ہے، اس کے علاوہ انھیں جن جرائم میں کٹہرے میں کھڑا کیا گیا، ان میں وہ خود مطلوب نہ تھے، بلکہ ان کو ’مجرم‘ ثابت کرنے میں ان کے ممدوح (سید سلیمان ندوی) کے قلم کی کرامات تھیں۔
عطیہ کے نام شبلی کے خطوط کی ۱۹۲۶ء میں اشاعت کے وقت اس کے مرتب نے شبلی پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا اور نہ ہی ان کا ذہن خطوط کے مندرجات سے شبلی کی کسی قلبی یا باطنی بُرائی کی طرف منتقل ہوا تھا۔یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس مجموعے کے منظر عام پر آنے سے ۱۹۴۳ء تک کسی اَور کی نظر بھی ان ’برائیوں‘ پر نہیں پڑی؛ چنانچہ شبلی شکنی میں ان مراسلات کو بنیادی کردار نہیں سمجھا جا سکتا۔ یوں حیاتِ شبلی کی اشاعت ہی وہ سنگ میل ہے، جہاں سے شبلی پر تنقیص کا آغاز ہوتا ہے؛ گویا سید سلیمان ندوی کی طرف سے علی گڑھ اور سرسید کے متعلق شبلی کے خیالات کی ترتیب ہی اصل وجہِ تنازع قرار پاتی ہے۔ سید سلیمان ندوی کو اس کشمکش کو ابھارنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ ذیل میں اس کی چند وجوہ اور ان کا تجزیہ کرتے ہوئے کسی نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
(۱) مولانا اشرف علی تھانوی کے ہاتھ پر سید سلیمان ندوی کی بیعت
(۲) علی گڑھ اور سرسید کو دیو بند کے نقطہ نظر سے دیکھنا
(۳) علی گڑھ کا تحریک پاکستان اور اعظم گڑھ کا متحدہ قومیت کی طرف میلان
(۴) علی گڑھ اور سرسید سے شبلی کے اختلافات۔۔۔ سید سلیمان ندوی کے بجاے اقبال احمد خاں سہیل کی اختراع
علامہ سید سلیمان ندوی کی زندگی میں، بقول سید صباح الدین عبدالرحمن، ۴۰ء میں ایک بڑا روحانی انقلاب پیدا ہوا۔۔۔اپنی دینی عظمت و علمی جلالت کا لحاظ کیے بغیر حضرت مولانا (اشرف علی) تھانوی کے آستانہ پر جا کر اپنا سرِنیاز جھکا دیا۔ اس موقع پر ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا، مولانا محمد حنیف ندوی نے اس بیعت پر تبصرہ کرتے ہوئے سید سلیمان ندوی سے کہا، ’آپ نے سیرت النبیؐ کو بہشتی زیور کے قدموں میں ڈال دیا ہے‘۔ سید صاحب مسکراتے ہوئے بولے، ’آپ ہماری عمر کو پہنچیں گے تو آپ بھی یہی کریں گے‘۔ مولانا حنیف ندوی نے برجستہ جواب دیا، ’میرا بھی یہی خیال ہے کہ آپ پر عمر کا اثر ہے‘۔ اتفاق دیکھیے کہ اسی سال سید سلیمان ندوی صاحب کو سوانحِ شبلی لکھنے کا خیال آیا۔ حیاتِ شبلی کے دیباچے میں اس تالیف کی ابتدا کے بارے میں رقم طراز ہیں:
۔۔۔ یہاں تک کہ ۱۹۴۰ء آ گیا، یعنی مولانا کی وفات اور دارالمصنّفین کی بنیاد پر پچیس چھبیس برس گزر گئے۔ احباب کا تقاضا ہوا کہ دارالمصنّفین کی پچیس برس کی سلور جوبلی منائی جائے۔ میرا اصول یہ ہے کہ ۔۔۔ ’نمی رویم بہ راہے کہ کارواں رفتست‘۔ اس پامال رسم کو چھوڑ کر یہ خیال آیا کہ اس جوبلی کی یادگار میں خود موضوعِ جوبلی، یعنی مولانا شبلی کی سوانح عمری کا وہ کام کیوں نہ انجام دے دیا جائے، جو سالہاسال سے فرصت کے انتظار میں پڑا ہے، چنانچہ بسم اللہ کر کے ۱۹۴۰ء میں اس کا آغاز کر دیا؛ آخر تین برس کی محنت میں ۱۹۴۲ء میں یہ انجام کو پہنچا۔
گویا مولانا اشرف علی تھانوی کے ہاتھ پر بیعت اور حیاتِ شبلی کا آغاز ایک سال (۱۹۴۰ء) کے واقعات ہیں۔ اس حوالے سے پروفیسر ابراہیم ڈار نے شیخ محمد اکرام کے نام اپنے ایک خط میں لکھا ہے:
مولانا شبلی کی بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ سید سلیمان صاحب نے ان کے سوانحِ حیات اُس وقت قلم بند کیے، جب وہ تھانوی عقیدت مندوں کے زمرے میں داخل ہو چکے تھے، اس لیے ان کی اطاعت و وفاداری شبلی اور اشرف علی کے درمیان بٹ گئی ہے۔
شبلی کی ذات سے علامہ سید سلیمان کو جو نسبت تھی، اس کا تقاضا یہی تھا کہ وہ ان کی سوانح عمری لکھتے اور اس محبت سے کہ اس پر اضافہ ممکن نہ رہتا۔ حقیقت بھی یہی کہ حیاتِ شبلی پر ہر طرح کے اعتراضات کے باوجود بیاسی برس بعد بھی شبلی کی کوئی اَور سوانح عمری اس پایے کی نہ لکھی جا سکی؛ لیکن جو نسبت انھوں نے تھانوی صاحب سے قائم کی، اس کے تقاضوں کو بھی غالباً وہ نظر انداز نہ کر سکے اور شبلی کے علی گڑھ اور سرسید سے تعلقات کو دیو بند اور اشرف علی تھانوی کے نقطہ نظر سے جانچنے لگے۔ یہ بات مفروضہ بھی ہو سکتی ہے، تاہم پروفیسر ابراہیم ڈار کا خیال ہے کہ ’مولانا اشرف علی تھانوی کے حلقہ ارادت میں داخل ہونے کے بعد سید صاحب کے نقطہ نظر میں ایک غیر معمولی تبدیلی واقع ہو جاتی ہے‘، البتہ شیخ محمد اکرام اس پس منظر کو تسلیم کرنے کے باوجود مختلف زاویہ نگاہ رکھتے ہیں:
سید صاحب نے علامہ شبلی کے عقلی و اصلاحی کارناموں پر جو نسبتاً کم توجہ دی ہے، اس میں بھی ان کے نئے رجحانات کو دخل ہو گا، (جس سے اعظم گڑھ کے بھی کئی رفقا اختلاف رکھتے تھے) اور سرسید سے بڑھتے ہوئے بُعد میں بھی ان میلانات کا اثر ہو گا، لیکن ہمارا خیال ہے کہ سرسید کی نسبت سید سلیمان کے نئے نقطہ نظر میں ملک کی بدلی ہوئی سیاسی فضا کو زیادہ دخل تھا۔
شیخ محمد اکرام کے اس خیال کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ شبلی کی رحلت کے بعد سے ۱۹۴۰ء تک برعظیم کی سیاسی فضا یکسر بدل چکی تھی۔ شبلی کی مطعون مسلم لیگ اب مسلمانانِ ہند کی ترجمان بن چکی تھی اور متحدہ قومیت کے علَم بردار (علامہ محمد اقبال اور محمد علی جناح) تجربات کے بعد ہندو مسلم اتحاد سے مایوس ہو چکے تھے۔ اس بات کا ایک اَور پہلو بھی ہے اور وہ ہے سرسید کی کانگریس مخالفت پالیسی کے نتیجے میں علی گڑھ کی تحریک پاکستان سے وابستگی اور دوسری جانب اعظم گڑھ کا کانگریس کی طرف جھکاؤ، جس کا واضح ثبوت دارالمصنّفین میں کانگریسی رہنماؤں کی مہمان نوازی سے ملتا ہے۔ معارف (سلیمان نمبر) سے ایک اقتباس دیکھیے:.
پنڈت موتی لال نہرو پوربی اضلاع کے دَورے میں جب اعظم گڑھ آتے تو ہمیشہ دارالمصنّفین میں ہی ٹھہرتے۔ شبلی منزل ان کا بے تکلف مہمان خانہ تھا۔ پنڈت جواہر لال نہرو کا بھی ہمیشہ یہی طریقہ رہا۔ وہ جب بھی اعظم گڑھ آئے، دارالمصنّفین میں ٹھہرے۔
ایسے حالات میں جب یہ معلوم ہو رہا ہو کہ انگریز ہندوستان سے جا رہے ہیں اور جب یہ واضح ہونے لگے کہ آزادی کے بعد ہندوستان پر بلاشرکتِ غیرے کانگریس کی حکومت قائم ہو جائے گی؛ ایسے میں، شیخ محمد اکرام کے خیال میں، ’صرف ذاتی خیالات ہی کا نہیں، بلکہ ادارہ کی اور ایک حد تک قومی مصلحتوں کا تقاضا تھا کہ ادارہ کے مورثِ اعلیٰ کا سرسید سے زیادہ سے زیادہ بُعد ثابت کیا جائے‘۔ صورتِ حال اور بیانِ واقعات کا یہ انداز علی گڑھ میں بیٹھے ہوئے شبلی کے ’محبی‘ کے لیے یقیناًناقابلِ برداشت تھا۔
لیکن یہ بات اتنی سادہ نہیں کہ سرسید اور شبلی کے مابین مبینہ اختلافات کے اسی پس منظر پر چپ سادھ لی جائے۔ شبلی کے سوانح و شخصیت کے متعلق سید سلیمان ندوی، مولانا حبیب الرحمن شروانی، عبدالحلیم شرر، خواجہ غلام الثقلین اور حسرت موہانی کے متفرق مضامین کے بعد پہلی باضابطہ کوشش منشی محمد مہدی کا رسالہ تذکرۂ شمس العلما مولانا شبلی ہے، جو ۱۹۲۵ء میں شائع ہوا۔ اس کے بعد مولوی عبدالسلام ندوی نے مکاتیبِ شبلی وغیرہ کی مدد سے کچھ صفحات کا مسودہ تیار کیا، جسے مولانا حبیب الرحمن شروانی اور شبلی کے بعض احباب و تلامذہ نے ملاحظہ کیا۔ سید سلیمان ندوی کے خیال میں ، ’اس مجموعہ میں زندگی کی روح نظر نہ آئی‘ تو انھوں نے یہ کاغذات شبلی کی ایک اَور شاگرد مولوی اقبال احمد سہیل کے سپرد کیے، جنھوں نے ’مولوی عبدالسلام صاحب کے مسودے کو گھٹا بڑھا کر اور علی گڑھ کے بہت سے نئے واقعات کا اضافہ کر کے اپنے زورِ قلم سے بزم میں رزم کی شان پیدا کر دی‘۔ بقول سید سلیمان ندوی، یہ مضمون ’سیرتِ شبلی‘ کے عنوان سے الاصلاح سراے میر میں ۱۹۳۶ء اور ۱۹۳۷ء کے چھ نمبروں میں مسلسل نکلتا رہا؛ جب کہ فاران کراچی (اپریل ۱۹۵۸ء) کے مطابق، ’سیرتِ شبلی‘ کا یہ سلسلہ پندرہ قسطوں تک پہنچ گیا تھا‘۔ ۱۹۷۱ء میں یادگارِ شبلی کی اشاعت تک یہ اقساط منظر عام پر نہ آئی تھیں، البتہ شیخ محمد اکرام نے اس شک کا اظہار کر دیا تھا کہ ’سرسید اور شبلی کے اختلافات والا مضمون، جس کی وجہ سے حیاتِ شبلی کی اتنی مخالفت ہوئی، بنیادی طور پر سہیل صاحب نے لکھا اور اس کا بیشتر حصہ ان کے اندراجات پر مبنی ہے‘۔
شیخ محمد اکرام کا یہ شبہ حقیقت کا رُوپ دھار چکا ہے، کیونکہ دارالمصنّفین شبلی اکیڈمی کے ایک نوجوان اسکالر مولانا فضل الرحمن اصلاحی نے الاصلاح کے شماروں (اکتوبر ۱۹۳۶ء ، نومبر تا دسمبر ۱۹۳۶ء، جنوری ۱۹۳۷ء، مارچ تا نومبر ۱۹۳۸ء اور جنوری تا فروری ۱۹۳۹ء ) سے پندرہ اقساط کو شبلی صدی (نومبر ۲۰۱۴ء) کے موقع پر سیرتِ شبلی کے نام سے کتابی صورت میں شائع کر دیا۔ ان کے مطابق، حیاتِ شبلی میں متعدد مقامات پر اس کے پورے کے پورے اقتباسات نقل کیے گئے ہیں۔
اس بیان کی تصدیق تو بعد میں کی جائے گی، پہلے اقبال احمد خاں سہیل کی مؤلفہ سیرتِ شبلی سے دو دلچسپ اقتباسات پیش کیے جاتے ہیں:
ادھر جوں جوں مولانا کی غیر معمولی صلاحیتوں کے جوہر کھلتے جاتے، سرسید کی گرویدگی بڑھتی جاتی۔ ادھر اسٹیج کے اندر داخلہ کے بعد خود مولانا کی نگاہوں سے منظر کا رُعب کم ہوتا گیا، اسی طرح سید و شبلی روز بروز ایک دوسرے سے قریب ہو رہے تھے، مگر قرب کے ساتھ کشش اور کشش کے ساتھ کشمکش کا بڑھنا بھی قدرت کا عالم گیر اصول ہے۔ ادھر سرسید کو اپنی پختہ کاری اور جاذبیت پر اعتماد، ادھر علامہ شبلی کو اپنے علمی شرف اور تفوق کا احساس۔ ادھر سمعاً و طاعۃً سننے کے لیے حسن طلب کے سیکڑوں اسلوب،ا دھر ’دع ماکدر‘ پر استقامت کے لیے حسن انکار کے ہزار پیرایے۔ ادھر نگاہ سحر فن ایک جوہرِ قابل کو ہمہ تن جذب کر لینے کے لیے بے تاب، ادھر فطرت خوددار کو اپنی انفرادیت برقرار رکھنے پر اصرار۔
یہ پیراگراف سیرتِ شبلی کے اس حصے سے ہے، جہاں ’علی گڑھ میں مولانا کی خدمات‘ شروع ہونے میں چھ صفحات باقی ہیں؛ گویا واقعات کے بیان سے قبل ہی قاری کا ذہن تیار کیا جا رہا ہے، چنانچہ پچاس صفحات کے بعد جب ’علی گڑھ سے ترکِ تعلق‘ پر بات ہوتی ہے تو مؤلف کا درج ذیل بیان قاری کو خود بخود ان کے نقطہ نظر کے قریب کر دیتا ہے:
قیامِ تعلق کی طرح ترکِ تعلق کوئی اتفاقیہ واقعہ نہیں تھا، بلکہ مدتوں کی بددِلی، کشمکش اور اصولی و شخصی اختلافات کا نتیجہ تھا، اس لیے کسی قدر تفصیل کا محتاج ہے اور یہ تفصیل جن واقعات پر مبنی ہے، ان میں سے بعض ایسے نازُک مسائل ہیں، جن کی تعبیریں محض زاویۂ نگاہ کے ذرا سے اختلاف سے بدل سکتی ہیں اور بعض ایسی تلخ حقیقتیں ہیں، جن کا اظہار، ممکن ہے کہ کسی شخص یا طبقہ کے خلافِ مزاج ہو، اس لیے تقاضاے مصلحت تو یہی تھا کہ اس ساری یوسف زلیخا کو ’پیرے بود، پسرے دوست گم کرد بازیافت‘ کے اصول پر چند جملوں میں ختم کر دیا جائے، تاکہ دوست دشمن دونوں خوش رہیں، مگر انصاف بالاے اطاعت است ایک سوانح نگار کو آفریں و نفریں سے بے نیاز ہو کر صرف واقعات کی اصلی اور مکمل تصویر پیش کرنی چاہیے۔ علاوہ بریں ان واقعات کے عینی شاہد ایک ایک کر کے اُٹھتے جا رہے ہیں، اس لیے اَب وقت آ گیا ہے کہ اس علمِ سینہ کو درجِ سفینہ کر دیا جائے، تاکہ آئندہ نسلوں کو ماضی و حال کا ربطِ باہمی سمجھنے میں دُشواری نہ ہو۔
ان دونوں اقتباسات سے علی گڑھ اور سرسید سے متعلق اقبال احمد خاں سہیل کے خیالات کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے۔ اَب یہ دیکھنا باقی رہ گیا ہے کہ کیا سید سلیمان ندوی نقل کے مجرم ہیں یا سرسید اور شبلی کی کشمکش خود ان کی اختراع ہے؟ سیرتِ شبلی سے چند اقتباسات دیکھتے ہیں، تقابلی جائزے کے لیے حیاتِ شبلی سے انھی واقعات کو پیش کیا جاتا ہے:
علی گڑھ کے رہنے والے ایک ہندو صاحب، جو کافی پڑھے لکھے اور صوفیانہ خیال کے آدمی تھے، اعظم گڑھ میں پوسٹ ماسٹر تھے۔ انھوں نے سرسید کے مضمون ’الدعا والاستحابہ‘ کی تردید میں ایک دل نشیں رسالہ شائع کیا، جس پر نواب وقار الملک بہادُر نے نہایت عمدہ ریویو کیا اور اس ریویو کے سلسلہ میں اس بات پر اظہارِ افسوس کیا کہ سرسید، جو نہ صرف خود مسلم اور جماعتِ اسلامی کے مسلمہ لیڈر ہیں، بلکہ خانوادۂ رسالت کے چشم و چراغ بھی ہیں؛ وہ تو دعا کو، جو بندہ اور خدا میں ربط کا واحد ذریعہ ہے، غیر ضروری اور فضول بتائیں اور ایک ہندو، جس کو کافر کہا جاتا ہے، ایک اسلامی مسئلہ کی حمایت کرے۔ اس رسالہ کی قوتِ استدلال اور اندازِ بیان سے بعض لوگوں کو شبہ ہوا کہ دراصل مولانا شبلی اس کے مصنف ہیں۔ اس شبہ کو مزید تقویت اس امر سے پہنچی کہ مصنف اعظم گڑھ میں پوسٹ ماسٹر تھے اور مولانا شبلی کے خاص معتقد۔
علی گڑھ کے ایک ہندو بزرگ، جو اچھے پڑھے لکھے تھے، صوفیانہ خیال کے آدمی تھے، اعظم گڑھ میں پوسٹ ماسٹر تھے۔ انھوں نے سرسید کے مضمون ’الدعا و الاستجابہ‘ کی تردید میں ایک دل نشیں رسالہ شائع کیا، جس پر نواب وقار الملک نے نہایت عمدہ ریویو لکھا اور اس ریویو کے سلسلہ میں اس پر افسوس کیا کہ سرسید، جو نہ صرف مسلمان اور مسلمانوں کے لیڈر ہیں، بلکہ خانوادۂ رسالت کے چشم و چراغ ہیں؛ وہ تو دعا کو، بندہ اور خدا میں ربط کا واحد ذریعہ ہے، غیر ضروری اور فضول بتائیں اور ایک ہندو، جس کو کافر کہا جاتا ہے، اس کی حمایت کو کھڑا ہو۔ اس رسالہ کی قوتِ استدلال اور اندازِ بیان سے بعض لوگوں کو شبہ ہوا کہ اس کے مصنف دراصل شبلی ہیں اور اس شبہ کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ اعظم گڑھ میں لکھا گیا، جو مولانا کا وطن تھا اور وہ پوسٹ ماسٹر صاحب مولانا کے واقفِ کار اور شناسا بھی تھے۔
ایک اَور اقتباس کا تقابل ملاحظہ کیجیے:
سرسید نے اپنی تفسیر کو عربی میں ترجمہ کرنا چاہا اور جب مولانا شبلی نے اپنی مصروفیتوں کی بِنا پر عذر کیا تو مولانا حمید الدین فراہی پر نگاہ پڑی، جو اس وقت کالج میں پڑھ رہے تھے۔ ترجمہ کا معاوضہ معقول تھا، یعنی ورق کے حساب سے پیش کیا جا رہا تھا، مگر مولانا حمید الدین نے انکار کر دیا اور جب سرسید نے بہ اصرار اس کی وجہ دریافت کی تو صاف کہہ دیا کہ وہ اشاعتِ باطل اور تعاون علی الاثم کی معصیت میں مبتلا ہونا نہیں چاہتے۔ مولانا حمید الدین کی اس صاف گوئی سے علامہ شبلی کا کوئی تعلق نہیں تھا، مگر سرسید کی بدگمانی میں اس سے بھی اضافہ ہوا۔
سرسید اپنی تفسیر کا عربی ترجمہ کرانا چاہتے تھے اور اس کے لیے ان کی نظر بار بار مولانا شبلی پر پڑتی تھی۔ مولانا سے جب اس کا ذکر آیا تو انھوں نے اپنی مصروفیتوں کا عذر کیا۔ اس کے بعد مولانا کے ماموں زاد بھائی اور شاگرد مولانا حمید الدین صاحب فراہی پر نظر پڑی، جو اُس زمانہ میں عربی کی تکمیل کے بعد کالج میں پڑھتے تھے اور جنھوں نے سرسید کے حکم سے طبقاتِ ابنِ سعد کے ایک حصہ کا فارسی میں ترجمہ کیا تھا، مگر مولانا حمید الدین صاحب نے انکار کیا اور جب سرسید نے بہ اصرار اس کی وجہ پوچھی تو صاف کہہ دیا کہ وہ اس باطل کی اشاعت میں تعاون علی الاثم کے گناہ میں مبتلا ہونا نہیں چاہتے۔ مولانا حمید الدین کی اس صاف گوئی میں گو مولانا شبلی کا کوئی تعلق نہ تھا، مگر سرسید کی بدگمانی میں اس سے اضافہ ہوا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس ساری بحث سے یہ نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ علی گڑھ اور سرسید کے متعلق شبلی کے مبینہ خیالات اور باہمی کشمکش کی تشہیر نے ہی تنقیصِ شبلی کو فروغ دیااور یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ ’بزم میں رزم کا رنگ‘ بھرنے کا کام سید سلیمان ندوی نے نہیں، اقبال احمد خاں سہیل نے کیا تھا۔ یہ درست سہی کہ اقبال احمد خاں سہیل اس تنازعے کے موجد تھے، لیکن اکتوبر ۱۹۳۶ء سے فروری ۱۹۳۹ء تک الاصلاح میں چھپنے والی ’سیرتِ شبلی‘ کی پندرہ قسطوں سے ہندوستان بھر میں کتنوں نے اثر لیا،لیکن جب یہی بیانات سید سلیمان ندوی کی مؤلفہ حیاتِ شبلی میں شامل ہوئے تو ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔ یقیناًاقبال احمد خاں سہیل علمی و ادبی اعتبار سے اُس مقام پر فائز نہ تھے کہ ان کی کسی تحریر سے دنیاے ادب میں ارتعاش پیدا ہوتا، اس لیے علی گڑھ یا سرسید کے حلقے سے ان کا کوئی نوٹس نہ لیا گیا؛ جب کہ سید سلیمان ندوی اپنی شخصیت اور اپنے علمی و ادبی مقام و مرتبہ کے لحاظ سے ہندوستان بھر میں مذہب، سیاست ، تہذیب اور علم و ادب کے تمام شعبوں پر اثرانداز ہو رہے تھے؛ اس لیے حیاتِ شبلی کے مندرجات سے وہ مدوجزر پیدا ہوا کہ اس کی لہریں ایک صدی بعد بھی محسوس کی جا سکتی ہیں۔
÷
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: ڈاکٹر خالد ندیم

Read More Articles by ڈاکٹر خالد ندیم: 14 Articles with 17125 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
01 Sep, 2018 Views: 738

Comments

آپ کی رائے