افواجِ پاکستان کو سلام

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر:ام محمد سلمان، کراچی
6 ستمبر دفاع پاکستان کا دن، افواجِ پاکستان کا دن، یہ وہ دن ہے جس دن جذبہ ایمان، جذبہ جہاد اور جذبہ حب الوطنی اپنے عروج پر تھا۔ کفار کی عبرت ناک شکست کا دن۔ اﷲ رب العزت کے فضل و کرم سے مسلمانوں کی جیت کا روشن، شاندار اور چمکتا ہوا دن۔ یومِ دفاع پاکستان ہمیں اس دن کی یاد دلاتا ہے جب پاکستان کے شہیدوں جری جوانوں نے اپنی سرحدوں کے بہادر اور غیور پاسبانوں کی فہرست میں اپنا نام رقم کیا۔ انکی شجاعت کے ناقابلِ یقین کارناموں کی کوئی مثال پیش نہیں کی جاسکتی۔

جنگ ستمبر، ہماری تاریخ کا وہ یادگار لمحہ تھا جب اس قوم نے دنیا پر یہ ثابت کردیا کہ ہم اپنی آزادی کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔ ان سترہ دنوں کے اندر اندر ایک جذبے نے پوری قوم کو متحد کردیا۔ اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کے سامنے ڈٹ جانے والوں کے پاس صرف اپنی آزادی کی حفاظت کا جذبہ تھا۔ ان شہیدوں کو سلام ہے جنھوں نے اپنے جسموں پر بم باندھ کر ٹینکوں کے آگے لیٹ کر شہادت کا رتبہ پایا وہ جانتے تھے یہ صریح موت ہے لیکن ڈر کا شائبہ بھی انکے اندر نہیں تھا۔ شہیدان وطن لہو میں رنگے جاتے رہے اور آزادی کی تاریخ انکے خون سے لکھی جاتی رہی۔

سلام ہے ان ماؤں کو، جنھوں نے ملکی سلامتی کو اپنے بیٹوں سے بڑھ کر جانا۔ سلام ہے ان بیویوں کو جنھوں نے بھری جوانی میں بیوگی کی چادریں اوڑھ لیں اور اپنے سہاگوں کی لاشوں پر کوئی نوحہ نہ کیا کوئی ماتم نہ کیااور وہ بہنیں اور بیٹیاں اور بوڑھے باپ جنھوں نے اپنے سہاروں کو اس ملک کی حریت پر قربان کردیا۔ سلام ہے ان تمام شہیدوں، غازیوں اور ان تمام محب وطن شہریوں کو جنھوں نے اس آزمائش کی گھڑی میں ہر ممکن اور بھرپور تعاون کیا۔
شہیدان وطن کے حوصلے تھے دید کے قابل
وہاں پر شکر کرتے تھے، جہاں پر صبر مشکل تھا

بلاشبہ ہماری آزادی ہمارے بے شمار شہداء کی ان گنت قربانیوں کی مرہون منّت ہے۔ کوئی قوم بھی اس وقت تک زندہ نہیں رہ سکتی جب تک وہ اپنے نظریے اور اپنی سرزمین کی ناموس کی ہر شے سے بڑھ کر حفاظت نہیں کرتی۔ دنیا کی ہر قوم پر کٹھن وقت ضرور آتا ہے، لیکن زندہ قومیں اپنے اتحاد و یک جہتی اور بے مثال جذبے سے سرشار ہوکر تاریخ میں اپنے مقدس لہو سے ایسے نقوش چھوڑ جاتی ہیں جنھیں صدیاں بھی ختم کرنے سے قاصر رہتی ہیں۔ افواج پاکستان سے تعلق رکھنے والے قوم کے یہ بہادر سپوت، بے لوث جذبے سے سرشار محض معمولی تنخواہوں کے عوض اپنے گھر اور گھر والوں سے دور اپنے فرائضِ منصبی سر انجام دیتے ہیں۔

مگر آج حالاتِ حاضرہ پر نظر ڈالی جائے تو یوں لگتا ہے کسی سوچے سمجھے منصوبے کے تحت افواج پاکستان کے حوصلوں کو پست کیا جارہا ہے۔ ان کے اندر سے حب الوطنی کی روح کو ختم کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ انھیں جانباز سپاہی نہیں بلکہ صرف تنخواہ دار ملازم سمجھا جارہا ہے۔ پوری دنیا میں مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ کیا جارہا ہے اور ایک ایک کر کے جس طرح مسلم ممالک کو ختم کیا جارہا ہے، ان کے اتحاد کو توڑا جارہا ہے، یہ امر انتہائی تشویشناک ہے اور ہمیں اس موقع پر خود اپنے تمام مذہبی، مسلکی اور لسانی اختلافات کو پسِ پْشت ڈال کر افواجِ پاکستان کا حوصلہ بڑھانا چاہیے۔

ملک و قوم کی خاطر دی جانے والی ان کی قربانیوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ قیام پاکستان سے لیکر آج تک ہر ہر محاذ پر فوج نبرد آزما ہے۔ یہ سرحدوں پر بھی لڑتی ہے، یہی فوج برف پوش پہاڑوں پر موسموں کی سختیوں کو سہتی ہے، ملک کے اندر بد امنی ہو تو فوج کام آتی ہے۔ سیلاب زدگان کی مدد کو فوج آتی ہے یہاں تک کہ بارش کا پانی نشیبی علاقوں میں بھر جائے تو اسے نکالنے کے لیے بھی فوج کو زحمت دی جاتی ہے۔ یہ سر پہ کفن باندھ کر رات دن سخت ترین اصولوں کے مطابق زندگی کے دن گزارے والے میرے کڑیل جوان کیا یہ صرف چند پیسوں کی خاطر فوج میں بھرتی ہوئے ہیں؟

نہیں بلکہ یہ اس جذبے کے ساتھ آتے اور منتخب ہوتے ہیں کہ ان کے خون کا ایک ایک قطرہ اس وطن کی امانت ہے۔ اس کے چپے چپے کی حفاظت کرنا ان کے اولین فرائض میں شامل ہے۔ کسی کو لاکھوں کروڑوں روپے بھی دے دیے جائیں تو کوئی اپنے گھر بار بیوی بچوں اور والدین کو چھوڑ کر یوں ایک منتخب کردہ موت کو گلے لگانے نہیں جاسکتا۔

تو پھر یہ کون سا جذبہ ہے جو انھیں سرحدوں پر دوڑاتا ہے ؟ رات اور دن کی پروا کیے بغیر، تہواروں پر خوشی اور غم کے مواقع پر بھی اپنوں سے دور، جنگلوں، بیابانوں اور پہاڑوں میں اس ملک کی حفاظت کرنے میں مصروف ہوتے ہیں۔آج فوج پر کرپشن کا الزام لگایا جاتا ہے۔ لیکن یہ تو سوچیے کرپشن کہاں نہیں ہے؟ یہ فوج ہی ہے جس میں کوئی شہید بنتا ہے، تو کوئی غازی۔ کوئی جانثار سپاہی تو کوئی کرپشن بھی کر جاتا ہے۔تو پوری فوج کو بدنام کردینا کہاں کا انصاف ہے؟ اچھے برے لوگ تو ہر جگہ ہوتے ہیں۔ سیاستدانوں سے تو بہت بہتر ہے افواجِ پاکستان۔ وہ سیاستدان جو اس ملک کی جڑوں کو کھکھلا کرچکے ہیں، جن کے پیشِ نظر صرف انکے ذاتی مفادات اور ان کے کاروبار ہیں۔

ہمیں یاد رکھنا چاہیے، قوم کے سپاہی قوم کا اثاثہ ہوتے ہیں۔ اور ہمیں اپنے اس اثاثے پر فخر ہے۔ ایک جفاکش پراعتماد مظبوط و مستحکم فوج، مظبوط اور خوشحال پاکستان کی علامت ہے اور پاکستان اس وقت عالم اسلام کا قلعہ ہے۔ اگر یہ قلعہ مضبوط و مستحکم ہوگا تو سارے عالم اسلام کے لیے قوت و استحکام کا موجب ہوگا۔ آج یوم دفاعِ پاکستان کے موقع پر میرا پوری قوم کو پیغام ہے کہ افوج پاکستان کا ساتھ دیں ان کے حوصلے بلند کریں، ان سے اچھی امیدیں رکھیں۔ انھیں مایوس نہ کریں۔ ان کے جذبوں کو پامال نہ کریں۔ یہ اس ملک کا فخر ہیں، غرور ہیں۔ ان کی قدر کریں۔ صرف 6 ستمبر ہی نہیں، ہر دن افواجِ پاکستان کو سلام پیش کرنے کا دن ہے۔ جیسے یہ رات دن حفاظت پاکستان کے لیے کمر بستہ ہیں بالکل اسی طرح ہمارے چوبیس گھنٹے ان کے لیے دعاؤں اور نیک تمناؤں کے لیے ہیں۔ سلام پاکستان
سلام اے افواجِ پاکستان۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1238 Articles with 517824 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Sep, 2018 Views: 186

Comments

آپ کی رائے