عمران خان اور ریاست مدینہ

(Adil Abbasi, )

ہر پاکستانی کی خواہش ہے کہ کاش ہمارا ملک ریاستِ مدینہ جیسا ہو جہاں ہر آدمی کو برابری کی سطع پر انصاف دیا جائے جہاں امیری غریبی کا فرق نہ ہو جہاں بادشاہ اور عوام میں فرق نہ ہو جو کچھ بادشاہ کھاتا ہو وہی عوام کھاتی ہو۔ عمران خان نے الیکشن میں عوام سے وعدہ کیا کہ وہ پاکستان کو ریاستِ مدینہ بناہیں گے اس بات کا اظہار انہوں نے وزیراعظم بننے کے بعدعوام سے خطاب میں بھی کیا اور اس کو عملی جامہ پہنانے کیلیے اقدامات کرنے کا بھی کہا ۔یہ بات بھی قابلِ تحسین ہے کبھی کسی وزیراعظم نے اایسی بات کی ہو۔ لیکن خان صاحب میرا مشورہ ہے کہ ریاست ِ مدینہ بنانے سے پہلے ریاست مدینہ کی تاریخ کو پڑھ لیں کیوں کہ اْس ریاست میں پیارے آقا ﷺ کی عزت سے بڑھ کرکچھ بھی نہ تھا۔اْس ریاست میں حضرت ابو بکر ؓ نے ناموس ِ رسولﷺ کی خاطر پوری سلطنت خطرے میں ڈال دی اور ان کے ساتھ جنگ کر ڈالی اور مسلمانوں کو کافی نقصان بھی اٹھانا پڑا۔اور آج یہ دن کہ آئے روز کفار حضور پاکﷺ کی عزت پر ہاتھ ڈالتے ہیں اور مسلمان ممالک صرف مذمتی قرادادوں اور اجلاسوں کے سوا کچھ کر نہیں پاتے شاہد ہمارے حکمرانوں میں وہ ایمان نہ رہا۔ اور کچھ تو ہماری صفوں میں رہ کر ہماری بنیادیں کھوکھلی کر رہے ہیں خان صاحب ! آپ کی نیت پر شک تو کیا جاسکتا لیکن اپنی صفوں میں دیکھیں کہیں آپ کے درباریوں میں ایسے لوگ تو نہیں شامل جوریاستِ مدینہ بنانے میں رکاوٹ بنیں۔خان صاحب اگر آپ کو ریاست مدینہ جیسی ریاست بنانی ہے تو پھر قانون بھی اْس ریاست جیسا رکھیں۔جہاں دونوں جہانوں کے آقا ﷺ بھی کہتے ہیں خدا کی قسم اگر میری بیٹی بھی چوری کرتی تواس کے بھی ہاتھ کاٹ دیے جاتے جہاں عمر ؓ کو زیادہ کپڑا رکھنے پر بھی سوال پوچھا جاتا اور وہ جواب دیتے یہان تو خان صاحب سسٹم ہی الٹا ہوگیا یہاں آپ کو ہیلی کاپٹر کے بارے میں سوال پوچھا گیا تو آپ برا مان گئے یہاں امیر کی بیٹی کو چھیڑنے پر ڈی پی او کو تبدیل کیا جاتا مگر غریب کی بیٹی تو ذلت ورسوائی کا سامنا کرتی ہے کبھی ڈی پی او تبدیل نہیں کیاگیا یہاں زینب جیسی کہیں بیٹیوں کو دیادتی کے بعد مار کے پھینک دیا جاتا ہے کبھی ڈی پی او تبدیل نہیں ہوا۔ اگر آپ واقعی تبدیلی لانا چاہتے ہیں ریاست مدینہ جیسی ریاست بنانا چاہتے ہیں تو آپ کو انصاف کو فوری اور سستا کرنا ہوگا امیر اور غریب میں برابری کا انصاف کرنا ہوگا۔اسلامی قانون نافذ کریں تو یہ سارے سیدھے ہوجائیں گے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Adil Abbasi

Read More Articles by Adil Abbasi: 4 Articles with 2580 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Sep, 2018 Views: 896

Comments

آپ کی رائے