نیک شگون اور چند گزارشات

(Karamat Masih, )

ایک بزرگ شخص جس کی عمر غالباََ سترسال کی ہوگی انٹرویو دیتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ مجھے پہلی بار پاکستانی ہونے پر فخر ہو رہا ہے وہ اس لیے کہ میں چونکہ ایک عام آدمی ہوں اور اس وقت گورنر ہاؤس پنجاب لاہور میں کھڑا ہوں میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ میں گورنر ہاؤس میں داخل ہوسکوں گا میں اک لمحے کے لیے رکا اور اس بزرگ شہری کے چہرے پر خوشی کے تاثرات دیکھتا رہ گیادوسری طرف حیران بھی تھا کہ وہ اتنی بزرگی کے باوجود لاٹھی ہاتھ میں لیے بڑے جوش وجذبے کے ساتھ آگے بڑھ رہا تھا وزیر اعظم پاکستان نے اعلان کیا تھا کہ وہ تمام گورنر ہاؤسز اور وزرائے اعلیٰ ہاؤسز کو عام عوام کے لیے کھولیں گے او ر وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنائیں گے سو اسی سلسلے میں پچھلے ہفتے گورنر ہاؤس سند ھ کو اور 16ستمبر کو گورنر ہاؤس پنجاب کو عام پبلک کے لیے کھولا گیاجو کہ ایک وعدے کی تکمیل کی جانب مثبت قدم ہے میں بھی 16ستمبر کو اپنی فیملی کے ہمراہ گورنر ہاؤس پنجاب لاہور میں گیا سیکورٹی کے انتظامات بہت اچھے تھے اور سکیورٹی اہلکار لوگوں سے خوش اسلوبی سے پیش آ رہے تھے میڈیا کی فوج بھی وہاں موجود تھی جو کیمرے کی آنکھ میں لوگوں کے خیالات اور تاثرات کو محفوظ کررہے تھے گورنر ہاؤس میں داخل ہوتے ہی ہر طرف ہرے بھرے درخت اور باغات اور سرسبز میدانوں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے اور ساتھ ہی ایک خوبصورت پہاڑی موجود ہے جس پر چڑھ کے چند لمحوں کے لیے مری جیسے صحت افزا مقام کی موجودگی کا احساس ہوتا ہے اور اس پہاڑی سے پورے گورنر ہاؤس کا نظارہ ہوتا ہے اس پہاڑی کے ایک طرف خوبصورت جھیل ہے مگر اس جھیل کا پانی کافی گندہ تھا جس کو بدلنے کی اشد ضرورت ہے اس جھیل میں ایک کشتی بھی ہے اور اس جھیل کے ساتھ ایک دیوان خانہ بھی ہے جس کو تالا لگا ہوا تھاپہاڑی کی دوسری جانب سر سبز میدان ہے جو کہ خوبصورت پھولوں سے سجا ہوا ہے وہاں کسی بزرگ کی قبر ہے اور اس سے آگے سکواش کھیلنے کے لیے جگہ مخصوص ہے اور اس کے ساتھ ہی جم موجود ہے پہاڑی کے پہلو میں شاندار سوئمنگ پول او ر آب شار ہے اس کے ساتھ ہی بچوں کے کھیلنے کے لیے جھو لے موجود ہیں اور پہاڑی کے بالکل سامنے مشرق کی جانب انتہائی خوبصورت عمارت ہے چاروں طرف سر سبز میدانوں میں یہ سفید رنگ کی عمارت اپنی مثا ل آپ ہے جس کے اوپر پاکستان کا پرچم لہرا رہاتھا یہی گورنر کی رہائش گاہ ہے اس عمارت میں داخلہ فی الحال تو ممنوع ہے میں نے وہاں موجود سکیورٹی اہلکار سے پوچھاکہ اندر کیوں نہیں جانے دیا جارہا ؟ تو اس نے جواب دیا کہ ابھی عمارت میں اہم سامان موجود ہے جس کی وجہ سے ابھی داخلہ منع ہے مگر جلد ہی عوام کو عمارت کے اندر تک رسائی دی جائے گی وہاں پر موجود لوگ دل جوئی کے تصورات پیش کر رہے تھے مثلاََ اگر عمارت کے اندر نہیں جانے دینا تو فائدہ کیا میں وہاں کھڑا من ہی من میں ہنس رہاتھا کہ ہم کیسے لو گ ہیں ایک طرف وہ بزرگ ہے جو بے حد خوش ہے اور ایک طرف ایسے لوگ بھی ہیں مجھے یادہے پچھلی حکومتوں کے دور میں عام عوام کو گورنر ہاؤس کے اندر جانا تو دور اس کے گیٹ کے پاس بھی کسی کو کھڑے ہونے کی اجازت نہیں ہوتی تھی خیر آگے بڑھتے ہیں گورنر ہاؤس میں انگور،لیچی اور دیگر پھلوں کے باغات موجود ہیں اور چھوٹا سا چڑیا گھر بھی ہے یہاں پر قارئین کو بتاتا چلوں گورنر ہاؤس میں بہت سی نسلوں کے مرغے اور مرغیاں بھی ہیں جن سے سابقہ گورنرز کی غذائی ضروریات کو پورا کیاجاتھا میں وہاں سوچ رہا تھا قائد اعظم محمد علی جناح کے بعد تمام گورنرز نے اعلیٰ شان طرز کی زندگی گزاری ہے اور یہ پاکستان کی عوام کے ساتھ بہت بڑا ظلم ہوتا رہاہے کہ ایک شخص کے لیے اتنی بڑی رہائش گاہ ہے اورسینکڑوں ملازمین اور کروڑوں کا بجٹ استعمال ہوتا رہا ہے میرا ذاتی خیال ہے کہ سابقہ تمام گورنرز کو اس بات کا اندازہ ہی نہیں ہوگا کہ صوبے بھر میں کتنے لوگ ہیں جن کو اپنی چھت میسر نہیں ہے؟ایک اور قابل توجہ بات وہ یہ ہے کہ لوگ وہاں پر جوس کے خالی ڈبے،چپس اور دیگر اشیاء کے خالی ریپرز پھینک رہے تھے جو کہ غیر اخلاقی حرکت ہے کیونکہ صفائی نصف ایمان ہے اس لیے جہاں کہیں بھی جائیں ایک اچھے شہری ہونے کا ثبوت دینا چاہیے اور ساتھ ہی انتظامیہ سے بھی درخواست ہے کہ مناسب جگہوں پر کوڑے دان رکھیں،ہوسکے تو اند ر ایک کنٹین کا بندوبست کریں،داخلی دروازے پرہدایات کا بورڈ لگایا جائے اور انٹری فیس تین سال سے بڑے بچوں کے لیے دس روپے، بالغ افراد کے لیے بیس روپے اور سینئرشہریوں کا داخلہ مفت ہواورتمام حاصل شدہ ریونیو ڈیم فنڈ میں جمع کروایا جائے ۔اس کے ساتھ ساتھ میری وزیراعظم پاکستان اور تمام کابینہ سے بھی التماس ہے کہ عام عوام پر مہنگائی بم گرانے سے گریز فرمائیں بجائے عام آدمی کی زندگی آسان کرنے کے آپ نے مشکلات میں ڈھیروں گنا اصافہ کردیاہے بجلی،گیس کی قیمتوں میں اصافہ ،ٹیکسوں کی بھرمار، سفری کرایوں میں اصا فہ اور اشیاء خوردونوش میں ہوشربا اصافہ سمجھ سے بالاتر ہے سوبراہِ کرم ان فیصلوں پر نظرثانی فرمائیں بے شک آپ نے وزیراعظم ہاؤس میں رہائش نہ کر کے ،تمام گورنرہاؤسز کو عام عوام کے لیے وقف کیا ،102گاڑیوں ، 4ہیلی کاپٹرز اور بھینسوں کو نیلامی کے لیے پیش کرکے نیک شگون کی بنیاد رکھی ہے مگر ساتھ ہی ساتھ عام آدمی کی حالت پر بھی غور اور رحم فرمائیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Karamat Masih

Read More Articles by Karamat Masih: 30 Articles with 10481 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Sep, 2018 Views: 318

Comments

آپ کی رائے