"اوڑھنی "(گیارہویں قسط)

(Mona Shehzad, Calgary)

آج چھٹی کا دن تھا۔ سارے لڑکے ،لڑکیاں صبح سے ہی شاہ زیب ولا پہنچ گئے تھے ۔صوفیہ لڑکے لڑکیوں کو شلوار قمیض میں ملبوس دیکھ کر بڑبڑائی:
I think old man is doing some magic on these poor kids.
سویرا نے ایک دم سے خالہ کہہ کر صوفیہ کو گلے لگالیا ۔سویرا کا حلیہ دیکھ کر صوفیہ گرنے والی ہوگئی ۔سویرا نے گلابی رنگ کا کرتا ، سفید شلوار، لمبا سا ٹائئ اور ڈائی کا دوپٹہ اوڑھا ہوا تھا اور اس کا ایک سرا اس کے سر پر بھی تھا۔ صوفیہ نے تیزی سے سویرا کے سر سے دوپٹہ کھینچا اور زور سے بولی:
Poor child why are you suffocating yourself?
سویرا نے شرما کر دوپٹہ دوبارہ سر پر لیا اور بولی :
خالہ! یہ اوڑھنی ہے اور یہ سر پر ہی اچھی لگتی ہے۔
صوفیہ بڑبڑ کرتی اپنی فٹنس کلب کے لئے چلی گئی ۔
آج لڑکے لڑکیوں نے مل کر حلوا پوری کا ناشتہ بنایا اور ناشتے کو بارہ دری میں چن دیا۔ دادا ابا اور شاہ زیب نے ایک دوسرے کو مسرور نگاہوں سے دیکھا ۔ علیشاہ کے پہناوئے میں بھی بدلاو نظر آرہا تھا۔ فرشی دسترخوان پر سب اکٹھے بیٹھے ناشتہ کرتے وہ ایک بڑے خاندان کے ممبران لگ رہے تھے ۔ناشتے کے بعد تنویر نے اپنی مسند سنبھال لی اور شاہ زیب سمیت سب لڑکے لڑکیاں اس کے اردگرد بیٹھ گئے ۔تنویر نے اپنا حقہ گڑگڑایا اور بولا:
سبتین بھیا کی شہادت میرے لئے غفلت کی نیند سے جاگنے کا باعث بنی۔ میں نے قائداعظم محمد علی جناح کے ایک دو جلسے اٹینڈ کئے اور مجھے احساس ہوا کہ اگر ہم آزادی سے خودمختاری سے زندہ رہنا چاہتے ہیں تو ہمیں ایک علیحدہ وطن چاہئے ورنہ انگریز کی غلامی سے نکل کر ہندو غلامی کا دور شروع ہوجائے گا ۔ مجھے احساس ہوا کہ ہندو اور مسلمان دو علیحدہ اقوام ہیں، جن کی زبان، مذہب، ثقافت، رہن سہن غرض ہر چیز ایک دوسرے سے جدا ہے۔ میں نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کردی۔ میں کھلم کھلا جلسوں میں شرکت کرتا، میری تقاریر جلسوں میں جوش و خروش بھر دیتیں ۔ 1947 میں ماونٹ بیٹن اور ریڈ کلف نے تقسیم ہند کے منصوبے پر کام کرنا شروع کردیا ۔اکا دکا دور دراز علاقوں سے فسادات کی خبریں آنے لگیں ۔ میں جب موسم گرما میں گھر گیا تو باوجی کو لاہور آنے کے لئے قائل کیا ،مگر باوجی مجھ سے اور آکا بھیا سے سخت ناراض تھے ۔انہوں نے سختی سے لاہور جانے سے انکار کردیا ۔ میری منت زاری کے باوجود وہ ٹس سے مس نہ ہوئے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندو اور سکھ ان کے بھائی بھائی تھے اور وہ لوگ صدیوں سے ایک متحدہ ہندوستان میں امن و امان سے رہ رہے تھے، جو اچانک مسلمانوں کو علیحدہ ملک بنانے کی کیا سوجھی ۔باوجی کے قریبی دوست لالہ اجے اور بسنت سنگھ بھی بیٹھک میں موجود تھے اور باوجی کی ہاں میں ہاں ملا رہے تھے ۔
میں اپنے جگری دوست اقبال سنگھ کے گھر گیا تو اس کے ماتھے پر تفکرات کی لکیریں تھیں ۔اس نے مجھے دوستوں کی محفل سے اٹھا کر نکلتے وقت علیحدہ کرکے کہا:
تنویر سب کے تیور بدل رہے ہیں ۔کچھ انجان چہروں کے ساتھ اب پرانے دوست نظر آتے ہیں ۔ کانوں میں سرگوشیاں کی جارہی ہیں، اس دن کرتار سنگھ کا بڑا بھائی بھابھی شکیلہ کے متعلق فالتو بات کررہا تھا، بہتر ہے تو اپنا پریوار اور چچا کا پریوار لاہور لے جا۔ اس کی آنکھوں میں نمی تھی۔ میں بے اختیار اس کے گلے لگ گیا۔ میں نے دل ہی دل میں تہیہ کیا کہ میں اگلی دفعہ زبردستی باوجی اور چچا جان کو ساتھ لے کر ہی جاونگا۔ میں ابھی لاہور پہنچا ہی تھا کہ فسادات پھوٹ پڑے ۔راستے بند ہوگے۔ میں دیوانہ وار چھپتا چھپاتا واپس امرتسر پہنچا، ہماری حویلی اور چچا جان کی حویلی میں آگ لگی دور سے نظر آرہی تھی ۔ میں دیوانہ وار بھاگا، دروازے کی چوکھٹ پر میرے پیارے آکا بھیا کی لاش پڑی تھی۔ میرے خوبرو بھیا کی باچھیں چری ہوئی تھیں ۔ان کے جسم کے اعضاء کٹے ہوئے تھے ۔میں کانپتے پیروں سے باغ کو پار کرکے مردان خانے میں گیا۔ وہاں باوجی ،چچا جان اور پرانے وفادار نوکروں کی خوستہ لاشیں پڑی تھیں ۔ میں سسکتا ہوا زنان خانے کی طرف لپکا۔ میری بے بے جس کو کسی نے بے پردہ نہیں دیکھا تھا اس کی بے لباس لاش تخت پوش پر پڑی تھی۔ میرے بھتیجے ان کی لاش کے ٹکڑے دور دور تک پھیلے ہوئے تھے ۔ میری بھابھیوں اور سکینہ کا دور دور تک نشان نہیں تھا ۔ میری ایک بھابھی نے تو ابھی ایک سال پہلے ہی بیوگی کا زخم کھایا تھا اور سبتین بھیا کی پیاری سی بٹیا کو جنم دیا تھا۔ میرے گلے سے زخمی شیر کی طرح کی غراہٹیں نکل رہی تھیں۔میں نے دو اجتماعی قبریں اپنے ہی باغ میں کھودیں ۔ایک میں بھیا، ابا جان ،چچا جان اور سارے وفادار مرد نوکروں کو دفن کیا۔ دوسری قبر میں اپنی جان سے پیاری بے بے اور معصوم بھتیجوں کے ٹکڑوں کو دفن کیا۔ میں اس قدر تھک چکا تھا کہ انھی قبروں پر چکرا کر بے ہوش ہوگیا۔
) باقی آئندہ )۔☆☆
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mona Shehzad

Read More Articles by Mona Shehzad: 168 Articles with 179127 views »
I used to write with my maiden name during my student life. After marriage we came to Canada, I got occupied in making and bringing up of my family. .. View More
12 Sep, 2018 Views: 534

Comments

آپ کی رائے