پردہ معاشرے کی ضرورت

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: فخرالدین پشاوری، پشاور
حجاب امت مسلمہ کا وہ شعار، مسلم خواتین کا وہ فخر و امتیاز جو اسلامی معاشرت کو پاکیزگی عطا کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ حجاب کا مطلب ہے پردہ کرنا، چہرے کو کپڑے وغیرہ سے ڈھانپ لینا۔ زمانہ اسلام سے پہلے پوری دنیا میں پردے کا کوئی تصور نہیں تھا۔ ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا، نہ زندگی گزارنے کا کوئی سلیقہ نہ قانون، عورت جس کا مقام بہت اعلی ہے اس سے جانور جیسا سلوک کیا جاتا تھا، لوگ اس کو عار سمجھتے کہ کوئی اس کی بیٹی سے بیاہ کر لے اس وجہ سے وہ زندہ بچیوں کو درگور کیا کرتے۔ پھر اسلام آیا، لوگوں کو رہنے کا سلیقہ مل گیا، زندگی کا قانون مل گیا، عورت کو اپنا مقام مل گیا، دشمنیاں جو سالوں سال چلتی رہتی تھی ختم ہونے لگی، معاشرے میں امن و امان کی ہوا چلنے لگی، ساتھ ساتھ معاشرے کو مزید خوشگوار بنانے کے لئے کچھ احکامات جاری کر دیئے گئے جو زندگی کے ہر پہلو کو شامل تھیں۔ اس میں سے ایک حجاب (پردہ) بھی تھا۔

قرآن کریم میں اللّٰہ تعالی مسلمان عورتوں کو مخاطب کرکے فرماتا ہے کہ: اے عورتوں جب تم گھر سے نکلا کرو تو اپنی گھونگھٹ سے اپنے چہرے ڈھانپ لیا کریں۔ اس آیت میں اس قانون کو بیان کیا گیا ہے کہ گھر میں تو پردے کی ضرورت نہیں کیوں کہ وہاں کوئی غیر محرم ہوتا اور محرم سے پردہ نہیں کیا جاتا اور اگر عورت کو گھر سے باہر جانا پڑے تو اپنی چادر سے اپنے چہرے کو چھپائے۔ اسی طرح ایک اور جگہ ارشاد ہے کہ: اے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کہہ دیجیے اپنی بیویوں، بیٹیوں اور مسلمانوں کی بیویوں کو کہ جب وہ گھر سے نکلا کرے تو پردہ کیا کرے اس طرح وہ اذیت سے محفوظ رہے گی۔ اس آیت میں ایک خوشخبری بھی دی گئی ہے کہ اگر عورت پردہ کرے گی تو وہ اذیت (لوگوں کی شر) سے محفوظ رہے گی، ان کو کوئی تکلیف نہیں پہنچا سکے گا۔ تو اس سے معلوم ہوا کہ آج کل جو بدعنوانیاں ہیں اکثر واقعات آپ نے دیکھے ہونگے جو بیان کرنا بھی ممکن نہیں، اس کی اصل وجہ بے پردگی ہے۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ دل صاف ہو تو پردے کی کوئی ضرورت نہیں، ان کو بتاتا چلوں کہ ذرا غور کریں۔حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ: ہم عورتیں حج میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ احرام کی حالت میں تھیں، جب ہمارے سامنے سے سواریوں پر سوار مرد گزرتے تو ہم اپنی چادر سر کے اوپر سے نیچے لٹکا کر چہرہ چھپا لیتی تھیں پھر جب وہ مرد آگے بڑھ جاتے تو ہم اپنا چہرہ کھول لیتی تھیں۔

زمانہ خیر قرون کا ہے، تمام صحابہ حالت احرام میں ہے نیز حضرت عائشہ اور دیگر ازواج مطہرات کو قرآن کریم نے امت کی مائیں قرار دی ہے، ایسے میں کون بدبخت ایسے ہوسکتا تھا جو حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی موجودگی میں ازواج مطہرات اور امت کی ماؤں کو بری نگاہ سے دیکھتا لیکن یاد رکھیں عورتوں کو کوئی اچھی نگاہ سے دیکھے یا بری نگاہ سے، اسے اﷲ کا حکم پورا کرتے ہوئے نامحرم مردوں سے اپنا چہرہ چھپا لینا چاہیے۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں 4 ستمبر کو حجاب کا عالمی دن بھر پور طریقے سے منایا جاتا ہے۔ عالمی یوم حجاب کے موقع پر مختلف تقریبات منعقد ہوتی ہیں، جن میں حجاب کی اہمیت افادیت پر تفصیلی روشنی ڈالی جاتی ہے جب کہ تمام بڑے شہروں میں خصوصی سیمینارز، کانفرنسز اور اجلاس کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔ حجاب ڈے کی بنیاد فرانس میں حجاب کے خلاف پابندیاں بنیں، فرانس میں مسلم خواتین کے برقع پہننے پر تنازعات پیدا ہونے کے بعد اپریل میں ہیملٹن کی مشہور مسک ماسٹر یونیورسٹی میں کچھ مسلم و غیر مسلم طلبہ نے مل کر حجاب ڈے منایا، کچھ عرصہ بعد یہ دن فرانس میں قومی سطح پر منایا جانے لگا۔ فرانس اور کینیڈا کے بعد اب 4ستمبر کو عالمی سطح پر حجاب کا دن منایا جاتا ہے۔

اس دن کو منانے کا مقصد پردے کی اہمیت و ضرورت کو عام کرنا ہے، اس کو صرف رسمی طور پر نہیں منانا چاہیے بلکہ اس دن پردہ کرنے اور کروانے کا عہد کرنا چاہیے جس سے ایک خوشگوار معاشرے کو وجود ملے گا اور حیا و پاکدامنی کی فضا قائم ہوگی۔

چونکہ نئی حکومت بنی ہے ہر طرف تبدیلی کی باتیں کی جارہی ہیں، بہت کچھ تو تبدیل بھی ہوچکا ہے اس لئے اس دن کی مناسبت سے اسی حجاب کے حوالے سے ہم بھی کچھ تبدیلی کی امید کر بیٹھے تو۔۔ بات یہ ہے کہ پورے پاکستان میں ممکن ہو سکے تو فبہاونعمت اور اگر پورے پاکستان میں ممکن نہ ہو سکے تو کم ازکم اسلامی مقامات، مزارات وغیرہ پر جانے کے لیے عورتوں کے لئے حجاب لازمی قرار دی جائے، جس سے بے پردگی بھی دور ہو جائے گی اور ان مقامات کی تقدس کا خیال بھی رکھا جائے گا اور تو اور سب سے بڑھ کر یہ کہ پھر نیا پاکستان، حقیقی تبدیلی دیکھنے کو ملے گی۔ امید ہے کہ ہمارے اس امید کو حقیقت کا رنگ دیا جائے گا اور ہم فخر سے کہہ سکیں گے کہ ویلڈن خان صاحب آپ نے واقعی تبدیلی لائی۔ دعاؤں میں یاد رکھیں گا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1232 Articles with 502987 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Sep, 2018 Views: 259

Comments

آپ کی رائے