یوم دفاع کے نوجوانوں کو میرا سلام

(Babar Alyas, Chichawatni)
فانوس بن کے جس کی حفاظت ہوا کرے

وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خدا کرے

قوموں کی داستان عروج و زوال سے مزین ہے۔ چاہے یہ قومی تشخص کی بنیاد مذہب پر ہو یا جغرافیائی حدود پر۔ پاکستان خوش قسمتی سے وہ خطہ ہے کہ جو دونوں دولتوں سے مالا مال ہے۔ 
۔ خیر ابھی تذکرہ ھے اس وقت عروج و زوال کا ہے کہ جب ہر قوم کی تاریخ میں وقت کچھ ایسی گھڑیاں بھی ضرور لاتا ہے۔ جب ذاتی مفاد، جان و مال ملکی و اجتماعی مفادات کے آگے ہیچ ہوجاتے ہیں۔ ان آزمائش کی گھڑیوں میں جب بھی کوئی قوم اپنے فرض سے آنکھیں چراتی ہیں اور کڑیل جوان میدان جنگ کی بجائے گھر میں چھپنے کو ترجیح دیں۔ تب کبھی بھی ایسی قوموں کے مقدر میں آنے والا لمحات کا سورج خوشی و مسرت نہیں بلکہ اپنوں کی لاشوں کے ساتھ ساتھ غلامی کی نہ ٹوٹنے والی زنجیر لے کر آتا ہے۔ اور پھر بسا اوقات اُس طوق کو اتارنے میں نسلوں کی قربانیاں اور صدیاں بھی کم پڑ جاتی ہیں۔
سبق پڑھ پھر صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
میرا سلام ہے۔ میرا سلام ہے, میرا سلام ہے.... ان شہیدوں کو سلام ہے جنہوں نے اپنے جسموں پر بم باندھ کر ٹینکوں کے آگے لیٹ کر شہادت کا رتبہ پایا۔ وہ جانتے تھے کہ یہ صریح موت ہے۔لیکن.... لیکن ڈر کا ان کے عمل سے شائبہ تک نہ تھا۔...میرا سلام ہے.... ان ماؤں کو جنہوں نے ملکی سلامتی کو اپنے بیٹوں سے زیادہ عزیز جانا۔۔۔ میرا سلام ہے... ان بیویوں کو جنہوں نے سہاگوں کی لاشوں پر نوحہ تک نہ کیا۔ بلکہ فخر سے سر اٹھا کر کہا کہ میرا شوہر شہید ہے۔میرا سلام ھے یوم دفاع کے ہر شہید ھونے والے نوجوان کو....
یہ غازی یہ تیرے پُراسرار بندے
جنہیں تو نے بخشا ہے ذوقِ خدائی
دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی
دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو
عجب چیز ہے لذتِ آشنائی
شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن
نہ مالِ غنیمت، نہ کشور کشائی
خیاباں میں ہے منتظر لالہ کب سے
قبا چاہیے اس کو خونِ عرب سے

مرے وطن میرے بس میں ہو تو تری حفاظت کروں میں ایسے
خِزاں سے تجھ کو بچا کے رکھوںِ،بہار تجھ پہ نثار کر دوں
پاکستان پر1965ء میں ہندوستان کی طرف سے جنگ کا تھوپا جانا پاکستانی قوم کے ریاستی نصب العین دوقومی نظریہ،قومی اتحاد اور حب الوطنی کو بہت بڑا چیلنج تھا.
یومِ دفاع ہر سال 6 ستمبر کو پاکستان میں بطور ایک قومی دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن پاک بھارت جنگ 1965ء میں افواج کی دفاعی کارکردگی اور قربانیوں کی یاد میں منایا جاتا ہے۔
6ستمبر 1965ء کا دن عسکری اعتبار سے تاریخ عالم میں کبھی نہ بھولنے والا قابلِ فخردن ہے.
اس چھوٹے مگر غیور اور متحد ملک نے اپنے دشمن کے جنگی حملہ کا اس پامردی اور جانثاری سے مقابلہ کیا کہ دشمن کے سارے عزائم خاک میں مل گئے
بنائے پاک وطن لا الٰہ الّا اللہ
نگاہِ قوم پہ روشن ہے اس کی منزل و راہ
خدا گواہ فرشتے گواہ قوم گواہ
ترا ضمیر ہے زندہ دمک رہی ہے جبیں
ترے وجود پہ نازاں ہیں آسمان و زمیں
صدر مملکت فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے ایمان فروز اور جذبۂ مرد حجاہد سے لبریزقوم سے خطاب کی وجہ سے ملک اللہ اکبر پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اُٹھا۔فیلڈ مارشل ایوب خان کے اس جملے’’پاکستانیو! اٹھو لا الہ الا اللہ کا ورد کرتے ہوئے آگے بڑھو اوردشمن کو بتا دو کہ اس نے کس قوم کو للکارا‘‘ان کے اس خطاب نے قوم کے اندر گویا بجلیاں بھردی تھیں۔ پاکستان آرمی نے ہر محاذ پر دشمن کی جارحیت اور پیش قدمی کو حب الوطنی کے جذبے اورپیشہ وارانہ مہارتوں سے روکا ہی نہیں، انہیں پسپا ہونے پر بھی مجبور کردیا تھا۔ ہندوستانی فوج کے کمانڈر انچیف نے اپنے ساتھیوں سے کہا تھا کہ وہ لاہور کے جم خانہ میں شام کو شراب کی محفل سجائیں گے۔ ہماری مسلح افواج نے جواب میں کمانڈر انچیف کے منہ پر وہ طمانچے جڑے کہ وہ مرتے دم تک منہ چھپاتا پھرا۔ لاہور کے سیکٹر کو میجر عزیز بھٹی جیسے سپوتوں نے سنبھالا، جان دے دی مگر وطن کی زمین پر دشمن کا ناپاک قدم قبول نہ کیا۔
1965ء کی ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہونے والی اس جنگ میں یہ بھی ثابت ہوا کہ جنگیں ریاستی عوام اور فوج متحد ہو کر ہی لڑتی ہیں اور جیت بھی سکتی ہیں۔
پاکستانی قوم نے اپنے ملک سے محبت اور مسلح افواج کی پیشہ وارانہ مہارت ,جانثاری کے جرأت مندانہ جذبے نے کے ساتھ ملکر نا ممکن کو ممکن بنا دکھایا...
لوگ کہہ اٹھے :
آج ہندیاں جنگ دی گلچھیڑی اکھ ہوئی حیران حیرانیاں دی
مہاراج اے کھیڈ تلوار دی اے جنگ کھیڈ نئیں ہوندی زنانیاں دی
پاکستانی عوام کا دشمن کو شکت دینے کے سوا کوئی اورمقصد تھا۔ تمام پاکستانی میدان جنگ میں کود پڑے تھے۔اساتذہ، طلبہ، شاعر، ادیب، فنکار، گلوکار ، ڈاکٹرز، سول ڈیفنس کے رضا کار ،مزدور،کسان اور ذرائع ابلاغ سب کی ایک ہی دھن اور آواز تھی کہ’’ اے مرد مجاہد جاگ ذرا اب وقت شہادت ہے
اے وطن تو نے پکارا تو لہو کھول اٹھا
تیرے بیٹے تیرے جانباز چلے آتے ہیں
ایہہ پتر ہٹاں تے نئیں وکدے توں لبھدی پھریں بازار کڑے
1965ء کی جنگ کا غیر جانبداری سے اور غیر جذباتی جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ بڑے سرکش اورخونخوار شکار کوپاکستان میں چھوٹے سے جال میں آسانی سے قید کرلیا۔ سب کچھ قائد اعظم کے بتائے اصول( ایمان، اتحاد،نظم) پر عمل کرنے سے حاصل ہوا۔کسی بھی زاویۂ نگاہ سے دیکھیں تو یہی اصول1965ء کی جنگ میں پاکستان کی کامیابی کامرکز اور محور تھے۔ پاکستانی قوم کی طرف سے ملی یکجہتی ،نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کی خاطر ہر طرح کا فرق مٹا کر اختلاف بھلا کرمتحد ہو کر دشمن کوناکوں چنے چبوانے کا بے مثال عملی مظاہرہ تھا۔
۔بھارتی فوج کا ارادہ تو یہ تھا کہ وہ 7 ستمبر کو صبح کا ناشتہ لاہور میں کرے گی لیکن پاکستان کی بہادر افواج نے ایسا ناشتہ پیش کیا کہ بھارتی فوج آج تک اس کا ذائقہ نہیں بھول پائی .
بھارتی فوج کے منصوبے یہ تھا کہ 6ستمبر کی صبح لاہور کی سڑک پر بھارتی فوج سے اس وقت کے وزیراعظم لال بہادر شاستری اپنی کابینہ کے چند وزرا ءکے ہمراہ سلامی لیں گے اورشام کو لاہور جم خانہ میں کاک ٹیل پارٹی کے دوران بیرونی دنیا کو خبردی جائے گی کہ دنیا ئے اسلام کی سب سے بڑی ریاست کے دل پر کفار کا قبضہ ہو چکا ہے، لیکن بھارت کے ارادوں اور منصوبوں پر اس وقت پانی پھر گیا
پاکستانی فوج نے نہ صرف اپنے علاقوں کا کامیابی سے دفاع کیا بلکہ بھارتی علاقوں کے اندر گھس کر بھارتی فوج کو بھی ناکوں چنے چبوائے۔
6ستمبر 1965ء صرف پاک بھارت جنگ نہیں بلکہ کفر و اسلام کے درمیان عظیم معرکہ تھا جسے پوری قوم اپنے خلاف چیلنج جانتے ہوئے مقابلہ کرنے نکل کھڑی ہوئی۔ پاک فوج کے شانہ بشانہ پاکستان کی بہادر عوام نے جنگ کی دہشت و حشت کو ایک کھیل سمجھ کر جس بے جگری اور فیاضی کا مظاہرہ کیا وہ ہماری تاریخ کادرخشاں باب ہے۔
پاکستانی قوم ہر سال 6 ستمبر یوم دفاع کے طور پر منا کرنئے جذبے سے پاک وطن کے چپے چپے کے دفاع کا عہد کرتی ہے ،دوسری جانب پاکستان کی یوم دفاع کی تقاریب کو دیکھ کر بھارتی فوج کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق اس ناشتے کو یاد کرتی ہے..
میری دعا ہے رب کائنات سے کہ میرا پیارا پاکستان ہمیشہ سلامت رہے اور دنیا پر اسلام کا غلبہ ہو جائے ،آمین ۔
خدا کرے کہ میری ارضِ پاک پر اترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو
یہاں جو پھول کھلے وہ کھلا رہے صدیوں
یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو
خدا کرے کہ مرے اک بھی ہم وطن کے لئے
حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Babar Alyas

Read More Articles by Babar Alyas : 256 Articles with 91761 views »
استاد ہونے کے ناطے میرا مشن ہے کہ دائرہ اسلام کی حدود میں رہتے ہوۓ لکھو اور مقصد اپنی اصلاح ہو,
ایم اے مطالعہ پاکستان کرنے بعد کے درس نظامی کا کورس
.. View More
04 Sep, 2018 Views: 254

Comments

آپ کی رائے