اوڑھنی "( تیسری قسط)☆☆☆

(Mona Shehzad, Calgary)

ہاشم اور اس کے دوست کالج کے ڈرامہ فیسٹیول میں ڈرامہ کرنا چاہتے تھے۔ وہ اکٹھے بیٹھ کر فیصلہ کرنا چاہ رہے تھے کہ وہ کس موضوع ہر ڈرامہ کریں ۔ مگر کچھ سمجھ نہیں آریا تھا۔ افواہیں گردش میں تھیں کہ قمر سٹیج پروڈکشن کا قمر الزمان مہمان خصوصی کی حیثیت سے ڈرامہ فیسٹیول میں آرہا تھا اور وہ نئے ٹیلنٹ کو چانس دینے میں مشہور تھا۔ ہر گروپ اور کلاس کی کوشش تھی کہ ان کا ڈرامہ بہترین ہو۔ ہاشم اور اس کے دوست لوگ سوچ کے گھوڑے دوڑا دوڑا کر تھک کر بیٹھے تھے۔ اچانک سویرا جو ہاشم کی خالہ زاد بہن بھی تھی ،چٹکی بجا کر بولی :
ارے ڈفرز کہانی تو گھر میں موجود ہے اور تم لوگ ادھر ادھر دیکھ رہے ہو۔اس کو کہتے ہیں:
بچہ بغل میں اور ڈھنڈورا شہر میں ۔"
ہاشم ناسمجھی سے بولا:
یار سویرا ! سیدھی بات کرو ۔پہیلیاں نہ بجھواو ۔ایک تو اردو بول بول کر منہ ٹیڑا ہوگیا ہے ،اوپر سے تمھاری ضد ہے کہ ڈرامہ اردو زبان میں کرنا ہے۔
Babe I will die.
سویرا نے کشن اس کو کس کر مارا اور کہا:
سارے میرے پیچھے پیچھے دادا ابا کے کمرے میں وہ نہ نظر آنے تو انھوں نے پائیں باغ کی طرف کھلنے والے دروازے سے جھانکا تو وہ وہاں پودوں کو پانی دینے میں مصروف تھے سویرا نے سب کو تنبیہ کی "آو اور خبردار میرے علاوہ کوئی اور بولا ۔"
سارے لڑکے لڑکیاں اس کے پیچھے پیچھے دادا ابا کے کمرے میں چلے آئے ۔دادا ابا پائیں باغ میں پودوں کو پانی دے رہے تھے ۔ سویرا نے بڑے لاڈ سے دادا ابا کو سلام کیا ۔دادا ابا ان سب کو دیکھ کر چونکے اور بولے :
خیریت آج ادھر کا رخ کیسے کرلیا؟
سویرا نے بڑے لاڈ سے کہا:
ددو آج ہم آپ سے آپ کے ماضی کی کہانی سننے آئے ہیں؟
دادا ابا نے چشمہ اتار کر ان کو غور سے دیکھا۔ پھٹی ہوئی جینز پہنے ہوئے، بدرنگ شرٹز پہنے ہوئے، رنگ برنگ بالوں والی عجب وغریب مخلوق نظر آئی ۔انھوں نے لمبے والوں والی ایک لڑکی کو بٹیا کہہ کر متوجہ کیا تو پتا چلا کہ وہ لڑکا ہے۔جب کے بوائے کٹ بالوں والا لڑکا لڑکی نکلی ۔وہ بے اختیار ہی سر ہلا کر بولے:۔
"تم لوگ نہ اپنا وقت ضائع کرو اور نہ میرا ۔ تم میرے ماضی جاننے کے حق دار نہیں ہوں، پہلے اپنا حال تو سنبھال لو ۔ لڑکوں پتلون پر بیلٹ باندھنا سیکھو، پینٹیں نیچے کھسک رہی ہیں اور یہ میرا ماضی مجھ سے جاننے آئے ہیں ۔"
دادا ابا سر جھٹک کر کمرے میں چلے گئے ۔ہاشم اور سویرا کا گروپ منہ کھولے کھڑے تھے ۔دادا ابا ان کو شیشہ دکھا گئے تھے ۔
اب بچے دادا ابا کی نہ کو ہاں میں بدل سکیں گے ۔اس حقیقت سے پردہ اگلی قسط میں اٹھے گا ۔
(باقی آئندہ)۔☆☆☆

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mona Shehzad

Read More Articles by Mona Shehzad: 168 Articles with 178460 views »
I used to write with my maiden name during my student life. After marriage we came to Canada, I got occupied in making and bringing up of my family. .. View More
04 Sep, 2018 Views: 489

Comments

آپ کی رائے