ایک خواہش

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: ارم فاطمہ، لاہور
آپ نے اپنی زندگی میں بہت کم لوگ ایسے دیکھے ہوں گے جو اپنے خوابوں کے ساتھ آنکھوں میں دوسروں کے خواب لے کر جیتے ہیں۔ آج کل کے معاشرے میں جہاں ہر شخص خودغرضی کی چادر اوڑھے زندگی کی شاہراہ پر سر جھکائے چل رہا ہے، صرف اپنے خوابوں کی تکمیل کے لیے جی رہا ہے ، ایک ایسے انسان کا ہونا جو دوسروں کے احساسات سے باخبر ہوکر ان کی خواہشوں کو لے کر چل رہا ہو، ان کے لیے کوششیں کررہا ہو یقینا ایک مثال ہے۔

ایسے انسان کا تعارف دینے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ شاید اس طرح کی بہترین مثال پیش کرنے سے ہم زندگی کا ایک سپق سیکھ سکیں۔ دوسرے کے لیے ایثار کر سکیں۔نام اس لیے نہیں لکھوں گی کیوں کہ وہ ایک حکومتی ادارے میں اہم عہدے پر اپنے فرائض بخوبی نبھا رہے ہیں۔ ہم سبھی یہ بات جانتے ہیں اگر نیکیوں کا دکھاوا کیا جائے تو ان کی جزا نہیں ملتی۔ اہم سرکاری ادارے میں ، فائلوں میں سر جھکائے، اہم فیصلے کرتے ہوئے ، اور یہ سوچتے ہوئے کہ کسی بھی انسان کا کوئی کام نہ رکے، سب کی آسانی کے لیے جو کچھ بھی ممکن ہو کر سکوں تو کروں۔ ان کے لیے رہنمائی کروں تاکہ انہیں کسی بھی قسم کی مشکل کا سامنا نہ ہو، یہ ایک مثال ہی تو ہے۔

آپ اور میں اور ہم میں سے اکثر اس بات سے بخوبی واقف ہیں ، جن کا بھی کسی حکومتی ادارے میں کسی کام سے جانا ہو وہاں انسانوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا جاتا ہے۔ ایک میز سے دوسری میز ، ایک کمرے سے دوسرے کمرے اور پھر شاید ڈھکے چھپے الفاظ میں نذرانے وصول کیے جاتے ہیں۔ ایسے میں سائل اور ضرورت مند کہاں جائیں؟کلرک سے لے کر بڑے آفسر تک رسائی تک فائل ہاتھ میں پکڑے چکر لگاتے عمریں گزر جاتی ہیں پرکام نہیں ہوتے۔ ایسے میں اس انسان کی پریشانی کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اس کے دل پر کیا گزرتی ہوگی اگر ان جیسے حساس دل رکھنے والے انسان ایسے دفاتر میں عام لوگوں کے لیے رہنما بن جائیں اور مسائل حل کرنے میں مددگار بن جائیں تو شاید ہر کسی کی مشکل آسان ہوجائے۔
ہر انسان کے دل میں ہزاروں خواہشیں ہوتی ہیں مگر ان کی اپنی زندگی سے قطع نظر صرف ’’ایک خواہش ‘‘ہے ان کے دل میں کہ’’ اﷲ مجھے ایسی توفیق دے۔ مجھے ہمت اور حوصلہ دے کہ جتنا ممکن ہوسکے میں وسیلہ بنوں ، ہر کسی کی مشکلات کو ختم کرسکوں ، کسی کی مدد کرنے والا اور سبھی کی صحیح رہنمائی کرنے والا انسان بنوں۔شاید ایسے ہی کسی دل سے نکلی دعا میری بھی زندگی کی مشکلوں کو آسان کردے ‘‘ایسے مثالی انسانوں سے ہی معاشرہ زندہ ہے ، زندگی چل رہی ہے۔

یہ تحریر ہر انسان کے لیے آئینہ ہے جس میں وہ کوشش کرے تو اپنی بہتر شکل دیکھ سکتا ہے اگر وہ سمجھے۔ میری بھی ایک خواہش ہے اور دعا ہے’’ خدا ہر درد مند دل میں ایسا جذبہ پیدا کردے جو خود غرضی سے پاک اور دوسروں کی زندگی سنوارنے کے جذبے سے بھرپور ہو۔ قربانی کا جذبہ ہو، ایثار اور احساس کا جذبہ ہو‘‘۔شاید یہ قوم اسی صفت کو لے کر ایک بہترین قوم بن سکے۔ ایک بہترین معاشرہ تشکیل پاسکے۔ ایک نئی زندگی وجود میں آئے۔ اس دنیا کے کینوس پر نئے رنگ بکھر جائیں جس میں سبھی رنگ احساس کے ہوں جن میں کوئی انسان تنہا نہ ہو۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1241 Articles with 519692 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Sep, 2018 Views: 297

Comments

آپ کی رائے